یاد ماضی عذاب کب بنتی ہے؟


 

زیر نظر موضوع پر کئی دانشور اپنی دانشمندانہ رائے دے چکے ہیں۔ شاعری میں خاص طور پر جبکہ ادب میں عمومی طور پر اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اسی مشکل کو سامنے رکھتے ہوئے آسکر وائلڈ جیسے مفکر اور لکھاری نے اپنی شہرہ آفاق ناول دی پکچر آف ڈورین گرے میں لکھا کہ تعریف کرنا محدود کرنا ہے۔ آنے والے لوگوں کے لیے بات کرنے کی یا تعریف کرنے کی بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے۔ زیادہ تر مفکر تو موجود تعریف پر ہی اکتفاء کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے آج بھی موجود تعریفیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

ماضی کا موضوع بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے صرف نظر کرنا سراسر زیادتی ہے۔ مگر حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ماضی کو پرکھنا بہت آسان ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ انسان ماضی سے نکل کر اپنے حال پر بات کرے اور اس کو اچھا کرنے کی کوشش کرے تو ماضی کا مطالعہ ضروری ہے مگر ماضی میں رہنا ضروری نہیں ہے۔ آج کا انسان جو کچھ کرنے سے قاصر ہے وہ صرف اور صرف ماضی کی واقفیت کو اپنا طرہ امتیاز سمجھتے ہوئے پرانی چیزوں کو اپنے لحاظ سے اور اپنے حالات کے مطابق ڈھالنے میں مگن ہے۔ اس کے علاوہ وہ ماضی کے تمام علوم اور حکمت کو اکٹھا کرنے میں لگا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے انسان کا دنیا کے علوم میں کوئی خاص حصہ نہیں ہے۔

ماضی کو عذاب بھی کہا جاتا ہے اور بوجھ بھی۔ دونوں صورتوں میں آپ کا حال اچھا نہیں ہو سکتا۔ اپنے حال کو بہتر بنانے کے لئے اپنی طاقت صحت اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمیں بہت کچھ واضح طور پر اور غیر معمولی کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔

اس ساری بحث سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ ماضی کے اندر اتنی صلاحیت ہے کہ وہ آج بھی زندگی کرنے کے لیے کافی ہے مگر جدت اور احیاء ممکن نہیں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم جدت اور احیاء بھی ماضی سے اخذ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کیا ہمارا حال ٹھیک ہے یا نہیں۔ اس کو جانچنے کے ہم ماضی کی کسوٹی استعمال کرتے ہیں جو کہ میرے خیال میں غلط ہے۔ ماضی انسان کو طاقت فراہم کرتا ہے معذور نہیں بناتا۔

اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا حال اچھا ہے یا آپ کچھ اچھا کر رہے ہیں تو آپ کو ماضی میں کوئی دلچسپی نہیں رہے گی یا یوں کہیے کہ جب انسان ماضی میں دلچسپی لینا چھوڑ دے تو سمجھ جاؤ کہ وہ کچھ اچھا کر رہا ہے۔ میرے خیال میں اس کسوٹی کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں اپنے حال کو پرکھنا چاہیے۔ اس کے برعکس ہم سب کی دلچسپی ماضی اور ماضی کو کریدنے میں ہے۔ نتیجتاً ہم حال سے مایوس ہو کر اپنا حافظہ چھن جانے کی دعائیں کرتے ہیں۔

سوچئے کہ ہمیں ماضی میں زیادہ دلچسپی ہے یا موجود میں؟ کیا ہم اپنا کام کر کے اطمینان محسوس کرتے ہیں یا نہیں؟ اگر تو ان سوالوں کے جوابات منفی میں تو ہم سراسر گھاٹے میں ہیں اور گھاٹا بھی وہ جس کا ہمیں ادراک تک نہیں۔ آئیے اپنی روش بدلیں۔ اپنی سوچ کے زاویے بدلیں اور اپنی تمام تر توانائیاں اپنے حال کو ماضی کے آئینے میں اچھا کرنے پر صرف کریں۔ اگر ایسا نہیں کرتے تو یاد ماضی عذاب بنی رہے گی۔

Facebook Comments HS