فرمانروائے شہر کا بے ڈھب مُشاعرہ
اِ سے ”آپ امیر“ ِ شہر کہیے یا ”فرمانروائے شہر“ ۔ ایک ہی تو بات ہے۔ ویسے عام آدمی تو بے چارہ اِنتشار اور مصیبت کا شکار ہے۔ اِسے آپ معاف ہی رکھیں تو مہربانی ہوگی۔ ”تفریق و تشخیص“ کے معاملے میں یہ ہمیشہ ہی کُند ذہن اور لا تعلق واقع ہوا ہے۔ ہاں، فرمانروائے شہر کے ”خاصانِ خاص“ اِسے اپنے اپنے مزاج اور ”وابستگی“ کے اعتبار سے امیرِ شہر بھی کہہ سکتے ہیں اور فرمانروائے شہر بھی۔ خیر اِسے کون کیا کہتا ہے اور کون کیا سمجھتا ہے، اس سے نہ تو ہمیں کوئی غرض ہے نہ سروکار۔ ہم ٹھہرے نرے کے نرے ”شوخی خور“ ۔
بات در اصل یہ ہے کہ جب اِس فرمانروائے شہر کی ”جنم کُنڈلی“ کو ٹٹولنے کے بعد اس کے نسب نامے کو عملِ جراحی سے گزارا گیا، تو حاصل شدہ معلومات سے قیاس ہوا کہ فرمانروائے شہر کے اجداد کا تعلق آخری مغل فرمانروا ”حضرت بہادر شاہِ ظفرؔ“ سے ضرور رہا ہو گا۔ مگر جب اِسکے ڈھانچے میں پائے گئے مہین اور خوردبینی اجزاء کا تجزیہ کیا گیا تو پتا چلا کہ کہاں وہ دلدادۂ ادب اور عاشقِ سخن اور کہاں ”بے ڈھب فرمانروائے شہر۔ دور دور تک یکسانیت کا کوئی پہلو نظر ہی نہیں آتا۔ ”خلیاتِ فرمانروا“ سے حاصل شدہ نمونوں کو جب ڈی این اے جانچ کے لئے فرنگ بجھوایا گیا تو پتا چلا کہ انگریزی دورِ حکومت میں کسی ”شاعرِ زبردست“ کے ”خفیہ تعلقِ فرمانروائی“ سے فرمانروائے شہر کے اجداد کے مراسم ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اِسی لیئے تو شاعرانہ ”خونِ اجدادان“ نے کچھ جوش میں آ کر اور کچھ طیش میں آ کر محفلِ سخن کا اعلان و بندوبست بے محل و موقع و بے موسم کر ہی دیا۔
بھئی کمال ہے! فرمانروائے وقت کسی بھی وقت اپنے شہر میں محفلِ سخن کے انعقاد کا بگل بجائیں اور عدمِ حاضری کا احتمال ہو، ایسا بھلا ہو سکتا ہے کیا۔ اور جب ”میرانِ محفل“ میں حواس باختہؔ سوپوری، مرغزارؔ پانپوری، داغدارؔ اسلام آبادی، بد مستؔ ترالی، بکاؤؔ گاندربلی، وحشتناکؔ بنڈہ پوری، ہُدہُدؔ ادھمپوری، بے دِلؔ بھدرواہی، سنسنیؔ سنگھ، کالاؔ سنگھ، جھٹکاؔ دیوی، سلام علی بربادؔ، تیر کمان تیریؔ، گولیؔ ناتھ، بربر شاہ کرفیوؔ، عبدالکریم پاتھرؔ جیسے زمانہ ساز شعرائے کرام جلوہ افروز ہونے والے ہوں تو کون کم بخت حاضری نہ دے۔ اِس پر طُرہ یہ کہ جب میرانِ محفل کو با ضابطہ اپنی بیگمات اور دختران و پسران کی شمولیت کے لئے سنہرے لفافوں میں سجے سجائے خصوصی دعوتی کارڈ اِرسال فرمائے گئے ہوں تو پھر عدمِ حاضری کا گمان کون کر سکتا ہے۔ ”خوجن دوپوم پھٹکھئ“ کے مصداق کسے تمیز کہ آگے کسی کا جنازہ گُزر رہا ہے یا مصیبت زدگان کیے لئے کوئی ریلیف تقسیم کر رہا ہے۔ لاٹھی چارج کیوں نہ کروانا پڑے یا دو تین بے قصوروں کو نیک شگون اور قربانی کے لئے کیوں نہ کٹوانا پڑے یا کرفیو کیوں نہ لگوانا پڑے۔ جانا تو ہے بھئی۔ اوپر سے اگر بیگم صاحبہ یا دخترِ نیک اختر کا میک اپ اُتر گیا تو پھر خیر نہیں۔ فرمانروائے شہر کے عتاب سے اگر بچ بھی نکلے تو گھر آ کر ”بپھری شیرنی“ کی چیر پھاڑ کا غم کھائے جا رہا ہے۔
بسترِ علالت پر ”مکرّر مکرّر“ اور ”ایک بار پھر سے“ کی تسبیح کرتے ہوئے جانِ محفل، ”جناب کبابؔ بیلوی“ کو جب امیرِ شہر کے نامہ بَر نے پیغامِ شمولیت بزبانِ خود سنایا تو جیسے خوابِ گراں سے بیدار ہوئے۔ اُچھل کر پوچھنے لگے، ”میں اور دعوتِ محفل؟ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی! پچھلی دفعہ تو ردّی میں پھینکا تھا۔ وہ دِن اور یہ ساعت، تب سے شاعری کی کلّیاں کر رہا ہوں۔ ڈاکٹروں نے“ دائمی مرضِ سخن ”کا مریض قرار دیا ہے۔ اے نامہ بر! کیا یہ سچ ہے۔ ؟ ہماری تو جان میں جان آئی۔ لگتا ہے اب کے محفل کا رنگ ذرا“ خون آشام ”ہو گا، یعنی رنگا رنگ ہو گا۔ میرے گھر کو آپ سنبھالیئے۔ میں چلا اپنی“ ادبیات ”کو لے کر فرمانروائے شہر کی خدمتِ اقدس میں۔ اب کے وہ ترنُّم چھیڑوں گا کہ فرمانروائے شہر کیا، غالبؔ و اقبالؔ اپنے مرقدوں میں واہ واہ کرنے پر مجبور نہ ہوئے تو “ کبابؔ بیلوی سے نام بدل کر گوشتابہؔ بھیڑوی رکھ دینا۔ اب کے اے نامہ بر! وہ ٹھان رکھی ہے کہ پوچھو مت۔ دس سال سے تشنۂ لب ہیں۔ بسترِ علالت پہ صرف کروٹیں ہی نہ بدلیں ہیں، بلکہ سخن طرازی کی ایک نئی صنف ایجاد کی ہے۔ بس سنانے کی اور قیامت چھیڑنے کی دیر ہے۔ اے نامہ بر! جی تو چاہتا ہے کہ تجھے نوٹوں کی گڈیوں تلے دفن کردوں مگر فرمانروائے شہر سے ملنا ہے۔ کیا پتا اپنی ادبیات کو منظرِ عام پر لانے کا فرمان اِس نا چیز کبابؔ کو ملے۔ تب روپیوں کی اشد ضرورت ہوگی۔
آسمانِ ادب کے آفتاب و ماہتاب، ریختے کے اُستاد، سخنورِ زبان، نورِ چشمِ بزم، خاندانِ شاعری کے عظیم سپوت، جنابِ قہرؔ سبحان اللہ تو دعوتِ فرمانروا سُن کر جیسے بھونچکا رہ گئے۔ یہ موسم اور محفلِ سخن! کہیں فرمانروا کو کچھ بے عقلی کی نہ سوجھی ہو۔ اگرچہ شاعری اُن کے سیدھے منہ کا کھیل ہے۔ ماضی میں ادبیات اور سخنوری کے ان کے نسل در نسل وہ دیوان اور صحیفے چھپے ہیں کہ بڑے سے بڑے ادباء و دانشور ہاتھ مل مل کر لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں بلکہ لُٹ جاتے ہیں، مِٹ جاتے ہیں۔ ایسے ایسے ”تیرِ نیم کش“ زبانِ ادب سے چھوڑتے ہیں کہ عام و خاص کے جگر پارہ پارہ ہو جاتے ہیں۔ ادب کی جتنی بھی اصناف ہیں، سب اِن کے خون میں رچی بسی ہیں۔ ڈرامے تو وقفے وقفے سے کرتے ہی رہتے ہیں۔ ماحول ذرا سا بھی رنگین دیکھا تو تازہ ترین خون آلود غزل چھیڑنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے۔ ”دربارِ صاحبِ اقبال“ ہو تو قصیدہ گوئی میں اِن کا کوئی ثانی نہیں۔ بے لگام اور آزاد نظمیں تو اس قدر فراخدلی اور آزادی سے لکھتے ہیں کہ بڑی سے بڑی فصیل بند جیلوں سے ”حضرت بس، حضرت بس“ کی دِل شگاف آوازیں ماحول کو غمناک کرنے لگتی ہیں۔ ترنّم میں شاعری کرنا تو اِن کی خاندانی شان ہے۔ وہ ”لے“ چھیڑتے ہیں کہ اولالعزم شعراء دل کے عارضے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سب سے بڑی بات۔ جس جگہ مشاعرہ ہو بس وہیں کے بن جاتے ہیں۔ بھیس بدلنے میں امتیازی شان رکھتے ہیں۔ لباس، ثقافت، کلچر، وضعداری اور شاملینِ محفل کو ”ادبی الُّو“ بنانا کوئی اِن حضرات سے سیکھے۔ اور اگر ماتم کدہ ہو تو انیسؔ و دبیرؔ اپنے مقبروں سے حضرتِ قہرؔ کی سلامتی کی اور مغفرت کی دعائیں مانگنے لگتے ہیں۔ اور وائے وائے! اب کے سنا ہے کہ بس مرثیہ پہ ہی تکیہ فرمائیں گے۔ محرّم کے مہینے کے متصل محفلِ سخن کا بگُل! در و بام ماتم کناں، سخنوری کا ہر باب ماتم کُناں، خانہ و عیال و ارباب ماتم کُناں۔
بُلبُلِ ہند کے نواسے کی ہمشیرہ کے سُسر کی دخترِ عزیزہ، رونقِ محفل، شمعِ بزمِ عاشقان، محترمہ عجوبہ ؔ مخملی مجسمۂ ادب، منتظرِ فرمانِ فرمانروا تھی۔ اُدھر سے بلاوا آیا اور اِدھر سے ”تم نے بلایا اور ہم چلے آئے، جان ہتھیلی پر لے آئے“ ۔ اپنے پُرانے عاشقِ بے مروّت، فرمانروائے شہر کا مسرّت نامہ ملا تو پہلے کسمسائی، اور پھر سحر انگیز اور بے خود کردینے والی انگڑائی لی، پھر روئے گُلِ لالہ پہ مُسکان بکھیری اور جب گلاب کی پتیوں جیسے نازک لبوں کو ”زحمتِ اقرار“ دے کر سبز پلّو میں اپنا منہ ”شرم“ کے مارے چھپا لیا تو ہائے ہائے پوچھو مت! فرمانروائے شہر اگر اپنی آنکھوں سے نظارہ کرتے تو محترمہ عجوبہؔ کے قدموں میں جان دے دیتے۔ سُنا ہے مِس عجوبہؔ اِس دفعہ محفل کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ ہر روز مہمان خانہ بھرا رہتا ہے۔ صنفِ شاعری کے تمام اصولوں کے متعلق جانکاری حاصل کی جا رہی ہے۔ کبھی لہجے کی بات، کبھی ترنّم کے رموز، کبھی وزن کی بات تو کبھی معنی کے اسرار۔ کیونکہ پچھلی دفعہ فرمانروائے شہر سے ”روٹھا روٹھی“ اور ”پلٹا پلٹی“ کے بعد جب سے ”روٹھے ساجن“ کا بلاوا آیا ہے، تب سے ادب کے چراغ دماغ میں جل رہے ہیں اور شاعری کے لڈّو دِل میں پھوٹ رہے ہیں۔ چونکہ ”گنگا جمنی“ مشاعرے میں داد و تحسین لوٹنے کے بعد محترمہ مخملی پُر اُمید ہیں کہ اِس والے مشاعرے میں اُن کے خوب چلے گی۔ پچھلی دفعہ والی نظم ”زخموں کے بھرنے کا موسم“ کے بجائے اب سنا ہے کہ ”آفات آسمانی اور دفعاتِ زمینی“ پہ خوب شاعری ہوگی۔
ایک اور تازہ خبر ہے کہ ہند کے عظیم گھرانأ شاعری سے جناب نمستے نموؔ اِس بار سینہ تانے پورے جلال کے ساتھ اپنے شاعروں کا لشکر بھیج رہے ہیں۔ مشاعرے کے ہنگامہ خیز ہونے کی ضمانت ہم دیتے ہیں۔ آخری اِطلاعات کے موصول ہونے تک محفل کے انعقاد کے لئے ضروری انتظامات کا ہنگامی پیمانے پر انتظام کیا جا رہا تھا۔ مندوبین اور دیگر شرکاء کے لئے خصوصی کارڈوں کا انتظام ہو چکا ہے۔ مشاعرے کی جگہ جانے والی تمام ”ممکنہ رکاوٹوں“ کو یا تو ہٹایا جا چکا تھا یا ہٹایا جا رہا تھا۔
یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ سخنوری کے کئی اور گھرانوں سے بہتیرے شعراء اپنا کلام سنانے وارد ہو رہے ہیں۔ اور ان سب کے بیچ درجنوں ”ژرنڈِہ شاعر“ بھی اپنی بوکھلاہٹ سنانے جا رہے ہیں۔ کئی ایک نے ٹریکٹروں کی ٹرالیوں سے شعر ڈاؤن لوڈ کیے ہیں اور کئی نے آٹو ڈرائیوروں سے مدد طلب کی ہے۔ اکثر ایسے ہیں جو یا تو عروض و بحر کی حدود سے باہر ہیں یا ”تُک مار خان“ ہیں۔
میزبانی کے فرائض ”حسبِ سابقہ اور حسبِ توقع“ فرمانروائے شہر کے اپنے کارندے انجام دے رہے ہیں۔ بھئی میرا تو ایسی زبردست محفلوں سے جی گبھراتا ہے۔ آپ کا کچھ پتا نہیں۔ ویسے شاعری ہے ہی کمال کی چیز۔ نہ جانے کن کن کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ہم تو دور سے ہی داد دے سکتے ہیں۔ شاعری، واہ واہ۔ شاعر لوگ، ڈبل واہ واہ!


