سماجی لسانیات اور اس کی اصطلاحات


امریکی ماہرِ لسانیات ویلیم لیبوف کو تغیر پسند سماجی لسانیات کا بنیاد گزار سمجھا جاتا ہے۔ جنھوں نے لوگوں سے میل جول کے دوران ان کے لب و لہجے اور زبان کی ساخت اور نوعیت میں تبدیلی کو محسوس کیا یہاں سے ان کا اضطراب بڑھا اور وہ زبان کے سماجی دائرہ کار پر غور کرنے لگے۔ اس ضمن میں برطانوی ماہرِ لسانیات باسل برنسٹائن اور رچرڈ ہڈسن نے قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں۔ ان لسانیات کے ماہرین کا کام بیسیوں صدی کی آخری چار دہائیوں میں سامنے آیا۔ اس کے علاوہ مریم مئیر ہوف اور پیٹرڈ گل نے سماجی لسانیات کے تعارف پہ کتب تحریر کی ہیں۔

اردو میں پروفیسر عبدالستار دلوی کا کام سماجی لسانیات کے باب میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انھوں نے سماجی لسانیات کے تعارف سے آگے بڑھ کے ہندوستان میں بولی جانے والی اردو کا مختلف ادوار میں سماج کے تناظر میں مطالعہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ان کی کتاب اردو زبان اور سماجی سیاق خاص اہمیت کی حامل ہے۔

سماجی لسانیات، لسانیات کی ایک اہم شاخ ہے جس میں سماج اور زبان کا مطالعہ کیا جاتا ہے یا یوں کہیے سماج کی زبان اور زبان کے سماج کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ جس قدر سماج رنگین ہے اس قدر زبان میں بھی تنوع ہے۔ فرد سے فرد، موضوع سے موضوع اور خطے سے خطہ زبان تبدیل ہوتی ہے۔ ایک سماج کے اندر رہنے والے مختلف افراد جو مختلف طبقات، پیشوں، مختلف جغرافیے اور مخلتف علاقائی زبانوں کا پس منظر رکھتے ہیں ان کے ہاں ایک زبان کیسے کارفرما ہوتی ہے اور اس زبان میں کس نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، بازار کی زبان، ادب کی زبان، درس گاہوں کی زبان، پیشہ ورانہ زبان، سلینگ، لہجے، رویے اور مختلف طبقات کی نمائندہ زبان یہ سب سماجی لسانیات کے دائرے میں آتا ہے۔

سماجی لسانیات زبان اور معاشرے کے درمیان تعلق کا مطالعہ کرتی ہے۔ وہ اس بات کی وضاحت کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے کہ لوگ مختلف سماجی سیاق و سباق میں مختلف طریقے سے کیوں بولتے ہیں، اور وہ زبان کے سماجی افعال اور سماجی مفہوم کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقوں کی شناخت سے متعلق کام کرتی ہے۔ رچرڈ ہڈسن کہتے ہیں

سماجی لسانیات سماج کے تناظر میں زبان کا مطالعہ ہے جبکہ زبان کی سماجیات زبان کے تناظر میں سماج کا مطالعہ ہے۔

زبان معاشرے پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہے اور سماج زبان پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے یہ دو سماجی لسانیات کے بنیادی سوال ہیں اور ایسے ہی کئی اور سوالات ہیں جو ماہرِ لسانیات کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔

زبان کی بنیاد معاشرتی قدروں اور روایتوں پر رکھی ہوئی ہوتی ہے۔ زبان میں مٹھاس کا مطلب ہے معاشرت اور ثقافت اعلیٰ ہے۔ اکھڑ، بدمزاج اور کرخت زبان کا مطلب ثقافت کی بدحالی ہے۔ مختلف زبانیں جاننے کا مطلب مختلف معاشروں، تہذیبوں اور ثقافتوں کو جاننا ہے۔ مختصر یہ کہ زبان سماج کا مطالعہ ہے۔ جب بھی کسی زبان کا مطالعہ کرتے ہیں تو گویا سماج کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں۔

سماجی لسانیات کی اصطلاحات

معیاری زبان

معیاری زبان وہ زبان ہے جو قواعد کی رو سے درست ہو جسے تحریر و تقریر میں استعمال کیا جا سکے۔ دفتری اور ادبی استعمال میں لائی جا سکے۔ جس میں نصابی کتب تشکیل دی جا سکیں اور جسے معاشرے کے تعلیم یافتہ افراد علمی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ اردو لغت کے مطابق

