مغرب انتہا پسند کیوں ہو رہا ہے؟ حصہ دوئم


کہتے ہیں دنیا میں کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا اور جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی ہسٹری یا وجہ ہوتی ہے مطلب حادثے یک دم نہیں ہوا کرتے۔ ویسے اس کو انگریزی میں کمپاؤنڈ افیکٹ بھی کہا جاتا ہے۔ میرا یہ کالم پانچ سال پہلے کہی گئی باتوں کا تسلسل ہے جس میں ہمارے رویوں اور اہل مغرب میں پائے جانے ممکن صبر و تحمل میں تبدیلیوں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ آج کل بھی و ہی ہو رہا ہے۔ یعنی موجودہ صورت حال پناہ گزینوں بالخصوص مسلمانوں کے حوالہ سے کافی تشویش ناک دکھائی دے رہی ہے۔

اس دفعہ بات شروع ہوتی ہے کہ انگلینڈ میں تین بچیوں کے قتل سے جہاں ایک انڈر ایج بچہ جس کی فیملی کوئی چار سال پہلے ہی روانڈا سے انگلینڈ شفٹ ہوئی تھی نے سکول میں ایک فنکشن کے سلسلہ میں تیز دھار آلہ (چاقو) سے ڈانس کی پریکٹس کرتی بچیوں اور لوگوں پر ہلہ بول دیا جس کے نتیجہ میں تین چھوٹی بچیوں کی جان چلی ہے۔ پولیس نے حملہ آور بچے کو گرفتار کر لیا اور عین اسی وقت سوشل میڈیا پر یہ بات گردش کر گئی کہ یہ حملہ کسی مسلمان نے کیا ہو گا۔ حالانکہ انگلینڈ کی پولیس نے بچے کے مذہب کے حوالہ سے کوئی معلومات شیئر نہیں کی اور نہ ہی کوئی واضح شناخت بتائی۔

بہرحال یہ معاملہ سوشل میڈ یا پر تشہیر ہونے کی دیر تھی کے انگلینڈ کے طول و عرض میں کافی غم و غصہ پایا جانے لگا۔ کچھ جگہوں پر تو دنگے فساد بھی ہوئے۔ یہ دراصل ایک بہانہ بھی تو ہو سکتا ہے جب وہاں ہر پناہ گزینوں اور بالعموم پاکستان، انڈیا اور بنگلا دیش سے گئے ہوئے مسلمانوں نے وہاں کے جو بھی ریت و رواج تھے اپنے کسی نہ کسی عمل سے وہاں میں رہنے والے باسیوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ چاہیے قانون کی خلاف ورزی ہو یا دعوت بذریعہ ہراس منٹ ہویا پھر بیچ چوراہے یا سڑک پر نماز ادا کرنے جیسے واقعات نے پہلے وہاں کے لوگوں کو حیران کیا پھر پریشان کیا۔

آہستہ آہستہ مذہب کی آڑ میں غنڈہ کردی بھی شروع کردی ان کے رہن سہن پر حملے شروع کر دیے۔ مطلب جن مذہبی رسومات سے انہیں آزادی حاصل کیے صدیاں لگ گئیں وہی ان پر اُن ہی کے ملکوں میں جا کر نافذ کرنے کی کوشش کیں گئیں۔ کہیں کہیں تو یہ تاثر بھی دینا شروع کر دیا گیا کہ یہاں کسی گورے کا آنا ممنوع ہے۔ شریعہ کے نفاذ کو بزور شمشیر اعلانات ہونے شروع ہو گئے۔ گورے یا اُس دیس کے اصلی باسی پچھلے کئی سالوں سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور اپنے اندر ہی کہیں اس طرح کے غصہ کو پال رہے تھے۔

اس سے پہلے ایسے دنگے دیگر یورپی ممالک میں بھی دیکھے چکے ہیں چند سال پہلے تو جرمنی میں نئے سال کی کسی تقریب میں گھس کر دہشت گردی کے واقعات بھی میڈیا پر موجود ہیں۔ لہذا یورپ کے لگ بھگ ہر ملک میں جس میں سویڈن، ڈنمارک، جرمنی، فرانس اور اب انگلینڈ میں۔ کبھی یہ پردے کے نام پر تو کبھی اسلامو فوبیا کے نام پر وہاں کے لوگوں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ یورپ جہاں کبھی جہالت اور بربریت کا راج تھی ابھی ڈیڑھ دو صدیوں کی تو بات ہے امن ہوئے جب سے انہوں نے چرچ کی غلامی سے آزادی حاصل کی ہے یا یوں کہہ لیں جب سے انہوں نے ریاست اور چرچ کو اپنی اپنی ذمہ داریاں سونپتے ہوئے ریاست کو آئین و قانون کو انسانی حقوق کی بنیادوں پر چلانے کا عہد کیا ہے۔

جس دور سے ہم گزر رہیں یورپ اس میں سے کب کا گزر چکا ہے اب وہ صرف شخصی آزادی پر یقین رکھتا ہے اور جرم اور گناہ کی تفریق کو واضح کر کے ریاست میں بسنے والے شہری کو اس کے عقائد اور اللہ کی رضا و جزا پر چھوڑ دیا ہے تاکہ ریاست اپنے امور شہریوں کی بہبود اور ترقی پر نپٹا سکے۔ مسلم ممالک بالخصوص پاکستان جیسے ملکوں سے گئے ہوئے لوگ جب مذہب کو ریاست پر ترجیح دیتے ہوئے ریاست کے قانون کو بالائے طاق رکھتے ہیں تو یورپ کو یہ بات نہایت ناگوار گزرتی ہے۔ جس پر ریاستی مشنری حرکت میں آتی ہے جس کو ہم ظلم یا شاید اسلامو فوبیا قرار دیتے ہوئے دنیا کو اپنے حصہ کا واویلا بتاتے ہیں۔ پہلے یہ بات ریاستوں تک محدود تھی اب اس کی حدت کو وہاں کے عام شہری نے بھی شدت سے محسوس کیا ہے۔ تبھی تو وہاں کی انتہائی دائیں بازو کی تنظیمیں اور لوگ حکومت کو سمجھانے اور ناجائز طور پر پناہ گزینوں کو وہاں سے نکالنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا کہ وہاں کی عوام نے کافی کچھ برداشت کرنے کے بعد ہی یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے۔ اب مزید وہ ناجائز پناہ گزینوں کو وہاں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر آپ یورپ یعنی انگلینڈ اور فرانس کے نعروں اور ایجنڈا پر غور کریں تو اُن کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ اگر آپ نے ہمارے ملک میں رہنا نے تو ہمارے ملک کے طور طریقوں کو اپنا نا ہو گا ورنہ آپ کو ہمارے ملکوں سے جانا ہو گا۔ یا پھر بس اب بہت ہو گیا۔

اگر تھوڑا مزید غور کیا جائے تو بات برُی بھی نہیں۔ دیکھیں ہمیں بھی تو اپنے ملک سے محبت ہے اور ہم بھی نہیں چاہیں گے کہ کوئی ہمارے کلچر، ثقافت اور سماجی طور طریقوں کو زبردستی تبدیل کرے۔ جو بھی ہمارے ملک میں آتا ہے وہ چاہیے ہمارا لباس نہ بھی پہنے لیکن کسی کو ہمارے لباس کو برا کہنے کی قطعاً اجازت نہیں، کوئی باہر سے آ کر یہاں اپنا نظریہ نہیں ٹھونس سکتا۔ وہ نظریہ چاہیے کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو اور اگر کوئی ایسی جرات کرے تو ہمارا بھی وہی رد عمل ہو گا جیسا آج فرانس یا انگلینڈ کا ہے۔ ہم آج تک گوروں کو برا بھلا کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہم پر سو سال حکومت کی ہے۔ حالانکہ ہم پر گوروں کے علاوہ بھی بہت سوں نے کی ہمیں فتح کیا اور ہمیں مارا پیٹا بھی لیکن برا ہم گوروں کو ہی کہتے ہیں۔

چلیں جو کچھ بھی ہے ہم اگر اپنے زمینیں بیچ بیچ کر ، کشتیوں میں ڈنکیاں لگا کر وہاں سلسلہ روز گار کے لیے چلے ہی گئے ہیں تو ہمیں اپنے معاشی مسائل پر توجہ دیتے ہوئے اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے اگر کوئی ملک ہمیں خدا ترسی کی خاطر یا انسانیت کے خاطر پناہ دے ہی دیتا ہے تو ہمیں خاندانی ہونے کا ثبوت دینا چاہیے اور جو پناہ لیتے یا رہائش لیتے ہوئے حلف دیا اس کا پاس بھی رکھنا چاہیے ورنہ ہم بے وفا اور ناقابل اعتبار قوم کہلائیں گے اور اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو مغرب اپنے امن پسند دور سے نکل کر دوبارہ انتہا پسندی میں چلا جائے گا۔ پھر ہمارے پاس نہ آگے کا رستہ ہو گا نہ پیچھے کا ۔ اس کا حل یہ ہے کہ جس ملک میں بھی جائیں اگر ان کا کلچر، رہن سہن، طور طریقے آپ کو پسند نہیں تو اپنے وطن میں واپس آ جائیں یہاں کام کریں محنت کریں اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالیں ورنہ خاموش رہیں۔ اچھے وفادار انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جس ملک کی پاسپورٹ حاصل کرتے عہد کیا ہے اُسے ایک اچھے اور خوددار انسان کی طرح نبھائیں اُس ملک کی خیر چاہیں۔

Facebook Comments HS