ڈیڑھ فٹ کا مینارہ اور دیپالپور کی پولیس

چند روز قبل پاکستان ایک ادارے میں خاکسار ایک سیمینار میں شریک تھا۔ یہ سیمینار دوسری آئینی ترمیم کے پچاس سال مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا تھا۔ اس ترمیم کے ذریعہ 1974 میں آئین اور قانون کی اغراض کے لئے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے دس سال بعد جنرل ضیا صاحب نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ احمدیوں پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔ خواہ مذہبی رواداری ہو یا اور کوئی پہلو ہو، ان پچاس سالوں میں وطن عزیز نے کیا کھویا کیا پایا؟ اس کا فیصلہ تو پڑھنے والے خود کر سکتے ہیں۔
لیکن ایک طویل عرصہ سے کچھ لوگ اس آئینی ترمیم یا جنرل ضیاء صاحب کے نافذ کردہ آرڈیننس کی من پسند تشریحات کر کے مختلف اقسام کے مطالبات پیش کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ فرمائش کہ کسی احمدی کا نام مسلمانوں کے نام جیسا نہیں ہو سکتا۔ کسی احمدی کی مسلمانوں جیسی داڑھی یا ٹوپی نہیں ہو نی چاہیے۔ احمدیوں کی عبادت گاہ میں مینار یا محراب کی موجودگی اشتعال انگیزی ہے۔ عید قربان کے نزدیک کسی احمدی کے گھر میں بکرے کی موجودگی ایک جرم ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
احمدیوں کی عبادت گا ہ پر میناروں کو منہدم کرنے پر خاکسار پہلے بھی کئی کالم لکھ چکا ہے۔ ایک سال قبل خاکسار نے ’لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اور اسلامی طرز کے مینارے‘ اور ’مینارے گرائے اور چرچ جلائے۔ باقی پاکستان ہوشیار باش‘ کے عنوان سے دو کالم تحریر کیے تھے۔
بہر حال خاکسار اس سیمینار سے فارغ ہو کر باہر نکلا تھا کہ موبائل پر یہ پیغام ملا کہ دیپالپور کے ڈی ایس پی صاحب اور تھانیدار علاقہ کی قیادت میں پولیس اس عاجز کے زرعی فارم میں داخل ہو کر ایک نہایت اہم کارنامہ سرانجام دے رہی ہے۔ تحصیل دیپالپور (ضلع اوکاڑہ ) میں کچھ عزیزوں کے ساتھ ہمارا مشترکہ زرعی فارم ہے۔ اور جیسا کہ ڈیروں پر عام رواج ہے اس فارم پر بھی ایک چھوٹی سی عبادت گاہ بنی ہوئی ہے اور اس میں بمشکل صرف دس پندرہ آدمیوں کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے۔ میں عمر کے باسٹھ سال مکمل کر چکا ہوں اور یہ پرانی کمرہ نما عمارت شاید میری پیدائش کے وقت کی بنی ہوئی ہے۔ چونکہ ہم میں سے وہاں رہائش پذیرنہیں ہے، اس لئے اس پر بھی تالا پڑا رہتا ہے۔
اس کے اوپر بھی دو مینارا نما وجود موجود تھے۔ ان میں سے ایک کا سائز تو فقط ڈیڑھ فٹ ہی تھا۔ اس لئے یہ سوچتے ہوئے کہ یہ مینارے کسی کے جذبات بھڑکانے کا باعث نہ بن جائیں، اس کمرہ نما عبادت گاہ کے ارد گرد ایک چار دیواری بھی بنا دی گئی۔ لیکن دیپالپور پولیس کی باریک بینی کو داد دینی چاہیے کہ جب میں اس سیمینار میں بول کر دل کی بھڑاس نکال رہا تھا، ڈی ایس پی صاحب پولیس سورج ڈھلنے کے وقت دس بارہ پولیس والوں کے ہمراہ ہمارے فارم میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے اور اس کمرے کو گھیرے میں لے لیا۔ اور اس کے بعد اس کے دو میناروں کو منہدم کر دیا۔ میں ان محروم میناروں میں سے ایک کی تصویر بھی ساتھ بھجوا رہا ہوں تاکہ قارئین اس نام نہاد مینارے کی بلندی اور دیپالپور کی پولیس کی مستعدی کا اندازہ لگا سکیں۔
