کالونیل تصور علم
کالونیل تصور علم کی سمجھ بوجھ اور تفہیم تیسری دنیا سمیت پاکستان جیسے پوسٹ کالونیل ممالک کے عوام کے لیے انتہائی ضروری ہے جہاں رسمی طور پر کالونائزیشن کے خاتمے کے بعد بھی نیو کالونیل ازم پوری طرح جاری و ساری ہے۔
پاکستان کا سیاسی، معاشی، عدالتی، عسکری اور تعلیمی نظام ہندوستان پر برطانوی قبضے کے دوران کی جانے والی کالونیل پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے۔ اگست 1947 میں اسی کالونیل نظام کے تسلسل کو تقسیم ہند کا نام دے کر برقرار رکھا گیا ہے
ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے ماہر علم علامات و ادبی نظریات، سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات ڈیوک یونیورسٹی کیرولینا کے پروفیسر والٹر ڈی مگنولو کہتے ہیں کہ کالونیل ازم اور جدیدیت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
مگنولو جدیدیت کو ایک ایسا علمی ڈھانچہ (Epistemological Frame) سمجھتے ہیں جو کہ یورپین کالونیل پروجیکٹ کا لازمی حصہ ہے۔
اسی طرح لاطینی امریکہ کے ملک پیرو سے تعلق رکھنے والے سوشیالوجی کے پروفیسر Dr۔ Anibal Quijano نے Coloniality of Knowledge کی اصطلاح وضع کی۔ کا لونیلیٹی آف نالج سے مراد یہ ہے کہ مغربی کالونیل طاقتوں کی جانب سے اپنے سامراجی، استعماری، تجارتی اور معاشی مفادات کی خاطر علم کو کنٹرول کرنا جسے ہم نالج مینجمنٹ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی جاننے اور علم حاصل کرنے کے تمام ذرائع پر کالونیل طاقتوں کا علمی کنٹرول۔ علمی طور پر نو آباد کار (Colonizer) کے نظریات کو تسلیم کرنا جسے موجودہ دور میں یورو سینٹر ازم (Eurocentrism) کہا جاتا ہے۔

یعنی یورپ اور امریکہ کی جانب سے پیش کردہ نظریات، افکار اور تحقیقات کو ہی درست اور بر تر مانا جائے۔ یورپ اور امریکہ کی طرف سے متعین کردہ معیار اور پیمائش کے ذریعے ہی اپنے ہر کام کی توثیق کی جائے۔ کالونیلٹی آف نالج کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور ان کی سوچ کو تسخیر کیا جاتا ہے اور انہیں بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ علمی طور پر خود سے کوئی با معنی شراکت دینے کے قابل نہیں اور مکمل نا اہل ہیں اور یہ اس قدر اور تسلسل کے ساتھ بار بار کیا جاتا ہے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے لوگ سوچنے، ایجاد کرنے اختراع کرنے اور نظریہ دینے کی صلاحیتوں سے خود کو یکسر عاری محسوس کرتے ہیں اور ان کے سامنے واحد معیار اور Key of Measurements صرف یورو سینٹر ازم ہی رہ جاتا ہے۔
کالونیلیٹی کے ذریعے ایک ایسا تعلیمی، علمی اور فکری نظام ترتیب و تشکیل دیا جاتا ہے جو نو آباد کار کی قبضہ گیریت، لوٹ کھسوٹ اور استحصال کو ایک نعمت بنا کر پیش کرتی ہے جیسے ہندوستان میں ریلوے لائن، یونیورسٹیوں کے قیام، فورٹ ولیم کالج یا نہری نظام کو برطانوی قبضہ گیروں کے معجزات و کرامات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ در حقیقت ان تمام منصوبوں کے اپنے نو آبادیاتی معاشی مقاصد تھے لیکن کا لونیلیٹی آف نالج کے ذریعے ان منصوبوں کو عوامی فلاحی منصوبے بنا کر پیش کیا جاتا رہا اور آج بھی ہندوستان و پاکستان کی عوام کی ایک بڑی تعداد اسی سوچ اور نو آبادیاتی نقطہ نگاہ کو درست تسلیم کرتی ہے (بندر گاہوں تک خام مال کی ترسیل کے لیے ریلوے لائن کی تنصیب مقامی وفادار جا گیر دار اشرافیہ کو نوازنے کے لیے نہری نظام، قابل کاشت زمینوں کی تقسیم کی تفصیلات بیان کرنے کے لیے الگ سے ایک کالم درکار ہو گا) ۔
سٹی یونیورسٹی نیو یارک کی ماہر سماجی اور صنفی علمیات اور معروف کتاب Feminist Epistemologies کی مصنفہ پروفیسر لنڈا مارٹن الکوف کہتی ہیں کہ علم و طاقت کے رشتے پر مبنی سیاسی نظام دنیا بھر میں معاشی صنفی، سماجی اور تعلیمی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔
اسکول آف ایجوکیشن یونیورسٹی آف روچیسٹر امریکہ کے ریسرچ اسکالر مائیکل بیکر کہتے ہیں کہ کالونیل ازم طاقت اور علم کے منطقی ساخت Logical structure (معلومات کو منظم انداز سے بامقصد طور پر ترتیب دینا ) میں خود کو واضح کرتا ہے۔
یعنی کالونیل ازم اور اس سے وابستہ معاملات /مفادات میں علم کا یک رخی اور مخصوص استعمال کیا جاتا ہے
معروف افریقی ڈی کالونیل مفکر نگوگی واتھیانگو کا لونیلزم اور کا لونیلیٹی کو نفسیاتی تشدد سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تشدد (کالونیلٹی) میدان جنگ کے بعد تعلیمی نظام میں کلاس روم کے اندر ہوتا ہے۔ جہاں مقامی طلبہ کو اپنی دھرتی، اپنے خطے، اپنے سماج اپنی تہذیب کے وہ علوم جو وہاں کی انسانیت نے صدیوں پر محیط تجربات سے سیکھی ہوتی ہیں ان سے کاٹا جاتا ہے ان کو گھٹیا اور ذلیل قرار دیا جاتا ہے۔
ہندوستان میں کا لونیلٹی آف نالج کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے انگریز نو آبادکاروں کی جانب سے جہاں فورٹ ولیم کالج، انجمن پنجاب اور دیگر یونیورسٹیاں قائم کی گئیں وہیں انہوں نے ہندوستان میں ناول کا بھی رواج ڈالا۔ کیونکہ ناول میں یہ خوبی ہے کہ یہ مخصوص نقطۂ نظر کے فروغ کے لیے باآسانی استعمال کی جا سکتی ہے۔
بہار سے تعلق رکھنے والے معروف ادبی نقاد، شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چیئرمین و ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی (مرحوم) کے مطابق انگریز سرکار نے ناول کے فروغ کے لیے باقاعدہ ترغیب دی۔
ہندوستان میں کمیونل بنیادوں پر تقسیم بھی ایک کالونیل پروجیکٹ تھا جس میں ادیبوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا جسے کالونیل پروجیکٹ کے تحت اصلاحی ادب کا نام دیا گیا۔ گویا کمیونٹی کی سیاسی، معاشی، ثقافتی اور تعلیمی پسماندگی کی اصلاح کے لیے ”مخصوص شناخت کا احیاء“ ہی علاج ٹھہرا۔ برطانوی کالونیل انتظامیہ کے ملازم (پہلے اسکول ٹیچر بعد ازاں ڈپٹی کلکٹر) مولوی نذیر احمد نے اپنے ناولوں میں ہندوستان کی مشترکہ مقامی ثقافت اور مقامی رسوم و رواج سے کنارہ کشی کرنے، ان سے اپنا ناتا توڑنے اور بحیثیت مسلمان خود کو مقامی (ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں و دیگر) لوگوں سے الگ، برتر، مختلف، اعلیٰ اور جدا دکھانے کی کوشش کی۔ ( پاکستانی مسلم اکثریت، اقلیتی گروہوں کے حوالے سے آج بھی کم وبیش اسی طرح کی سوچ رکھتی ہے)۔
