میاں چنوں کے ایک بزرگ شہری کو خواب میں حضرت داتا گنج بخش کا دیدار


گزشتہ دنوں حضرت داتا گنج بخش کے عرس کی تقریبات کے دوران ایک بزرگ شہری جن کا تعلق میاں چنوں سے بتایا جاتا ہے کو خواب میں داتا سرکار کا دیدار نصیب ہوا اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر آج کل خاصی وائرل ہے۔

انٹرویو کرنے والے نے باقاعدہ اصرار کے ساتھ دوبارہ پوچھا کہ داتا صاحب آپ کو جسمانی طور پر ملے تھے؟

اس نے کلمہ طیبہ پڑھا اور قسم اٹھا کر کے کہا کہ خواب میں داتا سرکار میرے پاس آئے تھے اور مجھے سینے سے لگایا اور خاصی دیر تک مجھ سے باتیں بھی کرتے رہے، یہ سنتے ہی ہجوم نے نعرے لگانا شروع کر دیے اور کچھ نے تو باقاعدہ اس بزرگ کے ہاتھوں کو چومنا شروع کر دیا۔

خیر یہ تو سامنے کا معاملہ ہو گیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خواب کی کوئی حقیقت بھی ہوتی ہے یا محض صاحب خواب وقتی طور پر کسی خود نمائی یا خوش نمائی کے واہمے کا شکار ہو جاتا ہے؟

کیا خواب کی کوئی حقیقی، عقلی یا سائنسی توجیہہ کی جا سکتی ہے یا یہ محض خود نمائی کا ایک وہم ہوتا ہے جس میں صاحب خواب مدہوش رہتا ہے؟

کیا خواب کا حقیقت سے کوئی سمبندھ ہوتا ہے یا یہ محض ایک خوشنما سے خیالی پرندے کی مانند ہوتا ہے جو صرف تخیل کا قیدی ہوتا ہے حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا؟

کیا خواب کی بنیاد پر کسی شخص کو کسی بھی ماورائی عہدے پر فائز کیا جا سکتا ہے؟
کیا خواب حقائق کا نعم البدل ہو سکتا ہے اور اس کی بنیاد پر کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے؟

جو حقائق ذہن و شعور کے ریڈار کی پکڑ میں نہ آئیں علم کے دائرہ کار میں داخل ہو سکتے ہیں یا یا اساطیری اٹکل پچو کہلائیں گے؟

اب خوابوں کی حقیقت کیا ہوتی ہے اور تعبیر کا حقائق کی دنیا سے کوئی تعلق ہوتا ہے یا نہیں یا صاحب خواب کی زندگی میں کوئی تبدیلی رونما ہوتی ہے اس کے متعلق افسانے تو بہت ہیں لیکن ان کو پرکھنے کا کوئی عقلی پیمانہ موجود نہیں ہے۔

جہاں تک خوابوں کی باتیں ہیں خواب تو مولانا طاہر القادری، مولانا طارق جمیل، اوریا مقبول جان اور زید حامد ایسی ہستیوں نے خاصے دیکھ رکھے ہیں، سوال یہ ہے کہ انسانی زندگیوں پر ان خوابوں کے کوئی اثرات پڑے؟

ان اصحاب کی اپنی زندگیاں تو سہل اور من پسند ہو گئیں لیکن ان کی دست بوسی کرنے والوں کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

خواب یا سپنے انسان کی جذباتی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں لیکن کل کائنات نہیں ہوتے، ظاہر ہے انسان کوئی روبوٹ یا مشین تھوڑے ہوتا ہے کہ جس کی ایک فکس پروگرامنگ ہو اور وہ انہی فکس لوازمات کے گرد گھومتا رہے۔

جذبات کی اپنی ایک الگ ہی دنیا ہوتی ہے جس کا ریشنیلٹی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

شاعری، گیت، اساطیری قصے کہانیاں، اڑن کھٹولے، جادوئی قالین، خوابوں پر مشتمل مبالغہ آرائیاں اور نسیم حجازیاں ہمارے جذباتی نظام کے کتھارسس کا سامان کرتی ہیں اور ہمارے تخیل کو اوج ثریا پر پہنچا دیتی ہیں اور چند لمحوں کے لیے انسان دکھوں سے ماورا ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ سب عمر کے خاص حصہ تک مسحور کن لگتی ہیں اور بچپن کو بہلانے کی لیے ہوتی ہیں، پختہ ایج کے تقاضے و لوازمات مختلف ہوتے ہیں۔

انسان چاہتا تو یہی ہے کہ بچپن کے پالنے یا جھنجنے کے سہارے وہ ساری زندگی بتا دے اور اسے حقائق کی تلخیاں نہ چکھنی پڑیں مگر ایسا بھلا کہاں ہوتا ہے؟

زندگی کی تلخیوں میں تو اترنا ہی پڑتا ہے، حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے ورنہ دانشمندان ارض حقائق کی کھوج میں اپنی زندگیاں دان نا کرتے اور آج کی دنیا انہی ”سالٹ آف دی ارتھ“ کا کارنامہ ہے اور اگر یہ لوگ حقائق میں غوطہ زن نہ ہوتے تو شاید ہم آج بھی کسی تاریک غار میں کہیں دبکے ہوتے اور قصہ خوانیوں میں گم ہوتے۔

Facebook Comments HS