تانا بانا
ایک انٹرویو میں انضمام الحق بطور کپتان اپنی یاد داشتوں میں سے چیدہ چیدہ باتیں بتا رہے تھے۔ بھارتی بلے باز سہواگ کی عمدہ بلے بازی کو یاد کرتے ہوئے وہ ایک میچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ وہ سہواگ کا دن تھا اور وہ میدان میں چاروں طرف آزادانہ اپنے انداز سے کھیل رہا تھا۔ گیند باز بھی بدل بدل کے دیکھ لیئے، فیلڈنگ بھی کچھ خاص کارگر نہ ہو کہ گیند فیلڈر کے پاس جائے ہی نا۔ تو کہنے لگے کہ میں بھی سوچنے لگا کہ کیا میں کپتانی بھی صحیح کر رہا ہوں یا نہیں۔
یہ بات ایسے یاد آئی کہ سفرِ کوہ سائی میں ایک طویل سڑک ایسی بھی ملی کہ میلوں کسی ذی روح کا نشان نہیں، موبائل کے سگنلز بھی معدوم، اور جب کہیں دور تک بھی کسی آبادی کے کوئی آثار نظر نہ آئیں تو پھر دل میں انضی بھائی والا خیال ہی گزرے کہ پتا نہیں صحیح سڑک پہ بھی جا رہے ہیں یا نہیں، اگرچہ آف لائن میپ کے مطابق درست سمت میں گامزن تھے لیکن سڑک کی وحشت ناک تنہائی خوفناک حد تک ڈراوَنی تھی۔
پکی سڑک سے کبھی کبھار ایک منحنی سا، کچی پگڈنڈی جیسا راستہ نکلتا نظر آتا۔ بلکہ باقاعدہ راستہ بھی نا ہوتا بس گاڑیوں کے متواتر استعمال سے ان کے ٹائروں کے نشانات مستقل ہو چلے تھے۔ بھلا اتنے ویرانے میں کوئی اس رستے پہ کیوں جاتا ہو گا؟ آگے تو دیوہیکل پہاڑ کھڑے ہیں اور پہاڑ بھی وہ جو پہاڑ کم اور مختلف شبیہات کے مجسمے زیادہ لگتے ہیں۔ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والے محاورے کا درست استعمال اسی دن ہی کیا۔ اپنی نظریں اور دھیان واپس اپنے راستے پہ گاڑیں اور چلتے رہے۔
خدا خدا کر کے ایک عارضی سی قیام گاہ نظر آئی، جہاں سوائے وافر تیل کے باقی سب کچھ قلیل ہی تھا۔ ایک چھوٹے سے ڈربے نما ڈھابہ میں ایک مقامی شخص ہاتھ سے بنی مصنوعات بیچ رہا تھا۔ وہیں نظر ایک چولے (تھیلے ) پہ پڑی جو نہایت دیدہ زیب اور ایسے رستوں پہ پیدل چلنے والوں کے لئے نہایت موزوں تھا۔ کہ اس کے دونوں طرف ہم وزن سامان ڈال کے کندھے پہ اٹھا لیں اور میلوں چلتے جائیں۔ درمیان میں کہیں بھی متوازن رہنے کے لئے ایک طرف کو جھکنے کی ضرورت بھی نہیں۔
سرِ راہ اگر تھوڑی دیر سستانا مقصود ہو تو اس کے لئے موٹے دھاگے سے ہاتھ سے بنا ہوا قالین بھی دستیاب تھا۔ گو آج کے جدید اور مشینی دور میں مصنوعات کی بھی ہر طرح کی جدت معرضِ وجود میں آ چکی ہے لیکن اس کے باوجود بھی ہاتھوں سے بنی اشیاء کی نفاست اور اہمیت کے قدردان کم نہیں ہوئے۔ جولاہے ایک ایک دھاگہ اٹھاتے ہیں اور ان کے مشاق ہاتھ نفاست سے تانا بانا بنتے رہتے ہیں۔ گرہوں سے گرہیں بندھتی چلی جاتی ہیں، دھاگے آپس میں جڑتے جاتے ہیں اور آخر میں انہی گرہوں اور دھاگوں کا سفر ایک شاندار نقش (ڈیزائن ) پہ منتج ہوتا ہے۔
جولاہوں کو فقط ایک ہی فن آتا ہے۔ دھاگوں کی گرہیں باندھنا، دھاگوں کو جوڑنا، باقی ان کی محبت اور نفاست ہے جو اس کاری گری کو شاہکار نمونے میں بدل دیتی ہے۔ روز کے بڑھتے ان کسمپرسی کے حالات میں انسان کا انسان سے جڑنا بھی ایسے ہی ناگزیر ہو چکا ہے۔ انفرادی کاوشیں ہی بالآخر اجتماعی رنگ لائیں گی۔ سوچ سے سوچ ملے گی، ہاتھ سے ہاتھ ملے گا تو نتیجتاً قوم کا اخلاقی، قدری، سماجی اور اقتصادی نقشہ بہتر ہو جائے گا۔ جولاہوں جیسا تانا بانا بننے کی ضرورت ہے۔ ہر ٹوٹنے والے دھاگے کو پھر سے ساتھ والے دھاگے سے باندھنا پڑے گا کہ آخری نقش میں اس کا بھی پورا پورا حصہ اور کردار ہو۔
چٙلو
جُولٙاہٙوں کے پٙاس چلتے ہیں
جِن کی مٙحبّت میں
نٙفاسٙت ہے
کیونکہ وہ سٙارا دِن دٙھاگٙوں کو جوڑتے ہیں
تٙوڑنا تو اُنہوں نے سِیکٙھا ہی نہیں
(شٙاہ عٙبدُالٙطِیف بٙھٹٙائِی)


