کیا آپ دانشور شاعر احمد فقیہ کو جانتے ہیں؟
ایک شام ایک اجنبی کا محبت بھرا پیغام آیا۔ لکھا تھا
میرا نام اعجاز احمد ہے۔ میرے انکل احمد فقیہ نے آپ کے لیے ایک ادبی تحفہ بھیجا ہے۔
اعجاز احمد میرے کلینک تحفہ دینے آئے تو ایک پیالی میں اپنے باغ کی چند موتیے کی کلیاں بھی دے گئے۔ ان کلیوں کی خوشبو نے میرے کلینک اور میرے دل کی فضا کو معطر کر دیا۔
احمد فقیہ کے تحفے کا بیگ کھولا تو اس میں سے ان کے تین شعری مجموعے نکلے
کوشش ناتمام (نظمیں غزلیں )
کانٹے دل یزداں میں (کلیات قطعات)
دل درویش کی دولت (نظمیں۔ غزلیں )
میں نے سوچا ایک شاعر کا دوسرے شاعر کو اس سے بہتر تحفہ کیا ہو سکتا ہے۔
پچھلے پچاس برسوں میں اردو کے جتنے شاعروں سے میری ملاقات ہوئی ہے میں انہیں دو گروہوں میں بانٹ سکتا ہوں
پہلا گروہ ان شاعروں کا ہے جو مشاعرے لوٹنے کے لیے شاعری کرتے ہیں۔ ان کے کانوں کو واہ واہ اور مکرر مکرر کی آوازیں بہت سریلی لگتی ہیں اور پری رخوں کو آٹوگراف دینا ان کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔ ایسے شاعر فیس بک اور سوشل میڈیا پر اپنی شاعری تواتر سے پیش کرتے ہیں تا کہ ان کی شہرت کی گونج دنیا کے چاروں کونوں میں سنائی دے۔
دوسرا گروہ ان شاعروں کا ہے جو مرزا غالب کی طرح ستائش کی تمنا اور صلے کی پرواہ کیے بغیر شعر لکھتے رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد شہرت اور مقبولیت نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے مسائل کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کرتے ہیں اور جب ان مسائل کا حل تلاش کر لیتے ہیں تو اپنے خیالات اور نظریات کو اپنی شاعری میں پیش کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ
شاعری جزو ایست از پیغمبری
میں ایسے شاعروں کو دانشور شاعر کہتا ہوں۔ احمد فقیہ بھی اردو کے ایسے ہی شاعروں میں سے ایک دانشور شاعر ہیں۔
احمد فقیہ نے جب پاکستان پر آمریت کے گہرے بادل چھاتے دیکھے تو اس کے خلاف احتجاج کیا۔ جب مصلحت پسند شاعروں نے آمروں کے لیے حرف اقرار لکھا اس دور نے احمد فقیہ نے حرف انکار رقم کیا اور پھر اس حرف انکار کی بھاری قیمت ادا کی۔
احمد فقیہ اس شہر کے باسی تھے جس کے بارے میں بخش لائلپوری نے لکھا تھا
ہمارا شہر تو چھوٹا ہے لیکن
ہمارے شہر کا مقتل بڑا ہے
جب اپنے ہی شہر میں ان کا دائرہ حیات تنگ ہونے لگا تو انہیں پاکستان سے ہجرت کر کے سویڈن میں سیاسی پناہ حاصل کرنی پڑی۔
احمد فقیہ کے حرف انکار اور آمریت سے بغاوت کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین کے دو اشعار یاد آ رہے ہیں فرماتے ہیں
تم دربار کے پروردہ ہو ہم پیکار کے رسیا ہیں
تم کیا جانو سر کٹوانا ہم کیا جانیں سر کا خم
زہر کو امرت لکھ نہ سکیں گے ہاتھ قلم ہر چند کرو
اپنا فن ہے حسن صداقت فن کی امانت اپنا قلم
احمد فقیہ نوجوانی سے ہی بائیں بازو کی سیاست اور طبقاتی جدوجہد سے جڑے رہے اور معاشرے میں امن اور انصاف کے خواب دیکھتے رہے۔
وہ اپنے نظریہ حیات کے بارے میں
کوشش ناتمام
کے دیباچے میں رقم طراز ہیں
” معاشرتی غربت اس وقت وجود پذیر ہوتی ہے جب سماج اپنی اجتماعی کوششوں سے پیدا کردہ پیداوار کی تقسیم طبقاتی بنیادوں پر شروع کر دیتا ہے یعنی غربت اس سماجی اونچ نیچ کا شاخسانہ ہوتی ہے جب معاشرہ اجتماعی محنت سے حاصل شدہ“ دولت ”کو طاقتور گروہوں اور کمزور طبقوں کے درمیان الگ الگ پیمانوں اور طریقوں سے تقسیم کرنے لگتا ہے“ ۔
اسی لیے جن میری ان سے سویڈن میں ملاقات ہوئی تو وہ روس میں کمیونزم کے نظام کی شکست سے بہت دکھی دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے جب مجھ سے میرے فلسفہ حیات کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ
میں ایک ہیومنسٹ ہوں میری نگاہ میں روس میں کمیونزم کے سیاسی نظام کی ناکامی کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مارکس کے نظریے کی ناکامی ہے۔ میں نے عرض کی سکنڈینیوین ممالک اور کینیڈا کا سوشلسٹ نظام جہاں ملک کے عوام و خواص تمام شہریوں کو مفت علاج اور ان کے بچوں کو مفت تعلیم ملتی ہے یہ مارکس کے نظریات کا ہی فیضان ہے۔
جب میری احمد فقیہ سے ملاقاتیں ہوئیں تو میں ان کی شخصیت اور شاعری دونوں سے بہت متاثر ہوا۔ وہ ایک محبت بھرا دل اور ذہانت بھرا دماغ رکھتے ہیں۔ وہ ساری عمر اپنے آدرشوں کے لیے مسکراتے ہوئے قربانیاں دیتے رہے۔ ایسے لوگ اب آہستہ آہستہ نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوتے جا رہے ہیں۔
سویڈن کی ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ جب پاکستان سے شاعروں کے اعزاز میں دیار غیر میں ایک مشاعرے کا انتظام و اہتمام کیا گیا تو انہوں نے اس مشاعرے میں مندرجہ ذیل غزل پڑھی جو ان کے دکھی دل کے احساسات کی ترجمانی کرتی ہے۔
سروں پہ گرد ہے چہروں پہ زرد سائے ہیں
یہ کون لوگ ہیں کن راستوں سے آئے ہیں
یہ کربلا کے مسافر نہیں مگر پھر بھی
وطن سے شام غریباں کی یاد لائے ہیں
میں داد دوں کہ گلہ مصلحت کا کروں
جو لوگ کوچہ قاتل سے بچ کے آئے ہیں
ہے بوئے خون رفیقاں لباس میں ان کے
جو قاتلوں سے بغلگیر ہو کے آئے ہیں
سیاہیوں میں گھرا ہے تمام شہر فقیہ
اگرچہ ہم نے بہت اپنے گھر جلائے ہیں
احمد فقیہ کی شخصیت نے پچھلی چند دہائیوں میں نفسیاتی اور سیاسی طور پر ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ یہ سفر ایک باغی سے ایک درویش ہونے کا سفر ہے۔ یہ سفر روایت سے بغاوت اور بغاوت سے دانائی کا سفر ہے۔
اس سفر میں ان پر منکشف ہوا کہ ہر طور کی نظریاتی ملائیت چاہے وہ دائیں بازو کی ہو یا بائیں بازو کی وہ انسانیت کے لیے مضر ہے ان کی ایک مختصر نظم کا عنوان ہے
دانش کی موت
( ہر نوع کی نظریاتی ملائیت کے نام
بہت گہرا سمندر تھا
وہ بس
ایک بوند پانی لے کر لوٹ آیا
کہ اس کا ظرف اتنا تھا
مگر اترا رہا ہے جس طرح
سارا سمندر اس نے اپنے
حرف کے کوزے سے اگلا ہو
احمد فقیہ نے جب درویشی کو گلے لگایا تو لکھا
اوڑھ کر عشق کی ہری چادر
سرخ اینٹوں پہ سو گیا درویش
مر گئے لوگ جبہ سائی میں
زندہ انکار سے رہا درویش
دیکھ کر کل زوال شام فقیہ
مجھ سا کافر بھی ہو گیا درویش
ایک اور غزل کے دو اشعار
آسماں پر ہے اک خدا درویش
دل زمیں پر ہے دوسرا درویش
مصلحت ہو جسے عزیز فقیہ
وہ کہاں کا ہوا بھلا درویش
احمد فقیہ ایک انسان دوست شاعر ہیں وہ دنیا بھر کے دیگر انسان دوست شاعروں ادیبوں اور دانشوروں کی طرح ایسے ادوار کے خواب دیکھتے ہیں جہاں انسان رنگ نسل زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر دوسرے انسانوں کو گلے لگائیں گے اور پرامن معاشرے تعمیر کریں گے۔
احمد فقیہ روایتی انسانوں اور شاعروں کی طرح ماضی پرست نہیں ہیں وہ ایک ایسے حقیقت پسند اور روشن خیال شاعر ہیں جو پیچھے دیکھنے کی بجائے آگے دیکھتے ہیں وہ وقت اور زمانے کے راز جانتے ہیں وہ
دل درویش کی دولت
کے دیباچے میں رقم طراز ہیں
” زمانہ جو ماضی کا تسلسل ہے لیکن حال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیتا اور مستقبل کے خواب دیکھتا ہوا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے! یعنی زمانے کو بنیاد پرستی کٹر پن تقلید روایت ماضی پرستی اور اسی نوع کے کسی دیگر گارے سے بنائے ہوئے بتوں سے دور دور تک کوئی نسبت نہیں
جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہو نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا (علامہ اقبال) ”
احمد فقیہ ان شاعروں میں سے ایک ہیں جن کی شاعری دکھی دلوں کو سکھی کر دیتی ہے اور عوام کی آنکھوں میں امید کے دیے جلاتی ہے۔
مجھے ان کی شاعری اور دوستی پر فخر ہے۔


