محمد خالد اختر کی کلک گہر بار: ایک جھلک


(صف اول کے اردو ادیب محمد خالد اختر نے دسمبر 1977 میں عطا الحق قاسمی کے کالموں کا انتخاب کیا اور اس پر ’عرض حال (جسے آپ دیباچہ بھی کہ سکتے ہیں)‘ کا عنوان باندھا۔ تب عطا الحق قاسمی صاحب کی عمر 34 برس تھی۔ انگریزی ادب میں ایذرا پائونڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کسی نوجوان ادیب کی تحریر دیکھ کر اس کی ٹھیک ٹھیک قدر پیمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اردو ادب میں مولانا صلاح الدین احمد، محمد سلیم الرحمان، احمد ندیم قاسمی اور محمد خالد اختر سے یہ صلاحیت منسوب کی جا سکتی ہے۔ آئیے 47 برس پہلے لکھی یہ تحریر بار دگر پڑھتے ہیں۔)

***       ***

بڑھیا مے ناب کو عشق پیچے کے کچھے کی حاجت نہیں ہوتی اور عطا الحق قاسمی کی یہ تحریریں کسی کی تعریف کی محتاج نہیں۔ کہنے کو تو یہ سب کی سب اخباری کالم نویسی کی صف میں آتی ہیں، ایک دن کی زندگی پانے والی وقتی تحریریں، مگر ان میں اتنی شگفتگی، اتنی انبساط انگیزی ہے ان کا اسلوب اتنا قدرتی اور اتنا روشن ہے کہ میری رائے میں (اور اس کے دوسرے پڑھنے والوں کی رائے میں) وہ ادب کے قریب آجاتی ہیں۔ ان میں سے چند ایک تو ادب پارے ہیں۔ اعلیٰ معیار کی طنز اور ظرافت کے نثری ٹکڑے جنہیں آسانی سے بھلایا نہیں جا سکتا۔ بہت سے لوگوں کو اس کے ’روزن دیوار سے‘ کے کالم ”طوطے ای طوطے‘ اور ’ہیرو، کامیڈین اور اب ولن‘ ابھی تک یاد ہیں اور اس کی نگارش بالعموم اتنی یکسانی سے اچھی اور مسرت بخش ہے کہ اس کے بہت سے کالم جن کے عنوان اب یاد نہیں رہے جنہیں دوسرے دن پرانا اور باسی ہو جانا چاہیے اس لئے کھلے ہوئے اور تروتازہ ہیں اور ان کی آب و تاب اس لئے باقی ہے کہ ان کے لکھنے میں اس نے اپنی ذہنی اور جذباتی کاوش کا رنگ بھرا ہے۔ اس کے کم ہی کالم ایسے ہوں گے جن کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ انہیں رواداری میں گھسیٹا گیا ہے یا الفاظ جگہ بھرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔ ان کے کالموں میں سلجھی ہوئی شوخ، پرظرافت باتوں کا مزہ ملتا ہے اور وہ جو سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی تحریر کا لکھنا آسان ہے ذرا اس طرز پر لکھ کر تو دیکھیں۔ صاف اور سچا فقرہ لکھنا آسان کام نہیں اور کاوش کے بغیر کوئی ایسا فقرہ نہیں لکھ سکتا اور پھر عطا کے کئی کالم پڑھنے کے بعد ہم کچھ دیر سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ محض ہنسی مذاق کی باتیں ہوں۔ اس کا دل گداز ہے، انسانیت کے لئے دھڑکتا ہوا اور یہ دھڑکن جھوٹا پوز نہیں۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر وہ کالم نگار ہے تو وہ عبد المجید سالک چراغ حسن حسرت اور ہمارے دوسرے بڑے اردو کے کالم نگاروں کی روایت کو نہایت امتیاز سے نبھائے ہوئے ہے اور اس میدان میں اس کے پیشرو اس پر فخر کر سکتے ہیں۔ چراغ حسن حسرت، جو اردو نثر کا بادشاہ تھا، زندہ ہوتا تو اس کی پیٹھ ٹھونکتا اور خوش ہوتا۔

میں عطا سے پہلے پہل ایک سفرنامہ نگار کی حیثیت سے روشناس ہوا۔ اس وقت میں یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ فکاہیہ کالم بھی لکھتا ہے۔ وہ لکھتا اور اس کے اخبار ’نوائے وقت‘ کے مخصوص بناوٹی حیا داری کے لب و لہجہ سے مجھے چڑ تھی۔ ” نوائے وقت میرا اخبار نہیں تھا کوئی چھ برس ہوئے ہیں (میں ان دنوں ملتان میں تعینات تھا کہ میں نے اس کا نام ’فنون‘ میں ایک سفری مضمون ’شوق آوارگی‘ تلے دیکھا۔ اس سفرنامے نے مجھے چونکا دیا۔ اس کی قدرتی شوخی، بیان کی سچائی اور دل بستگی، کھلنڈرے پن کے انداز نے میرا دل موہ لیا۔ عطا الحق قاسمی جو کوئی بھی وہ تھا، لکھنا جانتا تھا۔ وہ ہے کون؟ اور اتنی مدت وہ کہاں چھپا رہا؟ مجھے یاد ہے کہ میں نے لاہور میں کسی کو لکھا کہ یہ عطا الحق قاسمی کون ہے اور کیا کرتا ہے؟ مجھے اتنا ہی پتہ چل سکا کہ وہ لاہور کے ایک کالج میں لیکچرر ہے اور امریکہ ہو آیا ہے۔ ایک سال بعد لاہور کسی سرکاری کام پر آنے کا اتفاق ہوا تو عطا سے پہلی بار ملا اور اب جب میں لاہور ہی میں ہوں ہماری ملاقاتیں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ اس کی صحبت مزے کی ہوتی ہے کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو تمہیں ہنستے ہنساتے ہیں اور کچھ عرصہ کے لئے تمہیں اپنی تاریک مایوسانہ سوچوں سے رہائی دلا دیتے ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں سٹیونسن نے کہا ہے کہ جب وہ ایک کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو گویا ایک بتی اور روشن ہو جاتی ہے۔

مگر میں اس کی فکاہیہ نگاری سے لاہور آنے پر بھی بے تعلق رہا کیونکہ میں اس کا اخبار ’نوائے وقت‘ نہیں پڑھتا تھا ویسے بھی میں اخباروں کے ان تھک اور سنجیدہ پڑھنے والوں میں سے نہیں۔ عطا نے ایک آدھ بار مجھے اپنے کالم پڑھنے کی جانب رغبت دی مگر میرے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اسے کچھ مایوسی ہوئی اور میں اس کا سایہ اس کے چہرے پر دیکھ سکتا تھا۔ دراصل مجھے کچھ ایسا خیال تھا کہ عطا جیسا سچا ادیب ایک اچھا فکاہیہ کالم نگار نہیں ہو سکتا۔ فکاہیہ کالم ہوتا بھی کیا ہے زبردستی کی لطیفہ گوئی، سیاسی چوٹیں، ادھر ادھر کی خفیف پھبتی بازی اور جگت کی پوٹ۔ اگر میں عطا کے فکاہیے نہیں پڑھ رہا تھا تو اس محرومی سے کچھ نہیں کھو رہا تھا۔ پھر مارچ 1977ء کے عام انتخابات ہوئے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر پہلے سے ترتیب شدہ فیک نتائج، سرکاری پریس کی شرمناک ہرزہ سرائی اور فتح یابی کے شادیانے۔ ہم میں سے بہت سے جو جاندار ذوالفقار علی بھٹو کو اب تک چاہتے اور اس کے بارے میں فریب نظری میں مبتلا تھے، اس کھلم کھلا ڈھونگ پر برہم ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ہم میں سے ہر ایک نے اس طرح محسوس کیا جیسے اس کی ذاتی تذلیل کی گئی ہو اور ہمارا خون کھولنے لگا۔ کیا ہم اتنے ہی بے ضمیر اور خود داری سے محروم تھے کہ ہر جاہ پرست، مہم باز مذہب اور حب الوطنی کے نام پر اور اپنی شوکت و حشمت برقرار رکھنے کی خاطر ہم پر ستم ڈھاتا رہے۔ آمر اپنے اصل رنگوں میں سامنے آ گیا اور ہم ٹیلی ویژن پر اس کی دو تین کرتب بازیوں کے بعد یہ جاننے لگے کہ وہ ایک تیسرے درجے کا دل و دماغ رکھنے والا بے اصول شخص ہے جسے خلعت و کلاہ سے ماسوا کوئی اور چیز عزیز نہیں۔ سانپ کی طرح فریبی اور قطعی نا قابل اعتبار۔ ہم اس سے نفرت کرنے لگے۔ ایک دو لوگوں نے اپنے ٹی وی سیٹ کے سکرین پھوڑ دیے۔

ہمارے قومی پریس نے حسب دستور حاکم وقت کے کلمے پڑھنے کی روایت قائم رکھی۔ میں جانتا ہوں کہ صحافیوں کے بھی بیوی بچے ہوتے ہیں اور فاقے سے مرنا اچھی چیز نہیں مگر کیا میراثیوں کی طرز کی اتنی مسلسل قصیدہ خوانی ملازمت کے تحفظ کے لئے ضروری تھی؟ ان دنوں تم اخباروں کو ان کی خبروں یا اداریوں یا رایوں کے لئے نہیں پڑھ سکتے تھے اور پاکستان ٹائمز جیسے چند اخبار تو ناقابل برداشت چیتھڑے بن کر رہ گئے۔ بہت سے دوسروں کی طرح میں نے بھی اپنا اخبار بدل کر نوائے وقت پڑھنا شروع کیا۔ نوائے وقت کم از کم خبریں تو دیتا تھا اور اس کے اداریے بھی اپنے مخصوص اسلامی اجارہ داری کے مزاج کے باوجود جچے تلے اور متوازن ہوتے تھے تب ہی میں حیرت اور مسرت سے فکاہیہ نگار عطا الحق سے اصل متعارف ہوا۔

اس نامور اخبار میں عطا کے فکاہیہ کالم جو ’’روزن دیوار سے“ کے عنوان سے اس کی تصویر کے ساتھ چھتے تھے بہترین چیز ہوتے تھے اور بہت سے اخبار پڑھنے والے سب سے پہلے انہی کا ورق الٹتے تھے بعض دفعہ وہ فکاہیہ وہاں ہوتا تھا اور بعض دفعہ نہیں کیونکہ عطا روزانہ کچھ نہ کچھ گھسیٹنے والا کالم نگار نہیں۔ اکثر جب اس کا وار سیدھا پڑتا تھا، وہ پرامتیاز خوبی سے لکھتا۔ وہ بڑی سلیس اور صاف زبان لکھتا ہے۔ قدرتی شوخی اور بے تکلفی سے معمور، بذلہ سنجی اور ظرافت سے دمکتی ہوئی۔ اس دور کی سیاست اور معاشرت کے ناہموار پہلو اس کی نگاہوں سے نہ بچ پاتے اور وہ انہیں بڑی خوش ذوقی اور سلیقے سے مگر لگی لپٹی رکھے بغیر بے نقاب کرنے سے نہ چوکتا۔ اس نے جرات اور دلیری سے ایسی ایسی باتیں کہہ ڈالیں جو دوسرا کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔ مگر ایسے انوکھے اور خوبصورت طریق سے کہ محتسب حرف نہ رکھ سکیں۔ وہ کچھ کچھ ڈرتا تھا کہ کہیں اسے اپنی لیکچررشپ سے ہاتھ نہ دھونے پڑیں اور میرا خیال تھا کہ ذہنی طور پر وہ اس کے لئے تیار تھا۔ میں اس کی سفرنامہ نگاری کا مداح تو تھا ہی اب ان کے کالموں میں اس کی ذہانت اور طباعی کا قائل بھی ہو گیا۔ وہ ایک حقیقی لکھنے والا تھا اس کا دل صحیح جگہ پر تھا اور میں اس انوکھے اجلے کالم لکھنے والے سے قلبی یگانگت محسوس کرنے لگا۔ ہم ایک ہی ہوا میں سانس لیتے تھے ایک ہی ڈگر پر سوچتے تھے۔ اس کے کم ہی کالم میری نظر سے گزرے جن کا رنگ پھیکا ہو۔ جن کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ وہ محض تفنن طبع یا تمسخر کے لئے لکھے گئے ہیں۔ اس کے ان کالموں کی دھوم ہو گئی اور پڑھے لکھے لوگ ان کا ذکر کرنے لگے۔ نوائے وقت کی اشاعت لاکھوں تک جا پہنچی تھی کیونکہ اس کا رویہ دونوں فریقوں کی متوازن خبریں دینے کا تھا۔ جبکہ پریس ٹرسٹ کے اخبار محض آمر کی مدحت سرائی کی ترولیاں اور نرسنگے پھونک رہے تھے۔ عطا کا ”روزن دیوار سے‘‘ وسعت سے پڑھا جانے لگا۔ شہرت اس کے دروازے تک آ پہنچی اور اس کا نام نوائے وقت کے ساتھ اس طرح مربوط ہو گیا جیسے اس کے ایڈیٹر مجید نظامی کا۔ اتنی شہرت کسی کا بھی سر پھیر دیتی اور اگر اس سے عطا کا سر پھر گیا (میں حقیقتاً نہیں جانتا) تو میں اسے الزام نہیں دوں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس نے ان پرشورش ایام میں آمر کو گرانے میں ایک باعزت لائق تعریف پارٹ ادا کیا جس پر کوئی بھی اخبار نویس فخر کر سکتا ہے۔ میں نے ہی اسے یہ سمجھایا کہ اس کے بعض کالم اپنی وقتی موضوعیت کے باوجود اپنی ایک زندگی رکھتے ہیں اور انہیں ضائع نہیں ہونا چاہیے اگر انہیں منتخب صورت میں کتابی شکل دے دی جائے تو وہ کئی پڑھنے والوں کو مسرت دیتے رہیں گے۔ عطا کو میری بات سے خوشی ہوئی اور اس نے کہا کہ یہی بات اس کے اپنے دل میں تھی۔

مگر سر! میرے کالموں کا انتخاب آپ کو کرنا ہوگا اور آپ ہی اس کا دیباچہ یا تعارف لکھیں گے۔“ اس نے مجھے نوٹس دیا۔

عطا مجھے ایک بزرگ سینئر ادیب کا رتبہ دیتے ہوئے ہمیشہ سر سے خطاب کرنے پر اصرار کرتا ہے میں اس کو نہیں ٹوکتا۔ اس کے سر سے میں اپنی نظروں میں کافی معزز اور پرمنزلت ہو جاتا ہوں۔ عطا طبعاً جلد باز اور بے صبرا ہے اور آج کے کام کو کل پر ٹالنے پر (جو میرا سنہری اصول حیات ہے) یقین نہیں رکھتا۔ اگلے دن ہی مجھے اس کے پچھلے تین سالوں میں لکھے ہوئے کوئی ڈیڑھ سو، دو سو فکاہیوں کے تراشے سونپ دیے گئے اس ہدایت کے ساتھ کہ دو تین روز میں ان سے چالیس پچاس بہترین فکاہیوں کو چن دوں جو فی الواقع کھلتے ہوئے چمکتے دمکتے ہوں اور جن سے ایک معقول ضخامت کی کتاب بن سکے۔

میں ایک نہایت سست الوجود شخص ہوں اور ان دنوں کسی قسم کی چیز لکھنے سے میری جان جاتی ہے مگر میرے سر پر ڈیما کلیز کی تلوار لٹک رہی تھی اور میں نے یہ کام مقررہ وقت پر کر لیا اور سچ مچ یہ کوئی کام نہ تھا بلکہ ایک مسرت بخش مشغلہ۔ وہ تراشے جو میری نظر میں وقتیت سے آگے ادبی حیثیت رکھتے تھے ان کے حاشیے میں میں نے تین کراس لگا دیے، دوسروں میں اپنی پرکھ کے مطابق دو اور ایک کراس۔ کئی فکاہیے میں نے کراس دیے بغیر چھوڑ دیے۔ یہ نہیں کہ ان میں خوبی نہ تھی بلکہ محض اس لئے کہ میں نے کتاب کی گنجائش کے مدنظر چالیس کے لگ بھگ بہترین فکاہیے چننے تھے۔ میں نے یہ سب تراشے کراس سے مزین اور وہ جن پر کراس نہیں لگے تھے عطا کے حوالے کئے جس نے وقت ضائع کئے بغیر اسی شام انہیں اپنے ایک مرید کاتب کے حوالے کر دیا (یہ کاتب میں اسے ملنا چاہوں گا کتابت کی اجرت کتاب چھپ جانے اور فروخت ہونے پر لیتا ہے)۔ میں بھول گیا کہ میں نے کتاب کو ایک مبسوط سیرحاصل دیباچہ یا پیش لفظ بھی مہیا کرنا ہے اور ابھی اس کے متعلق فکر کرنے کی ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ کتابت دو تین دن میں تو ہونے سے رہی۔ عطا مجھے مستقلاً ورغلاتا رہا کہ کتابت کے مکمل ہونے کا انتظار کئے بغیر میں دیباچہ لکھ ڈالوں۔ اس کا خیال تھا کہ کتابت کے مرحلے کے دوران ہی میرے چل بسنے کے امکانات روشن ہیں اور اس کی کتاب انتخاب کرنے والے کے دیباچے سے کوری رہ جائے گی۔

کتابت ہو چکی (اس میں تین چار مہینے لگ گئے کیونکہ کتاب کی اشاعت پر اجرت لینے والا کاتب اس دوران میں ناساز ہو گیا تھا) اور ایک اچھی صبح مجھے مطلع کیا گیا کہ کتاب چھپنے کے لئے تیار ہے اور اب دیر میرے دیباچے کی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ دیباچہ کتاب کے لئے کیوں ضروری ہے اور کتابیں دیباچوں کے بغیر کیوں نہیں چھپ سکتیں۔ میں نے دبے لہجے میں مصنف کو اپنے نظریے سے آگاہ کیا۔ اس کا نظریہ مختلف تھا۔ دیباچہ مجھے لکھنا ہوگا۔ قول سے پھرنا مردوں کا شیوہ نہیں۔ میرے پاس اب کوئی عذر نہ تھا اور دیباچہ نگاری کی ابجد سے ناواقف ہونے کے باوجود میں قدرے اوٹ پٹانگ عرض حال لکھنے بیٹھ گیا جسے اب تم پڑھ رہے ہو ( یعنی اگر تم واقعی اسے پڑھ رہے ہو)

ایک انتخاب لازمی طور پر نامکمل اور ذاتی ہوتا ہے اور اگر تمہیں اس میں اپنی پسند کا کوئی فکاہیہ نہ نظر آئے تو اس میں قصور نہ مصنف کا ہے، نہ انتخاب کرنے والے کا۔ میں نے اس انتخاب کو گوناگوں اور رنگا رنگ بنانے کی ایماندارانہ کوشش کی ہے تا کہ یہ مختلف مذاق کے پڑھنے والوں کو دلنشیں ہو سکے۔ وہ جن کا مزاج سیاسی نہیں ہے اور جو گزشتہ ملکی سیاست اور اس کے پیشواؤں سے پوری طرح بیزار ہو چکے ہیں۔ سوشل اور فکری فکاہیوں میں اپنی مسرت ڈھونڈ سکتے ہیں۔ انتخاب اچھا ہے یا برا، یہ میں کہ سکتا ہوں کہ یہ ایک چمکدار بستر میں پڑھنے کی کتاب ہے جو بہت سوں کو خوشی دے گی۔

میں تمہیں اس کتاب کے بارے میں اور کیا بتا سکتا ہوں۔ یہ عرض حال یا دیباچہ میں ڈرتا ہوں کافی طوالت پکڑ گیا ہے اور ہے بھی کچھ الول جلول۔ مجھے اس خیال میں عافیت نظر آتی ہے کہ بیشتر سمجھدار پڑھنے والے عرض حال یا دیباچہ وغیرہ کے پڑھنے پر اصل کتاب کے پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں (اگرچہ میں ان لوگوں کو بھی کافی تعداد میں جانتا ہوں جن میں ایک میں بھی ہوں جو کتاب کے گرد پوش کی تعریفی عبارت پر اکتفا کرتے ہیں اور اس کے اندر جھانک کر نہیں دیکھتے) میں امید کرتا ہوں کہ کوئی اس عرض حال کو نہیں پڑھے گا اور ہوشمند قاری فوراً اس فرحت اور مسرت کی طرف پلٹیں گے جو آنے والے صفحات میں ان کی منتظر ہے۔

Facebook Comments HS