پھر ذکر کریں لاہور کا


شیام چڈھا نے منٹو سے درست ہی کہا تھا کہ لاہور وہ محبوبہ ہے جس کی گلیوں نے ہمیں عشق کرنا سکھایا تھا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ شیام چڈھا منٹو کا یار غار ہندی فلموں کا معروف ہیرو تھا جو عین شباب جوانی میں فلم کی شوٹنگ کے دوران گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے مر گیا۔ جی یہ وہی شیام چڈھا ہے جسے معروف اداکارہ ساحرہ کاظمی کا والد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ نہرو نے بھی تو ایسے ہی نہیں کہا تھا کہ اس ہندوستان کا کیا تصور کریں جس میں لاہور شامل نہ ہو۔

اسے آگے بڑھاتے ہو میرے ایک عزیز دوست خالص تاریخی تناظر میں کہا کرتے ہیں کہ لاہور دے کر انگریزوں نے اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کیا کے آخر پاکستان کو کچھ تو دے رہے ہیں۔ میں ان کی اس بات کو اس وقت تک شک کی نگاہ سے دیکھتا رہا جب تک میں نے مُلا واحدی کی مختصر تصنیف ”دلی کا پھیرہ“ نہیں پڑھی تھی۔ مُلا جب 1958 میں، اکتوبر 1947 میں دلی چھوڑنے کے گیارہ برس بعد ، پھر دلی گئے تو براستہ لاہور گئے۔ لاہور میں آتے اور جاتے ہوئے مختصر قیام کیا۔

لاہور کے اس قیام نے انھیں اتنا متاثر کیا کہ انھوں نے اس بات پر پچھتاوے کا اظہار کیا کہ دلی کے بعد زندگی لاہور میں ہی کیوں نہ بتائی۔ انھیں لاہور شہر، اس کے لوگ اور اردو زبان کے لیے اس کی خدمات اتنی پسند آئیں کہ انہوں نے بقول میرے ایک اور دوست تعریفوں کے پل باندھ دیے ہیں۔ ملا دوسرے شہروں بشمول کراچی کو لاہور جیسا ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔

شیام چڈھا سے مُلا واحدی تک اور اس سے کہیں پہلے اور بعد کون کافر ہے جو عشق لاہور میں مبتلا نہیں ہوا۔ سلاطین دہلی میں سے کتب الدین ایبک یہیں برسوں سے منوں مٹی تلے سو رہا ہے۔ مغل دارالحکومت تو بدلتے رہے مگر ان کا لاہور سے عشق کبھی نہیں بدلا۔ اکبر آگرہ اور فتح پر سیکری کو غیر معمولی اہمیت دیتا بھی تھا اور دینا بھی چاہتا تھا مگر چودہ سال تک اس نے دلی سے پہلے لاہور کو اپنا دارالحکومت بنائے رکھا۔ یہ قلعہ لاہور اسی زمانے کی تو تعمیر ہے۔

لاہور میں اکبر کا لمبا قیام سیاسی اور دفاعی ضروریات تو لیے ہوئے تھا ہی، مگر کیا اس میں لاہور کی اپنی طرف کسی کو بھی کھینچ لینے کی صلاحیت شامل نہیں ہوگی۔ آپ ہندستان کی نئی پرانی سیاسی، سماجی اور جغرافیائی تاریخ جس کی بھی پڑھیں، آپ کو لاہور کا ذکر ضرور ملے گا۔ تقسیم کی تاریخ اور اس سے متعلق کہانیاں پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جن شہروں کے چھوڑنے والوں نے جس شہر کا سب سے زیادہ نوحہ لکھا ہے ان میں لاہور سب سے اوپر ہے۔ لاہور کی غیر مسلم آبادی اور دلی کی مسلم آبادی آخری وقت تک اپنے شہروں میں بسے رہنا چاہتی تھیں۔

لاہور میں کیا واقعی کوئی خاص بات ہے؟ میں برسوں پہلے خورشید قصوری صاحب کی کتاب کی رونمائی میں موجود تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ایک بنگالی صاحب تھے جو بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کے بڑے عہدے سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد سنگاپور میں کسی بین الاقوامی ذمہ داری پر تھے۔ وہ ساٹھ کی دہائی میں سول سروس تربیت کے سلسلے میں لاہور میں رہ چکے تھے۔ اپنی تقریر میں کہنے لگے میں برسوں بعد لاہور آیا ہوں، رات میزبان میری خواہش پر مجھے لاہور گھماتے رہے۔

