تحریک انصاف: تاریخ پہ تاریخ


گزشتہ آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت تواتر سے پریس کانفرنس پہ پریس کانفرنس کرتی رہی ہیں اور متعدد بار جلسے، جلوسوں کے اعلانات بھی کر چکے ہیں، پریس کانفرنسز میں زیادہ تر گزشتہ آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کو دھاندلی زدہ انتخابات قرار دیتے رہے ہیں جبکہ اسی تناظر میں پاکستان تحریک انصاف نے آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد اب تک پانچ مرتبہ جلسے اور جلوسوں کا اعلان کر چکا ہے لیکن تاحال جلسہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں کارکنوں کو صرف جلسے جلوسوں کے دوران بطور ہتھیار استعمال کرتے رہتے ہیں، جلسے، جلوسوں اور انتخابات کے بعد یہی لوگ کارکنوں کو یکسر نظر انداز کرنا تو درکنار بلکہ صحیح طریقے سے ہاتھ تک نہیں ملاتے اور ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں۔ جب جلسہ کرنا ہو احتجاج کرنا ہو یا الیکشن لڑنا ہو تو یک دم کارکنان یاد آ جاتے ہیں، انہیں پیار سے ملنا بار بار کھانے کی دعوت دینے سمیت سب کچھ کارکنوں کے حوالے کیے جاتے ہیں لیکن اقتدار حاصل کرتے ہی کارکنوں کو پہچاننے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ یاد رکھیں یہاں میں صرف پاکستان تحریک انصاف کی بات نہیں کر رہا بلکہ تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی جیسی ہے۔

جب سے عمران خان کو پکڑا گیا ہے تب سے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانات دے رہی ہیں لیکن تاحال عمران خان کو باہر نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ عمران خان کی رہائی کے لئے مسلسل جلسے اور دھرنے کے اعلانات کیے جاتے ہیں اور کارکنوں کو جھوٹی تسلیاں دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ اس بار ہم ایسا جلسہ کریں گے کہ اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں گے لیکن ہوتا کچھ بھی نہیں کیونکہ جب باپ کی اجازت نہ ہو خان کو کیا جلسہ تک نہیں کر سکتے۔

اگرچہ بظاہر تو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اینٹی اسٹیبلشمنٹ لگ رہی ہے لیکن اندر سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا نام تک موجود نہیں ہیں۔ یہ صرف کارکنوں کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ والا حلیہ دیکھا رہے ہیں باقی سب اسٹیبلشمنٹ کے گود میں بیٹھنے کے لئے بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں لیکن اس وقت اسٹیبلشمنٹ ان کو منہ نہیں لگا رہی۔

آپ کو یاد ہو یاد نہ لیکن ہمیں اچھی طرح یاد ہے، جب سال 2018 میں عمران خان کی حکومت تھیں تب وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعریفوں کی بھول باندھا کرتے تھے۔ تعریفیں اس لیے کیا کرتے تھے کیونکہ تب عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے تھے، مزید برآں جب عمران خان کی حکومت چلی گئی تو انہوں نے سابق آرمی چیف کو میر جعفر اور میر صادق کے نام سے پکارنا شروع کیا جو کہ آج بھی میر جعفر اور میر صادق کا لقب زیر گردش ہے۔ میر جعفر اور میر صادق تو چھوڑیں فوج کو بھی برا بھلا کہنا شروع کر دیا صرف اس لیے کہ میری حکومت کیوں نہیں بچائی۔

بار بار جلسے اور جلوسوں کے اعلانات کرنا سمیت اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانات دینے والی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے پھولوں جیسے کارکنوں کو یہ واضح کرتا چلوں کہ پاکستان تحریک انصاف اب اسٹیبلشمنٹ کے بغیر جلسہ یا دھرنا کبھی بھی نہیں کرسکیں گا کیونکہ اب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت باپ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئیں ہیں آگر یقین نہیں آتا تو پچھلے بائیس اگست کو جلسہ کس کے کہنے پر ملتوی کر دیا گیا، یہ لوگ صرف اور صرف پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز کو بیوقوف بنا رہے ہیں چونکہ یہ باپ کے کہنے پر جلسہ تو کیا میڈیا ٹاک بھی نہیں کر سکتے۔ باقی جلسہ تب ہو گا جب باپ اجازت دیں گے باپ کی اجازت کے بغیر صرف تاریخ پہ تاریخ دی جائے گی۔

Facebook Comments HS