جون ایلیا کے کلام میں کردار نگاری


جون ایلیا کا اصلی نام ”سید حسین جوؔن اصغر“ ہے۔ انھوں نے اپنا تخلص ”جوؔن“ لکھا۔ سادہ اور چمکتی ہوئی زبان میں نہایت گہری اور شور انگیز باتیں کہنے والے ہفت زبان، شاعر، صحافی، مفکر، مترجم، نثر نگار، دانشور اور بالاعلان نفی پرست اور انارکسٹ جون ایلیا ایک اوریجنل شاعر تھے۔ جن کی شاعری نے نہ صرف ادب نوازوں کے دل جیت لیے بلکہ آپ نے اپنے بعد آنے والے ادیبوں اور شاعروں کے لیے زبان و بیان کے نئے معیارات متعین کیے۔ جون ایلیا کی شاعری میں عشق کی نئی جہات کا سراغ ملتا ہے۔ وہ باغی، انقلابی اور روایت شکن تھے لیکن ان کی شاعری کا لہجہ اتنا مہذب نرم اور غنائی ہے کہ ان کے اشعار میں میر تقی میرؔ کی طرح کے نشتروں کے وار سیدھے دل میں اترتے ہیں اور سامع یا قاری کو فوری طور پر ان کی فنی خوبیوں پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔

مؔیر کے بعد خال خال نظر آنے والی تاثیر کی شاعری کو تسلسل کے ساتھ نئی گہرائیوں تک پہنچا دینا جون ایلیا کا کمال ہے۔ اپنی نجی زندگی میں جون ایلیا کی مثال اس بچے جیسی ہے جو کوئی کھلونا ملنے پر اس سے کھیلنے کی بجائے اسے توڑنے پر اور اس کا کچھ سے کچھ بنانے کی دھن میں رہتا ہے۔ اپنی شاعری میں انھوں نے اس رویہ کا اظہار بڑے سلیقے سے کیا ہے۔ جون ایلیا کمیونسٹ ہونے کے باوجود فن برائے فن کے قائل تھے۔ انھوں نے روایتی شاعری سے دامن بچاتے ہوئے تازہ بیانی کے ساتھ دلوں میں اتر جانے والی عشقیہ شاعری کی۔ احمد ندیم قاسمی کے بقول : ”جون ایلیا اپنے معاصرین سے نہایت درجہ مختلف اور منفرد شاعر ہیں۔ وہ روایات کا استعمال اتنے انوکھے اور رسیلے انداز میں کرتے کہ بیسویں صدی کے آخری نصف میں ہونے والی شاعری میں ان کی آواز نہایت آسانی سے الگ پہچانی جاتی ہے۔

اردو شاعری کی سہ صد سالہ تاریخ میں کسی نے اس لہجہ کے اس مفہوم کے اس نشتریت سے مملو شعر کم ہی کہے ہوں گے۔ جون ایلیا کے یہاں مختلف نوع کے رنگ اور نئے مضامین و موضوعات ہیں جو اردو غزل کی روایت میں نیا در وا کرتے ہیں اور روایت سے انحراف کے طور پر بھی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی نظمیں زیادہ تر حسیاتی ہیں۔

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

کردار نگاری

کسی بھی شخصیت کے کچھ پہلوؤں کو اس طرح نمایاں کرنا کہ اس کی خوبیاں اور خامیاں سامنے آجائیں، کردار نگاری کہلاتا ہے۔ اس زمین پر بسنے والے بے شمار انسانوں میں سے ہر ایک دوسرے سے کسی حد تک یا بالکل مختلف عادات کا حامل ہوتا ہے۔ عادات کا یہ اختلاف کسی بھی انسان کی شخصیت متعین کرتا ہے۔ شخصیتوں کا یہ اختلاف ہر ایک کو انفرادیت بخشتا ہے۔ دنیا میں ہر شخص اپنی جگہ ایک اہم کردار ہے۔ لفظ کردار کی تعریف کشاف تنقیدی اصطلاحات میں اس طرح کی گئی ہے :