میں تو ساٹھ کی دہائی کے لاہور کی وجاہت سے پہلے ہی مرعوب تھا، اب لاہور کو دیکھ کر مجھے لگا کہ لاہور کی وجاہت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ عزیزی، لاہور میں وہ خاص بات ہے جو کسی اور شہر میں نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ دارا اگر شاہجہاں کے بعد حاکم بنتا تو لاہور اس کا دارالحکومت بنتا۔ آخر کو اس کے دادا اور دادی بھی تو لاہور کے پہلو میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔

ویسے تو لاہور پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں بڑے مصنف کے قلم سے نکلی تازہ تارڑ صاحب کی ”لاہور آوارگی ہے“ ۔ اس نے پرانے لاہور کو موضوع بنایا ہے۔ نام کے اعتبار سے گوپال متل کی ”لاہور کا جو ذکر کیا“ سب سے اچھی لگتی ہے مگر اس کے مندرجات میں لاہور کا کم اور تقسیم سے پہلے لاہور میں بسنے والے ادیبوں، صحافیوں، سیاستدانوں اور تاجروں کا ذکر ہے۔ کتاب دلچسپ ہے مگر اس میں سے لاہور کا ذکر ڈھونڈنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ”چار آدمی“ اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ وہ عہد فرنگی میں تعمیر ہونے والے لاہور کا ذکر تفصیلاً اور باقی کا اجمالاً کرتی ہے۔ وہ مختار مسعود نے ”حرفِ شوق“ میں لکھا ہے نا کہ جب اس نے ریٹائرڈ منٹ کے بعد لاہور میں سکونت کا فیصلہ کیا تو اس کے افسر شاہی کے دوست بہت حیران ہوئے کہ اسلام آباد شہر اقتدار سے باہر تمھیں کیا ملے گا۔

اس کا لاہور کو ترجیح دینے کا فیصلہ لاہور کے مرکز تہذیب و تمدن و ثقافت ہونا تھا۔ میں اسلام آباد رہا تو نہیں مگر گیا کئی مرتبہ ہوں، میرا تاثر یہ ہے کہ جس شہر کا سبزہ مصنوعی، کھردرا اور بدبودار ہو وہ لوگوں پر کہاں کوئی اچھا اثر چھوڑتا ہو گا۔ اس روز ایک اہل علم سے میں نے پوچھا کہ لاہور اور کراچی کی تو ایک تہذیب و ثقافت ہے، کیا اسلام آباد کی بھی کوئی تہذیب و ثقافت ہے؟ کہنے لگے میاں وہ شہر جو موقع پرستی کی آماجگاہ ہو جہاں لوگ مسافروں کی طرح نوکری کرنے جاتے ہوں اس کی کیا تہذیب ہوگی اس کی کیا ثقافت ہوگی۔ البتہ وہاں تمھیں بہت سی تہذیبوں کے نمائندے ضرور نظر آ جائیں گے۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی، آئیے پھر لاہور کا ذکر کریں۔ لاہور کا ذکر کرنے کے لیے اسے مختلف ادوار میں تقسیم کرنا چاہیے۔ جیسے مغلیہ عہد سے پہلے کا لاہور، مغلیہ عہد کا لاہور، سکھ عہد کا لاہور، فرنگی عہد کا لاہور اور پھر پاکستانی عہد کا لاہور۔ پاکستانی عہد کا لاہور میرے لیے دو حصوں میں تقسیم ہے ؛ 1987 تک کا لاہور جب ہم نے لاہور میں سکونت اختیار کی اور پھر اس کے بعد سے آج تک کا لاہور۔ مغلیہ عہد سے پہلے کا لاہور بھی ایک بڑا اور قابل ذکر شہر تھا۔

قطب الدین ایبک، سلطان ہند، کا یہاں ہونا اور لاہور کے بے تاج بادشاہ سید عثمان بن علی ہجویریؒ کا یہاں ہونا ہی اس کا ثبوت ہے۔ یہ لاہور بھی وہیں تھا جہاں مغلیہ عہد کے لاہور نے ترقی کی۔ مغل عہد میں لاہور نے ہر لحاظ سے غیر معمولی ترقی کی۔ مغل عہد کی عمارتیں جگہ جگہ لاہور کی لازوال وجاہت میں اضافہ کر رہی ہیں۔ پھر مغلوں نے لاہور کی تہذیب و تمدن کو جس طرح بڑھایا اس کو پھر کبھی زوال نہیں آیا۔ مختصر مدت کے سکھ عہد نے بھی لاہور کو بہت کچھ دیا بھی اور اس سے بہت کچھ لیا بھی۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے مورخین نے رنجیت سنگھ اور سکھ عہد کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا۔ سکھ بھی لاہور کے بڑے عشاق میں شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کے ہاں لاہور کو ایک تقدس بھی حاصل ہے۔

سکھ عہد تک کا لاہور آپ کو قلعہ لاہور سے ایک طرف راوی تک، دوسری طرف شالامار باغ کی طرف اور تیسری طرف گوالمنڈی تک چلا آتا ہے۔ درمیان میں کئی بستیاں اور باغات بھی تھے جو بعد ازاں لاہور کے محلوں اور دوسری عمارتوں میں ڈھلتے گئے۔ فرنگیوں نے بھی لاہور پر کچھ کم توجہ نہیں دی۔ جدید لاہور میں اگر مال روڈ اور نہر نہ رہیں تو پیچھے کیا بچے گا۔ نہر، مال روڈ اس کی عمارتیں اور ماڈل ٹاؤن عہد فرنگی کے لاہور کو بڑے تحفے ہیں۔

یہ لاہوریے ایسی مخلوق ہیں کہ یہ ہر دور میں لاہور کے تہذیبی اور ثقافتی حسن کو اس کی عمارتوں اور سڑکوں کی طرح بڑھاتے ہی رہے ہیں۔ میرے نزدیک ہر وہ شخص جو لاہور میں رہ گیا، چاہے وہ کہیں کا بھی تھا، وہ لاہور یا ہو گیا۔ جو بھی لاہور میں رہ گیا وہ لاہور میں جذب ہو گیا اور لاہور اس میں جذب ہو گیا۔ لاہور بیک وقت محبوب بھی ہے اور محب بھی۔

عہد فرنگی کا لاہور ایک طرف چوبرجی کی طرف بڑھتا ہوا کریم پارک، کرشن نگر، سنت نگر، شام نگر کا اضافہ کرتا گیا اور دوسری طرف فیروز پور روڈ پر نہر اور ماڈل ٹاؤن کی طرف کئی آبادیوں کی داغ بیل ڈال گیا۔ فرنگی عہد نے تیسری طرف صدر اور چھاؤنی کے علاقے کو بڑھایا۔ لاہور کو ریلوے کالونین اصر باغ، لارنس باغ، جم خانہ، ریس کورس پارک اور کئی دوسرے باغات اور تعلیمی ادارے دیے۔

پاکستانی عہد کا لاہور چوبرجی سے آگے سمن آباد سے ہوتے ہوئے اقبال ٹاؤن تک آ پہنچا۔ دوسری طرف فیروز پور روڈ سے ہوتا ہوا شادمان کو ساتھ لیے گلبرگ تک جا نکلا۔ پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس لاہور کے پھیلاؤ کے لیے نشان منزل ثابت ہوا اور پھر لاہور نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اب اگر دقت نظر سے دیکھیں تو جامعہ پنجاب لاہور کا مرکز ہے اور لاہور اس کے اردگرد تا حد نظر پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ لاہور کے وسعت قلب کو قدرت نے اس طرح قدر کی نگاہ سے دیکھا کہ اسے ہر دور میں عشق کرنے والے خادم دستیاب ہوتے رہے، وہ اکبر ہو، نورجہاں ہو، شاہجہاں ہو، دارا ہو، اورنگزیب ہو، رنجیت سنگھ ہو، گنگا رام ہو یا شہباز شریف ہو۔ اچھائی کا بدلہ اچھائی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔

ہم جب لاہور آ بسے تو ہمارا قیام 1987 سے لے کر 2003 تک پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں رہا، اور پھر بعد میں تاحال اس کے پہلو میں مقیم ہیں۔ ہم نے یہاں سے لاہور کو آگے بڑھتے دیکھا ہے، ہم آئے تو اقبال ٹاؤن اور فیصل ٹاؤن مکمل ہو رہے تھے۔ اس وقت شاہ دی کھوئی آخری سٹاپ ہی تھا۔ ٹھوکر نیاز بیگ جانا ایسے ہی تھا جیسے بہت دور جانا، اور اب تو بحریہ ٹاؤن جانا بھی ایسے ہی ہے جیسے یہاں وہاں جانا۔ سارا جوہر ٹاؤن ہم نے اپنے سامنے بنتے ہوئے دیکھا ہے۔ نئے ٹرانسپورٹ کے نظام نے بے حد پھیلے ہوئے لاہور کو اب سب کی دسترس میں دے دیا ہے۔ میں نے لاہور کیسے ڈھونڈا اس کا تذکرہ پھر سہی۔ مگر ایک بات ہمیں ماننا ہو گی کہ ہر دور میں بڑھتے ہوئے لاہور کی وجاہت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔

Facebook Comments HS