الوداع چترال اور اہل چترال


الصلوۃ خیر من النوم پہلی بار آہستہ پر دوسری بار اُونچی آواز میں پڑھتے ہوئے کوثر اُٹھ بیٹھی تھی۔ میرے جسم کی حالت کچھ اُس مظلوم عورت کی سی تھی جس کے خاوند نے اُسے چار چوٹ کی مار ماری ہو۔ بریر کی جنت نظیر وادی کے خوفناک راستے بدن کے لیے جیسے ظالم شوہر کا ڈنڈا ہی تو ثابت ہوئے تھے۔ آنکھ کی خفیف سی جھری سے میں نے کوثر کو دیکھا اور پھر اُسے بند کر لیا۔ نئے نکور کمبل کی نگھی سی گرمائش دُکھتے شریر کے لیے ٹکور کا کام کر رہی تھی۔

کوثر کی کھٹ پٹ نے مجھے مجرم سا بنا دیا تھا۔ اُسکی اللہ میاں سے یاری کی فلاسفی میں نماز کی ایک چھٹی بھی اُس تیز دھار والی قینچی جیسی ہے جو محبت کو پھیتی پھیتی کر ڈالتی ہے۔ اس کے چھوٹے بچے نے اگر کبھی شامت اعمال سے رات کو پیشاب کر کے اُسے گیلا کر دیا تو پوہ ماگھ کی راتوں میں اس نے اپنے ساتھ بچے کو بھی نل کے نیچے کھڑا کر دیا۔ جب وہ وضو کر کے آئی تو اس نے عین میرے سامنے سر پر کھڑے ہو کر کہا تھا۔ باجی فجر کی نماز چترال شاہی مسجد میں پڑھنی ہے۔ اب باجی کو مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق اُٹھنا پڑا تھا۔

شاہی مسجد میں نماز کی ادائیگی میں عبودیت کی انکساری عین اپنے عروج پر تھی۔ لُطف آیا۔ واپسی میں دن چڑھ چکا تھا۔ مہمان خانے سے اندر زنان خانے آ گئے۔ برآمدے میں کرسی پر تاج صاحب ہشاش بشاش بیٹھے ریڈیو سُنتے تھے۔ مسز تاج چائے بنانے میں مصروف اور بڑی بیٹی راتھینی میں ناشتے کے لیے چیزیں رکھتی تھی۔
کیسا محبت بھرا گھرانا تھا۔ چہروں پر جو مسکراہٹیں سجی تھیں اُن میں خلوص کی دمک تھی۔ ناشتے کے لوازمات شیرا شاپیک ( اخروٹ خوبانی اور دودھ کے آمیزے سے بیک کی ہوئی روٹی) پراٹھے انڈے اور قہوہ چائے دونوں موجود تھے۔

تاج صاحب نے اُس دن کا پروگرام جاننا چاہا۔” گیارہ بجے تک تو آپ کے ساتھ نشست جمے گی۔ بعد میں کل والی پارٹی کے ساتھ بمبوریت کا پروگرام ہے۔” آپ تو پہلے بھی وہاں جا چکی ہیں اور کتنی بار جانا ہے۔“ کالاش وادیوں کی طرف بھاگ بھاگ کر جانا شاید ہر چترالی کی طرح انہیں بھی اچھا نہیں لگا۔” تاج صاحب مفت کا ٹرپ ہے اور آپ جانتے ہیں مفت کی شراب تو قاضی نے بھی پی لی تھی۔“
چترال کا چہرہ میرے لیے اب خاصا شناسا تھا۔ اس شناسائی میں مزید اضافہ اس صبح تاج صاحب کی گفتگو نے کیا۔

سیاسی جغرافیائی اور دفاعی نظر سے چترال پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے اس کی سرحدیں چین، افغانستان اور تاجکستان سے جُڑی ہوئی ہیں۔ یہ اگر ہندوکش کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں میں مقید ہے تو وہیں مختلف دروں سے باقی اضلاع سے ملا ہوا ہے۔

بے شمار گلیشیئروں میں سے اہم چیانتار ہے جو 25 میل لمبا اور کوئی تین میل چوڑا ہے۔ چترال کے کلچر اور تہذیب پر وسط ایشیا کی ریاستوں کا گہرا اثر ہے کیونکہ مختلف اوقات میں مختلف نسلوں کے لوگ یہاں آ کر آباد ہوتے رہے۔ ان قبائل میں کھو، بشگالی، گواری، کالاش، دامیڑی، ڈانگرک، پٹھان واخی اور بدخشی ہیں۔ کھو اکثریتی قبیلہ ہے جو قدیم آریائی واخان چینی ترکستان افغانستان اور دیر سوات سے آنے والے لوگوں کے یہاں آ کر رہنے اور قبول اسلام کے بعد باہم شادیوں اور میل ملاپ کے باہمی ربط سے تشکیل پایا۔ ان کی زبان کھوار ہے جو کم و بیش پورے چترال میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ بشگالی دراصل افغانستان کے سرخ کافر تھے۔ جو اُنیسویں صدی کے آخر میں بھاگ کر چترال آئے۔ مسلمان ضرور ہیں مگر اُن میں ابھی تک جہالت اور وحشی پن موجود ہے۔ بکرے کی پوست سے تیار کردہ پوستین پہنتے ہیں۔ سر پر پکول نما ٹوپی رکھتے ہیں۔ سردیوں کا لباس بور (بے آستیں چوغہ) ہے۔ مردوں کو سر کے بال لمبے رکھنے کی عادت ہے۔ ہڈ حرام اور کام چور ہیں۔ گھر کی گاڑی چلانے کی ذمہ داری تمام تر عورت کے ذمہ ہے۔ لڑکی جب بیاہ کر سُسرال جاتی ہے تو میکے میں گزارے گئے سالوں کا تاوان وہ شوہر کی زمینوں پر محنت سے کام کر کے ادا کرتی ہے۔

پروردگار! عورت کے معاملے میں کتنے ظالم ہیں لوگ۔ مسلمان ہو کر بھی جاہل رہتے ہیں۔ کوثر بے اختیار ہی بول اُٹھی تھی۔

گواری جنگجو قسم کے اُجڈ لوگ ہیں۔ نسل درنسل دشمنیوں کے چکر میں اُلجھنے والے اس قبیلہ کا پیشہ مویشیوں کی چرائی ہے۔ و اخی چین کے علاقے سنکیانگ افغانستان کے واخاں اور تاجکستان سے آنے والے لوگوں کی قوم ہے۔ زبان بھی وخی ہے۔ فطرتاً بیبے لوگ ہیں۔

چترالی رقص و موسیقی کے بہت دلدادہ ہیں۔ پولو میں ان کی جان ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات پر اب میدانی علاقوں کا رنگ غالب آنے لگا ہے۔ تاہم چند مقامی رسمیں ابھی بھی دلچسپی کا باعث ہیں۔ جن میں بارات کے دُلہن کے گھر پہنچنے پر چھڑی کا پھینکا جانا جسے جو کوئی پکڑے انعام پائے اور دُلہن کا دولہا کے گھر پہنچ کر سواری سے اس وقت تک نہ اُترنا جب تک کہ ساس اور سُسر اس کے لیے تحائف کا اعلان نا کریں۔ دُلہن کا میٹھی روٹیاں پکانا اور دُولہا کا انہیں پلٹا دینا۔

جاری ہے۔

Facebook Comments HS