رام گڑھ کا رانا وسیم طاہر اور وویمنز والی بال ٹیم


دنیا بھر کے بچے کھیل کود کے رسیا ہوتے ہیں۔ جب وہ کھیلتے ہیں تو ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں جس سے صحت مند مقابلے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ پیار، محبت ، امن اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوتی ہے۔ رواداری اور محبت بڑھتی ہے۔ بیسویں صدی میں فٹ بال ، ہاکی، بیس بال ، کشتی رانی اور برف پر پھسلنے کے کھیل مقبول ہوئے ۔فٹ بال چین سے آیا جبکہ والی بال امریکہ سے آیا ہے ۔ کرکٹ اور ہاکی انگریزوں کی دین ہے۔ اگر ہم تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو ہاکی ہندوستان کی ایجاد نظرآتی ہے جو پھنڈ کھنڈی کی جدید شکل ہے۔

اِن کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلے کرائے جاتے ہیں۔ یونان قدیم کے اولمپک کے احیا نے اِن مقابلوں میں غیر معمولی جوش و خروش پیدا کردیا ہے۔ دنیا میں والی بال کا کھیل پہلی بار امریکہ میں کھیلا گیا جو 1895,96ء میں وائی ایم سی اے میں فزیکل ایجوکیشن کے ٹیچر ولیم جی مورگن نے ایجاد کیا۔ پہلی بار یہ کھیل دو درختوں کے درمیان رسی باندھ کر کھیلا گیا جس کومنٹونٹ کا نام دیا گیا۔ ایک میچ کے دوران مبصر سے سنا گیا کہ کھلاڑی نیٹ کے اُوپر سے ،، والی انگ،، Vollyeing کر رہے ہیں۔ یہ لفظ اتنا مقبول ہوا کہ منٹو نٹ کا نام تبدیل کر کے والی بال رکھ دیا گیا ۔ والی بال کا عالمی کپ 9 194ء میں مرد کھلاڑیوں کیلئے منعقد ہوا جبکہ خواتین کے عالمی مقابلے 1952 ء میں شروع ہوئے۔ پاکستان میں والی بال کا آغاز 1954ء میں ہوا جبکہ اولمپک کی سطح پر اس کھیل کو پہلی بار 1964ء میں شامل کیا گیا۔ اس سال پاکستان والی بال فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا جس کی کوششوں سے پاکستان کو عالمی والی بال فیڈریشن نے تسلیم کر لیا۔ تب سے اب تک پاکستان نے اِس کھیل میں دنیا بھر میں الگ سے پہچان بنائی ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے والی بال میں عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے ۔ یہ کون جانتا تھا کہ 7 جولائی 1988ء رام گڑھ میں پیدا ہونے والا رانا وسیم طاہر دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے لائے گا ۔

رانا وسیم طاہر نے 2004ء میں گورنمنٹ ہائی سکول صفدر آباد (ڈھاباں سنگھ) سے میٹرک کیا۔ دوران سال آل پنجاب انڈر 16 چیمپئن شپ میں تمغہ جیتا۔ 2006 ء تاریخی سال ہے جب انٹر نیشنل انڈر 16 چمپئن شپ ایران میں پاکستان کی نمائندگی کی اور دنیا بھر سے داد سمیٹی 2006 ء میں پاک آرمی کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔ 2008ء پاکستان پولیس کی نمائندگی کی۔ 2010 ءمیں پاکستان واپڈا جوائن کیا اور آج کل واپڈا کی طرف سے کھیلتے ہیں۔ ہماری رہتل اور وسیب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہماری دھرتی نے دوسرا انٹرنیشنل کھلاڑی پیدا کیا جو ملک کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ 2007 ء میں ایف اے کیا، 2012 ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے نہ صرف بی۔ ایس آنرز کیا بلکہ یہاں والی بال ٹیم کے کپتان اور بعد میں کوچنگ کا اعزاز حاصل ہے۔2015 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی سپورٹس سائنس کی ڈگری حاصل کی اور ٹیم کے کپتان ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ہمارے پاکستان میں سالہا سال سے ہر شعبہ زندگی تنز لی کا شکار ہے اور کھیلوں کا وہی حال ہے جو ہماری معیشت کا ہے۔ اِس کے باوجود ہمارے نوجوانوں میں بلا کا اعتماد ہے۔ موقع ملے تو شاندار نتائج دیتے ہیں۔ پاکستان میں 2024ء کا سال نہایت خوش کن اور توجہ طلب سال ہے جس میں والی بال ٹیم نے کامیابیاں سمیٹی ہیں اور(CAVA (سنٹرل ایشین والی بال ایسوسی ایشن میں کامیابی حاصل کی ہے جس میں دنیا کے سات ممالک شرک ہوتے ہیں ۔ سب سے بڑی کامیابی آسٹریلیا کے ساتھ مقابلے میں سمیٹی ہے۔ یہ سیریز پاکستان نے تین صفر سے جیتی ہے۔ یہ کھلاڑیوں ، شائقین اور ملک کیلئے کسی اعزازسے کم نہیں کہ یہاں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

کھیل اور کھلاڑی امن ، محبت اور پیار کے سفیر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت اشد ضرورت ہے کہ سب کام چھوڑ کر کھیل کے میدان آباد کئے جائیں ، سہولتیں مہیا کی جائیں ، میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔ کھلاڑیوں کو تبلیغی حضرات سے دور رکھا جائے ۔ہمیں کھیل کے میدان میں کھلاڑی اُتارنا ہوں گے۔ اداروں کے سربراہان کھیلوں سے وابستہ افراد ہوں گے تو پھر نتائج بھی آئیں گے جس طرح رام گڑھ سے رانا وسیم طاہر کو وویمنز والی بال ٹیم کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے ہیڈ کوچ Alessandra Compedilli کے ساتھ بطور اسسٹنٹ کوچ روم (اٹلی ) میں نمائندگی کی اور ملک کا روشن چہرہ دنیا کو دکھایا۔ یاد رہے ہیڈ کوچ کا تعلق اٹلی سے ہے۔ وویمنز ٹیم میں سکینڈ اسسٹنٹ کوچ زاہد منیر کا تعلق راجہ رسالو کے شہر سیالکوٹ سے ہے جبکہ کپتان آمنہ بہاولپور ،نائب کپتان رشیدہ شکیل بہاولنگر، باقی کھلاڑیوں میں عذرا فاروق اسلام آباد ، عروج زاہد فیصل آباد ، حلیمہ سعدیہ فیصل آباد ، اُم حبیبہ فیصل آباد ، زینب بشیرفیصل آباد ، مناہل جبیں ننکانہ صاحب ، مہرین بہاولپور ، علی شاہ جنید امریکہ ، رمشہ شیخوپورہ ، لاریب عباس بھکر ، رابعہ ایبٹ آباد سے ہیں ۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جن کی محنت ، لگن اور کوشش بتاتی ہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں میں بلا کا اعتماد ہے۔ موقع ملے تو شاندار نتائج دیتے ہیں مگر یہاں موقع تو دور کی بات ہے نوجوان نسل کو کھیلوں کے نام بھی پورے نہیں آتے ہیں کیونکہ جب سے ہم نے کھیل سے کھلواڑ کیا ہے نتیجہ ساری دنیا کے سامنے ہے اور جب جب ریاست نے تھوڑی بہت ذمہ داری دکھائی ہے تب نتیجہ دنیا کے سامنے ہے۔

