پنجابی نیچے اتر آئیں


” میں ان کو کہتی رہی کہ بھائی پانچ بندے اوپر نہیں آئے، ان کو بلا لیں“ ۔
یہ الفاظ اس پنجابی خاتون کے ہیں جس کے شوہر کو موسیٰ خیل میں بلوچ لبریشن آرمی کے دہشتگردوں نے بس سے اتار کر بے دردی سے قتل کیا۔

سرخ آنکھیں، غم سے نڈھال، نیند، تھکاوٹ اور غم سے چور پنجاب کی یہ بیٹی آج صرف اس لئے بیوہ ہے کیونکہ اس کے شوہر کو لسانی شناخت کی بنیاد پر بیس سے زائد پنجابیوں کے ہمراہ چلتی بس سے اتار کر قتل کر دیا گیا ہے۔

اس کی معصومیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بس کے باہر گولیوں کی لگاتار ترتراہٹ سننے کے باوجود بھی اس کو اس بات کا یقین تھا کہ اس کا شوہر سلامت ہو گا۔ اس کو نفرت، امتیاز، دروغ، اور انا کے اس کھیل کا اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ کوئی کیسے اس کے بچوں کے باپ کی یوں جان لے سکتا ہے۔ اس نے شاید انسانوں کا یہ بدنما چہرہ دیکھا ہی نہیں تھا۔ ان عورتوں کے دل بھی کتنے صاف ہوتے ہیں، اتنا سب سہ کر ، دیکھ کر بھی ان کو دشمن سے بھی خدا خوفی اور بھلائی کی امید رہتی ہے۔ ہر حال میں امید قائم رکھنے والی پنجاب کی اس بیٹی کو گمان تھا کہ جو پانچ لوگ بس میں دوبارہ سوار نہیں ہوئے، شاید وہ کہیں پیچھے رہ گئے ہیں یا ڈرائیور نے انجانے میں بس چلا دی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ لاہور سے کراچی جاتے ہوئے خانیوال، روہڑی، یا حیدرآباد کے اسٹیشن پر رکی ٹرین آہستگی سے چلنا شروع کرتی ہی تھی تو اپنے ابا کو نہ پا کر ہم بہن بھائی پریشانی کے عالم میں کبھی کھڑکی سے باہر تو کبھی راہداری میں جھانکا کرتے تھے کہ امی ابھی تک ابا نہیں آئے۔ ہم بہن بھائی کچھ لمحات تک اضطراب اور پریشانی میں مبتلا رہتے۔ جب ابا کو دیکھتے تو ایک دم سے یہ ساری بے چینی ختم ہو جاتی۔

پاک پتن کی اس بیٹی پر نجانے کیا گزر رہی ہوگی جب اس کے بخار میں تپتے اور کانپتے اطفال اسی اضطراب اور پریشانی کے عالم میں اپنی ماں سے کہہ رہے ہوں گے کہ امی پاپا نہیں آئے۔ امی میرے پاپا ابھی تک نہیں پہنچے۔ ان نونہالوں کے معصوم سے دماغ میں کیسے خیال گزرے ہوں گے کہ ان کے پاپا اوپر کیوں نہیں چڑھے یا وہ پیچھے کیسے رہ گئے؟

مسافروں سے بھری بس جب ایک دم سے خالی ہو گئی ہوگی تو بس میں موجود ان لوگوں نے کیسا محسوس کیا ہو گا؟ بڑوں نے صورتحال بھانپ کر کیسا سناٹا اپنے ارد گرد ناچتا دیکھا ہو گا۔ یہ تو خبروں میں سنتے تھے کہ مسافروں کو شناختی کارڈ دیکھ کر مار دیا گیا، آج ان کے اپنوں کے ساتھ یہ کیسے ہو گیا؟ ان کے کتنے خوف سچ ثابت ہو گئے ہوں گے؟ اب کیا ہو گا، وہ گھر کیسے جائیں گی، ان کے شوہروں اور بھائیوں کے ساتھ کیا ہوا ہے، اس بیگانی گومگوں کی کیفیت نے ان کو اندر سے کتنا زخمی کیا ہو گا۔ یہ زخم تو مندمل ہونے میں موت تک انتظار کریں گے۔

رات بھر مسجد میں خدا کے حضور اپنے شوہر کی زندگی کی دعا کرنے والی پنجاب کی اس بیٹی نے کتنے ورد کر ڈالے ہوں گے۔ بلوچ سرمچاروں کے تشدد کا نشانہ بننے والی یہ پہلی پنجابی خاتون نہیں ہیں۔ ان جیسی بیسیوں عورتیں ہیں جن کے باپ، بھائی، بیٹے، اور شوہر ان سے صرف اس لئے چھین لئے گئے کہ کسی کی انا کو تسکین پہنچ سکے، خون کا بے رحم کھیل رچا سکیں اور بہتے لہو اور بکھرے جسموں کے ریشے دیکھ کر ہوس کو قرار آ سکے۔

اس سب کے باوجود جو سناٹا مجھے اپنے اطراف ہر بات پر شور کرنے والوں کا محسوس ہو رہا ہے، وہ نہایت ہی بیہودہ ہے۔ ہم نے نسائی جدوجہد کی خاطر کہاں کہاں کڑوی باتیں نہیں سنیں، گاڑیوں کی ٹکریں، اور لوگوں کے پتھر نہیں کھائے۔ مگر آج ایسا کیا ہے کہ ہماری فیمنسٹ بہنیں خاموش ہیں۔ ہم نے جدوجہد کو منزلوں میں کیوں تقسیم کر دیا ہے؟ پہلے آئیے پہلے پائیے کی رسم جدوجہد میں کس نے متعارف کرائی ہے؟ یہ کون سے نابلد سبق حفظ کر لیئے ہیں کہ ایک شناخت کے لئے ہم آسمان سر پر اٹھاتے ہیں تو دوسری شناخت جو ہماری اپنی بھی ہے پر ہم معذرت خواہانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں؟ پھر کیا کسی متوازی دنیا کے violence apologists ہم بھی ٹھہرے؟

ہم گزشتہ نو ماہ سے دیکھ رہے ہیں کہ انٹرسیکشنل نسائی تحریک کی توجہ کا تمام تر مرکز لاپتہ افراد یا افغان پسند گروہ ہیں۔ خواتین کے حقوق ایک رسمی کارروائی بن چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی مظلوم ہو یا ظالم، ماں اور بہن کا جگر گوشہ ہوتا ہے۔ سوچ کر ایک دفعہ دل کراہ اٹھتا ہے۔ ہاں، آپ سو بار سب کے لئے آواز اٹھائیں، یہ بھی دیکھیں کہ آپ کسی کی مجبوری کا فائدہ تو نہیں اٹھا رہے، کسی کو اپنے مفاد کی خاطر جھوٹا دلاسا تو نہیں دے رہے مگر نہایت آسانی اور مجرمانہ غفلت سے پنجابی مزدوروں کے گھر کی پنجابی بہنوں، ماؤں، بیویوں، اور بیٹیوں کے درد کو تو نہ جھٹلائیں۔ برابری کی جدوجہد کرنے والے آج جدوجہد میں مساوات کو کیسے بھول گئے؟

یہ نکتہ سب سے زیادہ اہم ہے کہ انسانوں کی تکالیف نظریاتی مفادات میں تولی نہیں جا سکتیں۔ جدوجہد غیر جانبدارانہ ہوا کرتی ہے۔ یہ بیانیہ ترتیب نہیں دیا جا سکتا کہ ایک گروہ کے انسانی حقوق دوسرے سے زیادہ اہم ہیں۔ غیر جانبدارانہ تحریکیں سب کے لئے ایک سی آواز بلند کرتی ہیں۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ظلم کا شکار بننے والی ایک عورت کے حقوق دوسری عورت سے کم یا زیادہ ہیں۔ اگر ایسے رویے دیکھنے کو ملیں تو ایسی تحریکیں نا صرف نقصان دہ اور جانبدار ہوا کرتی ہیں بلکہ نیتوں میں بددیانتی بھی ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ ایسی ہی سنگین اور پیچیدہ سماجی و سیاسی صورتحال لٹمس ٹیسٹ ثابت ہوتے ہیں۔

جدوجہد کے اصولوں میں ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ تحریک مضافات اور مقامی مسائل پر توجہ دے، ان کے دکھ اور سکھ کا حصہ بنے، سب سے پہلے مقامی افراد کی آواز بنے۔ گھر سے دور، دوسروں کے لئے تمام تر قوت اور وقت وقف کرنا جدوجہد کے ساتھ بددیانتی اور غیر فعال عمل ہے۔ ایسا امر ظاہر کرتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ بھی مخلص نہیں جہاں دور بیٹھ کر مدد نہیں کی جا سکتی۔ انسانوں کے مسائل سیاسی یا نظریاتی پوائنٹ اسکورنگ سے کہیں بڑھ کر ہوا کرتے ہیں، ان کی تکالیف کے پیچھے چھپ کر مصنوعی تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں نہ مقامی لوگوں میں مقبول۔ جس تحریک میں مقامی آواز اور لوگوں کے مسائل شامل نہ ہوں، وہ جدوجہد نہیں خاکہ ہوتا ہے، جہاں کچھ دیر کے لئے نجات دہندہ کا کردار ادا کر کے نئے موقع کا انتظار کیا جاتا ہے۔

کیا ہی تعجب کی بات ہے کہ پنجاب کے مزدوروں کی لاشیں گوادر، نوشکی، اور موسیٰ خیل سے ملتان، لیہ، خانیوال اور وہاڑی آئیں اور ملتان کے نام سے بنے جدوجہد کے مچان ملتان کی بجائے کہیں اور کی بات کریں۔ کیسی بدنیتی ہے کہ لاہور کے نام سے جدوجہد کا مرکز ہو اور لاہور، سرگودھا، شیخوپورہ، منڈی بہاؤ الدین اور فیصل آباد آتی لاشوں کو دیکھ کر کوئی آواز نہ بلند کرے بلکہ مرنے والوں کے مارنے والوں کے حق میں اخلاقی جواز پیش کر کے مقتولین کو محض collateral damage یا وکٹم بلیم کر کے اپنا فرض پورا کیا جائے۔

سطح غربت سے نیچے رہنے والے پنجابی مزدوروں کے بچے اور گھر کی خواتین بھی اتنی ہی انسانیت، ہمدردی، بھرپور فیمنسٹ توجہ اور انصاف کی حقدار ہیں جتنا کوئی اور۔

راہ چلتے بیوہ کیے جانے والی پنجابی مزدوروں کی بیویاں بھی ہماری فیمنسٹ آواز کی برابر کی مستحق ہیں کہ ان کے گھروں کو اجاڑنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اگر ہم اپنے مضافات میں رہنے والے ہم زبان مظلوموں کے لئے آواز نہیں اٹھا سکتے تو ہم کسی کے لئے بھی آواز اٹھانے کا اخلاقی جواز کھو دیتے ہیں۔ ہم نے کیوں اپنی کم علمی اور تکبر کو بنیاد بنا کر اپنوں سے ہی امتیاز برتنا شروع کر دیا ہے؟

Facebook Comments HS