پنڈی جو اک شہر ہے۔ 4۔
انور مسعود کی پنجابی شاعری کا معیار اکبر کے فتح پور سیکری کے بلند دروازے سا ہے۔ زبان و بیاں کی بات ہو تو ”جہلم دے پل تے“ جیسی نظم کا مقابل نہیں لایا جا سکتا۔ میری رائے میں اردو کے مقابلے میں پنجابی میں انہوں نے سنجیدہ موضوعات کو بھی خوب خوب برتا۔ ذرا یہ مصرعے ملاحظہ ہوں۔
ع۔ الہڑ شیں مٹیاراں ورگی چڑتل کہیڑا چہلے۔
ع۔ نی کاہدا چامل چڑھیا جے کیوں ہاسے ڈھل ڈھل پیندے جے
اس سہانے سمے کی ایک اور بات کا ذکر کرتا چلوں۔ صادق آباد کا رہائشی ایک دوست بتایا کرتا تھا کہ مقابلے کے امتحان میں اردو کے مضمون کی تیاری کے لیے ایک ایک دفعہ میں انور مسعود اور فتح محمد ملک صاحب کے گھر بقول شخصے منہ اٹھائے ایسے ہی چلا گیا کہ وہ میرے نزدیک ہی رہتے تھے۔ ان بھاگوں والے استادوں نے بغیر جان پہچان کے وقت دیا اور راہنمائی کی۔ ایسے مہکتے میٹھے مستانے زمانے اور دلربا لوگ اب کسی کو کہاں دستیاب۔
شہر کا مرکز، فوارہ چوک تھا جہاں سے چھ سڑکیں مختلف سمتوں کو جاتی تھیں۔ ان میں گنج منڈی، کشمیری بازار، سٹی صدر روڈ، لیاقت روڈ، اقبال روڈ اور راجہ بازار میں داخل ہونے والی دو رویہ سڑک شامل تھی۔ راجہ بازار کے اہم بازاروں میں بازار کلاں، قصائی گلی، نرنکاری بازار اور سبزی منڈی دن بھر آباد رہتے تھے۔ راجہ بازار کے اختتام پہ ڈنگی کھوئی اور اس سے آگے ایک سمت جامع مسجد روڈ اور دوسری طرف باغ سرداراں کا علاقہ تھا۔
قصائی گلی بظاہر تو برتنوں کا بازار تھا لیکن بالا خانوں میں طوائفوں کے ڈیرے تھے۔ یہاں مغرب کے فوراً بعد ہارمونیم اور سارنگی کے سر طبلے کی سنگت میں بلند ہونا شروع ہو جاتے تھے۔ کئی لوگ جان بوجھ کر اس گلی کے راستے بازار کلاں جاتے تھے اور یہاں سے گزرتے ہوئے اپنا منہ مفلر سے ڈھانپ لیتے تھے۔
اتوار کو صدر بازار مکمل طور پر بند ہوتا تھا۔ چنانچہ دن چڑھتے ہی اس کی سڑکوں کے کنارے اور فٹ پاتھوں پر پرانی اور نایاب کتابیں سج جاتی تھیں۔ شہر کے کونے کونے سے کتاب دوست خواتین و حضرات اپنی پسند کی کتب کی تلاش میں کئی کئی گھنٹے یہاں بتاتے تھے۔ عوام کے ساتھ ساتھ یہاں خواص بھی لور لور پھرتے ملتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے مستنصر حسین تارڑ کو یہاں دیکھا تھا۔ تب تک ان کی دو کتب، نکلے تیری تلاش میں اور اندلس میں اجنبی شائع ہوئی تھیں۔ ساتھ ہی وہ ٹی وی اداکار اور صبح نشر ہونے والے ایک شو کے میزبان کے طور پر بھی مشہور ہو چکے تھے۔ وہ کھلے ڈھلے بندے ہیں اور تحریر ہو یا تقریر بڑی مشکل باتیں بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں۔ مثلاً کہا۔ پرائڈ آف پرفارمنس ایسا اصطبل ہے جس میں گھوڑے گدھے ایک ساتھ بندے ہوتے ہیں۔ (تارڑ صاحب کا خود شناسی میں ایک خاص مقام ہے۔ یہ جملہ 1992 سے پہلے کہا گیا ہو یا بعد میں، یقیناً اس میں موخرالذکر چوپائے سے مراد ان کی اپنی ذات ہو گی۔ مدیر)
