حمزہ علی عباسی کی کتاب اور ہم
بے شک ایک اچھا اداکار بننے کے لئے جو حساسیت درکار ہے وہ ہر انسان میں موجود نہیں ہوتی۔ اپنی ذات سے مختلف کسی دوسرے کا سوانگ بھرنا، کسی کے درد، دکھ یا شیطانیت کے اندر داخل ہو کر اسے ایک حقیقت کا روپ دینا کوئی آسان کام نہیں۔
مگر ہماری مذہبی اور معاشرتی منافقت کے کیا کہنے کہ ایک طرف محظوظ ہونے کے لئے انہی اداکاروں کو دیکھنا اور پھر دوسری طرف انھیں لعن طعن کر کے نیکیاں اور ثواب کمانا بھی عین عبادت سمجھا جاتا ہے!
اداکار تو ہمارے لئے نہ صرف تخیل کو حقیقی روپ میں پیش کرتے ہیں، بلکہ کسی دوسرے کی حقیقت سے بھی روشناس کراتے ہیں۔ مگر ان کی ان کی کاوشوں کو سراہنے کے بجائے انھیں محض اداکار ہونے پر برا بھلا کہنا ایک سطحی سوچ کا نتیجہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ ہر شعبہ زندگی میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کسی بھی شعبے کو ہی مکمل طور پر خراب نہیں قرار دیا جا سکتا۔
میرے نزدیک اداکاری ایک قابل عزت شعبہ ہونا چاہیے مگر جس قوم میں نہ مطالعے کا ذوق ہو نہ دوسروں کے زاویہ نگاہ کو سمجھنے کی پر خلوص کوشش ہو وہاں ایسی توقع رکھنا شاید مضحکہ خیز ہو۔ جہاں مذہب کے ایک بے ذوق و بے رنگ پیراہن اور ایک بے کیف اور ناقابل عمل یکسانیت کی پیروی کو ہی معراج مانا جائے، ، وہاں منافقت پنپنے پر اعتراض کیسا! جو معراج اپنے حصول کی گزرگاہ میں انسان کی معاشرتی زندگی کی متنوع رنگا رنگی کو نہ صرف یکسر نظر انداز کرتی ہو بلکہ اسے قابل نفرت بھی بناتی ہو، جو شخصی شناخت کو نہ صرف رد کرتی ہو بلکہ اسے مکمل طور پر مسخ کرنے میں دلچسپی رکھتی ہو تو ایسے معاشرے کی بنیاد سوائے منافقت اور اس سے جڑے گونا گوں عوارض پر ہی کھڑی ہو سکتی ہے، نہ کہ سچائی اور ایمانداری پر۔
یہ سوچ حمزہ عباسی کی کتاب اور اس پر ہونے والی منفی تنقید دیکھنے کے بعد آئی۔ یہ کتاب ابھی شاید پاکستان میں تو دستیاب ہی نہیں امریکا میں ہی ہے، مگر پاکستان میں اس کا تنقیدی جائزہ بغیر پڑھے ہی لے لیا گیا ہے۔ یوں تو پاکستان میں لائبریریاں تقریباً ناپید ہی ہیں اور کتاب لکھنا تو دور کی بات لوگوں کو کتاب خریدنے یا پڑھنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں، مگر یہ دیکھ اور پڑھ کر بہت افسوس ہوا کہ لاعلم عوام تو ایک طرف اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد بھی کتاب بغیر پڑھے ہی انتہائی ہتک اور تحقیر آمیز انداز میں کتاب پر طنز کر رہے ہیں۔ کتاب پڑھنے کے بعد تو تنقید جائز ہے مگر پڑھے بغیر پہلے تو اس بات پر طنز کے اداکار کو خدا کی تلاش، جیسے اداکار کسی اور دیوتا کی مخلوق ہیں اور مسلمان اداکار اور خدا گویا آکسیمورون یا دو متضاد عوامل ہوں!
