تیل کا بادشاہ: شکست تخت پہلوی (10)


1972 میں ابوالحسن بنی صدر اپنے والد آیت اللہ نصر اللہ بنی صدر کی وفات پر عراق کے شہر نجف گئے جو پہلوی رژیم کے مخالفوں میں سے تھے۔ وہ خود جلا وطنی میں پیرس میں رہتے تھے اور اکنامکس پڑھاتے تھے لیکن ایران کے مستقبل کے بارے میں متفکر تھے۔ انہیں شاہ کی مقبولیت اور طاقت سے کوئی ڈر نہیں تھا۔ بنی صدر اور دوسرے جلاوطن لوگ یہ بات جانتے تھے کہ طاقت لوگوں کو سڑک پر لانے سے نظر آئے گی۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کے پاس کوئی رہبر نہیں جس کی مقبولیت ہو اور نہ ہی ان کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ مجمع کو فعال کر سکیں۔ صرف وہ جن کے پاس ’مرجع‘ کا لقب ہے تحریک چلا سکیں گے۔ خمینی شاہ کے سب سے بڑے مخالف تھے لیکن وہ مرجع نہیں تھے اور وہ خود نجف میں جلا وطنی گزار رہے تھے۔

خمینی کا غرور اور امنگیں اور سیکولر گروہوں سے ان کی نفرت چھپی ہوئی نہیں تھی۔ وہ مہدی بازرگان کے بجائے ان کے مخالف گروپ ’لبریشن موومنٹ آف ایران‘ سے تعاون کرنا سہل سمجھتے تھے۔ بنی صدر کو لگا کہ خمینی ان کے ساتھ ملنے میں کچھ ہچکچاہٹ رکھتے ہیں۔ انہوں نے خمینی کو آزمانے کے لیے کہا کہ کیا وہ اس تحریک کو فعال کرنے اور مغربی پریس میں پہلوی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے کچھ رقم چندہ کریں۔ آیت اللہ نے منظوری دے دی اور جلد ہی ہیوسٹن ٹیکساس میں ایک سپورٹر حسین یزدی کے اکاؤنٹ میں ہزاروں ڈالر آ گئے۔ اس کے علاوہ پیرس میں بھی۔ بنی صدر نے اس رقم سے ایک چھوٹا گروہ قائم کیا۔ بنی صدر شدت سے مغربی پریس کو متوجہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کے ساتھ صادق قطب زادہ نے امریکی اور یورپی رپورٹرز سے جو لبنان میں بیروت سے رپورٹنگ کرتے تھے رجوع کیا۔

abolhassan banisadr

ادھر نجف میں خمینی نے اپنے مقالات کو چھپوانے کا کام شروع کر دیا۔ اس کتاب کی کاپیاں اور فوٹو اسٹیٹ ایران سے باہر ہزاروں لوگوں تک پہنچنے لگیں اور وہاں سے اسمگل ہو کر ایران پہنچیں جہاں غریب اور تنگ دست عوام نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ پھر تقریروں کے ٹیپ آنے لگے خمینی کی تقریروں کے کیسٹ لبنان، مغربی جرمنی اور پیرس سے اڑ کر تہران تک آ گئے اور وہاں ان کی کاپیاں بنیں اور مسجدوں اور بازاروں میں تقسیم کی گیں۔

خمینی نجف میں جلا وطنی میں پڑے تھے اور شاہ بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط اور پراعتماد حکمران بن کر ابھر رہے تھے۔ 1971 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے شاہ کو اپنا اتحادی بنا کر خوش آمدید کہا۔ خلیج فارس درد سر بنا ہوا تھا اس کا دفاع کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ امریکہ ویت نام جنگ ختم کرنا چاہ رہا تھا اور کسی نئے بکھیڑے میں پڑنا نہیں چاہتا تھا۔ خلیج فارس پر ایران نے اپنا حق جتایا اور اس کی حفاظت کا ذمہ لیا۔ شاہ کا کہنا تھا ”خلیج فارس سے 70 فیصد انرجی رسد یورپ جاتی ہے اور جاپان کی 90 فیصد اگر یہ آبنائے محفوظ نہ ہو تو جاپان اور یورپ کو شدید بحران کا سامنا ہو گا۔ یہ ہم صرف اپنے لیے ہی نہیں آپ کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔“ ایسے وقت میں جب ایشیا اور مڈل ایسٹ میں امریکہ مخالف جذبات ابھر رہے تھے شاہ کی مغرب سے دوستی پسند نہیں کی گئی۔ اس وفاداری کا صلہ نکسن نے یوں دیا کہ شاہ کی بات مان لی۔ اور ایران کو اسلحے کی فروخت کی جو پابندی لگی ہوئی تھی اسے ہٹا لیا اور سب سے بڑھ کر شاہ کا مغربی ملکوں کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز بھی جن سے وہ ملک میں نیوکلیر پلانٹ تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ نکسن نے کہا ”میں شاہ کو پسند کرتا ہوں۔ میں اس کے ملک کو بھی پسند کرتا ہوں۔ میری تمنا ہے کہ شاہ جیسے اور بھی لیڈر آئیں جن میں مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت ہو۔ شاہ کامیابی سے یہ آمرانہ حکومت چلا رہا ہے“ ۔

mehdi bazargan

شاہ کے انقلاب سفید سے ملک میں خوشحالی آ گئی۔ چھوٹے کسان اپنی زمینوں پر خود کام کرتے اور خود ہی فصل بازار میں لے جاتے۔ عورتوں کو کئی محاذ پر آزادی ملی۔ ووٹ، تعلیم، کام، طلاق حتی کی اسقاط حمل کی آزادی بھی۔ ترقی اور خوشحالی کی رفتار تیز تھی۔ شاہ کے بدترین مخالف بھی اس فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مادی خوشحالی کے ساتھ چند مسائل بھی سر اٹھانے لگے۔ بہت سے ایرانی اس تیز رفتار تبدیلی سے پریشان تھے کی اس ماڈرن ازم کی دوڑ میں ایرانی اپنے ملک کی روایت اور ثقافت کو پیچھے چھوڑے جا رہیں ہیں۔ انہیں خوف تھا کہ یہ ترقی ان کے خاندانی نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ساواک کے چیف نے ایک امریکی صحافی کو بتایا ”ان دنوں کسی کو کسی چیز کی پرواہ نہیں سوائے پیسوں کے۔ ہمیں مادی چیزوں نے گھیر لیا ہے اور ہم اپنی اقدار کھو رہے ہیں۔ بچے والدین کی عزت نہیں کرتے۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ماڈرن ازم کو آنا ہی ہے ہم بے بس ہیں۔ لیکن جو ہم نے حاصل کیا ہے کیا یہ حاصل زندگی ہے؟“

شاہ اب یہ بات سمجھ رہے تھے کہ پوری سیاسی قوت اور مضبوط خزانہ ہر مسئلہ کو حل نہیں کر سکتا۔ وہ قانون بنا سکتے تھے لیکن لوگوں کو اس کا پابند نہیں کر سکتے۔ انہوں نے تیل کی پیداوار بڑھا دی لیکن ملک کی معیشت کمزور تھی اور اسے اشیا خور و نوش کی کمی اور افراط زر کا سامنا تھا۔ اسکول تو بہت کھل گئے لیکن یہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ناکافی تھے اور خواندگی کی شرح بڑھی نہیں۔

وہ بادشاہ جو دو سال پہلے پرسیپولس میں جشن منا رہا تھا اور دنیا بھر سے آئے بادشاہ، ملک، صدور اور اہم شخصیات اس میں شریک ہوئے۔ وہ بادشاہ آج پریشانیوں میں گھرا ہوا تھا۔ رات کو ویلیم کی 5 اور کبھی 10 ملی گرام کے کیپسول بھی اس کی بے خوابی دور نہیں کر سکتے تھے۔ طالب علموں کی ایک بڑی تعداد اس شخص کو سخت ناپسند کرتی تھی جو خود کو ان کا باپ کہتا تھا۔ شاہ جتنا بھی ان کے لیے کرتے وہ کافی نہیں ہوتا تھا۔

khomeini in Iraq

شاہ کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب لوگ ان تقریروں، پروجیکٹس کے اعلانات، وعدے اور پیش گویوں سے بہلنے والے نہیں، انہیں اپنی روحانیت کی تسکین چاہیے۔ ان کی بیماری دل کی تھی، دماغ کی نہیں۔ دربار کے وزیر علم نے سمجھانے کی کوشش کی کہ اعلی حضرت عوام سے کسی اور لہجے میں بات کریں۔ علم کے خیال میں شاہ اتنے قصوروار نہیں جتنے وزیراعظم امیر عباس ہویدا تھے جنہیں وہ طنزیہ ’بوڑھا آدھا‘ مرد کہتے تھے۔ علی منصور جو ہویدا کے دوست تھے 1965 میں قتل ہو گئے ان کے بعد ہویدا آئے اور شاہ کا اعتماد جیت لیا۔ ہویدا ذہین تھے، باتوں کا ہنر جانتے تھے۔ پرشین آرٹ اور ادب سے واقف تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ چاپلوس، فرمانبردار اور چرب زبان بھی تھے۔

شاہ ہویدا کو بہت پسند کرتے تھے۔ ان کے ساتھ وہ بہت پر لطف اور خوشگوار وقت گزارتے۔ دونوں کو فرنچ ثقافت اور زبان سے لگاؤ رکھتے تھے۔ ہویدا کی صورت میں شاہ کو ایک ایسا دوست مل گیا جس سے وہ سیاسی، علمی اور ادبی بحث کے علاوہ ہنسی مذاق بھی کر سکتے تھے۔ ہویدا کی صلاحیتوں پر کسی کو شبہ نہیں تھا۔ وہ ایک اچھے سیاست مدار اور ماہر ایڈمنسٹریٹر تھے۔ ملنسار اور باتونی بھی تھے۔ ان کے دوستوں میں شاہی گھرانے کے افراد ہی نہیں، دانشور اور علما بھی تھے۔ ان کے دوست ان کی شراب نوشی اور ہم جنس پرستی کو بھی برداشت کرتے رہے۔ ان کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے ہوتے حتی کہ انقلابی نوجوان بھی ان سے ملتے۔ 1959 میں ہویدا نیشنل ایرانی آئل کمپنی میں کام کر رہے تھے اور بنی صدر شاہ رژیم کی کھل کر مخالفت میں سامنے آئے وہ بھی ہویدا سے ملے ان کی صورت میں بنی صدر کو ایک ہمدرد سننے والا مل گیا ”وہ دھیان سے میری بات سنتے ایک سے زیادہ بار میں نے انہیں گزارش کی ہمارے کچھ ساتھی جیل میں ہیں انہیں آزاد کرانے میں مدد کریں۔ اور ہر بار انہوں نے وہ سب کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ میں انہیں پسند کرتا تھا۔ ان کا مسئلہ یہ تھا کہ ان کوئی دین ایمان نہیں تھا“

Amīr Abbas Hoveyda

شاہ کی تعلیم ہائی اسکول تک کی تھی۔ انہوں نے خود بہت کچھ سیکھا معلومات حاصل کیں۔ تجربات سے گزرے۔ انہوں نے فیشن ایبل دنیا کو حقیقت سمجھ لیا۔ ہویدا کی صورت میں انہیں ایک ذہین معاملہ فہم وزیراعظم مل گیا تھا لیکن ہویدا نے بھی انہیں حقائق نہیں بتائے وہ شاہ کو وہی بتاتے جو شاہ سننا چاہتے۔ انہیں ڈر تھا کہ کوئی تلخ حقیقت شاہ کو ناراض کر سکتی ہے۔ وہ بڑی صفائی سے غلط دستاویزات شاہ کو دکھاتے جو خود ان کے اپنے مفاد میں ہوتیں۔ ہویدا کا انجام موت ہوا۔ ان کا اپنا دوست بنی صدر انہیں گولیوں سے نہ بچا سکا۔ ہویدا آخر تک یہی کہتے رہے کہ وہ صرف احکامات کی تعمیل کر رہے تھے۔

علم کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ شاہ ہویدا پر اتنا اعتماد کیوں کرتے ہیں۔ ”حکومت نا اہل اور ظالم تھی۔ اپنے عوام سے ایسا سلوک روا رکھتی تھی جیسا کوئی فاتح ملک اپنے مفتوح سے رکھتا ہے“۔ شاہ کے گرد ایسے لوگ تھے جو انہیں حقیقت بتانے کے بجائے ان کی پسند کی باتیں بتاتے۔ دسمبر 1973 میں علم نے شاہ کو سچ بتانے کی کوشش کی کہ شاہ اور عوام کے بیچ بہت دوری ہو چکی ہے۔ شاہ نے کہا ”میرا خیال ہے کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے“ ۔ دونوں نے اس موضوع پر مزید بات کی اور علم کا خیال تھا کہ اب شاہ پر واضح ہو گیا کہ مادیت کا حصول مسئلہ کا حل نہیں اور ہویدا کی حکومت کو تبدیل کر کے ایک نگران حکومت آئے اور نئے آزاد انتخابات کرائے۔

امریکہ کی سی آئی اے بھی نظر رکھے ہوئے تھی کہ شاہ عوام سے اپنے روابط بہتر کرنے کی بار بار کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ان اقدامات کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آئے گا جب تک شاہ کوئی ٹھوس سیاسی اور سماجی تبدیلی نہیں لائیں گے۔

Mohammad Reza Pahlavi – Amir Abbas Hoveyda

ایران میں بے چینی اور عدم اعتماد کی لہر پھیل رہی تھی لیکن اس پر سے توجہ ہٹ گئی جب 1973 میں مشرق وسطی میں بہت اہم واقعات ہوئے۔ مصر اور اسرائیل میں سخت کشیدگی اکتوبر میں جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔ امریکہ اسرائیل کو ملٹری سپلائی بھیج رہا تھا جس سے عرب ملکوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور مغرب کو تیل کی درآمد پر قدغن لگا دی۔ یہ ایک ہنگامہ حیز صورت حال تھی۔ شاہ نے خود کو اس جنگ میں غیر جانبدار رکھا اور صدر نکسن شاہ کے شکر گزار ہوئے۔ لیکن اس ساری صورت حال میں شاہ نے اپنا فائدہ بھی دیکھا۔ دسمبر 1973 میں پرشین گلف آئل کی میٹنگ میں تجویز دی کہ تیل کی قیمت دوگنی کر دی جائے۔ شاہ کے ’تیل انقلاب‘ سے واشنگٹن، جو پہلے شاہ کا ممنون تھا، ششدر رہ گیا۔ ’آئل شاک‘ امریکہ حکومت کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔ شاہ نے چند ماہ میں ہی تیل کی مارکیٹس کو کنٹرول میں لے لیا اور اوپیک کا سب سے طاقتور اور پر اثر ’تیل کا سوداگر‘ بن گئے۔

مغربی ڈپلومیٹ جو انہیں غیر اعتماد، غیر فعال اور پلے بوائے بادشاہ سمجھتے تھے اب وہ ’تیل کا بادشاہ‘ تھا۔ ٹائمز میگزین نے لکھا ”محمد رضا پہلوی ایران کو اس سطح پر لے آئے جہاں پہلے کبھی کوروش کبیر لائے تھے“ ۔ بینکرز مذاق میں کہتے کہ اگر شاہ کو چھینک آ جائے تو وال اسٹریٹ کو زکام ہو جاتا ہے۔ ایران کی حیران کن معاشی رفتار 33 فیصد سے 1973 میں 40 فیصد ہو گئی۔ معیشت ایسے اوپر گئی جیسے اپالو چاند پر جا رہا ہو۔ پیسوں کی کمی نہیں تھی، شاہ نے بھی خریداری شروع کر دی۔ کئی بلین ڈالر کے ملٹری آلات کا آرڈر دیا۔ بچوں کی بنیادی تعلیم مفت کردی اور ہر بچے کو دن میں ایک گلاس دودھ اسکول میں فراہم کرنے کا حکم دیا۔ مغربی جرمنی کی اسٹیل کمپنی میں 25 فیصد حصے خریدے اور 16 بلین ڈالر اسکول اور اسپتال کے مختلف پروجیکٹس پر لگائے۔ بیرونی دنیا میں اپنا احترام بڑھانے کے لیے شاہ نے سات سو ملین ڈالر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ میں دیے۔ ایک ملین ڈالر جنوبی کیلیفورنیا کی یونیورسٹی کو عطیہ کیے۔ امریکی انٹلیجنس شاہ کے تیل کے انقلاب پر جو انہوں نے اپنے پرانے حلیف کے خلاف کیا برہم تھی۔ سی آئی اے کی ایک افسر کا کہنا تھا ”وہ ہمارا بے بی تھا اب وہ بڑا ہو گیا“ ۔ امریکہ نے ایران پر اپنا اثر کھو دیا۔

nixon and shah

علی کانی ایران کے ایک با اثر سیاست دان تھے۔ 1973 میں وہ اپنے پرانے دوست امام موسی صدر سے ملنے بیروت گئے۔ وہ ہوٹل جرج میں ملے وہاں سے موسی صدر کی رہائش گاہ گئے۔ یہ ملاقات دو دوستوں کی تھی جو بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے تھے لیکن موسی صدر کچھ سنجیدہ باتیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کے پاس شاہ کے لیے ایک خفیہ پیغام تھا جو وہ کانی کے ذریعہ بھیجنا چاہتے تھے۔ پیغام آیت اللہ خمینی کے متعلق تھا۔

علی کانی اور موسی صدر میں دوستی کے علاوہ بھی کچھ اور قدر مشترک تھی۔ دونوں کے والد ایران کے با اثر آیت اللہ تھے۔ 1960 کے اوائل میں جب موسی صدر لبنان میں اپنے پیر جما رہے تھے علی کانی اپنے دوست اسد اللہ علم کی کابینہ میں کام کر رہے تھے۔ 1963 میں جب خمینی پر کریک ڈاؤن کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے شورش کو دبا لیا، علم چاہتے تھے کہ خمینی ایران میں ہی رہیں تاکہ ان پر نظر رکھی جا سکے لیکن وزیر منصور نے شاہ کو کہا کہ خمینی کو ترکیہ بھیج دیا جائے۔

علی کانی اور موسی صدر برسوں سے ایک دوسرے سے خطوط کے ذریعہ رابطے میں رہے۔ کانی جب بھی پیرس جاتے راستے میں بیروت رک کر اپنے دوست سے ملتے۔ اس بار موسی صدر نے ملاقات کے اختتام پر اپنے دوست کو بیس صفحوں کا ایک کتابچہ دیا جو عربی زبان میں تھا۔ یہ آیت اللہ خمینی کے لیکچروں پر مشتمل تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شہنشاہیت کو ہٹا کر ایک اسلامی حکومت بنائی جائے۔ ”یہ جا کر اپنے دوست شاہ کو دو اور کہو کہ اس کی دو لاکھ کاپیاں بنا کر یونیورسٹیوں اور عالموں کو دیں تاکہ وہ جان سکیں کہ خمینی اصل میں کیا ہے“۔ علی کانی نے جب یہ پڑھا تو حیرت زدہ رہ گئے۔ تہران واپس پہنچ کر انہوں نے اس کتابچے کا خلاصہ لکھا اور شاہ کو پیش کر دیا۔ ”شاہ اسے پڑھ کر بہت محظوظ ہوئے۔ انہیں یقین تھا کہ اگر اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس سے انہیں فائدہ ہو گا۔“ خمینی ایک اسلامک آمریت کی بات کر رہے ہیں۔ شاہ نے وزیراعظم کو ہدایت کی کہ اس کی پچاس لاکھ کاپیاں کر کے ملک بھر میں تقسیم کر دیں تاکہ لوگ اس شخص کا اصلی روپ دیکھ سکیں جو انصاف اور آزادی کی باتیں کرتا ہے۔

