مابعد صداقت عہد، ایک ٹوٹتی ہوئی لہر


لا وجودیت کی بنیاد پر مبنی فلسفہ کی شاخ نیہیلزم کے معروف پرچارک فلسفی بریٹ سٹیونز کے مطابق : ”سچ کا، وجود ہی نہیں ہے۔ سچ موجود سے متعلق ہمارا گیان اور اس سے متعلق لگایا گیا اندازہ ہے۔ آپ کو موجود میں سے وہ سچ چننا ہوتا ہے جو آپ کی زندگی کے لیے مناسب تر ہو اور حقیقت میں ہو بھی۔ یاد رہے میں نے یہ نہیں کہا“ آپ کا اپنا سچ ”کیونکہ انفرادیت ہمیشہ کا ڈھونگ ہے۔ آپ ان کی تخلیق ہیں جو آپ سے پہلے آپ کے خون کے رشتوں کی تانت میں تھے اور آپ اپنی زندگی کے عوامل کی بھی تخلیق ہیں۔ آپ دنیا سے علیحدہ وجود نہیں ہیں اور آپ کو اس حالت سے مفر نہیں۔ آگے اور کوئی نکتہ نہیں، اس سچ کی راہ اپنائیں جو آپ کے لیے عیاں ہو۔“

رہی بات مابعد صداقت کے عہد کی تو میاں کون سا عہد تھا جو ویسے کا ویسا برقرار رہا۔ یہ عہد بھی بیت جائے گا۔ ایک نیا عہد شروع ہو گا جس کا نام بھی رکھ دیا جائے گا جیسا آج کے حالات کو اس کے شروع ہونے کے قریب ربع صدی بعد ”مابعد صداقت عہد“ کہہ کے معروف کیا گیا تاکہ وہ جو جانتے تھے کہ ”صارفین کا سماج“ مابعد صداقت کی ہی شروعات تھا، وہ مسکرائیں اور اپنے لیے مناسب ترین حالت کو لیے آگے بڑھیں۔ یاد رہے سرمایہ دارانہ سماج میں آگے بڑھنے کا مطلب اپنے مقاصد پورے کرنا، منفعت پانا، مقتدر ہونا وغیرہ ہے اور وہ جنہیں اب بتایا گیا کہ بھئی ایک اور طرح کے عہد کا آغاز ہو گیا ہے جو بہت برا ہے، اس پہ بحثو۔

پچھلا عہد جو مبنی بر صداقت تھا ( یعنی جسے آپ مبنی بر صداقت سمجھتے تھے ) وہ کس قدر اچھا تھا، سب سچ بولتے تھے، سرمایہ دار بھی، مزدور بھی، سیاستدان بھی، کارکن بھی، دانشور بھی اور ان کو ماننے والے بھی، ادیب بھی اور قاری بھی، مطلب یہ کہ جھوٹ کوئی بولتا ہی نہیں تھا جبکہ گوئبلز کو بدنام کر دیا گیا کیونکہ جرمنی جنگ عظیم ہار گیا تھا لیکن معروف جرمن ماہر نفسیات اور جنس کو نفسیات کا اہم ترین انگ گرداننے والے زگمنڈ فرائیڈ کی پوتی مریام صوفی فرائیڈ کو جو خود بھی بہت ماہر عمرانیاتی نفسیات دان تھیں اور امریکا منتقل ہو گئی تھیں اور جنہوں نے ”صارفینیت“ کی بنیاد رکھی، کو نیک نام کر دیا۔

ان کے نفسیاتی فلسفہ پہ چلتے ہوئے اپنایا گیا کہ اشیائے صرف کے چند اوصاف کا اس قدر پرچار کیا جائے کہ اس کے نقائص اور نقصانات دب کر کے رہ جائیں۔ ہر شخص اس شے کا خریدار بننے کی جانب راغب ہو، تنوع پسندی کو اس قدر فروغ دیا جائے کہ ہر انسان نت نئی شے خریدنے اور اپنانے کی خاطر، اخلاقیات کے اصول چاہے پس پشت ڈال دے، چوہوں کی طرح ایک دوسرے پہ چڑھ کر مطمع کے حصول کو بھاگے۔ کمائے، جیسے بھی جس طرح بھی اور خریداری کرے۔ صوفوں کی، پردوں کی، فریج کی گاڑی کی، موبائل سیٹ کی، قیمتی سے قیمتی شے کی، نئے سے نئے ڈیزائن اور ماڈل کی۔

یہ سب کچھ گزشتہ پون صدی سے ہوتا چلا آ رہا ہے کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ مابعد صداقت عہد پنپ رہا ہے۔ بھلا ہوں سٹیو جابز کا جس نے ٹچ سکرین دی یا برا ہو اس کا اور ان سبھوں کا جنہوں نے ابلاغ کے آلے بنائے اور عام کیے۔

اب بھانت بھانت کی بولیاں بولی جانے لگیں۔ ہر شخص اپنا نچوڑا ہوا اپنے مفاد کا امین سچ بول رہا ہے جو دوسروں کے لیے دروغ ہے۔ حد تو یہ ہو گئی کہ تھمب نیل نوے فیصد جھوٹے درج جب کہ بیان میں کچھ اور۔ کیا یہ بھی گوگل والے نے، فیس بک والے نے یا ابلاغ کو سہل بنانے والوں نے سکھایا؟ نہیں نا۔ تو ایسا کیوں کیا جاتا ہے کیونکہ دوڑ لگی ہے شائقین میں اضافہ کرنے کی کہ یوں معاوضہ ملنے کی راہ نکلتی اور فروغ پاتی ہے ویسے ہی جیسے اشیائے صرف کو جھوٹی سچی اشتہار بازی کر کے بیچ کے منافع لیا اور بڑھایا جاتا اور یوں کمایا جاتا رہا اور کیا جا رہا ہے۔

مگر ایسے جھوٹ دیر پا نہیں ہوتے۔ اب سبھی جانتے ہیں کہ سبھی تھمب نیل درست نہیں ہوتے ویسے ہی جیسے سب جان گئے ہیں کہ معیاری اشیاء بنا کے بیچنے والے کون ہیں اور معیار کا پرچار کر کے جعلی مال کون بیچتے ہیں۔

جھوٹ زیادہ دیر بکے گا نہیں۔ مابعد صداقت عہد ایک لہر کی مانند ہے جو اب آٹھ کے گرنے بھی لگی ہے۔ خاطر جمع رکھیں اور سچ تلاشنے کی بجائے جو نہ کبھی ملا اور نہ ہی کبھی ملے گا، دنیا کو جنت، اگر جنت نہیں تو جنت جیسا بنانے کی سعی میں شامل ہوں۔ یقین جانیں دنیا میں برے لوگ کبھی زیادہ نہیں رہے اور برائی بھی اچھائی سے کم ہے۔

Facebook Comments HS