چائے کے شوقینوں کا ملک اب کافی کی بھی مارکیٹ بن رہا ہے
ورلڈ کافی پورٹل کے مطابق چین گزشتہ سال امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا میں سب سے زیادہ کافی آؤٹلیٹس والا ملک بن گیا ہے۔ روایتی طور پر چین ایک چائے پینے والی ایک قوم کے طور پر پہچانی جاتی ہے لیکن اعداد و شمار اب یہ بتاتے ہیں کہ چین کافی کی کھپت میں مشرقی ایشیا میں کافی کی بڑی ابھرتی مارکیٹ کے طور پر ابھرا ہے۔ کافی کا شوق رکھنے والی چینی قوم کے لئے چین کے ایک برانڈ نے ملک بھر میں حال ہی میں اپنا ایک آؤٹ لیٹ کھولا تو اس کے پورے ملک میں آؤٹ لیٹس کی تعداد 20 ہزار ہو گئی۔ یہ صرف ایک برانڈ کی بات ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ چین میں کافی کے عالمی برانڈز کے علاوہ کئی لوکل برانڈز بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ چین میں کافی کی بڑھتی ہوئی صنعت کو دیکھ کر حال ہی میں ایک مشہور جرمن کافی برانڈ نے بھی شنگھائی میں ایک ذیلی ادارے کے طور پر کام کا آغاز کیا ہے۔
2023 میں، چین کی تیار شدہ کافی مارکیٹ کا مارکیٹ سائز تقریباً 162.35 بلین یوآن (تقریباً 22.76 بلین امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا تھا اور اس کی قیمت 2024 تک 193 بلین یوآن (تقریباً 27 بلین ڈالر) سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
چین میں کافی کمپنیاں مقامی ذائقوں کو بھی ساتھ ساتھ نبھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک اختراع چائے کی کافی اور پھلوں کی کافی رہی ہے یعنی ایک ایسا مرکب جو دونوں مشروبات کو ملائے ہوئے ہو۔ یوں چین کی بڑی کافی کمپنیوں کے لیے، چینی صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے والی بہترین کافی بنانے کا مقابلہ معروف برانڈز کے درمیان بہت سخت ہے۔
مانگ میں اضافے کی بات کی جائے تو غیر ملکی کافی برانڈز کی آمد کے بعد کافی چین میں بڑے پیمانے پر پیش کیا جانے والا مشروب بن گیا ہے۔ 1999 میں کافی کے عالمی برانڈ اسٹار بکس نے چین میں اپنا آغاز کیا اور اس کے بعد 2006 میں کوسٹا کافی اور 2019 میں ٹم ہارٹنز چینی مارکیٹ میں داخل ہوئے۔
ماضی میں کافی ایک فیشن کے طور پر پی جاتی تھی لیکن اب چین میں ایک کپ کافی کے ساتھ عام چینی لوگوں کا دکھنا تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ چاہے وہ کام پر جاتے ہوئے کافی ہاتھ میں تھامنا ہو، خریداری کے دوران کافی پینا ہو یا ویک اینڈز پر دوستوں کے ساتھ آرام سے کسی اچھے تفریحی مقام پر کافی سے لطف اندوز ہونا ہو، کافی چین میں بہت سے لوگوں کے لیے روزمرہ کے معمولات کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔
کافی کے مارکیٹ پوٹینشل کی بات کی جائے تو دنیا کے کافی برانڈز نے چین میں اپنے کام کا آغاز کیا ہے اور چونکہ چینی مارکیٹ بہت بڑی ہے اور مانگ بہت زیادہ ہے، اس لیے اعلی معیار کے کافی برانڈز چینی صارفین کا دل مزید جیت سکتی ہیں۔ انٹرنیشنل کافی آرگنائزیشن کے مطابق 2010 سے 2022 کے درمیان چین میں فی شخص کی کافی کی کھپت میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق نصف سے زیادہ کافی پینے والے چینی ہفتے میں کم از کم تین کپ کافی کا استعمال کرتے ہیں۔ چین کی سٹی کافی ڈویلپمنٹ رپورٹ 2024 کے مطابق، 2023 کے آخر تک 9،553 کافی شاپس کے ساتھ، کیفیز کی تعداد میں شنگھائی دنیا میں سرفہرست ہے۔
چائے سے محبت کرنے والے روایتی ملک کے لیے کافی چین کی چائے کا نیا کپ بن سکتی ہے۔ چین بھر میں کافی کلچر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس کی وسیع مارکیٹ کی صلاحیت اب کافی برانڈز کے لئے ایک بہت بڑا موقع پیدا کر رہی ہیں۔


