فرانز کافکا خاکسار کا پسندیدہ فکشنیا ہے لوگو


اور ابھی ایک بار پھر کافکائیتی کر کے ہٹا ہوں یعنی کافکے کے اس ناول کا لپک باز ہو کر نہایت سنجیدگی اور کمینگی سے مطالعہ کیا ہے، کمینگی سے اس لیے کہ سوچا تھا کہ پھر شاید اس میں سے کچھ اونچ نیچ پکڑ کر اپنے محبوب رائٹر کی کسی نکی موٹی واردات کو پکڑ سکیں گے لیکن پھر ہلکی پھلکی سی مایوسی ہوئی مگر کمینی سی خوشی یہ ہوئی ہے کہ اس ناول کے مرکزی کردار گریگر کی کایا پلٹیانیہ معاملہ بازی میں وہ وجہ نہ بتائی گئی ہے جس کے کارن وہ انسان سے نئی بدشکلیتی یعنی کیڑے بازی پر اپنی موت تک اترتے ہیں اور دوسری بات جو قابل اعتراض نظر آئی وہ یہ کہ گریگر نے اپنی نوجوان بہن گریٹی بارے بات کرتے ہوئے گھر آئے اپنے مینیجر کو جس پیرائے میں عورتوں کا دلدادہ کہا وہ ایک بھائی کی بے غیرتی کا مکروہ تاثر دے رہا ہے، گریگر کی کایا پلٹی تو عجیب بات یہ نظر آئی کہ گھر والوں کو کیسے لگا اور پھر یقین آتا محسوس ہوا کہ وہ کیڑا دراصل ان کا بیٹا اور بھائی گریگر ہے؟

اور گریگر بھی جس طرح جان توڑ کوشش کر کے کچھ مشکل کام کرنے کی کوششیں کرتا ہوا ملتا ہے وہ بھی ایک معمولی کیڑے کے لیے ناقابل یقین اور حیران کن بات لگتی ہے بلکہ بعض اوقات ہنسی آتی ہے کہ کافکا جیسا رائٹر کیونکر ایسی ماورائے عقل باتیں لکھنے پر خود کو قائل کر سکا تھا؟ یہ بات درست ہے کہ کافکا نے ایک کیڑے کی متاثرکن جدوجہد کو طوالت کی شکل دینے کا بڑا کام خاصی مہارت اور کامیابی سے کیا ہے لیکن کئی مقامات پر قاری دنگ رہ جاتا ہے کہ کیا کافکا نے یہ ناول بچوں کے لیے لکھا تھا؟

یا اسے وہم تھا کہ اسے پڑھنے والوں کی یادداشت کمزور سی ہوگی؟ ناول میں گریگر سے جڑے سارے کردار حماقتوں کی کہانیاں دہراتے ہوئے ملتے ہیں، اس کا مینیجر جس بری طرح اس کے گھر سے بھاگتا ہے اور سیڑھیوں سے جمپ لگاتا ہے وہ بھی بھونڈے پن کی ایک مثال ہے، واحد اس کی ماں کا کردار اس کے لیے آخر تک ہمدردانہ رہتا ہے ورنہ گھر کی نوکرانی سے لے کر اس کے کرایہ داروں اور باپ کا کردار بھی اس کے لیے ایک کسی سخت گیر مانیٹر کا سا نظر آتا ہے، سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان کی نوکرانی نے کیسے گریگر کے ساتھ عجیب و غریب سا رویہ اختیار کیا ہے؟

کیا باقی کیڑوں کے ساتھ بھی وہ یہی کرتی ہوگی؟ اس کی بہن گریٹی کا کردار شروع میں مثالی اور حسن سلوک والا ہوتا ہے لیکن پھر وہ شاید بیزار ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ آخری حدوں پر جا کر غیرانسانی سلوک کے لیے پوری فیملی کو رضامند کر لیتی ہے جس کے لیے اس کا سخت گیر باپ فوری آمادہ ہوجاتا ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ جب اس کی بہن اور باپ کو پتا چل چکا ہوتا ہے کہ وہ ان کا بھائی اور بیٹا گریگر ہے تو وہ ایسی سفاکی اور بے حسی سے اس کی موت کی بے پناہ خواہش کیسے پال لیتے ہیں؟

اخر میں جب گریگر مر جاتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ وہ اسی بے اعتنائی اور بے رخی سے دلبرداشتہ ہو کر جان سے جاتا ہے لیکن یہاں گریگر کی فیملی کا ایک اور غیرانسانی اور شرمناک کردار واضح ہو کر سامنے آتا ہے کہ جب وہ اس کی موت کا علم ہو جانے کے باوجود بھی سیر و تفریح کو نکل کھڑے ہوتے ہیں اور ایسا المیہ سامنے آنے کے باوجود بھی انہیں بیٹی گریٹی کی شادی سوجھنے لگتی ہے؟

بہرحال مجموعی طور پر ناول متاثرکن حد تک دلکش اور اندر تک مار مارنے والا ہے اور کافکائیتی اپنے عروج پر نظر آتی ہے اور اس میں گریگر کی کایا پلٹی کے بعد جس طرح اس کی مارا ماری اور جان گسل جدوجہد دکھائی گئی ہے وہ بہت اعلی درجائی لگتی ہے کہ گریگر نے کیڑا بننے کے بعد ذہنی طور پر شدید بے بس ہونے کے باوجود بھی خاصی ہمت دکھائی، چوٹیں کھائیں، لگا رہا لیکن حاصل کچھ نہ ہوا اور وہ کیڑے کا کیڑا ہی رہا اور اسی جون میں اسے المناک انداز میں موت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بھی اپنے رشتوں کی کمال بے اعتنائی کے ساتھ جو اس کے لیے اس لیے بھی زیادہ دکھ دینے والی بات تھی کہ وہ ان رشتوں کے لیے انتہائی نامساعد حالات میں جی جان سے محنت کر رہا تھا اور توہین آمیز سلوک سے بھی گزر رہا تھا لیکن افسوس کہ جب اس پر امتحان کی گھڑی آئی تو انہوں نے بہت جلد اس سے منہ پھیر لیا اور وہ بہن بھی اکتا گئی جسے وہ ہر حال میں موسیقی کی تعلیم دلوا کر اس کا شوق پورا کرنے کی پلاننگ بھی کیے ہوئے تھا۔

وہ کیڑا بن کر بھی اس بات کو دیکھ کر خوش ہوتا ہوا ملا تھا کہ اس کی فیملی نے اس کے کمائے پیسے برباد نہیں کیے تھے بلکہ مشکل وقتوں کے لیے سنبھال کر رکھے ہوئے تھے جن سے ان کا کچھ وقت آسانی سے گزر سکتا تھا، وہ ان کے لیے مزید کچھ کرنا چاہتا تھا تاکہ ان کے مسائل کو حل کرسکے لیکن جانے کیسے اس کی کایا پلٹی ہوئی اور وہ اچھے بھلے انسان سے ایک کیڑے کی صورت ڈھل گیا اور پھر اس کا انجام جس المناک حالت میں ہوا وہ ہر اس شخص کو دہلانے کے لیے کافی ہے جو اپنی فیملی کے لیے خلوص اور دیانتداری سے اپنی استعداد سے بڑھ کر محنت کر رہا ہوتا ہے اور وہی فیملی اس پر برا وقت آنے پر اس کی موت تک کی خواہش کرنے لگ جاتی ہے۔ ہاں یہاں ماں کا کردار وہی صدیوں پرانا ہی نظر آتا ہے۔

سراپا محبت۔ سراپا محبت۔ سراپا محبت
جو اولاد سے کسی بھی حال میں بیزار نہیں ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS