خندہ نواز ( طنزیہ و مزاحیہ شاعری) کا ایک مطالعہ
مزاح نگار اپنے لفظوں کی جادوگری سے غم زدہ چہروں پر مسکراہٹوں کا غازہ ملتا ہے۔ مسکراہٹوں کا یہ غازہ اُن زخموں کے لیے مرہم ثابت ہوتا ہے جو بصارت سے نہیں بصیرت سے دکھائی دیتے ہیں۔ ہنسنا انسان کی جبلت ہے۔ ایک مزاح نگار اپنے فن سے اس جبلت کو مہمیز کر تا ہے۔ ڈاکٹر آپ کو بیمار اور وکیل ملزم دیکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ اس دنیا میں مزاح نگار ایک ایسی ہستی ہے جو آپ کے چہرے پر تبسم دیکھنا چاہتی ہے۔ ایک اچھے مزاح نگار کے جگر میں سارے جہاں کا درد ہوتا ہے۔
یعنی جگر میں درد کی تمام ورائٹی دستیاب ہوتی ہے۔ جس کی بدولت مزاح نگار کے کلام میں موضوعات کا تنوع در آتا ہے۔ یہی تنوع مزاح نگار کے کلام کو تا دیر زندہ بھی رکھتا ہے اور قاری کو مسرور و سرشار بھی۔ ڈاکٹر بدر منیر کا کلام بھی مندرجہ ذیل بالا خوبیوں سے مزین ہے۔ آپ کے ہاں رنگا رنگ موضوعات ہیں جو اپنے دامن میں نئے ظریفانہ زاویے لیے ہوئے ہیں۔ ان ظریفانہ زاویوں میں وہ تازگی اور پرکاری عیاں ہے جو آپ کے ہم عصروں میں خال خال دکھائی دیتی ہے۔
ویسے تو مزاح کے سنجیدہ سامعین ڈاکٹر بدر منیر کو خوب جانتے ہیں۔ میں تو ڈاکٹر صاحب کے مداحین کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رواں ماہ آپ کا ظریفانہ کام خندہ نواز کے عنوان کے تحت کتابی شکل میں مثال پبلشر سے شائع ہو گیا ہے۔ کتاب میں معروف مزاح گو شاعر خالد عرفان اور ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی قیمتی آراء شامل ہیں۔ کتاب کا سرورق دیدہ زیب ہے۔ چھپائی اور کاغذ لا جواب ہے۔ خندہ نواز کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر بدر منیر کا تعلق ظرافت کے اس قبیلے سے ہے جس کے سرخیل اکبر الہ آبادی ہیں۔
ظرافت نگاری کی تاریخ میں اکبر الہ آبادی کی حیثیت روشنی کے اُس مینار کی سی ہے جو سمندر کی تاریکیوں میں ملاحوں کو منزلوں کا پتہ دیتا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے ہر عہد کے تخلیق کاروں کو اپنے فن سے متاثر کیا ہے۔ اکبر الہ آبادی کے متاثرین میں سر فہرست علامہ محمد اقبال ہیں۔ جنھوں نے جناب اکبر کے زیر اثر ظریفانہ کلام لکھنا شروع کیا لیکن جلد ہی انھوں نے یہ کٹھن راستہ ترک کر دیا۔ اکبر الہ آبادی کے بارے میں ڈاکٹر فرمان فتح پوری لکھتے ہیں کہ اکبر الہ آبادی اردو کے تنہا شاعر ہیں جن کی شاعری ظرافت کی جملہ اقسام پر محیط ہے طنز و مزاح، کنایہ، رمز، بذلہ سنجی، لطیفہ، چٹکلا اور پیروڈی غرض کے ظرافت نگاری کی جتنی ممکن صورتیں ہو سکتی ہیں سب ان کے یہاں ملتی ہیں۔
ڈاکٹر بدر منیر کا شمار اکبر الہ آبادی کی اقلیم ظرافت کے ورثاء میں ہوتا ہے۔ آپ کو مزاح کے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرنے کی خداداد صلاحیت حاصل ہے۔ آپ کی مزاحیہ شاعری کے موضوعات معاشرے سے کشید کردہ ہیں۔ سماجی رویوں اور معاشرتی ناہمواریوں کو آپ نے جس طرح ظریفانہ زاویے عطا کیے ہیں وہ آپ کی بے پناہ تخلیقی صلا حتیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ کی ظریفانہ شاعری کا کینوس مزاح کے تمام رنگوں سے مزین ہے۔ آپ جہاں نئے موضوعات کو نئے ظریفانہ پیکر عطا کرتے ہیں وہاں پرانے موضوعات کی چٹیل زمین پر ایڑیاں رگڑ کر مزاح کے نئے چشمے نکالنے کی کامیاب کوشش بھی کرتے ہیں۔
آپ کا یہ وصف آپ کو اپنے ہم عصروں میں ممتاز و منفرد بناتا ہے۔ آپ کا کلام شگفتگی، تازگی اور شوخی کا مظہر ہے اسی لیے یہ دیر تک موثر اور مقبول رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شعر کہنے کا جو قرینہ سلیقہ قدرت نے آپ کو ودیعت کیا ہے اُس کو دیکھ کر کئی مزاح نگاروں کی رال ٹپکتی ہے۔ آپ کا کلام انگریزی الفاظ کے قمقموں سے روشن ہے۔ یہ الفاظ غزل کی انگوٹھی میں اتنی مہارت سے جڑے ہوئے ہیں کہ حیدر علی آتش یاد آ جاتے ہیں۔
بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں۔
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
آپ نے غزل جیسی وحشی صنف سخن میں ظریفانہ کلام لکھ کر اہل نظر کو خوش گوار حیرت میں مبتلا کیا ہے۔ بقول خالد عرفان کے آپ نے مشاعرہ لوٹنے کے لیے قطعہ کا شارٹ کٹ استعمال نہیں کیا۔ مشاعرہ پڑھتے ہوئے جس طرح آپ شاعرانہ وقار ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ شعر لکھتے ہوئے بھی آپ اس کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ اسی لیے آپ کا کلام پھکڑپن سے پوری طرح محفوظ ہے۔ لگتا ہے کہ آپ نے ظریفانہ کلام کی جملہ خامیوں سے بچنے کے حفاظتی ٹیکے بروقت لگوا لیے تھے۔
قارئین! جہاں شاعر آنے والے زمانوں کی خبر دیتا ہے وہاں شاعر کا کلام اپنے عہد کے رسم و رواج، تہذیب و تمدن، طرز زندگی اور طرز گفتگو کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ آج سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ہر خاص و عام اسی کے سحر میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر بدر منیر نے سوشل میڈیا سے وابستہ اصطلاحات کو اپنے ظریفانہ کلام کا حصہ بنا کر ظریفانہ شاعری کے دامن کو کشادہ کیا ہے۔ اب یہ اصطلاحات نئے آنے والے مزاح گو شعرا کے لیے اجنبی نہیں رہیں شعراء پورے اعتماد کے ساتھ ان کو اپنے کلام میں برت سکیں گے۔ آخر میں خندہ نواز سے چند اشعار سنیے اور مسکرائیے
حسن بے باک کا ویڈیو نیٹ پہ جب وائرل ہو گیا
دیکھتے ہی دیکھتے میری عینک کا نمبر ڈبل ہو گیا
کوچہ یار میں خواہشِ عقد لے کر ہوئی حاضری
پے بہ پے جب سوالات پوچھے گئے میں پزل ہو گیا
وجود ِ زن کا حسیں فلسفہ بجا لیکن
سکوت ِزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
شادی سے پہلے تو ویٹ کراتی ہے
بعد میں پھر دفتر سے لیٹ کراتی ہے
شوہر ایسی سم ہے جس کو اُس کی بیوی
جیسے چاہے ایکٹی ویٹ کراتی ہے
شادی ہو جائے تو کتنا فرق زیادہ ہو جاتا ہے
بیوی دُگنی ہو جاتی ہے شوہر آدھا ہو جاتا ہے


