ڈیمنشیا
صالحہ خاتون کو ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر رہنے لگا تھا، موٹاپے کی وجہ سے وہ بہت زیادہ کام کاج کرنے کے قابل نہیں رہی تھیں، مگر سب سے بڑی تبدیلی ان کے مزاج میں آئی تھی۔ بعض اوقات وہ انتہائی غیر معقول رویہ اختیار کر لیتی تھیں، ان کی بے جا ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے گھر والوں کو بھی بہت سارے مسائل کا سامنا تھا۔ ان کی یاداشت کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ اکثر وہ کھانوں میں مصالحوں کا تناسب بھول جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ ملنے ملانے کے معاملات میں بھی انہوں نے لوگوں سے گریز شروع کر دیا تھا۔ اس عجیب و غریب صورتحال میں یہ سمجھ سے بالاتر تھا کہ کیا کیا جائے مگر تمام علامات ڈیمنشیا کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔
ڈیمنشیا دماغ کی بیماری کے لیے ایک ایسی کل جہتی ہے جس میں فوکس کی کمی، یاداشت کے ختم ہونے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں پر شدید اثر انگیزی کو کہتے ہیں۔ ڈیمنشیا بہت سی دوسری بیماریوں اور چوٹوں کی وجہ سے جو کہ دماغ کو متاثر کریں، بھی ہو سکتی ہے۔ اس میں ایک انسان کو یاد کرنے، فیصلہ لینے اور سوچنے سمجھنے میں مشکل پیش اتی ہے۔ کچھ لوگ اس بیماری کو الزائمر کے ساتھ ملا دیتے ہیں مگر الزائمر کا تعلق بڑھاپے سے ہوتا ہے۔ اگر مریض کا بلڈ پریشر ہائی رہے، ذیابیطس زیادہ رہے، موٹاپا ہو، سگریٹ نوشی ہو، کسی قسم کا نشہ ہو، جسمانی کام نہ کیے جائیں، معاشرتی طور پر تنہائی پسند ہو، کسی قسم کا ڈپریشن یا اینگزائٹی ہو تو ڈیمنشیا میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید ابتری آجاتی ہے۔
علامات/Symptoms
ڈیمنشیا کی علامات مندرجہ ذیل ہیں :
1۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں میں بتدریج کمی آنا
2۔ عقل و شعور کی صلاحیتوں میں بدلاؤ آنا
3۔ روز مرہ کے روٹین کے کام نہ کر پانا
4۔ اپنی صلاحیتوں کو خود مختار طریقے سے استعمال نہ کر پانا
5۔ یاداشت کم ہونا یا کھو جانا / short term memory loss
6۔ لین دین کے معاملات میں مشکل پیش آنا
7۔ بل ادا کرنے کے معاملات میں مشکل کا پیش آنا
8۔ کھانا پکانے کے دوران مصالحوں اور دیگر چیزوں کے تناسب میں مشکل پیش آنا
9۔ خصوصی میٹنگز یا اپوائنٹ منٹ کو بھول جانا
10۔ زبان کے استعمال میں بدلاؤ آنا
11۔ مستقل مزاج نہ ہونا
12۔ بار بار اپنے سوال یا بیان کو دہرانا اور جلد بھول جانا
13۔ اپنی چیزوں کو کھو بیٹھنا
14۔ دن، تاریخ، سال، موسم کو بھول جانا
15۔ صحیح الفاظ کا چناؤ کرنے میں مشکل پیش آنا
16۔ توجہ قائم کرنے یا یکسوئی میں مشکل پیش آنا
وجوہات/Reasons
1۔ ڈیمنشیا کی سب سے بڑی وجہ ایک ایبنارمل دماغی تبدیلی ہے۔ نیورون سیلز میں کسی قسم کے بدلاؤ، خرابی یا کوئی نقصان پہنچنا جس سے وہ صحیح طریقے سے رابطہ نہ کر سکیں۔
2۔ B 6، B 12، وٹامن ای، کی جسم میں کمی سے ڈیمنشیا جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔
3۔ اگر جسم میں کسی قسم کی انفیکشن ہو مثلاً ای آئی وی یا یو ٹی آئی وغیرہ تو اس کی وجہ سے بھی نروس سسٹم میں بدلاؤ ممکن ہے جو کہ ڈیمنشیا کی وجہ بن سکتا ہے۔
4۔ بعض اوقات کچھ دوائیوں کے سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے بھی ایسا ہو سکتا ہے مثلا:
anti-anxiety drugs, antidepressants drugs & sleeping pills, etc.
5۔ دماغ میں کسی قسم کی رسولی ہونے کی صورت میں بھی ڈیمنشیا ہو سکتا ہے۔
Diagnosis:
1. Laboratory test
2. Imagine test e.g. CT, MRI
3. FDG-PET Scan
4. Neuro cognitive testing
5. Psychiatric evaluation
بیماری کا پھیلاؤ/Prevalence Rate
یہ بیماری 25 سے 30 سال سے اوپر کے لوگوں میں نظر آتی ہے اور اس کی شرح 3 فیصد ہے۔ ہر تین میں سے ایک کو اپنی زندگی میں یہ ذہنی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت تقریباً دنیا بھر میں 5.5 کروڑ لوگوں کو یہ مسئلہ درپیش ہے اور ہر سال 1 کروڑ مزید کیسز سامنے آرہے ہیں۔
پرہیز اور علاج/Management
ڈیمنشیا کے علاج کے لیے دوا کے ساتھ ساتھ صحت مندانہ لائف سٹائل کو اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کونسلنگ تھیراپیز سے بھی بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔
(نوٹ: تمام نام فرضی ہیں، کسی بھی قسم کی مماثلت اتفاقی ہو سکتی ہے )


Informative article worth reading