وزیراعظم کا کام جنازے پڑھنا نہیں

پنجاب اور سندھ کی درمیانی حدود میں کچے کے ڈاکوؤں نے وختہ ڈالا ہوا ہے۔ یہ ڈاکو عام شہریوں کو کسی نہ کسی طریقے سے اغوا کر لیتے ہیں تو کبھی پولیس کے جوانوں کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ پولیس کے جوانوں نے عام شہریوں کی کیا حفاظت کرنی یہ تو خود ڈاکوؤں کے شر سے محفوظ نہیں۔ ڈاکوؤں کے پاس راکٹ لانچر ہیں اور پولیس کے دستوں کے پاس چلانے کے لیے وافر اسلحہ تک نہیں ہوتا۔
منشیات کا کاروبار کرنے والوں نے الگ زندگی اجیرن کی ہوئی ہے ہر گلی محلے میں منشیات ٹافیوں کی طرح بکتی ہے۔ دس بارہ سال کے بچے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں رہے۔ منشیات فروش انتہائی متحرک اور با اثر ہیں۔ اور قانون کے رکھوالوں میں اتنی جرات نہیں کہ ان پہ ہاتھ نہیں ڈال سکیں۔
کراچی کے حالات دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ادھر کئی دہائیوں سے لٹیروں کا راج ہے۔ جو دن دیہاڑے پستول دکھا کر سب لوٹ کے لے جاتے ہیں۔ مزاحمت کرنے پر جان بھی جاتی ہے اور مال بھی۔ مائیں روتی پیٹتی رہ جاتی ہیں باپ جوان لاشے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ کوئی پرسان حال نہیں، اور وارداتیں ہیں کہ بڑھتی جاتی ہیں۔
سب سے زیادہ افسوس ناک صورتحال بلوچستان کی ہے۔ وہاں جو کچھ ہو رہا اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
آئے دن دہشتگرد حملے ہوتے ہیں۔ مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر باقاعدہ شناخت کر کے مارا جاتا ہے، تو کبھی فوجی کیمپوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ فورسز کی طرف سے اسے علیحدگی پسند تحریک کی کارروائیاں کہا جاتا ہے تو کبھی انھیں اس میں بیرونی قوتوں کی سازش نظر آتی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ لوگ اور فوجی جوان شہید ہوچکے۔ دہائیاں گزر چکیں لیکن ان دہشت گردوں پہ قابو نہیں پایا جا سکا۔
شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب ادھر سے خیر کی خبر آئی ہو۔ وہاں کے لوگ غائب ہو جانا بھی معمول کی بات ہے جن کا پھر کبھی کا سراغ نہیں ملتا۔ دہشت گرد حملے یہاں روٹین کی ہے۔ اگر حملے بڑھ جائیں تو وزیر اعظم اور اعلٰی عہدیداران دکھ کا اظہار کرنے کے لیے ٹی وی پہ آ کر مذمتی بیان دے دیتے ہیں۔ زیادہ نقصان ہو جائے تو جنازے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ نمبرنگ کی ضرورت ہو تو پھر وزیراعظم صاحب شہدا کی میت کو کاندھا دینے پہنچ جاتے ہیں۔
انھیں لگتا ہے جنازے پڑھنے اور قبر پر مٹی ڈالنے سے ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی ہے۔ نہیں صاحب ایسا نہیں ہے۔ وزیراعظم کا کام جنازے پڑھنا نہیں قوم کے مسائل حل کرنا ہے۔ اور مسائل حل کرنے سے ختم ہونے جنازے پڑھنے سے نہیں۔ وزیراعظم کی ذمہ داری ملک کو بہتر طریقے سے چلانا ہے۔ آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرض لے کر قوم کو مبارک دینا یا دہشت گرد حملوں کی مذمت کرنا نہیں۔ وزیراعظم صاحب مرجانے والوں کو سلامی اور بچ جانے والوں کو پرسہ نہیں چاہیے۔ اس قوم کو تحفظ چاہیے، امن چاہیے، روزگار چاہیے۔ لیکن جس طرح سب ذمہ دار عہدوں کے افسران بشمول وزیر اعظم شہدا کے نماز جنازے پڑھ کر ثواب دارین حاصل کرنے جاتے اس سے لگتا ہے کہ انھیں صرف اسی کام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
”پاکستان ایٹمی قوت ہے دشمن اس کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا“ جب کسی انتہائی ذمہ دار عہدیدار کا یہ بیان آتا ہے تو ہنسی نکل جاتی ہے۔ کہ جو سیکورٹی ادارے ملک کے اندر چند کلو میٹر کے علاقے سے ڈاکوؤں کا صفایا نہ کر سکیں وہاں ایٹمی قوت ہونے کی بھڑک خاصی مضحکہ خیز لگتی ہے۔ اسے دشمن ملک کی شرافت کہیے جو وہ بھرپور حملہ نہیں کرتا ورنہ پھر اس کے خلاف بھی حاکم وقت ٹی وی پہ آ کر گہرے غم و غصے اور دکھ کا اظہار کر کے سمجھے گا کہ اس نے اپنا فرض پورا کر لیا۔ اب عوام جانے اور اس کا نصیب۔


یہ ایک غلط ھیڈنگ ہے جو اسلام کے بھی منافی
وزیراعظم کا کام جنازے پڑھنا نہیں
ہاں اس کو آپ یوں لکھ سکتی تھیں کہ "وزیراعظم کا کام صرف جنازے پڑھنا نہیں”
اسلام کے ابتدائی ادوار کی متعدد مثالیں اس سلسلے میں موجود ہیں ہرجا کہ یہ لوگ اس قابل نہیں کہ ان کے کسی فعل کے لئے مثال دی جائے