کہانی کے واقعات جن افراد قصہ کو پیش آتے ہیں انھیں اصطلاح میں کردار کہا جاتا ہے۔

اس طرح کردار نگاری سے مراد ہو گا کہ مختلف اصناف ادب میں کرداروں کے پیش کرنے کو کردار نگاری کا نام دیا جاتا ہے۔ کردار نگاری کا تعلق بالعموم فکشن اور ڈرامہ سے جوڑا جاتا ہے۔ کردار نگاری کرتے ہوئے مصنف بالعموم بلا واسطہ یا بالواسطہ طریقہ کار اپناتا ہے۔ بلا واسطہ طریقہ کار سے مراد یہ ہے کہ مصنف اپنے بیان میں کردار کی خصوصیات کا ذکر کرتا ہے کہ کردار کن صفات اور افکار کا مالک ہے اور بالواسطہ طریقہ کار میں مصنف قارئین کو اپنے کردار کی خصوصیات سے اپنے بیان کے ذریعے براہ راست آگاہ نہیں کرتا ہے۔ بلکہ قارئین کو کردار کی خصوصیات کا اندازہ کردار کے ظاہری حلیے، حرکات اور گفتگو یا مکالموں سے لگا نا پڑتا ہے۔

جون ایلیا کی شاعری میں کردار نگاری

جونؔ کی شاعری میں بھی روایتی کردار نگاری پائی جاتی ہے اس کے علاوہ انھوں نے جدت کو اپناتے ہوئے کچھ لوگوں کے واضح نام بھی لیے ہیں۔ ان کی شاعری میں بلا واسطہ اور بالواسطہ دو نوں طرح کے کرداروں کا ذکر ملتا ہے۔ ان کی شاعری میں روایتی کرداروں میں غیر حاضر کردار بھی پائے جاتے ہیں اور حاضر بھی جیسے کہ، مریم، زلیخا، کوہ کن، شاہ بانو، حضرت یوسف علیہ اسلام، جمال، قیس، آدم و حوا، دوست، یار، دیوانے، جان، غزال، مرشد، سنی، ، شیعہ، طلحہ، زبیر، فارہہ، اجنبی، خدا، شیخ، مسلمان، شاعر، میرؔ، شیفتہ اور غالب جیسے کردار جؔون کی شاعری میں بہت اہم ہیں۔ جونؔ کی شاعری میں کردار نگاری کی تفصیل درج ذیل ہے :

جون ایلیا کے پانچ شعری مجموعوں میں شاید، یعنی، گمان، لیکن اور گویا شامل ہیں۔ سب سے پہلے ہم شاید کے کرداروں کا ذکر کرتے ہیں :

”شاید“ میں کردار نگاری

”شاید“ جون ایلیا کا سب سے مشہور مجموعہ کلام ہے۔ اس میں بیان کیے گئے اہم کردار درج ذیل ہیں۔

؎ سنا دیں عصمت مریم کا قصہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
؎ زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم

ان اشعار میں جون ایلیا تلمیح کا استعمال کرتے ہوئے حضرت مریم اور زلیخا کے کردار بیان کرتا ہے۔ جوؔن کے ہاں حضرت یوسف اور زلیخا کا کردار بہت زیادہ ملتا ہے۔

؎ گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے
وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے
؎ ترا خیال تو ہے پر ترا وجود نہیں
تیرے لیے تو یہ محفل سجائی تھی میں نے

ان اشعار میں جون ایلیا، بالواسطہ کردار نگاری کا استعمال کرتے ہوئے غیر حاضر شخص کی نمائندگی کرتا ہے جو کہ اس کا محبوب ہے۔ وہ ان اشعار میں اپنے محبوب کے لیے ”کس، وہ، کون ترا، تیرے“ جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ”میں“ کے لفظ میں اپنا کردار بھی بیان کیا ہے۔

؎ یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کار ِ مسیحا کیوں کریں ہم

اس شعر میں جوؔن ایلیا نے تین کرداروں کا ذکر کیا ہے۔ سب سے پہلا کردار ”مسلمانوں“ کا ہے۔ دوسرا ”مسیحا“ کا اور تیسرا جمع متکلم یعنی ”ہم“ کا کردار ہے۔ یہ تینوں کردار بلا واسطہ ہیں۔

؎ اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زبان دراز کا منہ نوچ لے کوئی

اس شعر میں جوؔن نے دو کرداروں کا ذکر کیا ہے۔ پہلا کردار ”شخص“ ہے جو کہ بلا واسطہ ہے جبکہ دوسرا کردار ”کوئی“ ہے جو بالواسطہ اور غیر حاضر ہے۔

؎ کوہ کن کو ہے خود کشی خواہش
شاہ بانو سے التجا کیجے

اس شعر میں جوؔن نے تلمیح کا استعمال کرتے ہوئے دو بلا واسطہ کرداروں کا ذکر کیا ہے جن میں ”کوہ کن“ ، اور ”شاہ بانو“ شامل ہیں۔ جون ایلیا کے ہاں ان کرداروں کا ذکر بہت زیادہ ملتا ہے۔