نیشنل سینٹر اسلام آباد بھی کبھی کبھار ادبی تقریبات میں شرکت کے لیے جانا ہوتا تھا۔ وہیں 1980 کی دہائی میں ایک سال انڈیا سے گوپی چند نارنگ تشریف لائے اور ان کے اعزاز میں کئی تقریبات منعقد ہوئیں۔ اسی زمانے میں دائرہ نامی ایک ادبی تنظیم بھی بڑے ہوٹلوں میں بڑی بڑی تقریبات کا اہتمام کرتی تھی۔ دائرہ کے زیرِ انتظام اگرچہ بڑی اور یادگار ادبی تقریبات سال بھر تقریباً ہر سہ ماہی کے دوران منعقد ہوتی رہتی تھیں لیکن ایک تقریب کی یادیں آج بھی روشن ہیں۔ یہ فیض احمد فیض کی تہترویں سالگرہ کی تقریب تھی۔ پھر اسی سال یعنی 1984 میں ان کو وطن بدری کا حکم صادر ہو گیا۔ (مصنف سے سہو ہوا ہے۔ فیض صاحب نے فروری 1978 میں جلاوطنی اختیار کی تھی اور فروری 1982 میں وطن لوٹے۔ نومبر 1984 تو ان کی ابدی جلاوطنی کا برس ہے۔ مدیر)
یہ تقریب میریٹ اسلام آباد میں سجی تھی جس میں تاثرات کے ساتھ ساتھ ان کے کلام کو گانے کے لیے مشہور گلوکار بھی مدعو تھے۔ مہ ناز نے ان کی ایک مشہور غزل۔ دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے، گائی۔ جب وہ سٹیج سے واپس ہونے لگیں تو ایک بزرگ اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور بولے۔ آپ نے حاصلِ غزل شعر تو گایا ہی نہیں۔ پھر شعر پڑھا۔ حاضرین نے تالیاں بجائیں۔ مہ ناز نے دوبارہ مائیک سنبھالا اور یہ شعر گایا۔
اک فرصتِ گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
دوسری طرف بڑے گلوکاروں کے ساتھ محفلِ موسیقی لوک ورثہ شکر پڑیاں کے کھلے آڈیٹوریم میں رات گئے تک رنگ جمایا کرتی تھی۔
راولپنڈی متوسط طبقے کا شہر تھا۔ یہاں کے پیشہ ور ڈاکٹر بھی ایسے تھے کہ ان کی فیس اور دوا، جو وہ اپنے پاس سے ہی دیا کرتے تھے، زیادہ مہنگی نہیں ہوا کرتی تھی۔ ان ڈاکٹروں میں کوہاٹی بازار والے ڈاکٹر رزاق بڑے مقبول تھے۔ بڑے خوش اخلاق۔ مریض سے اس کی بیماری پہ بات کرتے ہوئے اس سے بے تکلف گپ شپ بھی لگا لیتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ خواتین کے پسندیدہ ترین ڈاکٹر تھے۔ دوسرے ڈاکٹر کیپٹن شوکت تھے جو کوہاٹی بازار کے بالمقابل مری روڈ پہ کلینک رکھتے تھے۔ آپ چونکہ سابق فوجی تھے اس لیے مریض سے فری نہیں ہوتے تھے۔ بہرحال ان کے نسخے سے بھی شفایابی کا تاثر عام تھا۔ ان کے شفا خانے سے کچھ فاصلے پر ناز سینما کی بغل میں ڈاکٹر مشتاق بیٹھتے تھے۔ وہ بچوں کے ڈاکٹر تھے۔ ناز سینما اور اس سے ملحقہ دکانیں ان کے والد راجہ غلام سرور کی ملکیت تھیں جو ایوب خان کے دور میں مری سے بی ڈی ممبر ہوا کرتے تھے۔ ڈاکٹر مشتاق اس قدر خوشگوار طبیعت رکھتے تھے کہ بیان کرنا ممکن نہیں۔ افسوس کہ وہ درمیانی عمر میں ہی اگلے جہاں کو سدھار گئے۔ یوں بے حد و بے حساب دلی دعاؤں کی پھولدار چادروں کے سائے میں تہِ زمیں جا بسے۔
ڈاکٹر رزاق اور ڈاکٹر کیپٹن شوکت مریضوں سے معمولی رقم لے کر جس ایثار کا مظاہرہ کرتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کو دیا ہوا ایسا قرض ثابت ہوا کہ جسے کئی گنا کر کے ان کی طرف لوٹایا گیا تو ایک نے اصغر مال میں حیات ولی میڈیکل کمپلکس اور دوسرے نے آئی نائن اسلام آباد میں علی اسپتال تعمیر کیا۔
افسوس کہ توکل اور ایثار کی دولت وقت کے ساتھ ساتھ ہم سے پرے ہوتی گئی اور ہم نے وہ کام بھی خود کرنے شروع کر دیے جنہیں اللہ تعالیٰ پہ چھوڑنا چاہیے تھا۔ حالانکہ کتاب نے بہت پہلے ہر زماں و مکاں کے ایسے لوگوں کے بارے میں کیا خوب بات کہہ رکھی تھی۔
” تمہیں کثرت کی خواہش نے غفلت میں رکھا یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے“
جاری ہے۔


