تنہائیوں کے شاخسانے


انسان کو اکثر سماجی حیوان بھی کہا جاتا ہے۔ نارمل حالات میں انسان معاشرہ یا سماج کی صورت میں مل جل کر رہتے ہیں۔ یہاں آسانی سے یہ منطق یا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جو انسان آپس میں گھل مل کر یا تعاون سے رہیں انہیں نارمل انسان کہا جا سکتا ہے۔ بسا اوقات بیشمار اندرونی اور بیرونی عوامل کے زیر اثر اچھے بھلے ہنستے کھیلتے انسان تنہائی کے رجحان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ تنہائی پیشہ ورانہ، سماجی، ذہنی، جسمانی، سیاسی، نظریاتی قسم کی ہو سکتی ہے۔ یہ تنہائیاں انسان کو مختلف طرح کے جسمانی اور ذہنی امراض و عوارض میں مبتلا کر سکتی ہیں جن میں خوف، تشدد پسندی، مالیخولیا، جرم، خود کشی کے رجحانات، یاسیت و قنوطیت، اوہام، اذیت پسندی، غربت وغیرہ کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر چور چکار، ڈاکو، قاتل یا اسی قبیل کے دوسرے افراد معاشرہ میں نارمل طریقے سے نہیں رہتے یا نہیں رہ پاتے۔ سماجی تنہائی انہیں جرائم کی طرف مائل کرتی ہے اور پھر ان کا جرم یا جرائم انہیں عام یا نارمل زندگی سے دور کر دیتے ہیں۔ اس کی اچھی مثال بھی لے لیتے ہیں کہ سائنس دان یا ریسرچر حضرات بھی تنہائی میں کام کرنے عادی ہوتے ہیں اور کم از کم چڑ چڑے اور مردم بیزار ضرور ہو جاتے ہیں۔

جس طرح عام انسان تنہائی کا شکار ہو کر ”حق“ ہو جاتے ہیں یعنی ان کی اپنی کوئی ہستی نہیں رہتی، اسی طرح ممالک بھی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس تنہائی کے نتائج بھی عام انسانوں کی تنہائی کی طرح کے ہی ہوتے ہیں مثال کے طور نازی جرمنی دنیا سے کٹ کر شکست سے دوچار ہوا، سوویت یونین پر بھی ایک وقت آیا جب سامراج نے اسے باقی دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا یا کہہ لیں کہ اس کی جغرافیائی، تجارتی اور نظریاتی نس بندی کر دی گئی۔ اس تنہائی کا نتیجہ اس صورت میں برآمد ہوا کہ سوویت روس نے مایوس ہو کر پہلے اپنے آپ کو توڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ ٹوٹنے کے بعد روس کو اپنی کمتری یا کم مائیگی کا احساس ہوا اور آج کا روس اپنی اس کم مائیگی کو ٹھیک کرنے کے لیے اپنے ہی ہمسایہ ملک یوکرین کے عوام کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے حال پر رحم کرے۔

تنہائی ملکی ہو یا کسی ایک انسان کی اس میں ہمیشہ کچھ اندرونی اور بیرونی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ممالک کو تنہا کرنے کے عمل میں سامراج ہمیشہ سے ایک اہم بیرونی عامل ہوا کرتا ہے۔ یاد رہے کہ سامراج اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ملکوں کو اکیلا کر کے اچھا کرتا ہے یا برا یہ اس وقت کی بحث نہیں البتہ یہ بحث ضرور ہے کہ اکیلا ہو جانے کے بعد کیا ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے۔

بدقسمتی سے وطن عزیز بھی اپنی زندگی کے پہلے دن سے ہی اسی قسم کے مسائل سے دو چار ہے۔ پہلے انڈیا سے علیحدہ ہوا اس کے بعد بتدریج اپنے ہمسایہ ممالک سے بھی دور ہوتا چلا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سامراج نے سرد جنگ کے پیش نظر پاکستان کو جغرافیائی، معاشی اور نظریاتی طور پر دنیا سے کاٹ دیا اور ظاہر ہے کہ اس عمل میں کچھ اندرونی عوامل نے بھی کردار ادا کیا ہو گا۔ تقریباً ساٹھ سالہ تنہائی کے عرصہ کے دوران پاکستان کے اندر علاقائی تنہائی کی حامی قوتوں کو پروان چڑھایا گیا جو دنیا کے کسی بھی ملک سے دوستانہ تعلقات کی روادار نہیں ہیں۔