؎ اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں
ہم غریبوں کی آن بان میں کیا

اس شعر میں جوؔن نے جمع متکلم کے طور پر ”غریبوں“ کا لفظ استعمال کر کے بلا واسطہ کردار بیان کیا ہے۔

؎ نسبت علم ہے بہت حاکم وقت کو عزیز
اس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا

اس شعر میں جون نے بلا واسطہ دو کرداروں کا ذکر کیا ہے۔ جس میں ”حاکم وقت“ اور ”علما“ شامل ہیں۔

؎ ساری باتیں بھول جانا فارہہ
تھا وہ سب کچھ اک فسانہ فارہہ
ہاں محبت ایک دھوکہ ہی تو تھی
اب کبھی دھوکہ نہ کھانا فارہہ

جون ایلیا کی شاعری میں فارہہ کا کردار بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ان کی محبوبہ کا نام ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی شاعری میں اس نام کی ردیف استعمال کی ہے۔ یہ کردار بلاواسطہ ہے۔

؎ اپنے یوسف کو زلیخا کی طرح تم بھی کبھی
کچھ حسینوں سے ملا دو تو مزہ آ جائے

اس شعر میں جون ایلیا نے تلمیح کا استعمال کرتے ہوئے تین کرداروں کا ذکر کیا ہے۔ ”یوسف“ اور ”زلیخا“ بلا واسطہ کردار ہیں جبکہ ”حسینوں“ بالواسطہ کردار ہے۔

؎ فرہاد سن لیا تری شیریں کہاں ہے آج
وامق خبر بھی ہے، تیری عذرا چلی گئی

اس شعر میں جون ایلیا نے تلمیح کا استعمال کرتے ہوتے تین بلا واسطہ کرداروں کا ذکر کیا ہے۔ جن میں فرہاد، شیریں اور عذرا شامل ہیں۔ جون کے ہاں فرہاد کا کردار بہت مستعمل ہے۔

؎ پھر گوارا ہے مجھے عشق کی ہر اک شکل
تازہ پھر شیوۂ فرہاد کیا ہے میں نے

اس شعر میں بھی جوؔن نے تلمیح کا استعمال کرتے ہوئے فرہاد کا کردار بیان کیا ہے۔
؎ بہار آقائے بابل ہے دو آبہ بیچتا کیا ہے
یہ خسرؔو، میرؔ، غالبؔ کا خرابہ بیچتا کیا ہے
ہمارا غالب اعظم تھا چور آقائے بیدل کا
سو رزق فخر اب ہم کھا رہے ہیں میؔر بسمل کا

جون ایلیا کی شاعری میں کچھ شاعروں کے کردار بھی ملتے ہیں جن میں میؔر اور غالب کا کردار بہت اہم ہے۔ دیے گئے اشعار میں جونؔ نے چار شاعروں کا تلمیح کے ذریعے کردار بیان کیا ہے۔ جو کہ بلاواسطہ ہیں۔ ان میں ”خسؔرو، میؔر، غالؔب، بیدؔل“ شامل ہیں۔

؎ نہیں اِملا درست غاؔلب کا
شیفتؔہ کو بتا چکا ہوں میں

اس شعر میں جون ایلیا نے اپنے لیے ”میں“ کا لفظ استعمال ہے اور باقی دو شاعروں یعنی غالؔب اور شیؔفتہ کا تلمیح کے ذریعے کردار بیان کیا ہے۔ یہ کردار بھی بلا واسطہ ہیں۔

”یعنی“ میں کردار نگاری

؎ جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
بن تمھارے کبھی نہیں آئی
کیا مِری نیند بھی تمھاری ہے

ان اشعار میں جون ایلیا نے جمع متکلم کے طور پر ہم کا لفظ استعمال کیا ہے جو کہ بلا واسطہ کردار ہے اور بالواسطہ کے طور پر ”تمھارے اور تمھاری“ کا لفظ استعمال کیا ہے جو کہ واحد غائب کے لیے ہے۔ اور یہ کردار محبوب کی طرف اشارہ ہے۔

؎ میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں
فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا

اس شعر میں تین کرداروں کا ذکر ہے۔ سب سے پہلا ”میں“ جو واحد متکلم اور بلاواسطہ ہے۔ دوسرا کردار ”شخص“ ہے جو غائب اور بالواسطہ ہے۔ تیسرا اور اہم کردار ”دوست“ ہے جو کہ بلا واسطہ کردار ہے۔ جؔون کی شاعری میں دوست کا کردار بہت زیادہ مستعمل ہے۔

