انسانی روپ میں فرشتہ: سسٹر مورین اوٹول
کتابوں، فلموں اور کہانیوں میں یہ ضرور پڑھنے کو ملتا ہے کہ دُنیا میں ایسے انسان بھی ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کردی ہو۔ میں نے تو اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں ہی ایسی شخصیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ بچپن میں یہ بھی سنتے تھے کہ اکثر فرشتے اچھے انسانوں کے روپ میں دُنیا میں آتے ہیں، تاکہ وہ نیک لوگوں کی مدد کر سکیں۔ لیکن ہم نے ایسے انسان دیکھے جو فرشتوں کے روپ میں تمام انسانوں کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرتے رہے ہیں۔ آج بھی کبھی سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ ان مشنریوں کو کیا ضرورت تھی کہ یہ اپنے خوشحال اور بہترین ملکوں کو چھوڑ کر ہم جیسے پسماندہ علاقوں اور لوگوں کی بہتری کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ اور ہمارے رویوں کو برداشت کرتے رہے ہیں۔ انہی شخصیات میں سے ایک شخصیت ہمارے گاؤں میں اپنی خدمات سرانجام دینے والی سسٹر مورین اوٹول بھی ہیں۔ جن کی شفقت، محبت اور علم سے لگاؤ کی عملی مثال ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی اور براہ راست زندگی میں اُس کا تجربہ کیا۔
سسٹر مورین سے جہاں شروع میں سکول میں ملاقات ہوتی تھی وہاں ہر اتوار کو وہ باقاعدگی کے ساتھ میری دادی کے لیے گھر میں پاک شراکت لے کر آتی تھیں۔ چونکہ دادی کافی ضعیف ہو چکی تھیں اور ٹانگ پر چوٹ لگنے کی وجہ سے چارپائی تک محدود تھیں، اس لیے وہ چرچ نہیں جا سکتی تھیں۔ چونکہ ہمارا گھر، سسٹرز کے کانونٹ کے بالکل ساتھ ہے، اس لیے سسٹر مورین اکثر پیدل ہی ہمارے گھر آتیں، دادی کے ساتھ بات چیت کرتیں اور انہیں پاک شراکت دیتی اور اُن کے لیے دُعا کرتی تھیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ انہیں دادی کی فکر ہونے کے ساتھ ساتھ ہم سب کے نام بھی یاد تھے۔
اس بات کا اندازہ مجھے 2010 میں ہوا، جب ان سے بہاولپور میں ملاقات ہوئی تھی۔ تب بھی انہوں نے مجھے پہچان لیا اور جب میں نے دادی کے بارے میں بتایا تو انہوں نے سب کے بارے میں نام بہ نام پوچھا تھا۔
چند سال پہلے سسٹر مورین کا انتقال ہوا تو ان کے بارے میں تحریر لکھنے کا سوچا لیکن کچھ زیادہ معلومات میسر نہ ہوئی تھیں اس لیے تحریر میں دیر لگی۔ یہ تحریر سسٹر مورین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور نوجوان نسل کو بالخصوص لوریتو، چک نمبر 270 کی نئی نسل کو ان عظیم ہستیوں کی قربانیوں اور ان کی خدمات سے آگاہ کرنا ہے۔ آئیے، سسٹر مورین کی زندگی اور خدمات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
سسٹر مورین 7 مئی 1935 کو کلفڈن، کاؤنٹی گالوے، آئرلینڈ میں، مورین ایڈورڈ اور بریگیڈ O ’Malley O‘ Toole کے ہاں پیدا ہوئیں۔ وہ 8 ستمبر 1960 کو سپارکل میں آور لیڈی آف روزری کی ڈومینیکن جماعت میں داخل ہوئیں جہاں اُنہیں سسٹر بریگیڈ ایڈورڈ کا نام دیا گیا۔ اُنہوں نے اپنی پہلی عہد بندی 1962 میں اور دائمی عہد بندی 1967 میں کی۔
سسٹر مورین نے سینٹ تھامس ایکیناس کالج، سپارکل، نیو یارک سے 1965 میں ایجوکیشن میں BS کیا
اور فورڈھم یونیورسٹی، برونکس، نیویارک سے 1971 میں مذہبی علوم میں ایم ایس کی ڈگری حاصل کی۔
نیویارک اور سینٹ لوئس میں سسٹر مورین نے شعبہ تعلیم میں 1956سے 1962
تک سینٹ ریٹا سکول، برونکس، نیو یارک، میں خدمات سرانجام دیں۔
1967 سے 1969 تک میری کوئین آف ہیون سکول، بروکلین، نیویارک، میں خدمات سرانجام دیں۔
1967 سے 1969 تک سینٹ مارک سکول، سینٹ۔ لوئس، ایم او، میں خدمات سرانجام دیں۔
1969 میں سسٹر مورین نے پاکستان میں اسپارکل مشن کی ڈومینیکن سسٹرز کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دینے کا عہد کیا۔ پاکستانی عوام کے ساتھ ان کی وابستگی 50 سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔
پاکستان میں خدمات:
1969 سے 1974 پرنسپل ڈومینیکن کانونٹ، بہاولپور
1974 سے 1977 تک پریسیما سینٹر میں بالغ تعلیم
1977 سے 1980 تک پاسٹرل انسٹی ٹیوٹ ملتان، فارمیشن پروگرام
1977 سے 1980 تک ڈائریکٹر آف نوائسز
1980 سے 1987 تک رضا آباد مشن، ملتان
1987 سے 1988 تک ڈومینیکن سسٹرز
1995 سے 1996 تک سیکرڈ ہارٹ کانونٹ میں فارمیشن ٹریننگ پروگرام
1996 سے 1999 تک بطور پرنسپل ابن مریم ہائی اسکول، لوریتو میں خدمات سرانجام دیں۔
سسٹر مورین نے اپنے آخری ایام تک کلیسائی خدمت اور عبادت و دُعا کو جاری رکھا۔ ان کے پسماندگان میں اُن کی، بھانجیاں، ڈومینیکن جماعت اور پاکستانی کمیونٹی شامل ہے۔
سسٹر مورین کی پاکستان میں مشن پر آنے کی خواہش 1969 میں پوری ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے 52 سالہ خدمت میں مختلف عہدوں اور حیثیت میں خدمت کی۔ اُن کی پاسبانی موجودگی اور تمام مخلوقات کے لیے انصاف اور تعظیم کے لیے خُدا کی بادشاہت کا اعلان کرنے کے اجتماعی مقصد کے لیے اُن کی زندگی نے ایک غیر معمولی اثر پیدا کیا ہے۔
اب جب سسٹر مورین نے ابدی سفر کو قبول کیا ہے اور اپنے خالق حقیقی کا سامنا کیا ہے۔ ہم سسٹر مورین کی زندگی اور خدمات کے لیے خُدا کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جس کی خوشخبری، دینے کے لئے ایک اچھے، اور وفادار نوکر کی مانند اُنہوں نے انسانیت کی خدمت کی۔
سسٹر مورین اتوار 5 ستمبر 2021 کو بہاولپور، پاکستان میں سپرکِل پاکستانی کمیونٹی، ڈومینیکن فادرز، اور اُن لوگ کی موجودگی میں سپرد خاک کی گئیں جن سے وہ پیار کرتی تھیں اور ان کی خدمت کرتی تھیں۔ سسٹر مورین کو جنوبی پنجاب سے خصوصی لگاؤ تھا، اس لیے انہوں نے اپنی ساری زندگی جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں خدمت کرتے ہوئے گزاری۔
کہا جاتا ہے کہ ان کے خاندان کے دیگر افراد نے ایک دفعہ انہیں کہا آپ یہاں امریکہ میں ہی رہ جائیں، لیکن اُنہوں نے پاکستانی لوگوں کی محبت میں آخری دم تک یہیں رہنا قبول کیا اور پاکستانی سر زمین پر سپر دخاک ہونا مناسب جانا تھا۔
میرے لئے آج بھی سسٹر مورین ایک ایسا نام ہے جسے سنتے ہی دل و دماغ میں ایک ایسی تصویر اُبھرتی ہے جو اپنی زندگی اور کام کے حوالے سے ایک خوبصورت شخصیت ہیں۔ سسٹر مورین کی زندگی کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ انہوں نے اپنی زندگی کو اس طرح سے جیا کہ ان کے جانے کا ہم سب کو اور جتنے لوگوں کی زندگی میں انہوں نے کام کیا تھا، بالکل دُکھ اور غم نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ لوگوں کی بھلائی، بہتری اور ایک حقیقی مشنری کی طرح خدمات سر انجام دی تھیں۔
میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اپنے بچپن کا کچھ وقت سسٹر مورین کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا، ان سے پڑھنے، سیکھنے اور سب سے بڑھ کر انگریزی کا گڈ مارننگ یاد ہے۔ مجھے احساس ہوتا ہے یہ مشنری اپنی آسان زندگی چھوڑ کر ان لوگوں کے لیے جو ڈپریس تھے، ایسے لوگوں کی زندگی میں ان کی خدمات بہت ہی قابل ستائش ہیں۔ سسٹر مورین کی طرح تمام مشنری، جنہوں نے آخری دم تک مسیحی ایمان کے مطابق اپنی زندگیوں کو بسر کیا اور دوسروں کے لیے ہمیشہ موٹیویشن اور رہنمائی کا سبب بنیں۔ سسٹر مورین کا مسکراتا چہرہ، ان کی مسکراہٹ اور ان کا خوبصورت گڈ مارننگ آج بھی یاد ہے اور آج بھی یوں لگتا ہے کہ وہ لوریتو کی دھرتی پر دھوپ اور سخت سردی میں کام کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے اپنا ملک چھوڑ کر اس خطے کے لوگوں کی رہنمائی، بہتری، تعلیم و تربیت کے لیے اپنی زندگی قربان کی۔
آج ان مشنریوں کی زندگیاں اور ان کی خدمات ہم سب کے لیے مشعل راہ ہیں۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ان کی زندگیوں اور خدمات کے روشن پہلووں کو اپنی زندگی میں اپنائیں۔ سسٹر مورین کی زندگی ہم سب کے لیے روشن مثال ہے۔ بہاولپور کی انتظامیہ نے اُن کی تعلیمی اور سماجی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کے نام ایک سڑک منسوب کی ہے۔




