چڑیاں کیوں غائب ہو رہی ہیں؟
پہلی کے قاعدے میں جب ”چ“ سے چڑیا پڑھتے تھے تو تصویر دیکھ کر سمجھنے میں بڑی آسانی ہوتی تھی کیونکہ ہر جانب چڑیوں کا شور، چہچہاہٹ اور ان کی اُڑان نظر آتی تھی پھر چڑیا اور چڑے کی بے شمار کہانیاں اور نظمیں بھی نصاب کا حصہ تھیں۔ ہماری مائیں اپنے بچوں کو زیادہ تر چڑیوں کی کہانیاں اور نظمیں ہی سناتی تھیں، چڑیا کی اس کے بچے سے مثالی محبت کی داستان بچے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتی تھی۔ یوں بچوں میں چڑیا اور چڑیا کے بچے سے محبت شروع سے ہی ذہن میں بیٹھ جاتی ہے۔ چڑیا کی تصاویر اور ان کی مشابہت کے کھلونے بچے آج بھی پسند کرتے ہیں کیونکہ اسے گھریلو پرندہ سمجھا جاتا تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ بے شمار چڑیاں ہمارے ماحول کا حصہ ہوا کرتی تھیں اور اس معصوم اور بے ضرر سے پرندے کی چہچہاہٹ سے زندگی کا احساس ہوتا تھا۔
خاص طور پر صبح کے وقت اور رات سے قبل ان کی موجودگی اور شور محسوس کیا جاسکتا تھا جو کانوں کو بے حد بھلا لگتا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ اللہ کی یہ مخلوق اپنے رب کی حمد و ثنا اور تسبیح میں مصروف ہے۔ پہلے ہمارے گھروں کی منڈیروں، چھتوں، درختوں سے ان کی آوازیں اور چہچہاہٹ سنائی دے جاتی تھی۔ گھروں میں چڑیوں کے گھونسلے بچوں اور بڑوں کی توجہ کا مرکز ہوتے تھے۔ ان چڑیوں کو بڑی محبت سے پالنا بچوں کا شوق ہوتا تھا۔ ان کے لیے دانہ اور پانی رکھنا ثواب سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے پنجاب میں تو آج بھی اپنی پیاری اور لاڈلی بیٹیوں کو معصومیت کی وجہ سے چڑیوں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور بیٹی کی رخصتی کے ایک مشہور لوک گیت میں ان جذبات اور محبت کی عکاسی خوب نظر آتی ہے۔
ساڈا چڑیاں دا چنبہ وے بابل اساں اُڈ جاناں۔
رفتہ رفتہ کم ہوتی یہ چڑیاں نا جانے کہاں کوچ کرتی جا رہی ہیں۔ شہروں کے پکے گھروں میں تو یہ چڑیاں کبھی کبھار ہی دکھائی دیتی ہیں البتہ دیہات میں درختوں اور کھیتوں میں آج بھی موجود ہوتی ہیں۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے۔ یہ اب کیوں نظر آنا بند ہو چکیں ہیں؟ ان چڑیوں کی یہ بیٹھک اب بجلی کے کھمبوں اور تاروں پر بھی کیوں ہوتی دکھائی نہیں دیتی پرندوں کے وہ جھنڈ کے جھنڈ آخر کہاں چلے گئے؟ صبح و شام کی چہچہاہٹ کہاں گم ہو گئی ہے؟
کہیں یہ ہم سے روٹھتی تو نہیں جا رہی ہیں؟ ماہرین کے مطابق درختوں کی کمی اور ان کی کٹائی، زرعی ادویات کا استعمال، ٓالودگی، پکے مکان اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث ان کے مسکن متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ہمارے ملک میں شکار اور خوش خوراک لوگوں کا ان کو بطور خوراک استعمال کرنا بھی ان کی کمی کا باعث بنا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ایسی ہیں جو ان کی نشو و نما میں رکاوٹ بن چکی ہیں۔ یہ پرندے ہماری فصلوں کے دشمن کیڑے مکوڑے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور زمین کا ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے والا پرندہ سمجھا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں چڑیا کو ماحول دوست، معصومیت، امن، محبت و پیار، محنت، غربت اور شاید مظلومیت کی بھی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس حوالے سے بیس مارچ کو انسان دوست پرندے گھریلو چڑیا کی حفاظت کا دن بھی کہا جاتا ہے جس کا مقصد گھریلو چڑیا اور ان کے شہری ماحول پر اثرات کا شعور اجاگر کرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں گھریلو چڑیوں کے بارے مین عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا انعقاد، اخبارات میں اس دن کی اہمیت پر مضامین اور اس بارے میں کارکردگی پر ایوارڈز دیے جاتے ہیں۔