؎ شاعر ہیں آپ یعنی کہ سستے لطیفہ گو
رشتوں کو دل سے روئیے سب کو ہنسائیے

اس شعر میں جوؔن ایلیا نے شاعر کا کردار استعمال کیا ہے جو کہ بلاواسطہ ہے۔
؎ بس قاتلوں کا بوجھ اٹھایا کریں جناب
مصرع یہ جوؔن کا ہے اسے مت اٹھائیے

اس شعر میں جؔون نے ”جناب“ کا کردار استعمال کیا ہے جو کہ بالواسطہ اور واحد غائب ہے۔ دوسرا اور اہم کردار جوؔن کا تخلص ہے جو کہ واحد متکلم اور اور بلا واسطہ ہے۔ جؔون نے اپنے نام کا کردار بہت زیادہ استعمال کیا ہے۔

؎ کسی طرح چھوڑ دوں تمھیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو

جوؔن کے ہاں ”جاناں“ لفظ کا کردار بہت مستعمل ہے جو کہ محبوب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس شعر میں شاعر نے جاناں کا کردار استعمال کر کے واحد حاضر محبوب کی نمائندگی کی ہے۔

گمان میں کردار نگاری

؎ اپنی منزل کا راستہ بھیجو
جان ہم کو وہاں بلا بھیجو

اس شعر میں جوؔن نے اپنے محبوب کے لیے جان کا کردار استعمال کیا ہے۔ اور دوسرا کردار ”ہم“ کا ہے۔ دونوں کردار بلاواسطہ ہیں۔

؎ زخم امید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا

اس شعر میں جوؔن ایلیا نے تلمیح کا استعمال کرتے ہوئے ”قیس“ کردار استعمال کیا ہے جو کہ بلاواسطہ ہے۔ جونؔ کے ہاں قیس کا کردار بھی بہت مستعمل ہے۔

؎ قاتل کو مرے مجھ سے نہیں ہے کوئی پُرخاش
قاتل تو مرا رنگ جما نے کے لیے ہے

اس شعر میں شاعر نے ”قاتل“ کا کردار بیان کیا ہے۔ جو کہ بلا واسطہ ہے۔ جوؔن کے ہاں قاتل کا کردار بھی بہت مستعمل ہے۔

؎ وہ سید بچہ اور شیخ کے ساتھ
میاں عزت ہماری جا رہی ہے۔

اس شعر میں جوؔن نے روایتی طریقہ کو اپناتے ہوئے ”شیخ“ کا کردار استعمال کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے سید اور میاں کا کردار بھی استعمال کیا ہے۔

؎ تیری مرہم نگاہی اے مسیحا
خراش دل پہ واری جا رہی ہے۔

اس شعر میں جؔون نے تلمیح کا استعمال کرتے ہوئے ”میں“ کا کردار بیان کیا ہے۔ جوؔن نے روایتی طریقے کو اپنایا ہے۔ جوؔن مسیحا کا کردار بہت زیادہ استعمال کرتا ہے۔

؎ ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جوؔن یاروں کے یار تھے ہم تو

جون ایلیا نے اس شعر میں ”یاروں“ کا کردار استعمال کیا ہے۔
؎ تم جو میری جان ِ جاں تھیں فارہہ
کون تھیں تم اور کہاں تھیں فارہہ

جون ایلیا نے اس شعر میں بھی اپنی محبوبہ یعنی ”فارہہ“ کا کردار بیان کیا ہے۔ یہ کردار بلا واسطہ ہے۔ جوؔن نے بہت سے اشعار میں فارہہ کا کردار استعمال کیا ہے۔

”لیکن“ میں کردار نگاری:

؎ مرد و عورت میں مری حور ترے سر کی قسم
رشتہ آدم و حوا کے سوا کچھ بھی نہیں

اس شعر میں جوؔن نے تلمیح کا استعمال کرتے ہوئے آدم اور حوا کا کردار بیان کیا ہے۔ یہ کردار بلا واسطہ ہیں۔ مرد، عورت اور حور کا کردار بھی بیان ہوا ہے جو کہ بالواسطہ ہے۔

؎ تو نے یہ کیا کِیا جمالؔ آخر
اس میں تھا کون سا کمال آخر

اس شعر میں جوؔن نے ”جمال“ کا کردار استعمال کیا ہے۔ جو کہ جمالؔ احسانی شاعر کا تخلص ہے۔ یہ بلا واسطہ کردار ہے۔

؎ میں تو خدا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
ہر لمحہ لا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

