زندگی بدلنے والی تین فلمیں – مکمل کالم
رات کو رونگٹے کھڑے کردینے والی ایک فلم دیکھی، نام تھا Goatlife۔ ملیالم زبان میں بنی یہ فلم ایک ایسے شخص کی سچی کہانی ہے جو مدراس کے چھوٹے سے گاؤں میں اپنی بیوی اور ماں کے ساتھ رہتا ہے، بے حد غریب ہے مگر خوش ہے، اُس کے گاؤں میں جھرنے ہیں، پھول ہیں، پہاڑ ہیں، ہرے بھرے میدان ہیں۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اِن میدانوں میں گھومتے ہیں، بارش میں بھیگتے ہیں، خوشبوؤں سے کھیلتے ہیں اور خوشگوار مستقبل کے منصوبے بناتے ہیں۔
وہ چاہتا ہے کہ اُس کا پریوار خوشحال زندگی گزارے اور اُس کا آنے والا بچہ غربت میں آنکھ نہ کھولے۔ اِن حالات میں اسے پتا چلتا ہے کہ گاؤں میں کوئی شخص لوگوں کو مشرق و سطٰی کے ممالک میں بھیجنے کا کام کرتا ہے، یہ خبریں بھی سننے کو ملتی ہیں کہ جو لوگ دو چار سال باہر کام کر آتے ہیں اُن کی کایا کلپ ہوجاتی ہے اور پھر انہیں گاؤں میں محنت مزدوری کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ اپنا گھربار گروی رکھ کر جمع پونجی اُس ایجنٹ کے حوالے کرتا ہے جو اسے ایسے ہی کسی خلیجی ملک بھیج دیتا ہے۔
اپنے ایک دوست کے ساتھ جب وہ ہوائی اڈے پر اترتا ہے تو اسے ایک ’کفیل‘ وہاں سے دور دراز کسی صحرا میں لے جاتا ہے جہاں اگلے کئی برس تک اسے غلاموں سے بھی بد تر زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ یہ زندگی کیسی ہوتی ہے، اُس کے ساتھ وہاں کیا سلوک ہوتا ہے، وہ کن حالات میں وہاں رہتا ہے اور کیسے وہاں سے فرار ہوتا ہے، یہ سب جاننے کے لیے آپ کو فلم دیکھنی پڑے گی۔ یہ فلم اُن ہزاروں افراد کی کہانی پر مبنی ہے جنہیں ایسے حالات سے گزرنا پڑا، اُن میں سے کچھ زندہ سلامت واپس آ گئے اور باقیوں کا پتا نہ چل سکا کہ زندہ ہیں یا مر گئے۔ اگر یہ فلم سچے واقعات کی بنیاد پر نہ بنی ہوتی تو میں کبھی یقین نہ کرتا کہ کوئی شخص لق و دق صحرا کو پیدل عبور کر کے زندہ سلامت واپس پہنچ سکتا ہے۔
اسی نوعیت کی ایک اور فلم ہے، Society of the Snow۔ یہ فلم 1972 میں ہونے والے ایک طیارے حادثے پر بنی ہے۔ یوراگوئے کی رگبی ٹیم نے چلی میں کسی مقابلے میں شرکت کے لیے ایک جہاز چارٹر کروایا، یہ جہاز راستے میں آندس کی پہاڑیوں میں واقع ایک گلیشیئر سے ٹکرا گیا۔ جہاز میں سوار 45 مسافروں میں سے 29 ابتدائی حادثے میں بچ گئے، مگر جو بچ گئے انہیں خوفناک مصائب کا سامنا کرنا پڑا، شدید سردی، بھوک اور بیماری کی وجہ سے مزید کچھ لوگ مر گئے اور باقیوں نے اِن مرنے والوں کا گوشت کھا کر گزارا کیا۔
کئی ہفتوں تک یہ لوگ اُس برفانی علاقے میں پھنسے رہے، بالآخر اُن میں سے کچھ لوگوں نے پہاڑ عبور کرنے کا فیصلہ کیا، یہ پہاڑ انہوں نے کیسے عبور کیا، کتنے دن لگے، راستے میں کیا کیا ہوا، یہ سب جاننے کے لیے آپ کو فلم دیکھنی پڑے گی۔ اگر کوئی مجھے کہتا کہ یہ فلم دیکھو کس طرح تین نڈھال انسانوں نے بے سر و سامانی کے عالم پیدل چل کر برف پوش پہاڑوں کو عبور کیا اور زندہ بچ گئے، تو میرا جواب ہوتا کہ میں ایسی مبالغہ آمیز فلمیں نہیں دیکھتا، لیکن بات پھر وہی کہ یہ فلم بھی سچے واقعات پر مبنی ہے۔
ایسی ہی سچی کہانی فلم مانجی کی ہے۔ 1960 کی دہائی میں دشرتھ مانجی نامی ایک غریب ان پڑھ آدمی بہار کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ رہتا تھا۔ اِس گاؤں میں جب کوئی شخص بیمار ہوجاتا تو اسے طبی امداد کے لیے قریبی شہر وزیر گنج لے جانا پڑتا مگر اِس کے لیے گاؤں والوں کو پہاڑ کا چکر کاٹنا پڑتا جس کی وجہ سے کافی وقت ضائع ہوتا اور اکثر اوقات مریض کی جان چلی جاتی۔ مانجی کی بیوی حاملہ تھی، اسے بھی پہاڑ کو عبور کرنے کے بعد اسپتال پہنچانا تھا مگر اِس کوشش میں اُس کی جان چلی گئی اور وہ اپنی بچی کو جنم دیتے ہوئے مر گئی۔
اِس حادثے نے مانجی کی زندگی بدل دی، اُس نے فیصلہ کیا کہ جس پہاڑ کی وجہ سے اُس کی بیوی مر گئی وہ اُس پہاڑ کو ہی کاٹ ڈالے گا اور درمیان سے راستہ نکالے گا۔ جب اُس نے پہاڑ پر پہلا ہتھوڑا مارا تو گاؤں والوں نے اسے پاگل کہا لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل 22 برس تک تن تنہا پہاڑ پر ہتھوڑے برسا کر دشرتھ مانجی نے پہاڑ کے بیچ سے ساڑھے تین سو فٹ کا راستہ نکال لیا۔ اگر کوئی مجھے کہتا کہ ایک انسان نے محض ہتھوڑے اور چھینی کے ساتھ پہاڑ کو توڑ کر راستہ نکال لیا تو میں اُس شخص کا مذاق اڑاتا کہ یہ ناممکن بات ہے۔
میرا ایک دوست اکثر مشورہ دیتا ہے کہ میں فلموں پر نہ لکھا کروں بلکہ کتابوں کے متعلق لکھا کروں، میں جواب میں اسے کہتا ہوں کہ بعض فلمیں کتابوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں جن کی وجہ سے آپ وہ باتیں جان لیتے ہیں جو درجنوں کتابیں پڑھنے سے بھی نہیں جان پاتے۔ یہ تینوں فلمیں بھی ایسی ہیں ہیں۔ سیلف ہیلپ کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا لیکن جس طرح یہ بات اِن فلموں نے سمجھائی ہے وہ کتابوں کے ذریعے ممکن نہیں۔
لیکن یہ اِن فلموں کا ایک پہلو ہے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ پُر مسرت زندگی پانے کا کوئی ایک لگا بندھا راستہ نہیں جس پر عمل کر کے انسان ہمیشہ کے لیے خوش و خرم رہ سکے۔ Goatlife کا کردار اپنی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر دیار غیر میں جاتا ہے مگر جب اُس کی زندگی صحرا میں بد ترین حالات میں گزرتی ہے تو وہ سوچتا ہے کہ اگر اسے موقع ملا تو وہ ہمیشہ کے لیے اپنے گاؤں واپس چلا جائے گا اور باقی زندگی ہنسی خوشی وہی کام کرنے میں گزار دے گا جس سے چھٹکارا پا کر وہ یہاں آیا تھا۔
Society of the Snow نے ایک دوسری حقیقت آشکار کی، رگبی کے وہ کھلاڑی جو ایک دوسرے کے دوست تھے، جب اُنہیں برف کے صحرا میں زندہ رہنے کے لیے خوراک کی ضرورت پڑی تو انہوں نے مردہ دوستوں کا کچا گوشت کھا کر اپنی بھوک مٹائی، یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، شروع شروع میں کچھ لوگوں نے اِس کی مخالفت کی مگر اِس کے سوا اُن کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ اِس سے انسانی جبلت کا پتا چلتا ہے کہ اپنی بقا کے لیے آج کے جدید دور کا انسان بھی وہ کرتا ہے جو لاکھوں سال پہلے غاروں میں بسنے والا کرتا تھا۔
اور دشرتھ مانجی نے ہمیں بتایا کہ محبت میں کتنی طاقت ہوتی ہے، اگر مانجی کو کوئی شخص لاکھوں روپے دے کر کہتا کہ اگلے 22 برس تک تم نے پتھر توڑنے ہیں تو وہ کبھی یہ کام نہ کرتا، مگر اپنی پتنی کی محبت نے اُس سے وہ کام کروایا جو کسی معجزے کے کم نہیں تھا۔ اِس لیے جو لوگ محبت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ موٹیویٹڈ ہوتے ہیں، اُن لوگوں سے آپ کچھ بھی کروا سکتے ہیں، اور ضروری نہیں کہ یہ محبت لڑکے اور لڑکی کے درمیان ہو، یہ محبت من پسند لیڈر سے بھی ہو سکتی ہے اور ملک سے بھی۔
یہی وجہ ہے کہ لوگ ملک کی خاطر جان دے دیتے ہیں اور لیڈر کی خاطر بھی وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں جو شاید وہ پیسوں کے عوض کبھی نہ کریں اور اگر کریں تو اُس جذبے کے ساتھ نہ کریں۔ اِس طرح کی محبت جگانے کے مختلف طریقے ہیں، سب سے بہترین طریقہ محبوب کو سبز باغ دکھانا ہے اور اسے یقین دلانا ہے کہ اُس کی مصیبتوں کا ذمہ دار رقیب ہے، ایک مرتبہ جب اسے یہ یقین آ جاتا ہے تو پھر وہ آپ کی محبت میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ یہی ہو رہا ہے۔



Bollywood is more a hype
am really impressed with their regional ie
South Indian film Industry.
Goatlife is product of same
Saudi Arabia made hue n cry on same film which did nothing but publicise the film
There is another south Indian film a local fisherman left his job due poverty and join an oil drilling company in Somalian desert
After that he was kidnapped by bokoharaam and he struggle for his life and one day flee
A more terrible days for him while he remained in sea and desert
بہترین