میڈیا کا تعصب اور ہم تک پہنچنے والی تاریخ کی حقیقت


اکیسویں صدی کے آغاز سے لے کر اب تک دنیا بھر میں بہت سے تنازعات رونما ہوئے ہیں جن میں سے کچھ آج بھی جاری ہیں مثلاً فلسطین کا مسئلہ، بن غازی اور طرابلس کی حکومتوں کے درمیان لیبیا کی تقسیم، برما سے روہنگیا مسلمانوں کی بے دخلی اور بہت سے دیگر۔

قدرتی طور پر، ان مسائل کے بارے میں ہم تک زیادہ تر معلومات انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ڈیجیٹل ذرائع سے آتی ہیں۔ معلومات کے ذرائع کے لئے انٹرنیٹ پر انحصار کیا جائے تو سب سے پہلے ماخذ کی صداقت اور میڈیائی تعصب کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اگر ہم چین کی مثال سامنے رکھیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ چینی میڈیا ہمیشہ اپنی خبریں اپنی مرضی کے رنگ میں پیش کرتا ہے۔

انٹرنیٹ اگرچہ ہمیں تمام ذرائع سے آزادانہ طور پر غیر فلٹر شدہ معلومات فراہم کرتا ہے لیکن اس کا یہی فائدہ باآسانی نقصان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

دنیا بھر کے ممالک پریس اور میڈیا سے معلومات کے غیر منظم بہاؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو ’صحیح فریق‘ اور اپنے مخالفین کو ’غلط فریق‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے بے قابو بہاؤ نے ہمیں دستیاب ذرائع پر ہی رائے قائم کرنے کی اجازت دی ہے اور ہم انہی ذرائع کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں، مثال کے طور پر حالیہ فلسطینی تنازعے کا ایک رخ فلسطینیوں کو مظلوم اور دوسرا دہشت گرد قرار دے سکتا ہے۔

چین کے موضوع پر واپس آئیں تو چین کو چیئرمین ماؤ کی حکومت کے عروج کے بعد سے بڑے پیمانے پر نگرانی اور خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والی ایک ریاست کے طور پہ جانا جاتا ہے۔

بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم ’انسائڈ چائناز تھاٹ ٹرانسفارمیشن کیمپس‘ میں دکھایا گیا کہ ایک صحافی چین کے ’ری ایجوکیشن‘ کیمپوں میں سے ایک کی فوٹیج حاصل کرنے میں کامیاب رہا جس میں چین مبینہ طور پر نسلی ایغوروں کو چین اور چینی ثقافت کی اقدار کے تابع کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ریاستی لادینیت کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔

فوٹیج میں چینی حکام کا دعویٰ اس کے برعکس ہے، حکام اور کچھ ’سلیکٹڈ‘ طالب علموں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ’انتہا پسندانہ خیالات‘ سے ’گمراہ‘ ہوئے تھے اور انہیں دوبارہ تعلیم دی جا رہی ہے لیکن جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، حقیقت اس سے بھی بدتر ہے، ان کیمپوں میں عصمت دری کے واقعات کے ساتھ ساتھ جسمانی استحصال کی خبریں انٹرنیٹ پر آ رہی ہیں۔

لہذا، اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی اور جسمانی تشدد کو چینی عوام کی طرف سے ’دوبارہ تعلیم‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ چین سے زندہ سلامت فرار ہونے پر شکر کرتے ہیں اور الجزیرہ کی ایک دستاویزی فلم میں ایک چینی نے یہ بھی بتایا کہ ایک دن چینی حکام نے ایغور زبان پر پابندی لگا دی اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے اوپر مذکور مظالم کے بارے میں بھی بات کی۔ متعصب مواد کا یہ پورا معاملہ صرف ’ڈیجیٹل‘ دور کا مسئلہ نہیں ہے۔

اسی طرح کے واقعات 20 ویں صدی میں بھی پیش آئے، مثال کے طور پر 1970 کی دہائی میں جب یوگنڈا کے ڈکٹیٹر عیدی امین دادا نے یوگنڈا کی ایشیائی آبادی کو ملک بدر کیا جو کئی نسلوں سے یوگنڈا میں رہ رہی تھی۔

یوگنڈا کے پریس نے ان پر یوگنڈا کے مقامی لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا جبکہ دیگر اخبارات نے رپورٹ کیا کہ ایشیائی آبادی کو بے دخل کرنا یوگنڈا کے ڈکٹیٹر کی ناکام حکومت کی علامت تھا، انہوں نے ملک کو معاشی مایوسی کی طرف دھکیل دیا تھا۔ ذرائع ابلاغ اور معلومات کے ذرائع میں تعصب کی ان شکلوں کو عام طور پر پروپیگنڈا کہا جاتا ہے۔

پروپیگنڈا جنگ کی ان شکلوں میں سے ایک ہے جو قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہیں۔ پروپیگنڈا صرف ریاست کی تیار کردہ فلمیں اور پوسٹر اور متعصب خبریں نہیں ہیں، ان کی جڑ بہت پرانی ہے۔

ابتدائی زمانے میں ایک انسان کے سائز سے چار گنا بڑے بہادر آدمیوں کی کہانیاں بیان کی جاتی تھیں تاکہ مردوں کو باہر جانے اور جانوروں کا شکار کرنے کی ترغیب دی جا سکے کیونکہ آخر کوئی بھی انسان اس وقت تک وحشیوں کے ساتھ جنگ کیوں کرے گا جب تک کہ اسے ایسا کرنے کی ترغیب نہ دی جائے؟

اس معاملے میں ترغیب ایک فرضی ’جلال‘ اور ’بہادری‘ کا مظہر ہو گی، یہ سادہ طرز حیات کی معاشیات سے جڑا معاملہ ہے۔

قدیم یونانی اور رومی سلطنتوں کے زمانے میں، پروپیگنڈے کی روایتی شکلیں ادب، افسانوں اور متعصب تاریخی دستاویزات کی صورت میں ہوتی تھیں۔

رومی دستاویزات دعویٰ کرتی تھیں کہ تمام غیر رومی بنیادی طور پر ’وحشی‘ تھے۔ اسی تاریخ میں متعدد علاقوں کو فتح کرنے کے لئے رومی فوجیوں کی بہادری کے کارناموں کو بیان کیا گیا ہے۔ قرون وسطیٰ کے دور کے آغاز کے ساتھ ہی پروپیگنڈے نے ایک اور شکل اختیار کر لی۔

پروپیگنڈے کی ایک شکل گانے بھی تھے جن میں ایک بادشاہ کے بہادری کے کارناموں کو بیان کیا جاتا تھا۔ یہ تصور قدیم سمیری سلطنت کے گلگامیش کے قدیم افسانے سے ملتا جلتا تھا جس میں سمیری اساطیر کو تال میں بیان کیا جاتا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈے کی پوری شکل بدل گئی، دنیا بھر میں نشاۃ ثانیہ کے ادوار کے دوران، فنون لطیفہ میں بہت بڑی ترقی ہوئی۔ اس نے پروپیگنڈے کے ایک نئے ذریعہ کی راہ ہموار کی

فنون لطیفہ میں پروپیگنڈا

ثقافت پر مبنی پروپیگنڈا مختلف طریقوں اور شکلوں میں پھیلایا جاتا ہے۔ یورپ میں پینٹنگز میں یورپیوں کو ان کی کالونیوں کے لوگوں کے مقابلے میں برتر دکھایا گیا ہے۔ ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں پراپیگنڈہ یا متعصبانہ مواد کے تصور کو نظموں اور افسانوں کی شکل میں ڈھال لیا گیا، مثال کے طور پر ایران کا شاہ نامہ، جس کا لفظی ترجمہ ’بادشاہوں کی کتاب‘ میں کیا گیا ہے، ’عظیم تر ایران‘ کی کہانیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح جنوبی ایشیا میں مغل حملہ آور اپنے ساتھ وسطی ایشیائی روایات، تعمیراتی انداز، آرٹ اور ادب لے کر آئے۔ محلات میں سنگ مرمر کے چھوٹے چھوٹے مجسمے مغلوں کی فتوحات کی عکاسی کرتے تھے۔ مغلوں کو شان و شوکت کا احساس دلانے کے لئے دھروپد بجایا جاتا تھا۔ تمام مغل مخالفوں کو ’دہشت گرد‘ سمجھا جاتا تھا۔