اس سال جنوری کے آخر میں اسی فارم سے سولر پینل چوری ہو گئے تھے۔ ہم نے پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی کہ بھائی یہ سولر پینل چوری ہو گئے ہیں، انہیں بازیاب کرا دو۔ وہ تو ہمیں نہیں ملے لیکن کوئی بات نہیں، دیپالپور پولیس نے یہ کارنامہ سرانجام دے کر شاید اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پھر گزشتہ عید قربان کے موقع پر علاقہ کی پولیس اسی فارم پر بکرا ڈھونڈنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس پر خاکسار نے ایک کالم ’سر بکر و بز سلامت تو خنجر آزمائی‘ لکھا تھا۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ احمدیوں کی عبارت پر موجود مینارے سرکاری حکام کی مستعدی کا نشانہ بنے ہیں۔ پاکستان میں کئی مقامات پر بلوائیوں نے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے اور کئی مقامات پر پولیس نے ان میناروں کو منہدم کیا ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ جب لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوا تو ایک فریق کا یہ موقف تھا کہ اگرچہ یہ عمارت 1922 میں تعمیر ہوئی تھی لیکن جب جنرل ضیاء صاحب نے یہ آرڈیننس نافذ کر دیا تھا تو احمدیوں کو فرض تھا کہ خود اس عمارت کی شکل تبدیل کرتے اور مینارے گراتے کیونکہ اس عمارت کی شکل کچھ مسلمانوں کی مساجد سے ملتی جلتی تھی اور مشابہت کی وجہ سے ہمارے جذبات مشتعل ہوتے ہیں۔ ان دلائل کو سننے کے بعد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا:
” موجودہ مقدمے میں، مستغیث کا جو بنیادی الزام سائلان کے خلاف ہے وہ ان کی عبادت گاہ کے میناروں کا اسلامی طرز کا ہونا ہے۔ گوکہ یہ سچ ہے کہ مینار مسلمانوں کا ایک مذہبی شعار ہے، لیکن اس کا ایک تعمیراتی پہلو بھی ہے۔ آغاز میں مساجد کے مینار نہیں ہوا کرتے تھے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نماز کے لئے اذان مسجد کے قریب سب سے اونچی چھت سے دی جاتی تھی۔ میناروں کی ابتدا سے متعلق مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ کچھ علما کا خیال ہے کہ شروع کے مسلمانوں نے عبادت کے لئے لوگوں کو بلانے کے لئے یونانیوں کے پہرے والے میناروں کو استعمال کیا، جنہیں مسلمان اپنے اس مقصد کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے الگ سے اپنے لئے اس قسم کی تعمیرات کرنے کا فیصلہ کیا۔ دیگر علماء یقین رکھتے ہیں کہ یہ مینار دراصل سلطنت بابل کے زیگورات میناروں سے متاثر ہو کر بنائے گئے۔ مجھے اس کارروائی میں یہ طے کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کیادفعات 298۔ Bاور 298۔ Cت پ قادیانیوں کو اپنی عبادتگاہیں مسجد کی طرز پر بنانے سے روکتی ہیں یا اسے جرم قرار دیتی ہیں یا نہیں؟ تاہم میری رائے میں یہ دفعات اس بات کا اختیار نہیں دیتیں کہ آرڈیننس، 1984، XX جس کے ذریعے یہ دفعات وجود میں آئیں تھیں، کے نفاذ سے پہلے کی عمارات بھی منہدم کی جائیں یا ان میں کوئی تبدیلی کی جائے۔ ”
(عمران حمید بنام سرکار 2023 )
ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے باوجود پولیس کا خود قانون کو ہاتھ میں لے کر اس قسم کی کارروائی قانون شکنی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ توہین عدالت نہیں تو اور توہین عدالت کسے کہتے ہیں؟ اگر پولیس اس طرح خود مدعی، وکیل اور جج بن کر شہریوں کے حقوق سلب کرتی رہی تو پھر اسے اس قسم کے کارناموں سے کبھی اس بات کی فرصت نہیں ملی گی کہ وہ اپنے کار ہائے منصبی کی طرف بھی کچھ توجہ کر سکے۔ اس واقعہ کی وجہ سے ایک دو روز تک تو طبیعت میں کافی ملال رہا لیکن آج یہ خبر سنی کہ بلوچستان میں کوئی ملزم توہین مذہب کے الزام میں حوالات میں تھا کہ خود ایک پولیس والے نے اسے کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ ہم تو سستے چھوٹے۔ دیپالپور کی پولیس نے تو صرف مدعی وکیل اور جج کے فرائض سنبھالے تھے، لیکن بلوچستان میں تو پولیس نے ان سب کے علاوہ جلاد کے فرائض بھی خود ہی ادا کرنے شروع کر دیے ہیں۔
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا



اللہ اس قوم پر رحم کرے ۔ جہاں قاضی القضا ملاں کے اگے لیٹ جاۓ اور اپنی مسلمانی کو ثابت کرنے لگ جاۓوہاں احمدی بیچارے کس گنتی میں۔ احمدی بس خدا سے اتنا تعلق مضبوتی سے باندھے رکھیں تو کچھ خوف نہیں کوئ غم نہیں ۔ اللہ پاکستان میں بسنے والے احمدیوں کا ہر دم نگہبان ہو۔ أمین۔