تو کیا خدا کی تلاش صرف کسی اندھیر کتب خانے میں بند کتابوں میں سر دیے عالم کی یا مسجد کے نمازیوں کی ہی کی اجارہ داری ہے یا کیا خدا کو صرف مذہبی کتابیں پڑھ کے یا نماز روزہ رکھ کر ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ہر انسان کو خدا یا سچ کی تلاش ہے۔ جو شخص جتنے متنوع تجربات سے گزرتا ہے، بشرطیکہ وہ حساس ہو اور غور و خوض بھی کرتا ہو وہ اس شخص سے کہیں زیادہ علم و حکمت رکھتا ہے جو کبھی اپنے گلی، محلے، مسجد یا اپنی ذات سے باہر نہ نکلا ہو۔ اور پھر ایسا شخص جو مختلف کرداروں کے جذبات اور زندگی کو اپنے اوپر طاری کر سکتا ہو، محسوس کر سکتا ہو تو یقینی طور پر زندگی کی گہرائی کا زیادہ ادراک رکھ سکتا ہے بہ نسبت اس شخص کے جس نے سوائے اپنے دماغ اور اپنی آنکھوں کے علاوہ کسی اور زاویہ سے دنیا کو نہ دیکھا ہو۔
اس کائنات کا خدا تو سب سے بڑا لکھاری ہے اور ہم سب اس کی لکھی ہوئی کہانیاں! اربوں کھربوں کہانیاں مگر ہر کہانی دوسرے سے جدا۔ اس زمین پر اترے ہر انسان کی زندگی غم اور خوشی، درد و الم، امیدی یا نا امیدی سے عبارت ہے۔ چاہے وہ فقیر ہو یا بادشاہ!
مغرب میں تو ہر کوئی کتاب لکھنے والے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، کیونکہ یہاں بہرحال انسانی زندگی کی ہر کہانی کو باعث توقیر سمجھا جاتا ہے۔ کسی اور موضوع پر کتاب ہو تو تنقید و طنز جائز ہو سکتا ہے کسی کی آپ بیتی پر کیسا طنز۔
ویسے بھی زندگی کی تکریم میں ہر شخص کو اپنی زندگی کی کہانی لکھنی چاہیے اس سوچ سے بالا تر ہو کر کہ اس میں کچھ خاص نہیں یا لوگ مذاق اڑائیں گے۔ اور کسی کے لئے نہیں تو اپنے خاندان اور نسلوں کے لئے ہی سہی کی آپ نے زندگی کا سفر کیسے کاٹا۔ آپ کے زمان اور مکان نے آپ کی کیسے آبیاری کی۔ آپ کو کس سوچ، کس عقیدے نے کھڑا رہنے، لڑنے میں، آگے بڑھنے میں مدد دی۔ کسی کا کم یا کسی کا زیادہ مگر سفر سب کا کٹھن ہے۔ اگر کوئی ظاہری طور پر آسانی میں نظر آتا ہے تو شاید باطنی اور روحانی دشواریوں سے نبردآزما ہو۔ مگر ہمارے معاشرے میں جہاں ظاہری اعمال اور حلیے پر بہت زور ہے اپنی زندگی کی غلطیاں، اتار چڑھاؤ کو لوگوں کے سامنے لانا بھی بہت حوصلے کا کام ہے کہ یہاں بیشتر کی پارسائی کا لبادہ کسی نظر آنے والے داغ کا متحمل نہیں ہو سکتا، چاہے نیچے دامن کتنا ہی میلا ہو۔
امید ہے کہ جب بھی موقع ملا یا لائبریری سے یہ کتاب ملی تو ضرور پڑھوں گی اور جائزہ بھی لکھوں گی، کیونکہ اگر کسی کتاب پر تنقید کرنے کا دل چاہے تو کم از کم اس کو پڑھ کر ہی تنقید کرنے کا اخلاقی اور ادبی جواز بنتا ہے۔