گزشتہ پون صدی میں ہماری روایتی بیوروکریسی کی لائن میں چوہدری یعقوب (ر) آئی جی پی بلوچستان جیسے نابغہ روزگار بھی ملتے ہیں۔ اُن کا کردار پاکستان میں والی بال کی ترقی کیلئے ایسے ہی ہے جیسے انسانی پھیپھڑوں کیلئے آکسیجن ۔ ان کی محنت، کوشش اور لگن سے والی بال نے عالمی سطح پر پہچان بنائی ہے۔ اُن کا خاصا ہے کہ انہوں نے اِس کھیل سے وابستہ کھلاڑیوں کی بھر پو رحوصلہ افزائی کی ہے۔ مختلف محکمہ جات میں بھرتی کروائی ہے۔ اُن کے محکمہ پولیس میں ہمارے شہر سے دو نوجوان خالص میرٹ پر بھرتی ہوئے ہیں۔ چوہدری یعقوب جیسے انسان نوجوانوں کیلئے حوصلہ اور ہمت ہیں۔ آپ جیسے نابغہ روزگار تاریخ کے پنوں میں قطبی ستارے کی مانند چمکتے رہتے ہیں ۔ ہم شہری وویمز ٹیم کو کامیابیوں پر مبارکباد پیش کرتے ہیں تو دوسری جانب ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نوجوانوں کو اعتماد دیا جائے ۔ پیار اور احترام دیا جائے، ہر ممکن سہولت مہیاکی جائے تاکہ یہ کھلاڑی ، امن کے سفیر ، محبت اور پیار کے پیامبرپاکستان کا روشن چہرہ سامنے لائیں ۔جب تک ہم ہر کسی کو مساویانہ مواقع نہیں دیں گے ہم ترقی نہیں کریں گے ۔ ایک چھوٹا سا گاوں رام گڑھ جہاں سے رانا وسیم طاہر نے دنیا کے نقشے پر سفر شروع کیا ہے اور گاوں میں والی بال کلب قائم کیا ہے۔ جہاں سے دو کھلاڑی قومی سطح پر پہنچ چکے ہیں جبکہ حال ہی میں ابوذر انڈر 16 میں نام درج کروا چکا ہے۔

 رام گڑھ سے رانا وسیم طاہر کام میں مگن ہے تو دوسری جانب رحمن آباد سے چودھری آصف حمید سرگرم عمل ہے۔ و ہ ہر سکول چاہے پرائمری ہو یا مڈل، ہائی ہو یا ہائر سکینڈری، وویمنز کالج ہو یا بوائز ہر سطح پر بچوں اور کمیونٹی کو ساتھ ملا کر کھیلوں کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنے تئیں پہلے سماج پھر ریاست سے بات کرنے پر یقین رکھتے ہیں ۔ ہمارے ملک سے لوگ بھاگم بھاگ ملک چھوڑ رہے ہیں وہ لندن چھوڑ کر پاکستان تشریف لائے ہیں کہ اِس وقت ملک کو اُن کی ضرورت ہے ۔ ہم اور ہمارا وسیب پسماندہ ترین علاقہ ہونے کے باوجود خوش قسمت ترین علاقہ ہیں جہاں رام گڑھ سے رانا وسیم اور رحمن آباد سے چودھری آصف حمید جیسے نوجوان معاشرتی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ہم سب کو یہ بات ذہن نشین کرنا ہو گی کہ پاکستان میں عورتیں ترقی کی ضامن ہیں۔ جب جب ملک پر کڑا وقت آیا ہے ہمیں سب سے پہلے سامنے آنے والوں میں عورتیں نظر آئی ہیں۔ سو ہمیں بلا تفریق رنگ ، نسل، مذہب ہر کسی کو مساویانہ مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ یہ مواقع ترقی کی شاہراہ پرچل نکلتے ہیں۔ وویمنز والی بال ٹیم کی زندہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہم اور ہمارا وسیب وویمنز ٹیم کو اُن کا کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہے جبکہ ہم مٹھائی چودھری آصف حمید صاحب کے ساتھ مل کر والی بال فیڈریشن کے چیئرمین چوہدری یعقوب اور ساری ٹیم کو پیش کریں گے ۔

Facebook Comments HS