پڑھو اور پڑھنے دو
چار پانچ دن پہلے چھوٹی بہن سے پتا چلا کہ نمرہ احمد نے اپنی ایپ ”نمرہ احمد“ کے نام سے متعارف کروا دی ہے۔ وہ اپنے جس ناول پر آج کل کام کر رہی تھیں، یعنی ”مالا“ جس کی قسطیں وہ پہلے انسٹاگرام اسٹوری پر لنک لگا کر پی ڈی ایف کی صورت میں دیتیں تھیں، اب آپ وہ ان کی ایپ پر ہی پڑھ پاؤ گے۔ ایپ پر فری ورژن بھی ہے جس میں آپ تک قسط اپلوڈ ہونے کے تین دن بعد پہنچتی ہے۔ اور اگر آپ ایپ کی سبسکرپشن خرید لیتے ہو تو آپ کو قسطیں بروقت ملیں گیں، مزید یہ کہ آپ سبسکرپشن لینے سے نمرہ احمد سے رابطے میں بھی آ جاؤ گے، وہ وہاں پر اپنے قارئین سے بات بھی کرتی ہے۔ مجھے یہ سارا عمل بہت پسند آیا۔ خصوصاً اپنے پڑھنے والوں سے رابطے میں رہنا۔
آپ پاپولر ادب پر جتنا مرضی سب و شتم کرتے رہیں، اگر نمرہ احمد جیسوں کے پاس پڑھنے والے موجود ہیں تو آپ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ آپ کی وہ ٹارگٹ ناقد نگاری کی زد میں چاہے ہو لیکن اس کی ٹارگٹ قاری آپ ہرگز نہیں ہیں۔ اگر کسی کے منہ مظہر کلیم، ابن صفی، عمران سیریز اور جاسوسی دنیا لگا ہوا ہے تو شاید وہ آپ کے سامنے اپنی پڑھی ہوئی کتابیں بتاتے وقت ان ناموں کو زبان پر نا لائے ذہن میں ہی رکھے مگر آپ کی پاپولر تنقید ان کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی، وہ ان ہی کو پڑھیں گے۔
جب گھر میں موجود میری لائبریری میں 500 کتابوں پر میرے والد صاحب محاسن اسلام، بچوں کا اسلام، خواتین کا اسلام اور اپنے لائے ہوئے مختلف ڈائجسٹ کو ترجیح دیتے ہیں تو مجھے سمجھ آتا ہے کہ میرے پسندیدہ انتظار حسین اور سبط حسن والد صاحب کی نظر میں فارغ مصنف ہوں گے۔ جب میری والدہ الہامی کتابوں کے بعد بانو قدسیہ پر عقیدے کی حد تک ایمان رکھتی ہیں، تو میں چاہ کر بھی قائل نہیں کر پاتا کہ امی گھر میں پڑی فرانسیسی مصنفہ سیمون دی بوا کی کتاب کو پڑھو۔ جب میری بہنیں نمرہ احمد اور عمیرہ احمد کو پڑھتی ہیں اور میں اسے وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں تو عین اسی وقت دستووسکی، اوشو، ٹالسٹائی، کافکا، کنڈیرا، ارنسٹ، چندر، تارڑ اور مفتی کو پڑھتا دیکھ کر میرے بارے بھی ان کی یہی رائے ہوتی ہوگی۔
اِس ایک ہزار میل / گھنٹہ دوڑتی زمین پر یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ کون کیا پڑھ رہا ہے، اہم بات یہ ہے کہ کوئی پڑھ رہا ہے یا نہیں؟ سات ارب سے زائد مختلف دماغ موجود ہیں اس گولے پر مگر آپ بضد ہیں کہ آپ کے دماغ میں جو اعلیٰ ہے سبھی اس کو اعلیٰ جانیں۔ پاپولر ادب اور اعلیٰ ادب کے درمیان لکیر کھینچنے کا معیار کیا ہے؟ کیا آج کا اعلیٰ ادب کل کا پاپولر ادب نہیں بن سکتا؟ ماضی میں کتنی ہی مثالیں موجود ہیں اس کی۔ بانو آپا، شہاب، اشفاق صاحب اور عبداللہ حسین کل تک اعلی ادیب تھے اب پاپولر ادب کے تنقید نگاروں کی زد میں ہیں۔ کون اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ انگریزی زبان میں پاپولر فکشن پڑھنے والے اسے ہمیشہ بطور اعلیٰ ادب کے پیش کرتے ہیں، تو ہمارے دیسی پاپولر ادب پر تنقید، فکر سے زیادہ فیشن کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ پاپولر ادب کی طرح یہ پاپولر تنقید سے زیادہ کچھ نہیں۔
ہر پڑھنے والے کی اپنی سوچ کے زاویے ہیں، اپنی زندگی کی پرتیں ہیں، اپنا لطف اٹھانے کا معیار اور وہ اسی کے مطابق انتخاب کرتا ہے کہ اسے کیا پڑھنا ہے۔ اگر کسی مصنف کا رائٹنگ اسٹائل آپ کی زندگی کے تجربات پر پورا اترتا ہے تو آپ صرف اسی سے حظ اٹھاؤ گے، وہی آپ کا من پسند ہو گا۔ اس کے مقابلے میں پھر چاہے کتنا بھی بڑا مصنف لا کھڑا کروں، آپ کے لیے بیکار ہو گا۔
لوگ اگر نہیں برٹرینڈ رسل کی فلسفہ مغرب کی تاریخ پڑھ کر اپنے اوپر فلسفیانہ غم طاری کرنا چاہتے، لوگ اگر نہیں مذہبی مائیتھالوجی پڑھ کر اِن الجھی گتھیوں میں خود الجھنا چاہتے۔ اگر کوئی اس خرابہ رنگ و بو سے باہر نکل کر کچھ لمحے کسی فینٹسی ورلڈ کے حصار میں گزارنا چاہتا ہے، تو انھیں حق ہے کہ اسے پڑھیں جس میں ان کی خوشی ہو، یا جو ان کے دل کے قریب ہو۔
لوگوں کے دماغ میں بغیر پڑھے، بغیر تحقیق کیے، محض چند انتخابی تراشی لائنیں دیکھ کر، یا سن سن کر یہ رائے بیٹھ جاتی ہے کہ فلاں تو فلاں چورن بیچ رہا اور فلاں تو فلاں چورن بیچ رہا۔ بِک رہا تو بیچ رہا، آپ نا خریدو۔ کتنے ہی سوشل میڈیا تنقید نگاروں نے اپنی رائے کی بنیادیں منقول پر استوار کی ہوئی ہوتی ہیں، آپ پڑھ کر تنقید کر سکتے ہیں یہ آپ کا حق ہے۔ مگر آپ مصنف کی تذلیل کرو یا اس کے پڑھنے والوں کو ادبی شودر سمجھو یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اس کا حق آپ کو کس نے دیا؟
نمل، جنت کے پتے اور مالا ہزاروں صفحوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جہاں بڑے بڑے میڈیا چینل اپنی اسٹوریز کو تین سے چار منٹ پر لے آئے کہ دیکھنے والا اپنا انٹرسٹ کھو دیتا ہے، اور کسی دوسرے آپشن پر چلا جاتا ہے۔ تو ہزار صفحات پر کسی کو باندھے رکھنا آسان کام بالکل بھی نہیں ہے؟ جہاں پر آپ کے پاس لامحدود آپشنز موجود ہوں۔ سوشل میڈیا کی چار لائنوں سے بڑی پوسٹ پر لوگ سِکپ کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ کون پڑھے اتنی لمبی، تو ہزار صفحے لکھنا ہی دل گردے کا کام ہے۔
ہمارے استاد ضیاء المصطفیٰ صاحب کہا کرتے تھے کہ ”تخلیقِ ادب (بالخصوص نثری ادب) میں ایک عام آدمی (کی دلچسپی) کا حصہ کم سے کم تر ہوتا چلا جا رہا ہے، جو کہانی اُسی کے کردار کے آس پاس بُنی جاتی ہے وہ بھی اس عام آدمی سے کہیں زیادہ، تنقید نگاروں کے لیے لکھی جاتی ہے۔ ادب کی تخلیق میں ان عناصر (اسلوب، فکر) کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے جس سے ایک عام آدمی حظ اٹھا سکے اور وہ اپنی فہم کے مطابق اس کو سمجھ بوجھ کر زندگی کے مثبت رویوں کی جانب پیش قدمی کر سکے۔ ادب کو صرف سیمیناروں، کانفرنسوں اور تنقیدی اجلاسوں میں ساڑھے چار عدد اونگھتے نقادوں کے درمیان پڑھے جانے والی چیز بنا کر محدود کر دیا گیا تو عام آدمی کی ذہنی تربیت کے لیے خطبہ جمعہ کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہو گا، لہذا یہ از بس ضروری ہے کہ نئے تخلیق ہونے والے ادب سے معاشرے کا ہر فرد حصہ بقدرِ جثہ حاصل کرنے کے قابل ہو، عام ذہنوں کو ادب جیسے جوہرِ لطیف سے دور کر کے شدت پسندی کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔“
نوجوان نسل میں پڑھنے کا رجحان ویسے ہی کم ہے، تو ان کے لیے ادب کا انتخاب مشکل نا بنایا جائے، پڑھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اسے شعور کی کھڑکی خود کھولنے دی جانی چاہیے۔
کوئی اپنے اوپر اپنے مزاج کے خلاف زبردستی کسی ناپسندیدہ کنویں میں چھلانگ لگانا ہرگز فرض مت بنائے۔ جو دل میں آئے پڑھے، جو خوشی دے یا جس بھی کیفیت سے سرشار ہونا چاہتے ہیں آپ اسے ہی چکھیں۔ پڑھو اور پڑھنے دو۔


سبحان اللہ سبحان اللہ