بلوچستان کا کیا ہو گا؟
چھبیس اگست 2024 کو بلوچستان میں ایک بڑا دلخراش واقع ہوا جس میں 23 مزدوروں کو موسیٰ خیل میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ دس مقامات پر دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں جس میں سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں ملکی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے اور لوگوں کی بسوں اور ٹرکوں کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے۔ یہ ملکی تاریخ کا بلوچستان میں سب سے بڑا دہشتگردی کا واقع تھا۔ اس دہشتگردی کی کسی صورت میں حمایت نہیں کی جا سکتی اور ہر طرف سے اسی طرح کے مذمتی بیانات آ رہے ہیں۔ 26 اگست 2006 کو بلوچستان کے سردار اکبر بگٹی کو شہید کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش وارثوں کے حوالے نہیں کی گئی تھی۔ اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچستان کی آزادی کی تحریک میں بہت زیادہ شدت آ چکی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے کہا تھا ایسی جگہ سے آپ کو گولی ہٹ کرے گی کہ آپ کو پتا بھی نہیں لگے گا۔ اور ایسے ہی ہوا اکبر بگٹی کو 80 سال کی عمر میں شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت پر ایک بلوچ سردار نے کہا تھا کہ زندہ سے زیادہ مرا ہوا اکبر بگٹی پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہو گا اور آج اس کی بات درست ثابت ہو رہی ہے۔ بی ایل او کے لوگوں نے اس 26 اگست کے دن کا انتخاب کیا اور بلوچستان کی 10 جگہوں پر کارروائی کی اور یہ حملے بہت ہی خطرناک تھے جن کو سیکورٹی فورس ناکام نہیں کر سکی اور بی ایل او اپنے تارگیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
مجھ سے ایک ٹی وی کے پروگرام میں پوچھا گیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں بلوچستان کا مسئلہ کیسے حل ہو سکتا میں نے جو جواب دیا میں وہ ہی جواب یہاں لکھ رہا ہوں۔ بلوچستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے جب بلوچستان کے فیصلے بلوچستان کے لوگ کریں، مگر افسوس کہ پچھلے 77 سالوں سے بلوچستان کے سارے فیصلے کوئی اور کرتا ہے۔ بلوچستان میں سرداروں کو خرید کر حکومت دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے یہ دیکھو بلوچستان میں بلوچ حکومت کر رہا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے آج بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی ہیں جنہوں نے وفاقی وزارت سے استعفا دے کر الیکشن لڑا اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور وزیر اعلیٰ بن گئے۔ اگر سرفراز بگٹی کو کوئی بلوچ قوم کا نمائدہ سمجھتا ہے تو میں نہیں مانوں گا۔ میرے دل میں ذاتی طور پر سرفراز بگٹی صاحب کے لیے بہت عزت ہے مگر مجھے وہ کسی طرح بلوچ قوم کی نمائندگی کرتے نظر نہیں آتے۔ بلوچستان میں اس طرح کی سیاسی انجنیئرنگ نے بلوچستان میں حقیقی سیاسی لیڈرشپ کو آگے آنے نہیں دیا۔ اگر بلوچستان میں حقیقی سیاسی نمائدہ پارٹی کو حکومت کرنے کا حق دیا جائے تو بلوچستان کے حالات میں کافی تبدیلی آ سکتی ہے۔
دوسرا بلوچستان کا اہم اشو بلوچستان کے قدرتی وسائل ہیں جن میں بلوچ کو کبھی بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا اور بلوچ کو ان ذخائر کا اسٹیک ہولڈر ہی نہیں سمجھا جاتا۔ اسلام آباد سارے فیصلے کرتا ہے اور بلوچ کو کچھ نہیں ملتا۔ لوکل لوگوں کی کوئی ترقی نہیں ہوتی، ایسے لوگوں کو کسی بھی جنگ میں بھرتی کیا جا سکتا ہے جہاں ایسی احساس محرومی ہو۔ جب بلوچ دیکھتا ہے کہ ہمارے علاقے کے ذخائر جا رہے ہیں اور ان کو بھی کچھ نہیں مل رہا تو ایسے لوگ مرنے مارنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اگر بلوچ کی احساس محرومی کو ختم کیا جائے اور بلوچستان کے ذخائر پر ان کو اسٹیک ہولڈر سمجھا جائے تو بھی بلوچستان کے حالات میں کچھ تبدیلی آ سکتی ہے۔
بلوچستان کا ایک اہم مسئلہ مسنگ پرسنز بھی ہے اور کچھ میڈیا رپورٹس اور ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے مطابق مسنگ پرسنز ہزاروں میں ہیں، مسنگ پرسنز کے لیے کمیٹیاں تک بنیں، کورٹس میں لوگ گئے مگر ہماری کورٹس بھی بے بس نظر آتی ہیں۔ اگر بلوچستان کے مسنگ پرسنز کو واپس لایا جائے تو بھی بلوچستان کی اس لڑائی میں کمی آ سکتی ہے۔
کچھ دن پہلے ہمارے پیارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک نئی ٹرم ڈجیٹل دہشتگردی کی دی ہے، میں سمجھتا ہوں اگر کوئی نفرت کی بات کرے یا مرنے مارنے کی بات کرے تو وہ ڈجیٹل دہشتگردی میں آنی چاہیے مگر آپ نے دیکھا ہو گا جب سے بلوچستان میں یہ دہشتگردی ہوئی ہے لوگوں نے بلوچ قوم کے خلاف بہت زیادہ نفرت والی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں، یہ بھی تو ایک دہشتگردی ہے جو لوگوں کے ذہن میں نفرت پیدا کر رہی ہے۔ اس نفرت کا عام بلوچ پر کیا اثر پڑے گا اس کا کسی نے نہیں سوچا۔ ویسے بلوچ صرف بلوچستان میں تو نہیں رہتے، ساؤتھ پنجاب بلوچ سے بھرا ہوا ہے اور سینٹرل پنجاب میں بھی بڑے بڑے بلوچ قوم کے پنڈ ہیں، سندھ میں لاکھوں بلوچ رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہر ایک اپنے آپ کو بچاتا ہے اور الزام کسی اور پر لگاتا ہے۔ ہمارے سینئر صحافی ابصار عالم کہتے ہیں بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ فیض حمید نے کیا ہوا ہے۔ یہ بات وہ تب کر رہے ہیں جب فیض حمید صاحب گرفتار ہو چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اس میں پنجابیوں کا کوئی قصور نہیں، جب اتنے بڑے صحافی ٹی وی پر ایسی بات کرتے ہیں، بلوچ ان کو جواب دیتے ہیں فیض حمید بھی تو پنجابی ہے، اس کا مطلب ہے ہمارے ساتھ ظلم پنجابی کر رہا ہے۔
بلوچستان میں پوری پنجابی قوم سے نفرت کی جا رہی ہے اور اسی طرح پنجاب میں بلوچ قوم سے نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس سے بھی بلوچستان میں حالات اور خراب ہوں گے، اگر ہر بلوچ سے نفرت کی گئی تو ہر بلوچ کو بی ایل او کے ساتھ ہمدردی پیدا ہو سکتی ہے ایسی صورتحال بی ایل او کے لیے آئیڈیل ہوگی۔
ہمارے قومی میڈیا میں بلوچستان پر بحث کی جاتی ہے مگر اس بحث میں کسی بلوچ کو شامل نہیں کیا جاتا اور سارے پنجاب کے لوگ بیٹھ کر بلوچستان پر بات کرتے ہیں جن کو بلوچستان کے حالات کے بارے میں بالکل کوئی خبر نہیں ہوتی۔ ایک ٹی وی پروگرام میں ایک پنجاب کے صحافی نے کہا کے بلوچستان کو توڑ کر زیادہ صوبے بنا لیں تو بلوچستان میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ میں اس وقت یہ سوچ رہا تھا کہ اب بلوچستان میں زیادہ صوبے بنانے کا بھی فیصلہ پنجاب کے لوگ کریں گے تو یہ میسیج بلوچستان میں کیسے لیا جائے گا۔
میں یہ بھی سمجھتا ہوں میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بلوچستان کے اشوز کو ٹائم دیا جائے تو بلوچستان کے لوگوں میں اعتماد آئے گا اور بلوچستان کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔


