”اکڑی ہوئی کھاٹ“ اور روٹھتے اور سوکھتے رشتے
آج کل تو لوگ کمروں میں ایرکنڈیشنر میں بڑے بڑے بیڈوں پر سوتے ہیں۔ بجلی نہ ہو تو جنریٹر اور یوپی ایس سے پنکھے چلتے رہتے ہیں۔ لیکن ہمارا بچپن بھی عجیب ہوا کرتا تھا۔ سخت گرمیوں میں باہر صحن میں سونا اور وہ بھی بغیر پنکھے کے بڑا مشکل ہوتا تھا۔ بہت گرمی لگتی تو ہاتھ کے پنکھے جھلنا پڑتے۔ ہماری ماں بیچاری تو شاید رات رات بھر چھوٹے بچوں کو گرمی سے بچانے کے لیے ہاتھ سے پنکھا جھلتی رہتی تھی۔ عجیب ماں تھی دن بھر سخت گرمی میں پورے گھر کا کام کرنا اور زیادہ وقت چولہے کے ساتھ بیٹھ کر گیلی لکڑیوں کو پھونکنی سے جلانے کی کوشش میں اپنے چہرے ہی کو جھلسا لینا پھر شام ہونے سے قبل صحن میں چھڑکاؤ کر کے اسے ٹھنڈا کرنا۔
اور پھر اپنی پیٹھ پر اپنی اور ہم نو بچوں کی چارپائیاں اٹھا اٹھا کر صحن میں بچھانا۔ ان پر بستر تکیے لگانا اور پھر صبح ہوتے ہی ان چارپائیوں کو واپس اٹھا کر سائے میں رکھنا۔ اب محسوس ہوتا ہے کہ ان کے چہرے، جسم اور ہاتھ کھردرے کیوں ہو جاتے تھے۔ پسینے اور گرمی دانوں سے جلد جل کر رہ جاتی تھی۔ وہ خاتون تھی یا کوئی جن اب تو سوچ کر ہی لرز اٹھتا ہوں۔ سخت گرمی میں ہم نے دعا کرنی کہ اللہ میاں آندھی ہی آ جائے مگر خدا کرے بارش نہ ہو کیونکہ آندھی میں تو سویا جا سکتا تھا لیکن بارش میں اٹھ کر بھاگنا پڑتا تھا۔
آندھی کے بعد جب صبح اٹھ کر ایک دوسرے کو دیکھتے تھے تو مٹی سے اٹے چہرے دیکھ کر ہنسی نکل جاتی تھی۔ ابا جی نے گھر میں ہی ایک بڑا پانی کا حوض سا بنوا رکھا تھا۔ فوراً وہاں جاکر ہر فرد جلدی جلدی پانی بہاتا اور آندھی کی مٹی سے اٹا ہوا چہرہ صاف ہو کر دیکھنے کو ملتا۔ اور اگر آندھی کے ساتھ برسات یا بارش ہو جاتی تو تھوڑی بہت بارش میں تو بھیگنے کا مزا لیتے رہتے لیکن جونہی تیز بارش ہوتی تو رات کے اندھیرے میں بھگدڑ سی مچ جاتی۔
بارش کے ساتھ ساتھ بچوں کا شور بھی مچ جاتا سب بچے تو اٹھ کر اندر یا برآمدے میں بھاگ جاتے۔ بڑے لوگ سب بستر لپیٹ کے اٹھانے اور چارپائیاں اندر منتقل کرنے میں لگ جاتے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ کوئی ایک آدھ چارپائی تیز بارش کی باعث باہر ہی رہ جاتی یا پھر عام طور ایسا تب ہوتا جب بارش کے آثار دیکھ کر اس رات چارپائیاں باہر نہ نکالتے تھے۔ کوئی نہ کوئی چارپائی اکثر باہر پڑی رہ جاتی تھی عام طور پر یہ چارپائی کوئی زیادہ کارآمد نہ ہوتی تھی۔
اس لیے باہر پڑے رہنے دیا جاتا تھا۔ بعض اوقات اندھیرے کی باعث بھول بھی جاتے تھے۔ اور وہ چارپائی تیز بارش میں بھیگ کر عجیب طرح سے اکڑ جاتی تھی۔ اس چار پائی کے چاروں کونے اونچے نیچے ہو جاتے تھے۔ اگر ایک جانب سے دبایا جائے تو دوسری جانب سے اونچی ہو جاتی تھی۔ ایسی چارپائی کو ہماری امی جان اکڑی کھاٹ کہتی تھیں۔ پھر پورا خاندان مل کر چارپائی کے چاروں جانب بٹھایا جاتا تاکہ اس کی اکڑ ختم ہو جائے اور چارپائی برابر ہو جائے۔
اس دوران بچے اس پر کودتے بھی تھے۔ مگر یہ اکڑی کھاٹ ایک دفعہ میں ہی ٹھیک نہیں ہو جاتی تھی۔ یہ عمل بار بار دوہرایا جاتا تھا اور بچے اسے روز کا مشغلہ بنا لیتے تھے۔ آخر کار اس کی اکڑ نکال کر ہی دم لیتے تھے۔ اور یہ اس کے باوجود بہتر تو ہوجاتی تھی لیکن کبھی برابر نہ پاتی تھی۔ ہمیشہ دوسری چارپائیوں سے منفرد نظر آتی تھی۔ اس لیے امی جان کہتیں جاؤ اس اکڑی کھاٹ کو بھی اٹھا لاؤ یا منا لاؤ۔ اس بچے کا نام بھی ہمیشہ اکڑی کھاٹ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔
جب بھی کوئی بچہ اکڑتا یا ناراض ہوتا تو کہتیں اس اکڑی کھاٹ کو بھی مناؤ ٔ۔ پھر خود بھی کسی نہ کسی طرح اسے راضی کر لیتیں تھیں۔ مجھے اکڑی کھاٹ کے بارے میں زیادہ شعور تو نہ تھا۔ بس یہ سمجھتا تھا کہ ٹیڑھی چیز کو اکڑا ہوا کہتے ہیں۔ اور شاید روٹھے، ناراض، کہنا نہ ماننے والے اور ضدی بچے کو بھی اکڑی کھاٹ کہتے ہیں۔ وہ کہا کرتیں تھیں روٹھنا اور منانا تو زندگی کا حسن ہوتا ہے۔ پھٹے کپڑے کو سی نہ دیں تو وہ مزید ضائع جاتے ہیں اور ناراض شخص کو منائیں نہ تو رشتے ٹوٹ جاتے ہیں جس کی باعث ہم قیمتی رشتوں کو کھو دیتے ہیں۔ لیکن روٹھنے والوں کو اتنا بھی نہیں روٹھنا چاہیے کہ منانے والا خود روٹھ جائے۔
ہمارے ایک رشتے دار اور ان کا خاندان ہر شادی یا غمی میں ناراض ہوا کرتے تھے۔ ان کو منانے کے لیے ہمارے دادا جان ہمیشہ بہت منت سماجت کرتے تھے۔ لیکن ان کی کسی نہ کسی بات پر ناراضگی پھر ہو جاتی تھی اور خاندان میں سے ایک راضی ہوتا تو دوسرا ناراض ہوجاتا۔ ان کی ضد ہوتی کہ جس سے ہم ناراض ہیں اگر آپ ان سے ملیں گے تو ہم آپ سے بھی ناراض ہو جائیں گے۔ میں نے ایک مرتبہ دادا جان جنہیں سب بڑے ابا جی کہتے تھے پوچھا کہ آپ ہر مرتبہ اس خاندان کو مناتے ہیں اور یہ پھر روٹھ جاتے ہیں۔ ایک کو راضی کرو تو دوسرا روٹھ جاتا ہے۔ ان کی بلاوجہ اکڑ جانے کا نام ہی نہیں لیتی ہر مرتبہ نیا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ تو آخر آپ انہیں چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ تو وہ کہتے کہ اکڑی کھاٹ (یعنی بارش میں بھیگی چارپائی ) جلدی سیدھی نہیں ہوتی اسے سیدھا ہونے میں وقت لگتا ہے۔ اکڑی کھاٹ بھی گھر کا حصہ ہوتی ہے وہ ہماری ہی کسی غفلت یا لاپروائی کی باعث بھیگ کر اکڑ جاتی ہے۔ اسے بھی سیدھا کرنے میں وقت لگتا ہے پھر بھی پوری طرح تو سیدھی نہیں ہوتی۔
جب تک وہ ٹوٹ نہیں جاتی اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ اسی طرح ہمارے رشتے ہوتے ہیں جو ہماری ہی کسی غفلت یا لاپروائی کی باعث بات بات پر بھڑکنے والے، غرور، تکبر، ضد، انا، عدم برداشت کی عادتوں کی بارش سے بھیگنے کی وجہ سے اکڑ جاتے ہیں۔ رشتہ داری نبھانا بڑا مشکل کام ہوتا ہے لڑنا اور اکڑنا بہت آسان ہوتا ہے۔ بس اتنا خیال رکھنا چاہیے کہ چارپائی کو تیز بارش سے بچاتے بچاتے خود نہ پھسل جائیں اور رشتہ داری نبھاتے نبھاتے خود نہ ڈانواں ڈول ہو کر گر پڑیں۔
