اس کتاب کو شاملِ نصاب کریں
کتاب تبصرہ: یہ جو چین کو علم سے نسبت ہے (تسنیم جعفری)
تسنیم جعفری سے میرا اولین تعارف اک ایسی سینئر لکھاری کے طور پہ ہوا تھا۔ جو اپنے جونئیرز کی دل کھول کے حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں۔ وہیں اسپیس بھی دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں جو کہ سینئرز کے اندر اک خوش آیند امر ہے۔ گزشتہ ہفتے مجھے ان کی کتاب خریدنے اور باریکی سے پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ چین پہ لکھا گیا اک سفر نامہ ہے۔
سفرنامہ آپ کو دھیرے دھیرے اجنبیت سے آشنائی کے سفر پہ لے کر جاتا ہے۔ شروعاتی ابواب پڑھتے ہوئے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھی تسنیم آپا کے ساتھ چین کی یاترا پہ چل نکلے ہیں۔ ٹائم زون کو ”اچانک وقت بدل گیا“ کے ادیبانہ قالب میں ڈھالا ہے۔
”مجھے سخت حیرت ہوئی کہ یہ اچانک کیا ہوا، ابھی تو فجر کا اندھیرا اور اب ایک دم سے تیز دھوپ ہے۔ موبائل اٹھا کر وقت دیکھا تو پانچ کی بجائے آٹھ بج رہے تھے یعنی کہ ایک دم سے وقت بدل گیا تھا۔ وقت بدلنا اور وقت بدلتے دیر نہیں لگتی سنا تو تھا لیکن اس طرح اچانک وقت بدلتے پہلی باد دیکھا۔“
(صفحہ نمبر 48 )
پھر آگے جا کر وہ بتاتی ہیں کہ کیسے چین میں اپنی موجودگی کو پولیس کے پاس ریکارڈ کروانا اہم ہے۔ وہیں مہمان یعنی سفر نامہ نگار (صاحبہ) کے جانے کے بعد پولیس والوں نے تصدیقی کال بھی کی تھی۔ جن ممالک میں باقاعدہ سسٹم ہے وہاں ہر اک کی آمد و رفت کو باقاعدہ ٹریک کیا جاتا ہے۔ اس سے ان مسافروں کے لیے بھی آسانیاں رہتی ہیں۔ وہیں کھو جانے، حادثات یا غیر متوقع صورتحال میں اداروں کو تلاش کرنے مٰیں مدد ملتی ہے۔
سفر کی یادیں اگر سنجیدہ پھولوں سے بھر دی جائیں تو باغ تو خوبصورت نظر آتا ہے۔ مگر ان پھولوں میں اگر مزاح کا رس بھر دیا جائے تو قارئین کے چہرے پہ لافنگ لائنز بھی لائی جا سکتی ہیں۔ شہر ممنوعہ کے بار میں وہ رقمطراز ہیں :
”چینی بہت عقیدت سے وہاں جاتے ہیں اور دعا بھی کرتے ہیں۔ اکثر پاکستانی بھی مذاق میں پوچھتے ہیں کہ پیر صاحب کے مزار پہ حاضری دی یا نہیں۔ ماؤزے تنگ چینی قوم کے لیے کیا تھے اور کیا ہیں یہ کوئی دوسری قوم نہیں سمجھ سکتی۔“
(صفحہ نمبر: 85 )
اک بار آسٹریلیا میں مجھے محدود بریک ملی۔ طویل آفس کے گھنٹوں کی وجہ سے مجھے قریبی سٹال تک ہی جانا پڑا، اک لمبی قطار کے پار کرنے کے بعد پتہ چلا کہ کھانے مٰیں صرف چپس حلال ہیں مگر وہ بھی پورک اور دیگر لوازمات میں کراس کانٹیمنیشن کی وجہ سے حلال ہونے میں خدشہ ہو گا۔ چناں چہ رات دیر سے گھر پہنچ کر اپنے لیے کھانا بنایا۔ یہی نکتہ جو غیر مسلم ممالک میں ہم تارکین وطن پاکستانیوں کو پیش آتا ہے۔ اس پہ محترمہ نے خوب اشارہ دیا ہے۔ اور اس پہ سیاسی اثرات کا ذکر بھی ملتا ہے :
”اس ریسٹورنٹ میں گئے تو وہاں کچھ لوگ ام الخبائث بھی استعمال کر رہے تھے۔ کم ہی مسلم ریسٹورنٹس ہیں جو شراب نہیں دیتے۔ وہاں جو چینی یا غیرملکی گاہک آتے ہیں ان کے لیے ہر طرح کی چیزیں پیش کرنا پڑتی ہیں۔ اب تو چینی حکومت نے ریسٹورٹنس کے باہر حلال لکھنے سے بھی منع کر دیا ہے۔“
(صفحہ نمبر 90 )
اربنائزیشن اور اس سے متعلقہ پلاننگ کرنا ہر بڑے شہر کا مسئلہ ہے۔ سوشل رسپانس کے طور پہ جدید ممالک میں ریٹنگ بھی دی جاتی ہے اور ایسی کمپنیوں کو سٹارز بھی دیے جاتے ہیں۔ ایک جگہ پہ شہری آبادی اور آلودگی سے قیمتی اشارہ دیا گیا ہے۔
اک دوسری جگہ پہ میرے اردو کے پسندیدہ ترین مزاح نگار لکھاریوں میں سے اک یعنی ابنِ انشا کا ذکر بھی ملتا ہے۔ جنہیں ہم پڑھتے ہوئے لڑکپن اور پھر جوانی کی دہلیز میں داخل ہوئے۔ بالخصوص ان کی کتاب ”اردو کی آخری کتاب“ ادب میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کسی تحفہ سے کم نہیں ہے۔
”ایک اور بات جو چین کے ہر شہر میں ہر جگہ نظر آئی وہ عمدہ قسم کے واش روم تھے، چاہے آپ کو کہیں کچھ ملے نہ ملے لیکن واش رومز ضرور ملیں گے۔ شاید انھوں نے ابنِ انشا کی“ چلتے ہو تو چین کو چلیے ’والی شکایت نوٹ کر لی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ رہائش کے لیے کمرہ ملے نہ ملے واش روم مل جائے۔ ”
(صفحہ نمبر: 121 )
اک باب میں تفصیلاً چین کی ترقی پہ بات کی گی ہے۔ وہ سب تعمیرات جو کبھی ناممکن لگتی تھیں وہ سوجھ بوجھ، اچھی پلاننگ اور محنت سے ممکن ثابت ہوئی ہیں۔ ایسے ہی اک گلاس کے بنے پل کا ذکر ملتا ہے :
”یہ پل 30 اپریل 2016 ء میں تعمیر ہوا۔ جس پہاڑ پر یہ پل بنا ہے وہ سطح سمندر سے 800 میٹر یعنی تقریباً 3 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور یہ پل اس سطح سے بھی 400 میٹر کی بلندی پر بنایا گیا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر دھات کے بڑے بڑے فریم گاڑ کر یہ شیشے کا پل ان پر رکھا ہوا ہے۔ پل کو ہلکا لیکن محفوظ رکھنے کے لیے یہ فریم ٹائیٹینیم ایلائے کے بنائے گئے ہیں جس سے ائر کرافٹ بنائے جاتے ہیں۔ یہ پل ہلکا ہلکا ہلتا بھی رہتا ہے شاید لچک رکھنے کے لیے ورنہ کیسے کیسے طوفان۔ سلام ہے اس قوم کو جو ایسے ایسے کام کر لیتی ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جائے۔“
(صفحہ نمبر 230 )
چین میں اردو لکھنے اور پڑھنے کے حوالہ سے بھی ایک اہم اشارہ ملتا ہے۔ جس میں اردو دان اور صاحبِ اختیار احباب کی خاموشی یا عدم توجہی کے اشارے ملتے ہیں۔ اک سفارت خانہ کے قائم کردہ سکول دورہ پہ وہ رقمطراز ہیں :
”اردو کا سیکشن کہاں ہے؟ میں نے پوچھا تو مجھے کتابوں کی الماری کا ایک کونہ دکھایا گیا جو سب سے نیچے تھا۔ وہاں اردو کی کچھ بوسیدہ اور پرانی کتب رکھی ہوئی تھیں، جن میں مختار مسعود کی آواز دوست بھی تھی۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا تو بتایا گیا کہ اردو کا سیکشن ابھی سیٹ کرنا ہے یعنی پچپن سال سے کسی کو خیال نہٰیں آیا کہ ایک پاکستانی سکول کی لائبریری میں اردو کا سیکشن بھی ہونا چاہیے۔“
(صفحہ نمبر 252 )
المختصر اس کتاب میں وہ کتاب لوازمات شامل ہیں جو کسی بھی کتاب کو نصاب میں شامل کیے جانے کے لیے لازم ہوتے ہیں۔ نہم، دہم جماعت کے بچوں کے اردو نصاب کے حساب سے آسان مگر نئے الفاظ و محاوروں کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ وہیں نوجوان نسل کو چین کے حالات پہ تازہ سفرنامہ بھی پڑھنے کو ملے گا۔ اور ترقی کی نئی منازل پار کرتے ہوئے چین سے ہم کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں اس پہ بھی باریکی کے ساتھ روشنی ڈالی گی ہے۔
اک عرصہ پہ سفرنامہ پڑھا اور دل شاد ہوا۔ اس میں جابجا تصاویر بھی شامل ہیں جو پڑھنے والوں کو مزید جوڑ کر رکھتی ہیں۔ یہ کتاب آپ کو پریس فار پیس پبلی کیشنز سے مل سکتی ہے۔