دنیا صرف بھانت بھانت کے انسانوں اور حیوانوں سے ہی نہیں عجیب و غریب، رنگ برنگ اور خوبصورت پرندوں سے بھی بھری پڑی ہے۔ انہیں میں ایک یہ چھوٹی سی گھریلو چڑیا بھی ہے جس کی ہزاروں اقسام پوری دنیا میں پائی جاتی ہیں لیکن پاکستان میں ان کی ایک مخصوص قسم بہت مقبول ہے جو پہلے تو گھروں کا حصہ ہوا کرتی تھی لیکن اب المیہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں ان چڑیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہوتی چلی جا رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں کل پرندوں کی تعداد اندازہ ”پچاس ارب کے قریب ہے۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں اس وقت پرندوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ نسلوں پر مشتمل ہیں جن میں سے سینتیس سے زیادہ نسلوں کو اپنی زندگی بچانے کے لالے پڑ چکے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں چڑیوں کی تعداد اسی فیصد تک کم ہو چکی ہے جس سے ماحولیاتی توازن بھی بگڑتا چلا جا رہا ہے جو بقا انسانی کے لیے بھی خطرہ بنتا چلا جا رہا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق ٹریفک کا شور پرندوں اور دیگر جانوروں کی مختلف صلاحیتیں متاثر کرتا ہے جس میں خوف کے باعث پرندوں کی خوراک تلاش کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ کہتے ہیں۔ روشنی اور شور سے چڑیوں کے گانے اور نغمے بھی ماند پڑتے جا رہے ہیں۔ کرونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے شور میں کمی ہونے کے سبب پرندوں کے گانے اور چہچہانے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شور میں کمی سے ان کی افزائش میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ہر سال گھریلو چڑیا کا عالمی دن بیس مارچ کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد اس معصوم پرندے کی بقا اور حفاظت کہلاتا ہے کیونکہ بدقسمتی سے یہ چھوٹا سا پرندہ رفتہ رفتہ غائب اور نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ تمام پرندوں سے محبت کرنے والوں کو ان کو بچانا چاہیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے براہ مہربانی اس ننھی سی چڑیا کو بچائیں۔
یاد رہے کہ چڑیوں کی نسل معدوم ہونے کی ایک سماجی وجہ پرندوں کا شکار اور لوگوں کے چڑے کھانے کا شوق بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے شکاری حضرات زندہ چڑیاں پکڑ کر فروخت بھی کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر چڑیا کا عالمی دن اس بات کا متقاضی ہے کہ دنیا بھر میں اس ماحول دوست پرندے کی بقا اور افزائش کا شعور بیدار کیا جائے اس کے شکار سے اجتناب برتا جائے اور ان کی کمی سے پیدا ہونے والے نقصانات سے لوگوں کو باخبر رکھا جائے۔ اس سلسلے میں صرف حکومتی سطح پر ہی نہیں بلکہ سماجی تنظیموں اور فلاحی اداروں کو بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا جب کہ سب بڑی ذمہ داری ہمارے پرنٹ اور سکرین میڈیا کی بھی بنتی ہے کہ وہ لوگوں تک اس موقع پر یہ پیغام پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں کہ ایسے پرندے انسانی بقا کے لیے بے حد ضروری ہوتے ہیں۔
ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے کیونکہ ان پرندوں کی بقا ہماری زمین کی خوبصورتی اور حسن ہی نہیں انسانی زندگی کے لیے بہترین ماحول کی ضمانت بھی ہوتی ہے۔ شجر کاری اور زیادہ سے زیادہ جنگلات میں اضافہ ان کی افزائش کے لیے بے حد اہم ثابت ہوتے ہیں۔ یہ چڑیاں رفتہ رفتہ ہمیں چھوڑ رہی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ کہنا پڑے کہ بہت دیر ہو گئی ”اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔“ ۔

