مولانا فضل الرحمان سیاست کے سلطان!

دیکھا جائے تو مولانا صاحب پاکستانی سیاست کے سیاست کے سلطان اور سیاسی و مذہبی طور پر سپریم لیڈر ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے صدر آصف علی زرداری تک، وزیر قانون محسن نقوی سے بلاول بھٹو زرداری، تحریک انصاف کی قیادت سے لے کر سیاستدانوں کی مولانا فضل الرحمن کے در پر بار بار آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ملک میں کوئی استحکام لا سکتا ہے تو وہ کوئی عام نہیں بلکہ مفتی محمود کے فرزند مولانا فضل الرحمن ہی چاروں صوبوں کی زنجیر ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں نوابزادہ نصر اللہ اور بے نظیر بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو کی کمی بھی پوری کر رہے ہیں۔ اپوزیشن اور حکمران جماعت کے لئے انصاف کے ترازو کی طرح یکساں ہیں، مولانا فضل الرحمن صاحب میں یہ خوبیاں ہیں کہ وہ ایک ہی وقت شیر اور بکری کو ایک جگہ سے پانی پینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ وہ آگ اور پانی کو ایک ساتھ چلانے کا سیاسی ہنر جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی آج کل رہائشگاہ حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کے لئے قابل قبول ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اگر کوئی استحکام لا سکتا ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن ہی ہیں، ایک مدرسے کا فارغ التحصیل مولوی سیاستدان ہو کر آکسفورڈ اور کیمبرج کے سند یافتہ سیاستدانوں کو گھر کے چکر کاٹنے اور طواف کرانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
یہ مولانا کہ سیاسی بصیرت حکمت مدبرانہ کمال ہے کہ سب کے سب باری باری آپ کے گھر آرہے ہیں اور آپ آج تک ایک سال کے دوران کسی کے دروازے پر دستک دینے نہیں گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملکی اور عالمی سطح پر سیاسی طور پر مولانا فضل الرحمن سے بڑا کوئی سیاستدان نہیں ہے۔ مولانا اس وقت کھل کر سیاسی پتے کھیل رہے ہیں۔ حکومت کی کوششوں کے باوجود وہ ان کی قانون سازی میں حمایت لینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ شاید مولانا نے مزید وقت مانگ لیا ہے۔
جبکہ مولانا فضل الرحمان اپوزیشن میں ہونے کے باوجود اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی اصل حکمران/وزیراعظم اور صدر پاکستان بھی مولانا ہی نظر آرہے ہیں۔ پچھلے ادوار میں آصف علی زرداری جس طرح کے پاور فل صدر تھے لیکن اس وقت ان کا کردار صدر ممنون اور عارف علوی جتنا بھی نظر نہیں آتا ہے۔ ایوان صدر میں بیٹھا ایک کٹھ پتلی صدر سے کچھ بھی نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان ہوں یا اس کی جماعت اس وقت اسٹیبلشمنٹ سمیت سب پر بھاری ہیں، تازہ لاہور میں ختم نبوت کانفرنس جسے میڈیا میں بلیک اؤٹ کیا گیا لیکن سوشل میڈیا پر ایک ہفتہ سے ٹاپ ٹرینڈ رہی ہے۔
مولانا کے لاہور کانفرنس ملک کی سب سے بڑی کانفرنس تھی۔ جس میں لاکھوں کی تعداد میں فرزندان اسلام نے شرکت کر کے ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے دفاع پر مہر لگا دی۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک طرف قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ یہ حکومت فارم 45 کی ہے یا فارم 47 کی آگے بڑھنا چاہیے دوسری طرف لاہور کانفرنس میں بلوچستان اور کے پی کے میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں کا سر کچلتے ہوئے پاکستان کے ساتھ چلنے کا واضح اعلان کیا۔ جب کہ عام انتخابات میں ہونے والی چوری پر بھی سب کو آنکھیں دکھاتے آرہے ہیں اور سب کے سب ظاہری طور پر نہیں ہی سہی لیکن مولانا سے ڈرے ہوئے ہیں۔
لیکن مولانا فضل الرحمان صاحب اور اس کی جماعت ناراض ہے کہ انہوں نے عام انتخابات میں ان کے امیدواروں کو زبردستی ہرا کر راستہ روکا ہے جو کسی بھی صورت میں ناقابل معافی اور بہت بڑا جرم ہے۔
مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ صدر پاکستان بننے میں بھی جہاں آصف علی زرداری اور اسٹیبلشمنٹ نے ان کے ساتھ گیم کردی ہے اب وہ کسی بھی صورت حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ سوائے ملکی مفاد سلامتی اور جمہوریت کے لئے ساتھ ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے قریب تحریک انصاف ہوتی جا رہی ہے۔ تازہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا جلسہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے لئے پریشانیاں مزید بڑھتی جا رہی ہیں اور ان سب مرض کا حل صرف سیاست کے سلطان حکیم مولانا فضل الرحمن کے پاس ہے۔
مولانا کے پتے ابھی کھیلنے کے لئے جیب میں پڑے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات، سیاسی صورتحال کو دیکھ کر کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ مولانا اور اس کی جماعت کے ساتھ انتخابات میں زیادتی کی جاتی ہے۔ مولانا کا ووٹ بینک چرایا جاتا ہے۔ جلسے ہوں یا جلوس، ریلیاں ہوں یا پروگرام، لاکھوں کی تعداد میں افراد کی شرکت ہوتی ہے۔ یہ مولانا اور اس کی جماعت پر قوم کا اعتماد اور ریفرنڈم ہے۔ اس وقت آپ کی سیاسی جماعتیں ہوں یا مذہبی جماعتیں، تاجر تنظیمیں ہوں یا کوئی جماعت سب کا اعتماد مولانا فضل الرحمان پر ہے۔
یہاں تک کہ سندھ اور بلوچستان جہاں قومیت کے بنیاد پر قومپرست قوتوں کا اثر ہے، لیکن وہاں پر بھی جو نچلی سطح پر اثر رسوخ ہے وہ مولانا فضل الرحمن کا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسٹیبلشمنٹ مولانا فضل الرحمن کو اپنا حصہ دے دیتی لیکن عام انتخابات میں سندھ اور پنجاب میں کلین چٹ دی جاتی ہے۔ کے پی کے ایک اور بلوچستان میں راستہ روکا جاتا ہے۔ مولانا اس وقت چاروں صوبوں کی زنجیر ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو کے بعد اگر کوئی ملک میں سیاسی استحکام رکھتا ہے تو وہ صرف اور صرف مولانا فضل الرحمن ہی ہے۔
محترم نواز شریف صاحب ہوں یا محترم آصف علی زرداری صاحب لیکن اثر رسوخ رکھنے کے باوجود مولانا فضل الرحمن کے محتاج ہیں۔ آنے والے وقت میں اگر قانون سازی کر کے چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت میں توسیع کے لئے قانون پاس کیا جاتا ہے تو لازمی ہے کہ آرمی چیف صاحب کو مزید مدت میں توسیع دی جائے گی۔ اگر مولانا فضل الرحمان اور تحریک انصاف 2 / 3 اکثریت میں رکاوٹ بن کر دیوار کھڑی کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ آگے چل کر یہ حکومت مشکل سے چل سکے۔
لیکن ایک بات واضح ہو گئی کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی منزل کی طرف قریب پہنچ گئے ہیں۔ ایک تو وہ اپنی سیاسی طاقت دکھا کر مقصد حاصل کر رہے ہیں۔ دینی مدارس کے لئے جو سخت موقف اختیار کیا جاتا رہا ہے وہ ختم ہو رہا ہے۔ ملک میں عالمی قوتوں کے تحت بلوچستان اور کے پی کے میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں کو بھی مولانا نے کچل دیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ اگر حکومت میں شامل بھی ہوتے ہیں تو وہ اپنی جماعت کو مزید طاقتور بنائیں گے۔ گیند اب مولانا فضل الرحمن کی طرف ہے۔ وہ چاہیں تو حکومت کو چلنے ہی نہ دیں اور چاہیں تو قانون سازی میں حکومتی مدد کریں۔ لیکن مولانا کبھی بھی سودا سستا نہیں کرتے ہیں۔