ماضی قریب کے ثقافتی پراپیگنڈے کی ایک قابل ذکر مثال لینی ریفینسٹال کی ایڈولف ہٹلر کے لئے بنائی گئی فلمیں ہیں تاکہ اس کی بنیاد پرست اور فاشسٹ حکومت کے تشخص کو بہتر بنایا جا سکے۔

اسی طرح ایک اور ملک جس نے پروپیگنڈے کے آلے کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا ہے وہ شمالی کوریا ہے۔ اس وقت ایک ہی خاندان کی حکمرانی کا شکار ہونے والے ملک میں اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے گزشتہ 75 سالوں میں پروپیگنڈے کو انتہائی مہارت سے استعمال کیا ہے۔

آئیے شمالی کوریا کو متعصب میڈیا تخلیق کار کی روشن مثال کے طور پر لیتے ہیں۔

عام طور پر انسان سوچنے کی صلاحیت رکھنے اور تجسس کا احساس رکھنے کی وجہ سے مشہور ہے جو اسے جانوروں سے الگ کرتا ہے، تو اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شمالی کوریا انسانیت کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی دیگر مبینہ خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرتے ہوئے اس وقت تک کیوں قائم رہ سکا ہے؟

75 سالوں سے ملک نہ صرف سیاسی تنہائی کا شکار رہا ہے بلکہ اس وجہ سے بھی کہ شمالی کوریا نے بڑے پیمانے پر ’میڈیا کا ثقافتی انقلاب‘ برپا کیا ہے۔ شمالی کوریا نے کم خاندان کے ارد گرد شمالی کوریا کے معاشرے کا نمونہ پیش کرنے اور کم حکومت کے حق میں عام لوگوں کے ذہنوں میں رعب پیدا کرنے کے لئے سی آف بلڈ یا دی جینیئس آف دی گریٹ لیڈر جیسی فلمیں موثر طریقے سے تیار کی ہیں اور وہ ایسا عوام کو خوف زدہ کرنے کے لئے کچھ حقیقی یا خیالی دشمن پیدا کر کرتے ہیں۔

امریکہ کو شمالی کوریا کی پروپیگنڈا فلموں میں عمومی طور پر بطور عفریت دکھایا جاتا ہے اور اس طرح یہ ایک تعصب پیدا کرتا ہے جو شمالی کوریا کے حق میں اور امریکہ کے خلاف کام کرتا ہے۔

مزید برآں، یہ تعصب شمالی کوریا کے ڈکٹیٹروں کو قد آور دکھانے کے مقصد کو بھی پورا کرتا ہے۔ جب 1994 میں پہلے ڈکٹیٹر کا انتقال ہوا تو شمالی کوریا کے صدر کم ال سنگ کی انقلابی سرگرمیوں کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ’کم ال سنگ ذہنی تھکاوٹ کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ اور ہمیں اس جھنڈے کو بلند رکھنا چاہیے جو انہوں نے پیچھے چھوڑا تھا اور عظیم رہنما کے پیچھے اکٹھا ہونا چاہیے۔ ‘

یہ خیالات اکثر سوویت پروپیگنڈا ماڈلز سے متاثر ہوتے تھے کیونکہ کم ال سنگ اسٹالن کے بہت قریبی پیروکار تھے اور ان کے پروپیگنڈے میں واضح مماثلت ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر کم ال سنگ کے گانوں اور اسٹالن کے لئے سوویت گیت ”شان“ کے بول ایک ہی معنی کے حامل ہیں۔

ایک اور نمایاں مثال روس ہے جو متعصب میڈیا کے معاملے میں اسی طرح کا طریقہ کار رکھتا ہے۔ برسوں سے چاہے چیچن جنگ ہو یا یوکرین کی جنگ، روسی میڈیا اپنے تعصبات کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ہم بعد کے مضامین میں بھی تفصیل سے اس کا جائزہ لیں گے۔

Facebook Comments HS

حسین قاضی

حسین قاضی نوجوان طالب علم ہیں۔ آپ مطالعہ تاریخ ، خصوصاً سرد جنگ کے واقعات سے شغف رکھتے ہیں اور اس دور سے متعلق یادگاری عجائبات جمع کرنے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ نو برس کی عمر میں پہلی کتاب "ٹائی ٹینک کی یاد میں" لکھ چکے ہیں اور آج کل اپنے تاریخی مطالعات مدون کر رہے ہیں ۔

hussain-qazi has 5 posts and counting.See all posts by hussain-qazi