(لسانیات) شستہ زبان جس کو تعلیم یافتہ اور ثقہ اہل علم تسلیم کریں اور استعمال کریں، ٹکسالی زبان، مستند بولی

غیر معیاری زبان

غیر معیاری زبان معیاری زبان کے قواعد کی پیروی نہیں کرتی۔ گرامر کی پروا کیے بغیر عام طبقہ اسے استعمال میں لاتا ہے۔ عام بول چال میں استعمال ہونے والی بے تکلف زبان، عوامی زبان جسے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ بولا جاتا ہے۔

یک لسانیت/مونو لینگولزم

یک لسانیت سے مراد کسی معاشرے میں بولی جانے والی ایک زبان ہے۔ ممکن ہے اس ایک زبان کے لہجے اور بولیاں مختلف ہوں۔ اس طرح اس ایک زبان کا استعمال مختلف اوقات میں اور مختلف حالات میں مختلف ہو سکتا ہے۔

ذولسانیت/بائی لینگولزم

کسی فرد یا گروہ کا دو زبانیں جاننا اور انھیں استعمال کرنا ذو لسانیت ہے۔ ایک مادری اور دوسری دفتری زبان یا بین الاقوامی زبان ہو سکتی ہے۔ دونوں زبانوں کا ماہر ہونا لازم نہیں بس دونوں زبانوں کو ایک حد تک بولنا اور سمجھنا آنا چاہیے اس میں لکھنا اور پڑھنا بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

کثیر لسانیت/ملٹی لینگولزم

کسی فرد یا معاشرے کا دو سے زیادہ زبانیں جاننا کثیر لسانیت کہلاتا ہے۔ جیسے پاکستان ایک کثیر اللسانی ملک ہے۔ نہ صرف یہ کہ پاکستان کے مختلف خطوں میں دو سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں بلکہ انفرادی سطح پہ ایک عام آدمی بھی تین زبانیں تو کم سے کم جانتا ہے۔ زبان جاننے کا مطلب زبان کا ماہر ہونا نہیں ہے بلکہ کسی حد تک زبان کو سمجھنا اور بولنا شامل ہے۔ ہمارے ہاں ایک مادری زبان ہے جو پنجابی، سرائیکی، بلوچی، پشتو، پوٹھوہاری کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ دوسرا تدریسی زبان اردو ہے، تیسرا مذہبی اعتبار سے کم و بیش سبھی کو عربی زبان سیکھنی ہوتی ہے، چوتھا انگریزی ہماری دفتری زبان ہے اور بین الاقوامی زبان بھی ہے۔

لہجہ/ایسنٹ

کوئی شخص کسی خطے میں کسی زبان کے الفاظ کو جس طرح ادا کرتا ہے اسے اس کا لہجہ کہا جاتا ہے۔ اس سے کسی خاص کمیونٹی کا بولنے کا انداز پتہ چلتا ہے۔ لہجہ ایک آواز کی شکل یا اس کے ادائیگی کا انداز ہے۔ لہجہ اس بات کا حامل ہو سکتا ہے کہ بولنے والا کس علاقے میں رہتا ہے۔ بولنے والے کی سماجی اقتصادی حیثیت، اس کی نسل یا سماجی طبقہ کیا ہے۔ لہجے سے بولنے والے کی مادری زبان کا تعین بھی کیا جاسکتا ہے۔

بولی/ڈایالیکٹ

ڈایالیکٹ ایک زبان کی ایک ایسی شکل ہے جو کسی خاص جغرافیائی یا اجتماعی گروہ میں بولی جاتی ہے۔ ڈایالیکٹ تلفظ، گرامر اور الفاظ کی تفریق کے حوالے سے لوگوں کا زبان کو استعمال کرنا ہے۔ ڈایالیکٹ کئی وجوہات کی بنا پر وجود میں آ سکتے ہیں، جن میں تاریخی، جغرافیائی اور اجتماعی عوامل شامل ہیں۔ مثلاً، مختلف ڈایالیکٹ اس وجہ سے پیدا ہوسکتے ہیں کہ مختلف زبانی گروہوں کے اثرات کسی خاص خطے میں بسنے والوں پر مرتب ہوں۔ اسی طرح، ڈایالیکٹ اکثر وہاں بھی پیدا ہوسکتے ہیں جہاں لوگوں کے پاس دوسرے سماجی گروہوں سے کم رابطہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ بول چال کی ایک خاص شکل دیکھتے ہیں۔ ایک زبان کے اندر بھی بولیوں کی بہت وسیع تعداد پائی جاتی ہے۔ مثلاً، انگلش زبان میں، ریجنز کے مختلف حصوں میں، کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر انگلش بولنے والے ممالک میں مختلف ڈایالیکٹس بولے جاتے ہیں۔

لہجے اور بولی میں فرق

لہجہ لفظ کی ادائیگی ہے۔ بولنے کا انداز ہے جبکہ بولی میں تلفظ، قواعد اور ذخیرہ الفاظ شامل ہیں جو ایک ہی زبان میں مختلف ہوتے ہیں۔ لہجہ انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پہ کارفرما ہوتا ہے جبکہ بولی کا تعلق کسی خاص جغرافیے یا خاص نسل سے ہو سکتا ہے۔ مثلاً پٹھان جو اردو بولتے ہیں اور جو پنجابی اردو بولتے ہیں دونوں کی اردو تلفظ، قواعد اور ذخیرہ الفاظ کے اعتبار سے مختلف ہے۔ اسی طرح لکھنؤ میں اردو بولنے والوں کا لہجہ اور پنجاب اور گجرات میں بولنے والوں کا لہجہ مختلف ہو گا ممکن ہے ذخیرہ الفاظ اور قواعد بھی مختلف ہوں۔ ماہرِ لسانیات سوزین رومینی کے بقول لہجے سے مراد کسی نوعِ لسان کا تلفظ ہے۔ جب کہ ایک بولی اسی زبان کی دوسری بولیوں سے ایک ہی وقت میں کم سے کم تین سطحوں پر مختلف ہوتی ہے۔ یعنی تلفظ، قواعد اور ذخیرہ الفاظ کی سطح پر۔ اس لحاظ سے امریکی اور برطانوی انگریزی کے خواندہ متکلمین کے لیے ہم یہ کَہ سکتے ہیں کہ وہ دو مختلف بولیاں بولتے ہیں کیوں کہ ان کے درمیان یہ تینوں طرح کے فرق موجود ہوتے ہیں۔

رجسٹر

مختلف لوگ مختلف حالات میں مختلف زبان بولتے ہیں اسے رجسٹر کہا جاتا ہے۔ رجسٹر کا تعلق ماحول اور مخاطبین سے ہے۔ مثلاً ایک ڈاکٹر کی اپنے مریضوں کے ساتھ گفت گو، ایک استاد کی طلبہ کے ساتھ گفت گو، بچوں کی والدین کے ساتھ گفت گو، دوستوں کے ساتھ گفت گو، پارٹی میں گفت گو، علمی و ادبی تقریب میں گفت گو اور نجی محفل میں گفت گو سب میں انداز، لب و لہجہ اور الفاظ کا انتخاب مختلف ہو گا۔

ذو زبانیت/ڈائیگلوشیا

معاشرے میں اگر دو زبانیں ہیں تو ایک عام بول چال میں استعمال ہو گی اور دوسری تدریسی اور دفتری امور میں استعمال ہو گی۔ جیسے ہمارے پنجاب میں ذو زبانیت کی مثالیں عام ہیں۔ عام بول چال، گھر اور نجی معاملات میں پنجابی، سرائیکی یا پوٹھوہاری استعمال ہوتی ہے جب کہ تدریسی اور دفتری مقاصد کے لیے اردو استعمال کی جاتی ہے۔ ایک ہی زبان کی دو مختلف صورتیں بھی انھی دو مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

جارگن

جارگن کو پیشہ ورانہ سیاق و سباق میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کسی خاص شعبے یہ علم کی اصطلاحات ہوتی ہیں یا مخصوص لفظ ہوتے ہیں۔ جارگن ایک خاص قسم کی زبان ہوتی ہے جو کسی خاص سیاق و سباق میں استعمال ہوتی ہے اور اسے اس تناظر سے باہر نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ خاص الفاظ ہوتے ہیں جن کا تعلق کسی خاص پیشے، واقعے، سرگرمی یا خاص شعبے اور علم کی کسی شاخ سے ہوتا ہے۔ یہ سائنس، ٹیکنالوجی، تجارت اور فن وغیرہ کی اصطلاحات ہیں جنھیں مخصوص لوگ سمجھتے ہیں۔ بسا اوقات یہ الفاظ عوامی دائرے میں بھی داخل ہو جاتے ہیں۔

پٹوار خانہ، عدالتی نظام، تھانہ، طب، کمپیوٹر، سائنس، فلسفہ اور فنونِ لطیفہ وغیرہ میں استعمال ہونے والے مخصوص الفاظ جنھیں اسی شعبے کے لوگ بہتر سمجھتے ہیں۔

کوڈ سوئچنگ

ایک سے زیادہ زبانیں جاننے والے افراد یا ذو لسانی اور کثیر السانی معاشرے میں رہنے والے افراد دورانِ گفت گو ایک زبان میں بات کرتے کرتے روانی میں دوسری زبان کے جملے بولنے لگتے ہیں یا ایک دو جملے دوسری زبان کے ادا کرتے ہیں اس زبان کی منتقلی کے عمل کو سماجی لسانیات کی اصطلاح میں کوڈ سوئچنگ کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ رویہ بہت عام ہے۔ مادری زبان، قومی زبان اور بین الاقوامی زبان سے بیک وقت ہمارا واسطہ پڑتا ہے اردو میں بات کرتے کرتے انگریزی زبان کے جملے یا انگریزی میں بات کرتے کرتے اردو کے ایک دو جملے ادا کر دینا یا مادری زبان کے جملوں، محاوروں یا ضرب المثال کا استعمال کرنا معمول کی بات ہے۔

کوڈ مکسنگ

ایک زبان کے جملے کے اندر کسی دوسری زبان کے الفاظ کو شامل کر دینا کوڈ مکسنگ ہے۔ کثیر لسانی معاشرے میں کوڈ مکسنگ کا چلن عام ہوتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ زیادہ زبانیں جاننے والے فرد کے منہ سے ایک زبان کے جملے میں دوسری زبان کے الفاظ کا نکالنا غیر شعوری بھی ہو سکتا ہے اور ضرورت بھی۔ ممکن ہے جو کوڈ مکسنگ ہوئی ہو اس کا متبادل اس زبان میں نہ ہو جس میں گفت گو ہو رہی ہو یا جو لفظ دوسری زبان کے شامل کیے گئے ہوں وہ زیادہ رواں اور عام فہم ہوں۔

سلینگ

سلینگ معیاری زبان کے مقابل ایسے غیر رسمی اور بے تکلف الفاظ ہیں جنھیں عوامی سطح پر بولا جاتا ہے۔ لفظ کا لغوی معنی تو کچھ اور ہوتا ہے لیکن عوامی سطح پر یا خاص شعبے کے لوگ اس کے الگ سے معنی مراد لیتے ہیں۔ نیز یہ الفاظ معیاری زبان کے مقابلے میں پست ہوتے ہیں۔ عام طور پر اسے جرائم پیشہ اور کم پڑھے لکھے لوگ استعمال کرتے ہیں لیکن سلینگ کا استعمال خواص اور تعلیم یافتہ افراد کی سطح پر بھی ہوتا ہے۔ سلینگ کو اردو میں چالو زبان یا بازاری زبان بھی کہا جاتا ہے۔ گالیاں اور بے ہودہ الفاظ بھی سلینگ میں شمارے جاتے ہیں۔ ناشائستہ الفاظ، نا دیرپا، ، عامیانہ اور سوقیانہ الفاظ سلینگ ہیں۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ کے بقول

سلینگ کی تین بنیادی خصوصیات ہیں : اول، عام بول چال اور بے تکلفی کی زبان ہونا؛ دوم، غیر رسمی ہونا؛ سوم، نئی بات کہنا یا پرانی بات کو نئے انداز سے کہنا۔ نیز یہ کہ سلینگ کو مستند زبان سے کم تر بھی سمجھا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اسے Lingo of the gutter بھی کہا گیا۔ سلینگ کی دیگر خصوصیات میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کی سرحدیں کبھی کبھی بے ادبی اور گستاخی سے بھی جا ملتی ہیں۔ کبھی سلینگ کا مقصد جھٹکا دینا ہوتا ہے۔ یہ فحش بھی ہو سکتا ہے۔

اردو میں مستعمل کچھ سلینگ

لوٹا: بار بار سیاسی پارٹی بدلنے والا
بڑی مچھلی: بڑی اسامی یا مال دار گاہک
سپاری: قتل کروانے کا معاوضہ
گھوڑا: بندوق

Facebook Comments HS