امریکہ نے پاکستان کو سوویت روس کے خلاف استعمال کرنا تھا سو کر لیا۔ 1988 ء میں ہونے والے جنیوا معاہدہ کے بعد امریکہ نے پاکستان کو تنہا اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ نتیجہ کے طور پر پاکستان القاعدہ، طالبان جیسے عالمی مذہبی دہشت گردوں کی آماجگاہ بن گیا جو دنیا سے کسی بھی قسم کے تعلقات رکھنے کے خلاف تھے اور شاید ہیں۔ یہاں دلچسپ اور خوفناک حقیقت ایک اور بھی ہے کہ ملک میں ایک بڑی تعداد جو کہ با اثر بھی ہے لیکن وہ مذہبی یا جہادی رجحانات کے زیر اثر نہیں ہے ان کو بھی دوسرے ممالک کے ساتھ تجارتی یا دوستانہ تعلقات سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ وہ اس طرح کے تمام تعلقات کے خلاف ہے۔

9/ 11 کے بعد امریکہ یا عالمی برادری کو خیال آیا کہ پاکستان کو علاقائی اور عالمی تنہائی سے نکالا جائے۔ لہذٰا پاکستان اور انڈیا کی اس وقت کی حکومتوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ آپسی تعلقات کو بہتر کریں۔ چنانچہ امن کی آشائیں روشن کی گئیں، تجارتی و سیاسی وفود کا تبادلہ، صحافتی و ثقافتی طائفے آئے اور گئے۔ اس دس سالہ جدوجہد کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ ہمارے ذاتی مشاہدے کے مطابق اس بے نتیجہ مشقت کی تمام تر ذمہ داری انڈین بورژوا پر عائد ہوتی ہے جو دنیا کو نہایت چالاکی اور منافقت سے بتاتی رہی کہ وہ تو دوستی چاہتے ہیں مگر پاکستان ایسا نہیں چاہتا۔ بہرکیف دوستی کی یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔

پاکستان کی تنہائی کو ختم یا کم کرنے کا اگلا منصوبہ سی پیک راہداری کا ہے۔ ہمارے اکثر دوست خیال کرتے ہیں کہ یہ کوئی چین پاکستان کا دوطرفہ معاہدہ یا منصوبہ ہے۔ ہماری ناقص رائے میں یہ ایک عالمی منصوبہ ہے جسے امریکہ سمیت دیگر سنجیدہ دنیا کی حمایت حاصل ہے۔ راقم کو اس منصوبہ سے بس اتنی ہی دلچسپی ہے کہ اس سے پاکستان کے علاقائی تعلقات بہتر ہوں گے اور ملک کو چار پیسے بھی مل جائیں گے۔

گزشتہ دس بارہ سالوں کی کتھا یہ ہے چار حکومتیں آئیں اور گئیں۔ چینی باشندوں کا قتل، دھماکے، اغوا آئے دن کا معمول ہے۔ ہماری حکومتیں اور دیگر ریاستی مشینری منصوبہ پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہوئے بھی نہیں کر پا رہے۔ یہ چھوٹو گینگ یا کچے کے ڈاکو اور طالبان کی چین یا چینی باشندوں یا ماہرین کے خلاف کارروائیاں تو آج کی کہانیاں ہیں۔ ہم ان معاملات پر اس دن سے نظر رکھے ہوئے ہیں یہ شاید 1992۔ 93 کی بات ہو گی جب ملاں راکٹی نے بلوچستان میں چینی انجینئروں کو اغوا کر کے کامیابی سے تاوان وصول کیا تھا۔ اب اس لڑائی میں بہت تیزی آ رہی ہے اور آنے والے دنوں میں اور بھی زیادہ تیز ہو سکتی ہے۔

اس وقت پاکستان کی کل آبادی معہ اداروں، سیاست، سول سوسائٹی ذہنی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے ایک وہ جو تنہائی میں رہنا چاہتے ہیں اور دوسرے جو علاقائی اور عالمی تعلقات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ تنہائی کی ذہنیت والے اپنی پوری قوت سے اپنی تنہائی کے تحفظ کی خاطر لڑ رہے ہیں جبکہ بہتری والے بقول اقبال کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا! بقول ڈارون جو نوع حالات کے خلاف لڑتی ہے وہی زندہ رہتی ہے۔ یہاں ڈارون نے کہیں نہیں لکھا کہ جس نوع کی سوچ بہتر ہو وہ زندہ رہتی ہے یاد رہے کہ تھیوری کا تمام تر زور لڑائی پر ہے۔ اشرف غنی کے فرار یا سقوط کابل سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS