بھک منگوں کا ہجوم


پتہ نہیں وہ کون سا وقت تھا جب لوگ ہاتھ پھیلاتے ہوئے شرماتے تھے، ڈرتے تھے یا ہچکچاتے تھے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے بڑے ہم سے اس بابت جھوٹ بولتے رہے۔ یقیناً سفید پوش لوگ ہوئے ہوں گے پر بھئی ہم نے تو نہیں دیکھے۔ اب تو اس ڈھٹائی سے مانگتے ہیں کہ ہم نہ دے کر خود کو زمین میں گڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ انارکلی بازار ہو یا مون مارکیٹ، کریم بلاک ہو یا برکت پلازہ، یا پھر شہر کا کوئی بھی سگنل۔ خیرات مانگنے والوں کا جمِ غفیر ہمیشہ کے لیے وہاں آپ کا منتظر۔ اگر آپ خدانخواستہ کسی وجہ سے یہ سعادت حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں تو بے شرم، غصیلی نگاہیں آپ کو ایسے گھورتی ہیں جیسے کہہ رہی ہوں کہ بھئی! پھر نہ کہنا کہ ہمیں تو تم نے موقع ہی نہیں دیا اپنی بخشش کا۔ دراصل تم خود اپنے لیے جہنم کا سامان کرنے پر تلے ہوئے ہو۔

مذہب، والدین اور قریبی عزیز و اقارب کی جتنی بے حرمتی ان قومی شاہراہوں اور عوامی مقامات پر ہوتی ہے، آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ اگر تو آپ خاتون ہیں اور آپ کے ساتھ دوسرا ساتھی کوئی مرد ہے تو پہلا تیر کیا ہی ہو سکتا ہے۔ ”جوڑی سلامت رہے“ ۔ دوسرا تیر ماں باپ کی صحت، بھائی، بچوں کی درازی عمر اور اگر ان دونوں دعاؤں سے بھی کچھ نہ بنے تو خدا اور رسول کے واسطے ہی کچھ دے دو۔ ہاتھ پھیلے رہ جاتے ہیں اور سگنل کی بتی ہری ہو جاتی ہے۔

ہم تو دوستوں کو ادھار دیے ہوئے پیسے واپس نہیں مانگ پاتے۔ پتہ نہیں ان میں اتنا اعتماد کہاں سے آ جاتا ہے کہ بلا جھجھک ایسے کود پڑتے ہیں کہ چائے کے ڈھابے پر پانچ منٹ بیٹھ کر کسی سے بات کرنا محال ہو جاتا ہے۔ آپ کے سامنے پڑے بن برگر پر ان کی آنکھیں ایسے ری ایکٹ کرتی ہیں جیسے آپ ان سے چھین کر کھا رہے ہیں۔ دوائی کی پرچی، گھر جانے کا کرایہ، بیٹیوں کی شادی، بچے کی بیماری، آنکھوں میں موتیا، ڈرپ ہاتھ میں تھامے ایسے ایسے کردار ملیں گے کہ آپ اسٹیج فنکاروں کو بھول جائیں گے۔

جہاں دنیا کے ہر کام میں جدت آ رہی ہے وہیں اب خیراتی مارکیٹ کے جارگنز بھی بدل رہے ہیں۔ ہاتھوں میں بیچنے کے لیے تسبیح، مسواک، ٹوپی، کھلونے، بال پین اور اسی نوعیت کی دوسری اشیاء۔ اول تو وہ آپ کو بیچ کر ہی جائیں گے (ورنہ پیراسائٹ کی طرح آپ سے چپک جائیں گے ) اور اگر آپ خدانخواستہ 10 روپے کی تھکی ہوئی پراڈکٹ 50 روپے میں خرید نہ پائیں تو گویا گناہِ کبیرہ آپ ہی کے سر۔

یہاں ہر آدمی آپ سے توقع رکھتا ہے کہ آپ اسے لازماً کچھ نہ کچھ دیں گے، جیسا کہ یہ اس کا پیدائشی حق ہو۔  من چاہی ٹِپ وصول کرنے والوں کو تو خیر چھوڑیے۔ سرِ راہ کوئی بھی آپ کو پیسے والا جان کر آپ کے دامن سے لپٹنے کی کوشش کرے گا اور آپ چھڑاتے رہ جائیں گے۔ اور اگر اسی شخص کو آپ نوکری کی آفر کریں تو وہ رفو چکر۔

مگر ہمیں ناک میں دم کرنے والے ان سب خیراتیوں سے کوئی شکوہ نہیں۔ ہمارا گلہ ان سے ہے جو سگنل پہ کھڑے اپنی گاڑی کے شیشے نیچے کرتے ہیں اور دس، پچاس کا نوٹ باہر کو اچھال کر سمجھتے ہیں کہ اپنا تو فرض ادا ہو گیا۔ اب تو گداگری ایک پوری انڈسٹری بن گئی ہے کیونکہ ہم آپ جیسے کروڑوں لوگ ان دس بیس روپیوں سے ان کا پیٹ بھر رہے ہیں۔ دو روپے کا صدقہ کون دیتا ہے؟ دس روپے کی خیرات کیا ہوتی ہے؟ کیا بیس روپے کا مڑا تڑا نوٹ کسی کی جھولی میں ڈال کر آپ پر سے تمام کبیرہ و صغیرہ گناہوں کا بوجھ گھٹ جاتا ہے؟ یا اگلے کی نسلیں گھر بیٹھ کر کھانے کے قابل ہو جاتی ہیں؟ کچھ خیال کیجیے۔ اگر تعمیری کردار ادا نہیں کر سکتے تو نہ کیجیے۔ مگر میری، اپنی نسلوں کو ہاتھ پھیلانے والا تو مت بنائیے۔ سگنل کے تیس سیکنڈ اپنا شملہ اونچا رکھنے کے چکر میں، ایک انکار سے کتراتے ہوئے آپ پوری زندگی کے لیے کسی کو ’گداگر‘ بننے کی شہ دے رہے ہیں۔ آپ کے ان خیراتی سکوں کا مطلب اگلے کو یہ باور کرانا ہے کہ ہاں بھئی! اس انڈسٹری میں ’سکوپ‘ تو بہت ہے۔

اگر بہت دل کرے تو کسی ضرورت مند کو کوئی ہنر سکھا دیجیے۔ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کروا دیجیے۔ کسی کو پڑھنے کا شوق ہو تو اس کی فیس ادا کر دیجیے۔ مگر کوشش کیجیے کہ کسی کو معذور بنانے میں آپ کا ہاتھ نہ ہو۔

ریاستی بھک منگوں کو تو رہنے ہی دیجیے۔ قصہ مختصر، پوری قوم مانگنے پہ تلی ہوئی ہے۔ فرد دوسرے فرد سے مدد چاہتا ہے، باشعور لوگ ریاست سے مدد چاہتے ہیں اور ریاست نے دوسری ریاستوں کے آگے ہاتھ پھیلایا ہوا ہے۔ ہر کوئی لینا چاہتا ہے۔ دینا نہیں چاہتا۔

Facebook Comments HS