بلوچ عوام کی پریشانی و تکلیف سمجھی جائے!


صدر آصف زرداری نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات میں ہدایت کی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’ملک دشمنوں کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوگی، اس دہشت گردی کو ختم کرنے کا وقت آ پہنچا ہے‘ ۔ البتہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں‘ ۔

بلوچستان میں گزشتہ رات متعدد مقامات پر ہونے والے حملوں کے علاوہ پنجاب بلوچستان شاہراہ پر بسیں و ٹرک روک کر مسافروں کو شناخت کر کے ہلاک کرنے کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ ان حملوں میں پچاس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے بعد میں کارروائی کرتے ہوئے 21 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا لیکن ان کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کے 14 کارکن بھی شہید ہوئے۔ یہ حملے ایک قومی سانحہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ البتہ وزیر اعظم یا کسی وفاقی وزیر کو فوری طور سے بلوچستان جاکر وہاں کے عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ آج وزیر داخلہ کوئٹہ پہنچے اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’بلوچستان میں کسی آپریشن کی ضرورت نہیں ہے، یہ دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔ بلوچستان میں جو ہوا اس پر ہمارے دل غمگین ہیں اور یہ ناقابل برداشت ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے جو فیصلہ کریں گے، وفاقی حکومت اس کی حمایت کرے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کو دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے جس بھی قسم کی مدد درکار ہوگی وہ انہیں فل فورس فراہم کی جائے گی اور کی جاتی رہی ہے‘ ۔

محسن نقوی کا میڈیا میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ اس لیے جب وہ بلوچستان میں دہائیوں سے جاری شورش دبانے کے لیے ایک ایس ایچ او کافی قرار دے رہے تھے تو انہیں خود بھی احساس ہو گا کہ میڈیا میں یہ بات کیسے سامنے آئے گی اور لوگ اسے سنجیدگی سے لینے کی بجائے، اسے حکومت اور وزیر داخلہ کی شدید بدحواسی سے تعبیر کریں گے۔ اس حقیقت کو وزیر داخلہ کے باقی ماندہ بیان میں بھی محسوس کیا جاسکتا ہے اور بعد میں انہیں خود بھی اس فضول اور احمقانہ بیان کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ان کا کہنا تھا ’ایس ایچ او کا لفظ تو میں نے مثال دینے کے لیے استعمال کیا تھا۔ میرا مقصد یہ تھا کہ ایسے عناصر کے خلاف کیا جانے والا آپریشن وسیع اور موثر ہو گا‘ ۔ لیکن زبان سے نکلی بات بھی کمان سے نکلے تیر کی طرح واپس نہیں لی جا سکتی۔ اسی لیے سینیٹ میں اس مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وزیر داخلہ سے استہزائیہ انداز میں پوچھا کہ ’حکومت تو ایک ایس ایچ او کے فرائض ادا کرنے میں بھی ناکام ہو رہی ہے۔ بلوچستان میں اتوار اور سوموار کی درمیانی رات کے چار پانچ گھنٹوں میں کہیں بھی حکومت کی رٹ دکھائی نہیں دی‘ ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ان حالات میں سرمایہ کیسے ملک میں آئے گا۔ اس معاملہ میں انٹیلی جنس ایجنسیاں مکمل طور سے ناکام ہو چکی ہیں۔ صوبے کے عوام اپنے تحفظ کے لیے ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن حکومت ان کی حفاظت کرنے میں پوری طرح ناکام ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی وزیر داخلہ کی طرح ایسے اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’صوبے میں 4 ہزار کلومیٹر شاہراہیں ہیں۔ دہشت گرد گھات لگا کر تھوڑی دیر کے لیے کسی جگہ ناکہ لگا کر قتل و غارت گری کرتے ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت جواب نہیں دے سکی بلکہ فوری کارروائی کرتے ہوئے دو درجن کے لگ بھگ دہشت گردوں کو مارا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں زیادہ مستعدی سے کی جائیں گی اور امن دشمن عناصر کا قلع قمع کر دیا جائے گا‘ ۔ تاہم وزیر داخلہ کی باتوں کی طرح صوبائی وزیر اعلیٰ کی باتیں بھی سانپ کے نکلنے پر لکیر پیٹنے کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ گزشتہ رات ایک جگہ ناکہ لگا کر 22 افراد کو شناخت کے بعد قتل کیا گیا تھا لیکن دیگر متعدد واقعات میں تھانوں اور لیویز کی چوکیوں پر حملے کیے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ان ٹھکانوں سے کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ البتہ چند گھنٹے بعد فوجی کی سرکردگی میں ہونے والی کارروائیوں میں علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کر کے 21 لوگوں کو مارا گیا۔ ان حملوں کی سنگینی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے 14 اہلکار بھی ان کارروائیوں میں شہید ہوئے۔ اسی لیے وزیر داخلہ کا یہ دعویٰ بچگانہ اور زمینی حقائق سے صریحاً ناواقف ہونے کی دلیل ہے کہ بلوچستان میں بدامنی علاقے کے بعض ’غنڈوں‘ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جن سے نمٹنے کے لیے ایک تھانے کا انچارج ہی کافی ہے۔ جن تھانوں پر عسکریت پسندوں نے گزشتہ رات حملے کیے، میڈیا میں ان کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔ یہی لگتا ہے کہ مناسب وسائل نہ ہونے کے سبب تھانوں میں موجود اکثر پولیس اہلکار حملے کے دوران جان بچاتے پھر رہے تھے۔

یہ سانحہ اتنا سنگین تھا کہ وزیر اعظم کو کابینہ کے اجلاس میں اس اہم موضوع پر بات کرنی پڑی اور یقین دلانا پڑا کہ ایسے حملوں کی روک تھام حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ملک دشمنوں کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوگی۔ دہشت گرد پاکستان اور چین میں فاصلے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردوں کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس دہشت گردی کو ختم کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ اس سلسلے میں دی گئی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پاکستان کی فوج کے سربراہ سے بات ہوئی ہے اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل مہیا کیے جائیں گے‘ ۔ وزیر اعظم کا یہ اعلان بھی اسی طرح رسمی اور کسی باقاعدہ منصوبہ کے بغیر جاری ہوا ہے جیسا کہ چند گھنٹے بعد صدر آصف زرداری نے وزیر داخلہ اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے انہیں صوبے میں حالات پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔

صدر مملکت کا انتظامی معاملات میں کوئی اختیار یا اثر و رسوخ نہیں ہو سکتا ۔ ان کے ساتھ وفاقی وزیر اور صوبائی وزیر اعلیٰ کی ملاقات رسمی تھی جس میں سربراہ مملکت کے طور پر انہیں حالات سے آگاہ کیا گیا۔ البتہ وفاقی کابینہ میں وزیر اعظم کے بیان کی طرح بعد ازاں صدر مملکت کی طرف سے سخت کارروائی کے مشورے سے ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ صوبائی یا وفاقی حکومت کے پاس بلوچستان میں جاری بدامنی اور بے چینی کے خاتمے کا کوئی حل نہیں ہے۔ اس ناکامی کی کمی، سخت بیان دے کر اور عوام کے ساتھ بلند بانگ دعوے کر کے پوری کی جا رہی ہے۔ بدقسمتی سے یہ رویہ بلوچستان یا باقی ماندہ ملک میں حالات بہتر کرنے کے کام نہیں آ سکتا۔ سب سے پہلے تو حکومت کو یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ صوبائی اور وفاقی سطح پر بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کا ادراک کرنے اور ان کا مناسب اور متفقہ حل تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان پر کنٹرول بحال رکھنے کے لیے مسلسل سکیورٹی فورسز کو استعمال کیا جاتا ہے۔ صوبے میں ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کے ذریعے حکومتیں قائم کرائی جاتی ہیں جنہیں عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ نہ وہ لوگوں تک پہنچنا چاہتے ہیں اور نہ ہی عوام کی بات ان کے پلے پڑتی ہے۔ اس لیے اگر بلوچ عوام میں یہ تاثر یقین میں بدل رہا ہے کہ اسلام آباد کوئٹہ میں پراکسی حکومتوں کے ذریعے صوبے کے معاملات کو طاقت کے زور پر طے کرنا چاہتا ہے تو اس کی عملی وجوہات موجود ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ ملک پر اس وقت جو حکومت مسلط کی گئی ہے اس کی اپنی ساکھ مشکوک ہے۔ 8 فروری کے انتخابات کی شفافیت کے بارے میں متعدد سنگین سوال سامنے آنے کے باوجود ان سوالات کا جواب دینے یا انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی تحقیقات کی رسمی کارروائی کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ اس لیے بلوچستان کے عوام کا یہ شکوہ بجا ہونا چاہیے کہ صوبے میں اسٹیبلشمنٹ کے خوشامدی گروہ اقتدار پر قابض ہیں اور وفاق میں بھی ان کی شنوائی کا کوئی امکان نہیں کیوں کہ شاید وہاں بھی ’جعلی مینڈیٹ‘ والی حکومت مسلط ہے۔ اس صورت میں بے بسی کی کیفیت پیدا ہونا فطری ہے۔

