ایک ادبی مرکز کی مسماری
شام آئے اور گھر کے لئے دل مچل اٹھے، شام آئے اور دل کے لیے کوئی گھر نہ ہو اسلام آباد شہر کی رنگینیاں دیکھ کر کوئی گزرتا مسافر اس شہر میں اپنے لیے گھر بنانے کی خواہش لیے چلا جاتا ہے، مگر اس شہر کا دوسرا روپ یہاں کئی سالوں سے بسے لوگ ہی جانتے ہیں کہ دارالخلافہ ہونے کی وجہ سے دن رات سانس لیتا یہ شہر اندر سے کتنا کھوکھلا ہے۔ یہاں لوگ صرف کام کو جانتے ہیں اور کام کے بغیر شاید ہی کوئی بزرگ شخص کسی گلی کی نکڑ میں گھر کے سامنے بیٹھا نظر آئے۔ اکثر لوگ صبح نکلتے ہیں اور ان کا دن کا سورج گھر آتے راستہ میں غروب ہوجاتا ہے۔ مگر ہر انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ تاکہ اپنے روز مرہ کے تجربات کو کسی کے ساتھ بیٹھ کر بیان کرسکے ہم جیسے دور دراز سے آئے طلبہ اپنے لیے اس شہر میں کسی سے کوئی میٹھا بول سننے کو ترستے ہیں۔ ہاں اگر کئی لوگ سر شام آپ کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوں اور آپ کے ہر سوال کا جواب دیں تو شاید یہ ایسی جگہ ہم جیسے طلباء کے لئے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہوتی۔
آج میں ایک ایسی جگہ کا ذکر کرنے لگا ہوں جو اسلام آباد کا ٹی ہاؤس ہے۔ جس کو ڈھانے کے لیئے سی ڈی اے اپنا لاؤ لشکر لیے سامنے کھڑا ہے۔ میرے اسلام آباد میں قیام کو چار سال ہونے کو ہیں۔ جب ہر شام میرا دل گھر کے لئے مچل اٹھتا ہے تو میں کورنگ روڈ پر بنی ماشاءاللہ ادبی ڈھابے کی جانب کھنچا چلا آتا ہوں۔ یہ صرف میری کہانی نہیں میرے جیسے کئی طلبہ کی کہانی ہے۔ یونیورسٹیز کے قریب ہونے کی وجہ سے اکثر ہم ان عظیم لوگوں کے درمیان اپنی کرسی لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور جہاں سر شام مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ جن میں شاعر، ادیب، قانون دان، پروفیسرز، طالب علم، میوزیشن، صحافی، اور بیوروکریٹ شامل ہیں۔ ان کے زیر زبان موضوعات جن میں ادب، سیاست، قانون، فلسفہ، سائنس و ٹیکنالوجی ان کے مقابلے کا محور بنی رہتی ہے۔ اس جگہ کی تہذیبی اور ثقافتی افادیت پر قومی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں جس میں بی بی سی سے لے کر سماء چینل تک نے کوریج دی ہے۔ پوری دنیا کا یہ دستور ہے کہ وہ اپنے ادیبوں، شاعروں کے نام موسوم جگہوں کو کلچرل ورثہ قرار دے کر محفوظ کرتی ہے۔
اس جگہ کی افادیت کا اندازہ اس چیز سے لگایا جاسکتا ہے کہ اختر عثمان سے لے کر سرمد صہبائی اور ڈاکٹر خورشید رضوی جیسے عظیم شاعر اور علماء یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ یہ جگہ گوگل میپ پر اختر عثمان کارنر کورنگ روڈ، آئی ٹین تھری کے نام سے پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ اس کی اور خوبی یہ کہ انڈسٹریل زون کے قریب تر واقع ہونے کی وجہ سے ملوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے غریب مزدور سستے داموں میں کھانا کھاتے ہیں اور چائے پیتے ہیں اور یہ غرباء کی آماجگاہ ہے۔ پاکستان بھر کی باقی ثقافتی جگہیں نظر انداز کرنے کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی قوم کی پہچان بڑی بلڈنگ سے ہوتی ہے۔ جس کے لئے سی ڈی اے تگ و دو کر رہی ہے۔ مزید یہ پاکستان کی ہر جگہ اور ہر کام کو زر میں تبدیل کر کے کچھ حاصل نہیں ہونا۔ حکومت وقت کو اس طرح کی تہذیبی جگہوں کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ کل بھی لوگ اس جگہ بیٹھ کر کوئی عظیم کام تخلیق کرسکیں۔