کمیونل بنیادوں پر اس تقسیم کا فائدہ قبضہ گیر کالونیل طاقتوں کے مفاد میں تھا۔ حالی، آزاد، مرزا رسوا اور سر سید جیسے لکھاری اور غالب و اقبال جیسے شاعر بھی کالونیل پراجیکٹ کے آلہ کار کے طور پر اس فکر کی ترویج میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ ہماری نصابی کتابوں میں محمڈن ایسوسی ایشن، محمڈن اینگلو، اوریئینٹل ڈیفینس ایسوسی ایشن کے اصلاحی اور ملی کارناموں کا تذکرہ تو ایک مخصوص ایجنڈا (کالونیل ورثہ کے تسلسل) کے ساتھ کیا جاتا ہے لیکن اس بات کو شعوری طور پر چھپایا جاتا ہے کہ ان اداروں کے بنانے کے پس پشت کالونیل مفادات کیا تھے؟ ان اداروں کے مالی، سیاسی اور انتظامی سرپرستی کن قوتوں کے ہاتھوں میں تھی؟
نیو کالونیل ازم کے تسلسل اور ان پالیسیوں کے اثرات آج بھی اس قدر طاقت ور ہیں کہ ہمارے پاکستانی ادب (تمام اصناف) ڈرامہ، فلم اور تھیٹر وغیرہ میں اقلیتوں کا کوئی کردار سرے سے نظر ہی نہیں آتا۔ کالونیل پروجیکٹ کے تحت ایک مخصوص واحد شناخت کا فروغ ایک ورثہ کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایسٹ انڈیا کمپنی بعد ازاں برطانوی راج کے خلاف آزادی کی جدوجہد کرنے والے اور اپنی جان دینے والے ہیموں کا لانی، روپلو کولہی، ادھم سنگھ، بھگت سنگھ، صبغت اللہ شاہ راشدی (پیر پگارا) ، نورا مینگل، گل بی بی بلوچ، رام دین پانڈے، سورج بالی، رائے احمد رضا خان کھرل اور سرتور فقیر وغیرہ پر سرکاری نصاب خاموش ہے۔ ان پر کوئی ناول نہیں لکھا گیا۔ ان کی کوئی یادگار نہیں بنائی گی، ان کا کوئی دن نہیں منایا گیا اور ان کے حوالے سے کوئی سرکاری تقریب منعقد نہیں کی گئی لیکن کالونیل دور کے تمام کردار، نام، علامتیں، عمارتیں، چوک چوراہے اسی طرح قائم و دائم رکھی گئی ہیں۔
کیا پاکستان میں برطانیہ کے خلاف آزادی کی تحریک میں لڑنے والوں میں سے کسی ایک کے نام کوئی یونیورسٹی بن سکتی؟ (جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم سر سید کے نام پر یونیورسٹی قائم کی گئی ہے)۔
کیا کسی شاہراہِ کا نام سورج بالی کے نام پر رکھا جاسکتا ہے؟ (جیسے سندھ پر قبضہ کرنے والے چارلس نیپیئر کے نام پر سڑک ہے).
کیا کسی سرکاری کالج کا نام بھگت سنگھ کالج رکھا جاسکتا ہے؟ (جیسے قبضہ گیر انگریز گورنر ایچی سن کے نام پر کالج ہے.)
کیا کسی سرکاری عمارت کا نام ہیموں کا لانی کے نام بر رکھا جا سکتا ہے؟ (جیسے 1857 میں کراچی میں باغی سپاہیوں کو توپ سے اڑانے کا حکم دینے والے کمشنر سندھ فیریئر کے نام عمارت ہے.)
یہ کالونیلٹی آف نالج کی ہی طاقت ہے کہ عوام ان معاملات کے متعلق لاعلم رہتے ہوئے اجنبیت کا رویہ رکھتی ہے۔
بقول فینن کالونیل ازم صرف کسی ملک پر قبضے یا تسلط کا نام نہیں۔ کالونیل ازم صرف قبضہ گیریت یا عوام کو محکوم بنانے کا نام نہیں بلکہ کالونیل ازم محکوم لوگوں کے ماضی کو تبدیل کرنے، تباہ کرنے اور بدصورت بنا کر پیش کرنے کا نام ہے۔ کالونیل ازم آپ سے آپ کی یادداشت کو چھینتا ہے۔ اپ کی زبان، اپ کی تاریخ اپ کی حساسیت اور سمجھ بوجھ تک کو اپ سے چھین لیتا ہے۔


