لاہور کے شاہی محلہ کی درپردہ ثقافت پر لکھی ایک کتاب پر تبصرہ


موڈ بڑا رومانوی سا تھا۔ لیپ ٹاپ کھولا اور نیٹ فلیکس پر کوئی مووی سرچ کرنے لگا کہ اس موڈ سے بھرپور لطف اٹھایا جائے۔ سامنے سکرین پر ہیرا منڈی سیریز پر نظر پڑی جو اس سے ایک دو دن پہلے شروع کی تھی۔ مجھے کچھ خاص نہیں لگی تھی، اس لیے ایک آدھ قسط دیکھ کر چھوڑ دی تھی، مگر اس رات کے موڈ کے حساب سے سیریز مل گئی۔ ذوق تو ادب کا رکھتے ہیں جو کبھی کبھار سر پر چڑھتا ہے، اس رات بھی معاملہ یہی تھا۔ اس سیریز میں بھی چونکہ پورا ماحول ہی طوائف اور ادب، آداب کا ہے، سو لگا لی۔ سیریز کیا تھی، دوسری قسط سے شروع کر کے آخری قسط کے آخری منٹ تک دیکھ لی اور ایک لمحہ کو بھی دھیان نہیں بھٹکا۔ کیا شاندار سیریز ہے، پورا ماحول ہی مجھے بے حد مزے کا لگا۔ کیا بات تھی کہ اس سے ایک دو دن پہلے میں بمشکل صرف ایک ہی قسط دیکھ پایا تھا اور باقی چھوڑ دی تھی اور اس رات کو ختم کر کے ہی چھوڑی۔ اس سے پہلے میں نے طوائفوں کے صرف قصے پڑھے تھے۔ اسی موضوع پر "امراؤ جان ادا” ناول میرے پسندیدہ ناولوں میں سے ہے۔ اس میں مرزا ہادی رسوا نے جس طرح طوائف اور لکھنوی تہذیب کا نقشہ کھینچا ہے، اسے پڑھتے ہوئے بندہ عش عش کر اٹھتا ہے۔ کیا شاندار ناول ہے۔

ہیرا منڈی سیریز پر کچھ عرصہ پہلے مبشر زیدی کی پوسٹ پڑھی تھی، اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ، مبصرین کہتے ہیں، اس سیریز میں حسن تو بہت ہے مگر لاہور کا بازار حسن کہیں نہیں۔ مزید لکھا تھا کہ، اگر کوئی لاہور کا نہیں ہے یا اس نے لاہور کا شاہی محلہ نہیں دیکھا تو وہ فوزیہ سعید کی کتاب "ٹیبو” پڑھیں۔ اس کا اردو ترجمہ فہمیدہ ریاض نے "کلنک” کے نام سے کیا ہے۔ دو دن پہلے ایک اولڈ بک سٹور جانا ہوا، اتفاق سے وہاں شیلف پر یہ کتاب پڑی تھی۔ مجھے مبشر زیدی کی پوسٹ یاد آئی۔ اس سے ایک رات پہلے میں نے سیریز بھی دیکھ لی تھی تو اشتیاق اور بھی بڑھ گیا تھا۔ کتاب پر نظر پڑتے ہی اٹھا لی اور گھر لے آیا، اور پڑھنا شروع کیا۔ پڑھنے کے ارادے سے بھی نہیں بیٹھا تھا، پھر بھی پچاس سے اوپر صفحات پڑھ ڈالے۔ فہمیدہ ریاض صاحبہ نے کتاب کا کیا ہی بہترین ترجمہ کیا ہے۔ یہ ہے تو ترجمہ مگر مجھے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں لگا کہ میں ترجمہ پڑھ رہا ہوں۔ اس سے پہلے عموماً جتنے بھی ترجمے پڑھے ہیں تو ان کی بے کار قسم کی زبان کی وجہ سے وہ سارے ادھورے ہی پڑے رہ گئے ہیں، مگر یہ ترجمہ لاجواب ہے، اسی کی بدولت میں نے دو دن میں پوری کتاب پڑھ لی۔

فوزیہ سعید صاحبہ کی یہ کتاب دراصل ان کی لاہور کے شاہی محلے کی درپردہ ثقافت پر تحقیق ہے، جس میں انھوں نے وہاں کا پورا نقشہ کھینچا ہے۔ اس تحقیق میں انھیں کیا مشکلات پیش آئیں، وہ سب کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ اس کتاب کی اچھی بات مجھے یہ لگی کہ یہ کہانی کے انداز میں ہے، جس میں پورے مکالمے بھی درج ہیں۔ بالکل وہی انداز ہے جو آپ بیتی کا ہوتا ہے۔ بلکہ یوں سمجھیے کہ یہ ان کی اس درپردہ ثقافت پر تحقیق کے دورانیے کی آپ بیتی ہے۔ جس میں انھوں نے بہترین انداز سے اس کلچر کو قلمبند کیا ہے۔ عموماً اس ایریا کے بارے میں جو مشہور ہے کہ یہاں لڑکیاں اغواء کی ہوئی ہوتی ہیں، جنھیں یہاں بیچ دیا جاتا ہے، جیسے ناول امراؤ جان ادا میں دکھایا گیا ہے، مگر یہ کتاب پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ یہاں کی تو اپنی الگ روایات ہیں، جن کو یہاں کے لوگ صرف خود تک ہی محدود رکھتے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ ان ’رازوں‘ کو باہر جانے نہ دیا جائے۔ مصنفہ کو ان کے رازوں کو جاننے کے لیے بہت محنت مشقت اور حیلے کرنے پڑے، جس کے بعد کہیں جا کر وہ کچھ کامیاب ہوئیں، کیونکہ کتاب پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ بعض جگہوں پر مصنفہ ایسے ہی آگے بڑھ جاتی ہیں کہ اس کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ملیں۔ ان اغواء شدہ لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اس پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

یہاں کا ماحول کیسا ہے، طوائف کے کیا کام ہوتے ہیں۔ اس پر یہ کتاب بیش بہا خزانہ ہے۔ اس ایریا کے بارے میں جو عام تصور پایا جاتا ہے، وہ حقیقت سے بہت مختلف ہے، کیونکہ یہاں کی الگ ثقافت ہے۔ دو خاندانوں میں یہ روایت چلی آ رہی ہے۔ جن میں ایک خاندان کا تعلق موسیقی اور اس کے ساز و سامان سے ہوتا ہے، جن کے مرد حضرات اپنے پیشے کا کام کرتے ہیں اور دوسرے خاندان کی عورتیں رقص وغیرہ سیکھتی ہیں، اور اس کے علاوہ دوسری خدمات دیتی ہیں۔ ان خاندانوں کے نام معاشرے میں گالی سمجھے جاتے ہیں۔ مجھے خود نہیں پتہ تھا کہ یہ کسی خاندان یا نسب کے نام ہیں بلکہ میں بھی یہی سمجھ رہا تھا کہ گویا یہ کسی قسم کی گالی ہے۔ جیسے جیسے کتاب میں آگے بڑھتا جا رہا تھا، عجیب و غریب قسم کے انکشافات ہو رہے تھے۔ طوائفوں میں بیٹا پیدا ہو جائے تو اس پر یہ کچھ خاص خوشی نہیں مناتے، جیسے عام معاشرے میں عموماً بیٹی کی پیدائش پر لوگ کچھ زیادہ خوش نہیں ہوتے۔ ان کے ہاں گھر کی سربراہ عورت ہوتی ہے۔ عورتیں کماتی ہیں اور مرد کھاتے ہیں، اس لیے رعب بھی عورتوں کا ہوتا ہے۔ خیر، ایک لمبی فہرست ہے، اس محلے کے حوالے سے، جو ڈاکٹر صاحبہ منظر عام پر لائی ہیں۔

ان واقعات کے ضمن میں فوزیہ سعید صاحبہ نے معاشرے میں عورتوں کے ساتھ روا ظلم پر بات کی ہے اور بہت اچھے طریقے سے ان کے مسائل کو ایڈریس کیا ہے۔ اس میں صرف طوائفوں کے ہی نہیں، معاشرے کی دیگر عورتوں کے مسائل بھی زیر بحث ہیں۔ لڑکیوں کی شادی مسائل اور ان کے بارے میں ان کی ماؤں کا فکر مند ہونا عموماً ہر طبقے میں ہوتا ہے، کہ ان کی بیٹی کا مستقبل محفوظ ہو جائے۔ معاشرے میں موجود مسائل جو عورتوں کو پیش آتے ہیں، ان پر مصنفہ نے اچھے انداز میں بات کی ہے۔ کہیں کہیں ڈاکٹر صاحبہ کا حس مزاح بھی جاگ جاتا اور جملے کو بیان کرنے کے لیے ایسا انداز اختیار کرتی ہیں کہ پڑھتے ہوئے لبوں پر خود بخود مسکراہٹ آ جاتی ہے اور کبھی کبھار تو باقاعدہ ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ کتاب کے آخر میں مصنفہ نے جن حقائق پر روشنی ڈالی ہے، وہ قابل غور ہیں، اس محلے میں صرف عام لوگ ہی نہیں بلکہ خواص اور اہل اقتدار بھی جاتے ہیں بلکہ ان کا الگ ہی وقت ہوتا ہے، جن میں وہ پوری حفاظت کے ساتھ جاتے ہیں۔ لاہور کا شاہی محلہ اور اس جیسی دوسری جگہیں کیوں قائم ہیں اور ان کا خاتمہ کیوں نہیں ہوتا تو اس پر انھوں نے تاریخی حوالوں کے ساتھ ڈاٹس کنیکٹ کر کے اسے پدرسری سماج کے ساتھ جوڑا ہے، جو بے جا نہیں ہے۔ المختصر، مزے کی کتاب ہے، اسے پڑھنا بے سود نہ ہو گا۔

Facebook Comments HS