بندے کھول دو
خطے کی تاریخ میں، کھول دو ، کی اصطلاح، بڑی معروف رہی ہے۔ منٹو کے افسانے "کھول دو” میں سماج کی ستم گزیدہ سکینہ اس اصطلاح سے دردناک حد تک شناسا ہو گئی تھی۔ ایسے ہی کچھ عقیدت مند خواتین اپنے روحانی مرشدوں کی زبان سے مذکورہ اصطلاح سننے کی خوگر ہیں۔ لیکن دل لبھانے اور مرادیں بر آنے کے خوش کُن لمحات، کھانا کھول دو ، کے تین بول ہوتے ہیں۔ یہ تین لفظ نہیں بلکہ طبلِ جنگ ہے جب کسی ضیافت میں گھنٹوں سے منتظر تہی شکم مرد و زن کو ، کھانا کھول دو ، کی آواز سنائی دیتی ہے تو سارے کے سارے مقہور اشیائے خورد و نوش پر دیوانہ وار ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کھانا نہیں بلکہ بندے کھُل گئے ہیں اور بے مہار و دیوانہ وار کھانے پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ پلیٹوں، پراتوں کی کھڑکھڑاہٹ، چمچوں کی چھنچھناہٹ اور شرکاء کی چپ چباہٹ پر جنگی ہتھیاروں کی آوازوں کا گماں ہوتا ہے۔ بہتر ہو گا کہ اب کھانا کھولتے وقت "کھانا کھول دو” کی بجائے، بندے کھول دو ، اور برگر فیملیز میں "اٹیک” کی صدا لگائی جائے۔ شادی و مرگ کی رسومات ہوں یا سیاسی و مذہبی محافل، معاشرتی تماشے ہوں یا تعلیمی تقاریب، ولیمہ ہو یا وضیمہ، عقیقہ ہو یا وکیرا، نقیعہ ہو یا مادبہ ہر ایک میں ہمارا رویہ یکساں ہی ہوتا ہے اور ہر تقریب کھابہ گیری کے بغیر نامکمل بلکہ ناقابل قبول ہوتی ہیں۔ ولیمہ کسی دنگل یا کبڈی سے کم نہیں ہوتا جس میں شریک اکثر مرد و زن نہار منہ تشریف لاتے ہیں۔ تمام شرکاء بوٹیوں پر جھپٹنے، نوچنے اور پلٹ کر جھپٹنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ لگتا ہے جیسے ہمہ خور مخلوق کا جنگل ہو۔
چند لمحے پہلے اخلاص و محبت کے ڈھونگ رچاتے لوگ روٹی کھلتے ہی سب رشتے داریاں، رواداریاں، شائستگیاں، تعلق اور حفظِ مراتب ایک دم بھول جاتے ہیں۔ اک حشر بپا ہوجاتا ہے جہاں بھائی بھائی کو ، بیٹا باپ کو اور دوست، دوست کو پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے۔ لگتا ہے حق و باطل کا معرکہ ہے جس میں بسیار خور مجاہدین کے خوف سے رَن بھی کانپ اٹھتا ہے۔ نفسا نفسی کے عالم میں کپڑے مُنہ سر بازو سب شورے میں لت پت ہو کر رنگین ہو جاتے ہیں۔ کھائے جانے والے کھانے سے زیادہ مقدار جام شہادت نوش کر جاتی ہے۔ لوگ بے دریغ چمچوں پراتوں اور پلیٹوں کا استعمال کرتے ہیں اور ایک لمحے کے لئے اپنا اخلاقی وجود اور عقلی شعور کھو بیٹھتے ہیں۔ شائستہ، نحیف اور شریف احباب اکثر بھوکے رہ جاتے ہیں جبکہ حیا کو طاق پر رکھے بسیار خور دوسروں کے ہاتھوں سے بریانی و چکن ہتھیا لے جاتے ہیں۔ مہذب دنیا یہ سب دیکھے تو ، غیرتِ بین الاقوامی، سے زمیں میں گڑ جائے۔ اس میدانِ کارزار میں فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد خواتین شرکاء اپنے پَرسوں اور شاپروں میں مال غنیمت سمیٹنا نہیں بھولتیں۔ ایسی تقریبات کا ضائع شدہ کھانا شمار کریں تو کئی غریب گھرانوں کے پیٹ بھر سکتے ہیں۔ مہذب دنیا میں کھانا ضائع کرنے پہ باقاعدہ قانونی گرفت ہوتی ہے۔ ان تقریبات میں ہنر مندی اور مہارت کے حیرت انگیز کمالات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ شاعر نے اس ولیمانہ دھینگا مشتی کا نقشہ یوں کھینچا۔
وہ جو موٹے مرغ کی ٹانگ تھی کسی اور پیٹ میں جا گری
کوئی شخص تجھ سے بھی تیز تھا اُسے لے اُڑا اُسے بھول جا
گویا ہم زندہ رہنے کے لیے نہیں کھاتے بلکہ کھانے کے لیے زندہ ہیں، بقول شاعر،
کچھ کھا کر پینا ہے، کچھ پی کر کھانا ہے، جیون کا مطلب تو پینا اور کھانا ہے
ٹیبل سے ہر ڈش ہی چرانی ہے، زندگی اور کچھ بھی نہیں، قورمہ اور بریانی ہے
ایسی تقریبات میں دیر سے آنا اعزاز اور وقت کی پابندی معیوب ہوتی ہے۔ کھانے کے اختتام پر کھانے پہ خوب تبصرے داغے جاتے ہیں۔ کہیں باورچی کی شامت آتی ہے تو کہیں اہلِ خانہ کی کنجوسی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ولیمے میں صورتاً ہر ڈش ہوش ربا ہوتی ہے پر مقدار کی زیادتی سے سیرتاً پیٹ میں جا کر مختلف مسائل اور پیچیدگیوں کا موجب بن سکتی ہے۔ جن کو سلجھانے کے لئے فلیجل، رائزک، انٹاکس اور کارمینا جیسے نسخوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بہت سے لوگ حکومت کی طرف سے ایک سے زیادہ کھانوں پہ پابندی کو غیر اخلاقی و غیر شرعی سمجھتے ہیں۔ ہر تقریب میں بنائی گئیں ویڈیوز اور سلفیوں سے فیس بک اٹ جاتی ہے جبکہ با پردہ مستورات کی بے پردہ موویز بھی تیار ہوتی ہیں اور کیمرہ مین کو دلہا دلہن کو حُجلہ عروسی تک چھوڑ کر بادلِ نخواستہ واپس آنا پڑتا ہے۔ پورا سال حالات کی خرابی اور مہنگائی کا رونا رونے والی قوم کی مرگ و شادی کی تقریبات دیکھ کر لگتا ہے جیسے ہر امیر غریب کروڑ پتی ہو۔ مگر بحیثیت ِمجموعی کھانے کی چیزٰیں دیکھ کر آپے سے باہر ہونا ثابت کرتا ہے کہ ہماری روحیں جنم جنم سے خود ساختہ محرومیوں کا شکار ہیں۔
اگر امیر خسرو ہوتے تو یہی استفسار کرتے، بسیار خوراں دیدہ ام، لیکن تُو چیزِ دیگری