جو چارپائی یا رشتہ ایسی کسی بارش کی باعث اکڑ جائے اور باوجود کوشش کے سیدھا نہ ہو سکے تو پتہ ہے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟ ہم نے پوچھا بڑے ابا جی اس طرح کی چارپائی یا رشتوں کا کا انجام آخر کیا ہوتا ہے؟ تو کہنے لگے ایسی اکڑی ہوئی چارپائی یا کھاٹ پر کوئی بیٹھنا پسند نہیں کرتا اور آخر کار توڑ کر چولہے میں جلا دی جاتی ہے اور ایسے سوکھے رشتے بھی اپنی تنہائی کی آگ میں اندر ہی اندر خود ہی جل کر ختم ہو جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں بہت سے رشتے ناتے بھی برسات میں بھیگی چارپائی کی مانند ہوتے ہیں۔ آج چارپائیاں تو ہمارے گھروں سے نکل چکی ہیں مگر اس کے باوجود اکڑ اتنی بڑھ چکی ہے جو کسی طرح بھی نکلنے کا نام نہیں لیتی بلکہ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اب تو مجھے اکثر ہر ہر خاندان اور گھروں میں اکڑ کھاٹ قسم کے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں جو بہانے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ناراض ہوتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات تو اس طرح کی اکڑ گھروں اور خاندانوں میں دشمنی پیدا کر دیتی ہے جو نسل در نسل چلتی رہتی ہے۔
یہ اکڑ فرد سے خاندان اور پھر معاشرے اور پوری قوم میں پھیلتی جا رہی ہے جس کے اثرات ہماری عام زندگی کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آج ہمارے ایوانوں میں جو کچھ آج نظر آ رہا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ سیاست دان آپس میں بات کرنا تو درکنار ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں۔ قومی سلامتی، باہمی اخوت اور سیاسی یکجہتی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ اپنی اپنی اناء اور تکبر کی باعث آپس کی دوریاں اور تلخیاں بڑھ رہی ہیں۔
کوئی تو ایسا ہو جو ملک اور قوم کی خاطر انہیں جوڑ دیے اور یہ احساس دلائے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں اور معاشی استحکام کے بغیر قومیں ترقی نہیں کر سکتیں۔ ہم سب کی بقا ہمارے آپس میں جڑے رہنے سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ اس ”اکڑی کھاٹ“ کو کون سیدھا کرے گا اور کیسے سیدھا کرے گا؟ کون روٹھوں کو منانے کا فرض ادا کرے گا۔ ذرا سوچیں ایسا نہ ہو کہ ہماری یہ اکڑ ہمارے قیمتی قومی رشتوں کو نقصان نہ پہنچا دے۔ ہمارے والد صاحب کہتے تھے کہ اگر کسی کی خوشی اور بھلائی کے لیے تمہیں ہارنا پڑ جائے تو ہار جاؤ یہی بہتر ہے تمہارے لیے اور یہی بڑائی اور جیت ہوتی ہے۔

