آبادی کنٹرول نہیں کرتے
روزنامہ نوائے وقت کی مورخہ 29 اگست 2024 کی ایک تین کالمی سرخی کے مطابق، وفاقی وزیر برائے قانون و انسانی حقوق نذیر تارڑ صاحب کا یہ فرمانا ہے کہ "ہر چیز میں مغرب کی طرح ہونا چاہتے ہیں مگر آبادی کنٹرول نہیں کرتے۔“وزیر قانون شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی ثانیہ زہرا کے کیس میں پولیس کی طرف سے بریفینگ لے رہے تھے۔ اسی موقعہ پر جناب اعظم نذیر تارڑ صاحب نے یہ کمنٹ دیا کہ ” ہمیں اندازہ ہے ہمارے سماجی اور معاشرتی حالات کیا ہیں، ہم پاکستان میں رہتے ہیں ناروے میں نہیں، ہم باقی ہر چیز میں مغرب کی طرح ہونا چاہتے ہیں مگر آبادی پر کنٹرول نہیں کرنا چاہتے۔“ اس میں انہوں نے تین نکات ایک ہی فقرے میں بیان فرمائے ہیں :
· پاکستان کے سماجی اور معاشرتی حالات۔
· پاکستان اور ناروے میں حالات کا فرق۔
· ہم مغرب کی طرح ہونا چاہتے ہیں مگر آبادی پر کنٹرول نہیں کرنا چاہتے۔
جہاں تک سماجی اور معاشرتی حالات کا تعلق ہے یہ بات اب تسلیم شدہ ہے کہ ان کا انحصار معاشی حالات پر ہے۔ اس کا اندازہ آپ پاکستانی کی اپر کلاس سوسائٹی کے سماجی اور معاشرتی حالات سے لگا سکتے ہیں۔ معاشی خوشحالی کے ساتھ ان کا رہن سہن اور گھریلو باہمی تعلقات مغربی معاشرت سے ہم آہنگ ہیں۔ خواتین جب مغرب جاتی ہیں تو وہاں آزادی سے اس معاشرت سے لُطف اندوز ہوتی ہیں اور حضرات تو اِلا ماشاء اللہ پاکستانی گھٹن سے آزاد ہو کر ”زندگی کرتے“ ہیں۔
نو روز و نو بہار و مے و دلبرے خوش است
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
اور جونہی وطن عزیز کی فضاؤں میں سانس لیتے ہیں تو لٹمس پیپر کی طرح متقیانہ تبدیلی لا کر (یا آ کر ) ہاتھ میں تسبیح، ورد، آخرت کا خوف، اور عشق رسول سے بھرپور مغلوبیت کا اظہار شروع ہو جاتا ہے۔ جس کے ضمن میں مغرب کی بے راہ روی، مادر پدر آزاد معاشرتی ماحول، اور ان کے جہنم میں بھونے جانے والے جسم کے تذکرہ سے غریب پاکستانیوں کی دِلجوئی کی جاتی ہے۔ اس منافقت کا علاج صرف اور صرف سچ کے اظہار کی اجازت پر ہے۔ جس پر حکومت پاکستان (خواہ کوئی بھی ہو) پابندیاں لگانے میں مستعد رہتی ہے اور نتیجتاً انسان دوسرے طرزِ اظہار کا سہارا لیتے ہیں۔ لہذا پاکستانی معاشرت میں جو گھڑمس مچ چکا ہے اور خورشید ندیم کے مطابق:
”جس معاشرے پر یہ سب عذاب اترے ہوں، وہ نفسیاتی طور پر متوازن نہیں رہ سکتا۔ لوگوں کو معاشی اور سیاسی بحران تو دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی نظر اس تہذیبی اور سماجی بحرانوں کی طرف نہیں گئی جنہوں نے اس معاشرہ کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ جو بزعمِ خویش راہ دکھانے والے ہیں ان کے نفسیاتی امراض دوچند ہیں۔ اکثر نرگسیت کے انتہائی مریض۔ کسی کو اگر اس تجزیہ میں شک ہو تو وہ تجرباتی بنیادوں پر ان کی تعریف کر دیکھے یا تردید۔ پھر ان کی گل افشانی کا مظاہرہ دیکھے، چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ کوئی معاشرہ اگر اس سطح پر نفسیاتی مریض بن جائے تو کیا کیا جائے؟ دو ہی راستے ہیں۔ اصلاح کی کوشش یا پھر ہجرت؟ معاشرتی اصلاح کی کوشش آسان نہیں اور نہ ہی یہ بہت جلد نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ یہ بہت صبر آزما ہے۔ مزید یہ کہ یہاں اصلاح کے امکانات کم و بیش ختم ہو چکے ہیں۔ بند معاشروں میں اصلاحی کاوشوں کے لیے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔ اب ایک ہی راستہ باقی ہے ہجرت۔”
ان کا یہ تجزیہ درست تو ہے لیکن محض ہجرت کا ہی راستہ باقی تسلیم کر لینا بھی کوئی حل نہیں۔ اس معاشرے میں یہیں اسی سرزمین پر حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ اس صورتحال پر اپنا فیصلہ سماج کے ارتقائی نظام نے نافذ کرنا تو ہے اس کے ساتھ بے شک جتنے بھی گھناؤنے اور ناگزیر سانحے منسلک ہوں۔ بھٹو صاحب نے بھی ملک سے غربت کو ختم کرنے کا نعرہ لگایا تھا جس کا یار لوگوں نے ترجمہ ”غریبوں کو ہی ختم کرنا“ مشہور کر دیا۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! اگرچہ انہوں سوشل سیکیورٹی سسٹم کو روشناس تو کروایا لیکن ان اصلاحات کی گاڑی کیچڑ میں پھنس گئی۔
وزیر محترم نے دوسرا نکتہ پاکستان اور ناروے میں تقابل بیان کر کے پیش کیا ہے۔ ناروے قطب شمالی کے قریب ترین ملک جس کی آبادی ساڑھے پانچ ملین کے لگ بھگ ہے۔ پاکستان کی آبادی ناروے سے کم و بیش پچاس گنا ہے۔ بقول وزیر صاحب:
"ہم پاکستان میں رہتے ہیں ناروے میں نہیں“ چونکہ ہمیں صدیوں سے پڑھایا جاتا رہا ہے کہ:
رموزِ مصلحتِ مُلک خسروان دانند
گدایِ گوشہ نشینی تو حافظا مَخروش
جس کے مطابق وزیر صاحب کے اس بیان میں کئی رموز پنہاں ہو سکتے ہیں جن سے ان کو ہی آگاہی حاصل ہے لیکن ملک سے باہر رہنے کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس فرمان کے مضمرات پر کسی قدر جانکاری کی کوشش کی جا سکتی ہے۔”ہم پاکستان میں رہتے ہیں ناروے میں نہیں“ کا جملہ ایک غزل کے مصرعے سے کم نہیں۔ جس میں کچھ بھی نہ کہا کے باوجود کہہ دیا گیا کہ:
پاکستان میں ریاستی فیصلے اس طرح نہیں ہوتے جیسے ناروے میں۔
پاکستان میں انسانی حقوق سے وہ مراد نہیں جو ناروے میں لی جاتی ہے۔
پاکستان میں انصاف کے وہ پیمانے نہیں جو ناروے میں ہیں۔
پاکستان ایک نام کی اسلامی ریاست ہے جس میں اسلامی اخلاق کی دھجیاں ہر درجہ پر اڑائی جاتی ہیں اور ناروے ایک عیسائی ریاست ہے۔ جس میں اسلام کے نام پر معروف انتظامی اخلاق/قواعد پر سنجیدگی سے عمل تو کیا جاتا ہے ڈھنڈورا نہیں پیٹا جاتا۔ پاکستان کا دستور پچاس سال پرانا ہے جس کو بار بار روندا گیا جبکہ ناروے کا دو سو سال سے زیادہ پرانا ہے۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا مطلب جتھہ کی حکمرانی ہے جبکہ ناروے میں لکھے ہوئے قانون کی حکمرانی ہے
پاکستان میں عدالت کا احترام ایک ذوقی معاملہ ہے جبکہ ناروے میں عدالت کا حقیقی احترام ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جس سے جنرل بھی خوف کھاتے ہیں جبکہ ناروے اس ”سعادت“ سے محروم ہے۔ وزیر صاحب کے بیان میں سے یہ چند مضمرات ہیں۔ جن سے پاکستان اور ناروے (یا کوئی اور مغربی ملک) میں ایک عظیم تفاوت واضح ہوجاتا ہے۔
پچھلے پینتالیس سال سے جرمنی قیام کے دوران ہر روز پاکستان کی بہتری کی فکر لاحق رہی ہے۔ یہاں کے غریب اور امراء، سیاستدانوں اور فوجیوں سے تعلقات کے دوران یہی سمجھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ پاکستان جس کے وسائل ان ممالک سے کئی گنا بہتر ہیں اس کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کیا تو جا سکتا ہے لیکن الجھی ہوئی ڈور کا کہیں سِرا نہیں ملتا۔
اسلام آباد کے ایک معاشیات کے پروفیسر صاحب کے ساتھ 1980 میں ایک پروگرام ہمبرگ میں کیا گیا اور ڈسکشن کے دوران انہوں نے بتایا کہ معاشی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ہے جس کو پاکستان نے ایوب خاں کے دور میں ”خاندانی منصوبہ بندی“ کے نام سے حل کرنے کا پروگرام بنایا۔ عوام الناس کو سکھایا جاتا ہے کہ دنیاوی تقاضوں کو نظر انداز کر کے اگلے جہان کا فکر زیادہ ضروری ہے۔ اور اس کی توضیح کا اختیار ان مذہبی رہنماؤں کے پاس ہے جو دینی اور دنیوی دونوں طرح کے علوم کی ماہیت سے نابلد ہیں۔ یہ مذہبی کٹڑ پن ایک ہندوستانی نفسیات کا مسئلہ ہے۔ ہندوستانی مذہب میں لاتعداد غیر معقول باتیں داخل ہیں جن کو ظاہراً مسلمان رد کرتے ہیں لیکن مقامی آبادی کے مسلمان ہو جانے کے بعد وہی غیر معقولیت اسلام پر بھی حاوی ہو چکی ہے۔ ہندوؤں میں ”ستی کی رسم“ تھی جو سراسر غیر انسانی تھی۔ انگریز گورنر لارڈ بینٹنک نے بڑی حکمت سے ہندو مذہبی رہنماؤں کو بلا کر ان سے اس رسم کی سند پر بات کی اور پھر ان سے ہی اس رسم کے بے بنیاد ہونے کی تصدیق لے کر ستی کرنے کو جرم قرار دینے کا حکم جاری کر دیا۔ اس پر کافی مخالفت ہندوؤں کی طرف سے ہوئی لیکن وہ بہر حال کامیاب ہو گیا۔ جبکہ پاکستان میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت نے مولویوں کی طاقت کو ، جن کی روزی روٹی عوام الناس کی رجعت پسندی کی تسکین پر موقوف ہے، اپنے حق میں استعمال کرنے کی صحیح کوشش نہیں کی۔ محض لفظ ”منصوبہ بندی“ ہی کم علم اذہان پر منفی نفسیاتی اثر ڈالتا ہے۔ آزاد منش لوگ بندش کو مہلک سمجھتے ہیں۔ علاقہ کے مذاہب میں توہمات کی بھرمار بھی ہے پاکستان میں مسلمان مذہبی کارندے پاکستان میں اپنی مرضی کا اسلام بزور شمشیر نافذ کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں جبکہ نہ پندرہ سو سال جیسا اخلاق اور روحانیت ان کے پاس ہے نہ ہی جدید علوم سے شناسائی۔
اس مسئلہ کا اصل حل بنیادی معاشی منصوبہ میں پنہاں ہے جس میں تمام شہریوں کے حالات اور ضروریات کو مدِ نظر رکھ کر سوشل سیکیورٹی فراہم کرنے کا نظام جو مغربی ممالک نے کوئی دو سو سال پہلے شروع کیا تھا بصورت دیگر ہر طرح کی ترقی کا پہیہ جام ہی رہے گا۔
امیر لوگ اس لئے خوفزدہ ہیں کہ ان کی دولت محفوظ نہیں اور غریب اس لئے کہ امیر ہمیں لوٹ رہے ہیں۔ علم چین سے سیکھنے کا مطلب علم ناروے سے سیکھنا بھی ہے۔ وہاں سے ان کے سوشل سیکیورٹی کے ڈھانچے کو آج کمپیوٹر کی مدد سے لاگو کرنا اور اس کے غلط استعمال سے بچنا ممکن ہے۔ جب حکومت ہر شخص کی روٹی اور علاج کو یقینی بنا دے گی تو آبادی بڑھنے کے رجحان میں بتدریج کمی آ جائے گی۔