جون ایلیا کے ہاں ”خدا“ کے لفظ کا کردار بھی بہت زیادہ آیا ہے۔ اس شعر میں جوؔن نے ”خدا“ کے کردار کو استعمال کیا ہے۔ جو کہ بلاواسطہ ہے۔ اس کے علاوہ ”میں“ اور ”تم“ کا کردار بھی استعمال ہوا ہے۔

؎ یوں ہو کہ اور ہی کوئی حوا ملے مجھے
ہو یوں کہ اور ہی کوئی آدم ملے تمھیں

اس شعر میں جوؔن نے ”آدم“ اور ”حوا“ کا کردار تلمیح کے ذریعے بیان کیا ہے۔ یہ دونوں کردار بلا واسطہ ہیں۔

؎ شیخ آیا تھا محتسب کو لیے
میں نے بھی ان کی وہ خبر لی ہے

اس شعر میں شاعر نے روایتی کردار ”شیخ“ کا استعمال کیا ہے۔

؎ ذات در ذات ہم سفر رہ کر
اجنبی اجنبی کو بھول گیا
؎ کیا قیامت ہوئی اور اک شخص
اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا

ان اشعار میں جون ایلیا نے ”اجنبی“ اور ”شخص“ کا کردار پیش کیا ہے جو کہ واحد غائب ہے۔ یہ کردار بالواسطہ ہیں۔

گویا میں کردار نگاری

؎ خوب تھے اپنے دادا بھی، خوب تھیں اپنی نانی بھی
خوب تھے طلحہ اور زبیر، سب کا بھلا ہو سب کی خیر

ان اشعار میں جوؔن نے دادا، نانی، طلحہ، زبیر کے کردار استعمال کیے ہیں جو کہ جوؔن کے رشتے دار ہوں گے۔ یہ سب کردار بلا واسطہ ہیں۔

؎ سنی بچہ وہ کون تھا، جس کی جفا نے جوؔن
شیعہ بنا دیا ہمیں، شیعہ کیے بغیر

اس شعر میں جوؔن نے سنی بچہ، شیعہ اور جوؔن کے کردار بیان کیے ہیں۔ سنی اور شیعہ بالواسطہ کردار ہیں جبکہ جوؔن بلا واسطہ کردار ہے۔

؎ مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بے حساب ہے
تم چھوڑیو نہ شہر کو صحرا کیے بغیر

شعر میں جون ایلیا نے روایتی طریقہ کو اپنانے ہوئے ”مرشد“ کا کردار استعمال کیا ہے۔ دوسرا کردار واحد حاضر یعنی ”تم“ ہے۔

؎ تم مجھ کو اپنے دم میں لے جاؤ ساتھ اپنے
اپنے سے اے غزالو وحشت نہیں ہے مجھ میں

اس شعر میں شاعر نے ایک الگ ہی کردار یعنی ”غزال“ کا کردار استعمال کیا ہے۔ جس سے مراد ”ہرن“ ہے۔ یہ کردار بالواسطہ ہے۔ اس کے علاوہ واحد متکلم ”میں“ کا کردار ہے۔

؎ بس یوں ہی میرا گال رکھنے دے
میری جان آج گال پر اپنے

اس شعر میں جؔون نے اپنے محبوب کے لیے ”جان“ کا کردار پیش کیا ہے۔

؎ قابل رحم ہیں وہ دیوانے
جن کو حاصل نہیں ہیں ویرانے

اس شعر میں جون ایلیا نے روایتی طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے ”دیوانے“ کا کردار استعمال کیا ہے۔

؎ وہ پیشہ ور ہیں جو لوگوں کے زخم سیتے ہیں
ہمارے زخم ہمارے بہت چہیتے ہیں

جون ایلیا نے اس شعر میں ”پیشہ ور“ اور ”لوگوں“ کا کردار استعمال کیا ہے۔ ”لوگوں“ کا کردار کا استعمال روایتی ہے۔ اس کے علاوہ ”ہمارے“ لفظ کا کردار جمع متکلم ہے۔

؎ آج اس سوزِ تصورِ کی خوشی میں اے دوست
طائر ِصبر کو آزاد کیا ہے میں نے

اس شعر میں جون نے روایتی طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے ”دوست“ کا کردار استعمال کیا ہے اس کے علاوہ ”طائر“ اور ”میں“ کا کردار بھی استعمال ہوا ہے۔ جون ایلیا کے ہاں ”دوست“ اور ”یار“ کا کردار بہت مستعمل ہے۔

Facebook Comments HS