کیا آپ نے اپنے بڑھاپے کی تیاری کر لی ہے؟
کیا آپ نے اس کی تیاری کر لی ہے؟
جب میں نے یہ سوال ایک قریبی دوست سے کیا جو ماشا اللہ ساٹھ کے پیٹے میں ہیں تو وہ گھبرا سے گئے اور کہنے لگے۔
” بھائی آپ ڈرائیں نہیں۔ پہلے ہی زندگی میں بہت مسئلے ہیں۔ آپ نے اب بڑھاپے کی تیاری کا معاملہ چھیڑ دیا“ مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔
بڑھاپا زندگی کی اٹل حقیقتوں میں سے ایک ہے۔ اگر لمبی زندگی ہے تو آپ کو کسی نہ کسی مرحلے پر بڑھاپے کا سامنا کرنا ہے، چاہے آپ اس کے لیے تیار ہوں یا نہ ہوں۔ ایک زمانہ تھا کہ انسان کی اوسطاً عمر ساٹھ سال تھی اور پاکستان میں ریٹائرمنٹ کی عمر بھی یہی تھی۔ آج کل بہتر طبی سہولیات کی وجہ سے اوسط عمر اسی سال تک پہنچ چکی ہے لیکن پاکستان میں ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال ہی ہے بلکہ اس میں بھی کمی کا سوچا جا رہا ہے۔ بہرحال حالات جو بھی ہوں، بڑھتی ہوئی اوسط عمر کے ساتھ اب بڑھاپے میں قدم رکھنے والوں کو مزید بیس سال بڑھاپے کی موثر منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ فیصلہ آپ کا ہے۔ مغرب میں اسے پیار سے ریٹائرمنٹ پلاننگ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریٹائرمنٹ پلاننگ پر توجہ دینے کی اس قدر ضرورت کیا ہے؟ اس کا جواب کچھ اس طرح ہے۔
ایک صاحب سے جب یہی سوال کیا گیا تو دہ کہنے لگے اس میں پلاننگ کی کیا ضرورت ہے۔ ہم نے بہت کام کر لیا ہے، اب فقط آرام کریں گے۔ نہ کپڑے استری کرنے کی ضرورت، نہ جوتے پالش کرنے کا مسئلہ۔ نہ ہی روزانہ شیو کرنے، کپڑے بدلنے اور تیار ہونا۔ باقی وقت اپنے شادی شدہ بچوں کے ساتھ گزاریں گے جو دوسرے شہروں میں رہ رہے ہیں۔ ایک تو امریکہ میں ہے اور کئی دفعہ بلا بھی چکا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے یہی کیا۔ آرام، آرام اور آرام۔ بستر سے صرف کھانے پینے کے لئے اٹھتے تھے۔ باقی وقت ٹی وی اور سوشل میڈیا پر گزارتے تھے۔ داڑھی بڑھی ہوئی ہے۔ کپڑے بھی تبدیل نہیں ہو رہے کہ کہیں جانا تو ہے نہیں۔ بیٹی نے لاہور بلایا تھا تو ٹال مٹول کر گئے کہ کون اتنی دور جائے۔ نتیجہ کیا ہوا، 6 مہینے میں ہاتھ پاؤں جواب دے گئے۔ صحت کا ستیا ناس ہو گیا۔ اب دواؤں پر گزرا ہے۔
ولیم گلاسر کے مطابق انسان پانچ بنیادی خواہشات ہیں۔ :ان پانچ خواہشوں میں اس کی سب سے پہلی خواہش جسمانی ہے، زندہ رہنے کی خواہش۔ اس میں سانس، کھانا، پانی، نیند، حرارت، تحفظ، اور افزائشِ نسل جیسی ضرور یات شامل ہیں۔ جسمانی خواہش کے بعد انسان کی چار نفسیاتی خواہشات محبت، طاقت، آزادی اور تفریحات ہیں۔
یہ ایک بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر لوگوں کے وسائل محدود ہو جاتے ہیں اور وہ ریٹائرمنٹ سے پہلے جس آزادی اور خود مختاری سے اپنے کام انجام دے لیتے تھے، اپنی نفسیاتی خواہشات با آسانی پورا کر لیتے تھے، ان میں ریٹائرمنٹ کے بعد خلل پڑ سکتا ہے اور خلل پڑ جاتا ہے۔ مثلاً آمدنی محدود ہو سکتی ہے، اپنی گاڑی رکھنا، چلانا اور اس کا خرچہ اٹھانا وغیرہ مسئلہ بن سکتا ہے۔ صحت خراب ہو، آمدنی کم ہو تو کسی بچے کے ساتھ رہنا پڑ سکتا ہے۔ اپنی مرضی سے کہیں آنا جانا، تفریحات اور لوگوں سے ملنے ملانے میں رکاوٹ ہو سکتی ہے۔ یہ تمام اور اسی طرح کے دیگر عوامل انسان کی نفسیاتی خواہشات کے پورا کرنے میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں، اور انسان ذہنی پریشانی کا شکار ہو سکتا ہے۔ قبل از وقت ریٹائرمنٹ پلاننگ سے مسائل سے آگاہی اور ان کے سد باب سے اس سلسلہ میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔
بڑھاپے کی تیاری
بڑھاپے کی تیاری کو مندرجہ ذیل پانچ نکات میں سمویا جا سکتا ہے
صحت (جسمانی اور ذہنی)
مالی معاملات
فیملی اور سماجی تعلقات
مشاغل اور دیگر مصروفیات
مذہب اور روحانیات
صحت (جسمانی اور ذہنی) :
اول و آخر صحت جیسی کوئی چیز اہم نہیں۔ صحت مند غذا، پر سکون نیند اور چہل قدمی سے تو سب ہی واقف ہیں لیکن جس بات کو زیادہ تر لوگ نظر انداز کرتے ہیں وہ ہے باقاعدگی سے مکمل جسمانی چیک اپ (بھلے آپ مکمل طور سے صحتمند ہوں ) ۔ دانتوں اور آنکھوں کی مکمل نگہداشت کریں۔ اپنے بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول وغیرہ کا خیال رکھیں اور اسی حساب سے اپنی خوراک کا خیال رکھیں۔ لکڑ ہضم پتھر ہضم والے دن گئے۔ چکنائی، مصالحہ دار اور میٹھی چیزوں سے جتنا پرہیز ہو سکتا ہے کریں۔
دو دیرینہ یونیورسٹی کے زمانے کے دوست تھے۔ ان میں سے ایک دوست نے جب اس کے دانت گرنے لگے، ٹوٹنے لگے اس نے امپلانٹ، ڈینچر جو بھی اس کا ڈینٹسٹ تجویز کرتا رہا اور اس کے مالی حالت اجازت دیتے رہے وہ کرواتا رہا۔ دوسرے دوست ان کا مذاق اڑاتے رہے کہ اسے جواں بنے رہنے کا شوق ہے، ارے ٹوٹتے ہوئے دانت تو بڑھاپے کا تحفہ ہے، پیری کی نشانی ہے وغیرہ۔ آج ان دوستوں کی عمر 75 سال سے زیادہ ہے۔ پیری کی نشانی والے دوست بمشکل پتلی کھچڑی حلق سے اتار پاتے ہیں، کمزوری سے چلنا مشکل ہے۔ جس دوست کا مذاق اڑایا جاتا تھا، وہ سب کچھ کھاتے ہیں لمبی چہل قدمی کرتے ہیں۔ فرق صاف ظاہر ہے۔
مالی معاملات
اگر آپ نے ابھی تک بجٹ نہیں بنایا ہے اور یہ حساب کتاب نہیں لگایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کے / بیگم کے ماہانہ ذاتی اخراجات کتنے ہوں گے اور کیسے پورے ہوں گے تو اس بات پر فوراً توجہ دیں۔ اس بات پر سوچیں کہ اگر رہنے کے لیے ابھی تک آپ کا ذاتی ”ٹھیا“ نہیں ہے تو اس کا بندوبست کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر آپ جوائنٹ فیملی میں رہ رہے ہیں تب بھی آپ کو ایک ذاتی گوشہ یعنی اپنا ”ٹھیا“ چاہیے جہاں آپ بغیر کسی مداخلت کے تاحیات آزادانہ قیام پذیر رہ سکتے ہوں۔
ایک بزرگ کا سنہری قول ہے
” اولاد پر بھروسا نہ کریں۔ خدمت کرتے ہیں اپ کے نوکر اور خدمت کراتا ہے آپ کا پیسہ“ ۔
اگر آپ کو اس قول کا بھروسا نہیں ہے تو امیتابھ بچن کی فلم ’باغبان‘ دیکھ لیں۔ میں امیتابھ صاحب کا بالکل فین نہیں ہوں لیکن صرف اس فلم کے موضوع کی وجہ سے آپ کو تجویز کر رہا ہوں۔ تمام والدین یہی کہتے ہیں کہ ہمارے بچے ”ایسے“ نہیں لیکن یہ ”کسی“ کے بچے تو ہیں جو یہ کچھ کر رہے ہیں۔
بات ذاتی ٹھیے کی ہو رہی ہے۔ ایک صاحب ریٹائرمنٹ کے قریب تھے۔ ذاتی گھر تھا۔ نیچے کا حصہ کرایہ پر اٹھایا ہوا تھا، مناسب کرایہ آتا تھا۔ مطمئن تھے کہ پنشن اور مکان کا کرایہ ملا کر آسانی سے ریٹائرمنٹ کے بعد گزر بسر ہو جائے گی۔ بڑا لڑکا دو تین سال پہلے ”کیریر“ بنانے امریکہ چلا گیا تھا، لیکن ابھی تک امریکہ میں سیٹ نہیں ہو پایا تھا۔ اس کی تعلیم بھی کوئی خاص نہیں تھی۔ چھوٹی موٹی جاب کر تا رہتا تھا، گرین کارڈ کا مرحلہ ابھی بہت دور تھا۔ ہر دو تین ماہ کے باپ سے ہی پیسے منگواتا تھا۔ آخری دفعہ اس نے باپ سے لمبی رقم کی فرمائش کر دی۔ ان صاحب کو نہ چاہتے ہوئے بھی ذاتی مکان کو بیچ کر صاحبزادے کی فرمائش پوری کرنی پڑی۔ صاحبزادے تو رقم لے کر بے فکر ہو گئے، اب یہ صاحب ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں۔ ریٹائرمنٹ پلاننگ اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ آج کل بہت فکرمند ہیں اور خود کو کوس رہے ہیں کہ مکان کیوں بیچا۔ بیٹے کو کیریر بنانا تھا تو اپنے بل بوتے پر بناتا، والدین کا بڑھاپا داؤ پر لگا دیا۔
اگر آپ کے پاس اپنی ذاتی رہائش کے علاوہ کوئی جائیداد وغیرہ ہے تو اسے بیچ کر اپنی ضروریات پوری کریں۔ بچا کھچا تو بہر حال لواحقین کو ہی جائے گا۔ اگر آپ نے ابھی تک وصیت نہیں لکھی تو وصیت لکھ ڈالیں۔ بہت سے لوگ وصیت کے نام سے ڈرتے ہیں اور ایک طرح سے اسے موت کا پروانہ تصور کرتے ہیں۔ جب آپ وصیت کا مسودہ بنانے بیٹھیں گے تو آپ کو احساس ہو گا کہ اس دستاویز کی کتنی اور کیوں اہمیت ہے۔
سراج الدین صاحب (فرضی نام) بہت مشہور اور کامیاب وکیل تھے۔ اپنی تین اولادوں کے لئے پلاٹ اور مکان لئے لیکن سارا کچھ ان کے اپنے نام پر تھا، اولادوں کو بتاتے رہتے تھے کہ یہ تمہارا ہے، یہ چھوٹے بھائی کا ہے، یہ بہن کا ہے وغیرہ وغیرہ۔ سب کچھ زبانی کلامی تھا۔ لکھا پڑھی یا کسی چیز کی دستاویزی شکل کچھ نہ تھی نہ ہی کوئی وصیت نامہ تیار کیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد فیملی کو بہت پرابلم ہوئی۔ بچے سلجھی طبیعت کے تھے اس لیے والد صاحب کی سوچ کے مطابق جائیداد کا بٹوارہ کیا۔ اگر وکیل صاحب کی اولادوں میں سے ایک بھی مشکل پیدا کرنا چاہتا تو آپ سوچ سکتے ہیں کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ اپنی قبر کے لئے بھی کسی جگہ کا بندوبست کر کے نہیں گئے تھے۔ انتقال ہوا تو جہاں جگہ ملی وہیں دفنانے کا بندوبست کر دیا گیا۔ فاتحہ پڑھنے والوں کو جگہ ڈھونڈنی پڑتی ہے، جگہ مل گئی تو فاتحہ پڑھ لی ویسے بھی روز روز کون جاتا ہے
اپنے وسائل کے مطابق اپنی زندگی اور اپنے معاملات کا چارج اپنے پاس رکھیں، نہیں تو پھر بعد میں اپنے آپ کوہی کوسیں اولاد کو نہیں۔ بس صحن میں چرتے چگتے پرندے اڑاتے رہیں اور پچھتاتے رہیں۔ اگر آپ کے پاس گاڑی ہے، آپ ابھی بھی ڈرائیو کر سکتے ہیں اور گارٰی کے پیٹرول وغیرہ کا خرچہ برداشت کر سکتے ہیں تو گاڑی کو اس وقت تک نہ بیچیں جب تک بالکل مجبوری نہ ہو جائے۔ بڑی گارٰی بیچ کر چھوٹی لے لیں لیکن گاڑی ضرور رکھیں۔ لوگ تو کہیں گے، مشورہ دیں گے کہ ارے گاڑی کا چکر کیوں پال رکھا ہے، رکشہ ٹیکسیاں موجود ہیں، جہاں چاہیں جب چاہیں، آ جا سکتے ہیں۔ کہنا آسان ہے، لیکن حقیقتاً رکشہ ٹیکسی سے سفر کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔
مسٹر اور مسز ریحان ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے۔ اچھی پینشن تھی، گھر میں گاڑی بھی تھی۔ فل ٹائم ڈرائیور نہیں تھا، جب ضرورت ہوتی، کھانا پکانے والی کے بیٹے کو بلا لیتے، ان کو جہاں جانا ہوتا، وہ لے جاتا، واپسی میں اسے کچھ جیب خرچ کے پیسے دے دیتے۔ زندگی ٹھیک ٹھاک گزر رہی تھی۔ دو ہی بچے تھے۔ دونوں شادی شدہ۔ بیٹا امریکہ میں تھا اور بیٹی آسٹریلیا میں۔ اس دفعہ صاحب زادے امریکہ آئے۔ جاتے جاتے یہ کہہ کر ابا کی گاڑی بیچ گئے کہ آپ کو گاڑی کی کیا ضرورت ہے، دن بھر تو گھر میں رہتے ہیں۔ اب مسٹر اور مسز ریحان گھر تک محدود ہیں۔ جو تھوڑی بہت آؤٹنگ ہوتی تھی، وہ بھی ختم ہو گئی۔ اب نہ کہیں آنا نہ جانا، خود سے ہی الجھتے رہتے ہیں۔
ڈاؤن سائزنگ
اپنے کپڑوں کے وارڈ روب، جوتوں کے ریک اور کتابوں کی الماری اور دیگر سامان کا جائزہ لیں تو آپ کو بے شمار فالتو چیزیں نظر آئیں گی جن کی اب آپ کو قطعی ضرورت نہیں۔ ویسے تو آپ کا دل آپ سے کہے گا کہ شاید ان کی ضرورت پڑ جائے لیکن دماغ بتائے گا کہ آپ ریٹائر ہو چکے ہیں، دوسری جاب کرنی نہیں تو ان سب کا مستقبل میں کیا استعمال ہے، اس لیے ان تمام فالتو چیزوں سے چھٹکارا پائیں اور خود کو ہلکا کریں۔ ویسے بھی پرانے تعریفی سرٹیفیکیٹ، میڈل، آپ کے حساب سے تاریخی اور یادگار تصاویر سے صرف آپ کے لئے اہمیت رکھتی ہیں دوسروں کے لئے کاٹھ کباڑ ہے۔
فیملی اور سماجی تعلقات
اپنی فیملی، رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوں کے ساتھ مثبت تعلقات رکھیں۔ اگر آپ اپنے شادی شدہ بچوں کے ساتھ رہ رہے ہیں، یا شادی شدہ بچے آپ کے ساتھ رہے ہیں، آپ ان کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی سے جتنا ممکن ہو سکے پرہیز کریں، کہ وہ اپنی زندگی میں خود مختار ہیں۔ یہ بات اپ اپنے ذہن سے نکال دیں کہ آپ کبھی ہیڈ آف دی فیملی تھے اور آپ بدستور اس عہدے پر فائز ہیں۔ تاہم آپ کے پاس دیگر بہت اہم اور مثبت کردار ہیں مثلاً کونسلر، کوچ اور ٹیم
ممبر وغیرہ۔ اگر فیملی کے ممبران میں کبھی آپس میں تلخی اور اگر فیملی ممبران چاہیں ہو تو آپ بطور کونسلر مسئلہ کو حل کروانے میں مصالحتی کردار ادا کر سکتے ہیں، ۔ خود سے دخل در معقولات سے جتنا ممکن ہو پرہیز کریں۔
بچوں کی تعلیم و تربیت میں آپ کا کردار کوچ کا ہے۔ ٹیم ممبر؟ جی ہاں آپ ٹیم ممبر بھی ہیں۔ ٹیم ممبر بننے کی ایک چھوٹی سی کہانی حاضر ہے۔
مرزا صاحب (فرضی نام) ریٹائر تھے۔ بہت مناسب پینشن ملتی تھی لیکن بڑے بیٹے کے ساتھ رہتے تھے ویک اینڈ پر بیٹا اپنی فیملی کے ساتھ باہر کھانے پینے نکل جاتا۔ مرزا صاحب اور بیگم گھر میں پڑے سڑتے رہتے۔ مرزا صاحب کا بھی جی چاہتا تھا کہ ہر ہفتہ تو نہیں لیکن کبھی تو وہ اور ان کی بیگم، بچوں کے ساتھ نکلیں کہیں ڈنر وغیرہ کریں، سب کے ساتھ کچھ وقت گزاریں۔ سوچتے تو بہت کچھ تھے لیکن بیٹے سے کہنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ کافی سوچ بچار کے بعد ایک دن انہوں نے بچہ پارٹی سے کہا کہ اس ویک اینڈ پر ڈنر میری طرف سے، جگہ کا انتخاب تمہارا۔ بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ میکڈونلڈ، پیزا، فرائیڈ چکن اور پتہ نہیں کیا کیا۔ بچہ پارٹی کی رال ٹپکی پڑ رہی تھی۔ مرزا صاحب کا مقصد حل ہو گیا۔ اب وہ اور ان کی بیگم ہر تیسرے چوتھے ہفتے فیملی کے ساتھ بطور میزبان (ٹیم ممبر) شریک ہو جاتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔
مشاغل اور مصروفیات
حالات حاضرہ سے با خبر رہیں۔ اگر ابھی تک سوشل میڈیا سے دور ہیں یا الرجک ہیں تو اس پر قابو پائیں۔ بچوں اور ان کے بچوں کے مشاغل میں شریک ہونے کی کو شش کریں۔ ان کے ساتھ کھیلیں، مزاحیہ اور معلوماتی ٹی وی پروگرام ساتھ بیٹھ کر دیکھیں، سکول کی پڑھائی اور ہوم ورک میں مدد دیں، باتوں باتوں میں ان کی تربیت کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے حالات اجازت دیتے ہیں تو کبھی کبھار بچوں کو سکول سے پک اینڈ ڈراپ کر لیں۔ آپ بچوں کی دوستی سے سیکھیں گے بھی بہت کچھ، وقت بھی اچھا گزرے گا اور ذہنی تناؤ سے بچنے میں آسانی ہو گی۔ اگر موقع ہو تو رات میں سوتے وقت بچوں کو کہانیاں سنائیں۔ اخلاقی، معاشرتی، اصلاحی اور دینی کہانیوں کے توسط سے آپ ان کی شخصیت سازی میں کافی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اگر موقع مل سکے تو کچھ رضاکارانہ کام کرنے کی کوشش کریں
مذہب اور روحانیت
خود نماز روزہ ضرور کریں لیکن دوسروں کو زبردستی بھاشن نہ دیں۔ اگر مسجد نزدیک ہے اور آپ مسجد تک پیدل جا سکتے ہیں تو دن میں کم ازکم ایک یا دو بار مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی کوشش کریں۔ ثواب کا ثواب، چہل قدمی اور پڑوسیوں سے علیک سلیک۔
اگر اب تک آپ نے عمرہ یا حج نہیں کیا ہے یا بہت پہلے کیا تھا اور اب آپ کے مالی حالات اجازت دیتے ہیں تو اس کی نیت کریں۔ اپنی فیملی اور احباب میں ذکر کریں۔ ہو سکتا ہے ایک دو افراد جو اس بارے میں سوچ رہے تھے لیکن تنہا جانے سے پریشان تھے، آپ کا ساتھ دیں۔
دین کا مطالعہ شروع کریں۔ آپ کو بے شمار بھولی ہوئی باتیں یاد آ جائیں گی۔ کچھ نئی باتیں سیکھنے کو ملیں گی۔ آج کل یو ٹیوب پر بے شمار چینل ہیں۔ دو چار چینل دیکھنے کے بعد آپ خود ہی فیصلہ کر لیں گے کہ کون سے چینل اور کن علماء دین کی گفتگو آپ کی طبیعت سے مطابقت رکھتی ہے۔
ٹی وی پر اس طرح کے پروگرام دیکھتے وقت ممکن ہو تو چھوٹی پود کو ساتھ بٹھا لیں۔
نوٹ:
اس مضمون کی مناسبت سے آپ اپنے تجربات بھی شیئر کر سکتے ہیں


واہ سر جی۔ بہت بیش قیمت تحریر۔ مجھے ایسے ہی کسی ایک تحریرکے پڑھنے کی ضرورت تھی کیونکہ اڑتالیس کا ہونے جا رہا ہوں اور بڑھاپے کی فکر ستانے لگی ہے۔ میرے ذہن میں بھی یہ گُر بیٹھی تھی کہ اپنی آخری عمر تک مالی پاور اپنے ہاتھ میں ہی رکھوں گا جس کا آپ نے بھی ذکر کیا ہے۔لیکن آپ نے اس کے علاوہ کئی دوسری ضروری چیزوں کا جو ذکر کیاہے وہ بھی بے حد قیمتی ہیں جن پر عمل کرنا پڑیگا اگر بڑھاپا پیارہ ہے تو۔ یقین کریں میرے دل کو بہت سکون ملا تسلی ملی یہ تحریر پڑھ کرکیونکہ یہ جان لیا کہ ہاں واقعی ایسی بھی ایک چیز ہوتی ہے جس کو بڑھاپے کی پلاننگ کہا جاتا ہے۔ واہ سرجی۔
بس ایک چیز سے اختلاف رہا وہ مذہبی ٹچ ہے جسے آپ نے بوڑھوں پر ٹھونس فرمانے کی کوشش کی ہے۔ آج کل فری تھینکنگ کا ارتقاء ہو رہا ہے اور مذہبی بھاشن اب کار گر نہیں رہے۔ جس نے مذہب کا رجحان رکھنا ہے وہ رکھ لے جس نے نہیں وہ کوئی اور طریقہء کار اپنا لے۔
بحرحال میں آپ کا ان پیاری میٹھی اور بیش قیمتی آراء دینے کے لیئے تہہ دل سے مشکور ہوں۔ بے حد محبت