شاہ نے یہ مسئلہ وزیراعظم ہویدا کے سامنے رکھا اور انہوں نے ایک کمیٹی کو بھجوا دیا۔ ہویدا کی عادت تھی کہ وہ شاہ کے سامنے ان کی ہر بات مان لیتے لیکن کرتے برعکس تھے۔ ہویدا کی بنائی تین افراد کی کمیٹی کئی مہینوں تک اس پر کام کرتی رہی۔ آخر میں یہی فیصلہ کیا گیا کہ اس تحریر کے سامنے آنے سے خمینی کو فائدہ ہو گا۔

1974 کے مارچ میں پہلوی خاندان جزیرہ کیش میں نوروز کی تعطیلات منا رہے تھے۔ آٹھ ہفتے پہلے شاہ میں سرطان کی تشخیص ہوئی تھی لیکن شاہ کو علاج شروع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ 9 اپریل کی صبح کو جب شاہی خاندان تہران واپسی کی تیاری کر رہے تھے جنرل آیادی نے علم کو فون کیا کہ شاہ کے پیٹ پر دوبارہ سوجن ہو گئی اور ان کے لیے فرانس کے مشہور سرطان اسپیشلسٹ ڈاکٹر جین برنارڈ سے وقت لے کر تہران بلایا جائے۔ اتفاق کی بات ہے کہ خود علم بھی خون کے لا علاج سرطان میں مبتلا تھے۔ ڈاکٹر برنارڈ اور ان کے اسسٹنٹ کو کہہ دیا گیا کی مریض کو بیماری کی سنگینی نہ بتائیں۔ دونوں ڈاکٹروں کو فوری طور پر بلایا گیا لیکن انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ مریض اصل میں کون ہے۔ یہ بات علم نے انہیں تہران آنے پر بتائی۔ نیاورن میں معالجوں اور مریض کی ملاقات ہوئی۔ معالج یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ شاہ پرسکون تھے اور اپنی بیماری اور اس کے اثرات پر اطمینان سے بات کر رہے تھے۔ نہ شاہ نے اور نہ ہی آیادی نے ڈاکٹروں کو ویانا میں ایک ڈاکٹر سے چیک اپ کے بارے میں بتایا۔ وہ چاہتے تھے کہ پچھلی تشخیص نئے ڈاکٹروں پر اثرانداز نہ ہو۔ شاہ کے ضروری ٹسٹ ہوئے اور ڈاکٹر برنارڈ نے آیادی کو بتایا کہ شاہ کو لمف کینسر ہے۔ آیادی کو کوئی تعجب نہ ہوا۔ ڈاکٹر سے کہا کہ وہ لفظ ’کینسر‘ مریض کے سامنے نہ کہیں۔ بیماری کا ٹیکنیکل نام ’والڈینستروم‘ استعمال کیا گیا۔ جو خون کے سرطان کی ایک قسم ہے۔ اسی دوران فرانس کے صدر پومپیدو اس بیماری میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئے۔ شاہ اور علم دونوں فرنچ صدر کو سراہتے تھے جس نے اپنی بیماری کا اپنے لوگوں کو علم نہ ہونے دیا اور یہ بھی جان لیا کہ یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک حکمران آخری وقت تک پورے وقار کے ساتھ عزت احترام سے کام کرتا رہے۔

شاہ کا علاج شروع ہو گیا۔ انہیں گولیاں لکھ کر دیں۔ وہ شاہ کے لیے کچھ زیادہ نہیں کر سکتے تھے بس اتنا کہ بیماری کو مزید پھیلنے سے روک دیں۔ ڈاکٹر پیرس سے ان کی کیفیت اور حالت سے باخبر رہنے کی کوشش کرتے رہے۔ 1975 شاہ سے ڈاکٹر اس وقت ملے جب وہ سینٹ مورتیز میں اسکینگ کی چھٹیوں پر تھے۔ یہ ملاقات ایک ایسے حساس وقت میں ہو رہی تھی جب دنیا کی معیشت برے حال میں تھی کیونکہ شاہ نے تیل کی قیمتوں میں کمی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ ملاقات بھی خفیہ رکھی گئی۔ شاہ کو اسکینگ کرتے دیکھ کر ڈاکٹر حیرت زدہ اور خوفزدہ ہو گئے۔ اگر وہ گر جاتے تو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا تھا۔

Facebook Comments HS