وزیر اعظم سمیت تمام لیڈروں نے گزشتہ شب کے واقعات کو دہشت گردی قرار دیا ہے اور شہباز شریف کے الفاظ میں ’یہ عناصر ملک دشمن ہیں، ان کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو سکتی‘ ۔ اس سے پہلے بلوچستان میں علیحدگی یا زیادہ خود مختاری کی جد و جہد کرنے والے عناصر کو ناراض عناصر یا جنگجو کہا جاتا رہا ہے۔ یا انہیں ایسے قوم پرست گروہ سمجھا جاتا تھا جو ملک کے متفقہ انتظام کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور صوبے کے سیاسی انتظام کے خلاف ہیں۔ ان میں سے بعض عناصر سیاسی صورت حال سے اس قدر پریشان یا مایوس ہوچکے ہیں کہ وہ ہتھیار اٹھا کر ریاست سے جنگ آزما ہیں۔ ایسے عناصر سے ماضی میں مفاہمت کرنے اور انہیں مین اسٹریم کا حصہ بنانے کی بات کی جاتی رہی ہے۔ البتہ ایک رات کے دوران میں تشدد کے چند واقعات کے بعد لگتا ہے کہ ریاست نے عسکریت پسندوں کو یک بیک پاکستانی ہونے کی صف سے نکال کر ملک دشمن یا باغیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ حالانکہ پاکستان اور اس کی حکومت کو اس وقت دشمنوں میں اضافہ کرنے کی بجائے، انہیں کم کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کو اس موقع پر اپنی حکمت عملی پر غور کرنا چاہیے۔ بدامنی پیدا کرنے اور تشدد میں ملوث ہونے والے عناصر کے خلاف ضرور سخت کارروائی کی جائے لیکن انہیں یک بیک ’دشمن کا ایجنٹ یا ملک دشمن‘ نہ قرار دیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ بلوچ عوام کے مسائل سمجھنے اور انہیں حل کرنے کے لیے گراس روٹ کے سیاسی کارکنوں اور لیڈروں سے رابطہ کرے۔ انہیں کسی قومی مصالحتی پلیٹ فارم پر دعوت دی جائے اور باہمی عزت و احترام کے ماحول میں مسائل کی نشاندہی کرنے کے بعد ، انہیں حل کرنے کا منصوبہ بنایا جائے۔ بلوچستان کے لوگوں کو خود سے دور کرنے کی بجائے ان کی تکلیف اور پریشانی سمجھنے کی کوشش کی جائے تاکہ اس کا حل تلاش ہو سکے۔

یہ ممکن ہے کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والے چند لوگ ہوں لیکن پاکستانی حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ جس ناراضی کا اظہار تشدد سے کر رہے ہیں، وہ پریشانی اور غصہ بلوچستان کے ہر طبقے میں موجود ہے۔ حکومت اگر اسے سمجھنے سے قاصر ہے تو اس میں بلوچ عوام کو قصور وار سمجھ کر مایوس عناصر کو دہشت گرد قرار دینا مناسب نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali