دنیا کا سب بڑا فلائی وہیل انرجی سٹوریج سسٹم


انکل وجاہت مسعود اور میری کہانی اس حد تک ایک جیسی ہے کہ دونوں انٹر میں میڈیکل پڑھتے تھے اور باوجود انتہائی اچھے نمبر آنے کے میڈیکل کی بجائے ہم نے اپنی سمت کسی اور طرف موڑ لی۔ وہ ادب، قانون اور فلسفہ کو پیارے ہو گئے اور میں اکاؤنٹینسی، مالیات اور مال میں برکت ڈالنے کی سمت چل پڑی۔ یوں اب ہم سے ملنے والا ہمیں سائنس سے لگ بھگ فارغ ہی سمجھتا ہے۔ جب کہ ہم اب بھی جدید سائنس میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھ بھی سکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں کیا کچھ ممکن ہے اس پر بھی نظر رکھتے ہیں۔

انکل وجاہت کا حکم ملا کہ سائنس پر ایک مضمون ہر ہفتے چاہیے اور یوں پہلی کوشش حاضر ہے۔

لیجیے چین پھر بازی لے گیا۔ صوبہ شانگ ژی میں دنیا کا سب سے بڑا ”تیس میگا واٹ“ کا ”ڈنگ لن“ فلائی وہیل انرجی اسٹوریج پاور اسٹیشن گرڈ سے منسلک کر دیا گیا۔ ویسے تو پاکستانی جب سے واٹس ایپ اور فیس بک پر چیزیں اندھا دھند آگے یعنی فارورڈ کرنے کے عادی ہوئے ہیں اس وقت سے ہمارے ذہنوں میں سوال اٹھنے کا رجحان کم سے کم ہو گیا ہے بلکہ کہنے دیں کہ ہم شاہ دولہ کے چوہے بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے پاس ایک ”مواد“ آتا ہے او ر ہم ”بغیر سوچے اسے فارورڈ“ کر دیتے ہیں۔ بلا تحقیق کہ وہ سچ ہے جھوٹ یا اس کا مکسچر، آدھا سچ۔

قرآن میں اللہ تعالی متعدد مقامات پر سچ بولنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام میں ایسے لوگوں کو بہت گناہ گار قراردیا گیا ہے جو بغیر تحقیق سنی سنائی خبر کو آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں چاہے کسی کی جان چلی جائے یا مال اور عزت۔ ان ہیں کوئی خوف نہیں!

بقول شخصے، بازار میں ساتھ والا شخص پکارتا ہے دوڑ کہ کوّا تیرا کان لے گیا اور آدمی کوّے کے پیچھے گھنٹوں دوڑتا رہتا ہے مگر کان کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کرتا۔ مبادا کوا واقعی کان نہ لے اڑا ہو۔

میں نے جب فلائی وہیل انرجی سے متعلق خبر پڑھی تو دو سوالات فوراً میرے ذہن میں آئے۔
یہ فلائی وہیل انرجی اسٹوریج کیا بلا ہے؟
محض تیس میگا واٹ میں کیا اہم بات ہے جو اتنا شور ہے؟
دنیا میں متبادل توانائی (بجلی سمجھ لیں ) سے متعلق دو مسائل انتہائی اہم ہیں۔

ایک توانائی (یا فی الوقت بجلی ) کو پیدا کرنا اور دوسرا فالتو بجلی کو ذخیرہ کرنا (اور ضائع نہ کرنا) ۔

اور یہی دو سوال ہماری زندگیوں میں متعدد اور مقامات پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔
سستے ترین صاف پانی کا حصول (جہاں سے ممکن ہو) اور اس کو ذخیرہ کرنا (اور ضائع نہ کرنا) ۔
کم محنت سے اضافی آمدنی کا حصول (جہاں سے ممکن ہو) اور اس کو ذخیرہ یا بچت کرنا (اور ضائع نہ کرنا) ۔

ترقی یافتہ ممالک میں ”اضافی وقت“ ، تپش یعنی گرمی یا ٹمپریچر اور غذائی اجناس یعنی سبزی پھل اور پتوں کو بھی آمدنی مانا جاتا ہے۔

جہاں تک بجلی کی بات ہے اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ بجلی سستی ترین پیدا ہو اور ذخیرہ کرنے کی سائنس بھی سستی ترین ہو۔

عام زندگی میں آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ شمسی بجلی (سولر انرجی) کا بہت شور ہے۔ یہ دنیا بھر میں یک دم سستی بھی ہو چکی ہے۔ لیکن اس کے حصول کا دار و مدار دھوپ کی شدت اور سورج کا رخ یا سمت پر بھی بہت منحصر ہے۔ یوں جیسے جیسے شام ہونے لگتی ہے۔ بجلی کی پیداوار کم ہونے لگتی ہے۔ اور اندھیرے کے بعد اب کسی متبادل بجلی کے ذریعہ کی طرف دیکھا جاتا ہے۔

گھروں میں اگر سولر سسٹم موجود ہو تو دن میں پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو ذخیرہ کرنے کے دو طریقے بہت مشہور ہیں۔ ایک کہ گھروں میں بیٹریاں رکھ لیں۔ جو دن بھر چارج ہوتی رہیں (یعنی بجلی ذخیرہ کرتی رہیں ) اور رات کو یا جب دن میں بھی بارش یا دھوپ نہ ہو تو اس ذخیرہ سے بجلی واپس لے کر کام چلائیں۔ یعنی اپنا اگائیں اور اپنا کھائیں۔

اس میں سب سے بڑے مسائل دو ہیں۔ بیٹریاں بہت مہنگی ہوتی ہیں اور تین سے دس سال بعد تبدیل کرنی پڑتی ہیں۔

اس سلسلے کی ایک کڑی یہ بھی ہے کہ لوگ بیٹریوں کی بجائے فالتو بجلی ”گرڈ“ یعنی واپڈا کو فراہم کر دیں اس طرح اس اضافی بجلی کو وہ لوگ استعمال کر لیں جو آپ کے ارد گرد رہتے ہیں اور انہیں بجلی کی طلب ہے۔ اس طریقے کو نیٹ میٹرنگ کہا جاتا ہے۔ جس کی اپنی بھی قیمت ڈیڑھ لاکھ تک پڑ جاتی ہے۔ یوں دن میں آپ کی اضافی بجلی جو آپ کے گھر سے جاتی ہے آپ (کسی حد تک) اتنی ہی بجلی بعد میں گرڈ سے واپس لے لیتے ہیں۔ یعنی گرڈ آپ کے لئے ایک بیٹری کی طرح ہے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں نیٹ میٹرنگ کے فارمولوں سے نہ تو بجلی کی کمپنیاں خوش ہیں اور نہ صارف۔ بلکہ آہستہ آہستہ یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں سے نیٹ میٹرنگ ختم ہو رہی ہے۔ تو سوال پھر وہی اٹھتا ہے کہ سستی ترین بجلی کیسے ذخیرہ کی جائے؟

یہی مسئلہ جو پاکستان میں سولر سسٹم رکھنے والے صارف کو درپیش ہے۔ کچھ ایسی ہی مشکل ترقی یافتہ ممالک میں بجلی پیدا کرنے والی اور فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی عرصے سے درپیش ہے۔ وہاں سولر کے علاوہ: تھرمل، پون چکی (ونڈ ٹربائن) اور پن بجلی (یعنی پانی کی بجلی) سے بجلی تو پیدا ہوتی ہے لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بجلی گھر تو بجلی بنا رہا ہوتا ہے مگر صارف استعمال نہیں کر رہا ہوتا یوں یہ بجلی ضائع ہوجاتی ہے۔ جس کا نقصان بجلی کی کمپنی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بعض اوقات دن میں بہت شاندار ہوا چل رہی ہوتی ہے لیکن صارف کے پاس چونکہ اپنے سولر سسٹم ہوتے ہیں تو وہ گرڈ سے پون چکی کی بجلی نہیں لیتا یوں یہ بجلی ضائع ہو گئی۔

گھریلو صارف کے مقابلے میں بجلی کی کمپنیاں بڑی بڑی بیٹریاں استعمال نہیں کر سکتیں۔ تو ان کے پاس اس کا متبادل حل کیا ہو سکتا ہے کہ وہ کسی طرح اس اضافی بجلی کو ذخیرہ کرسکیں۔

ایک سائنس داں تھے۔ آئن اسٹائن۔ وہی کھچڑی بالوں والے بابا جی جن کی تصویر اب میمز میں لازم تصور کی جاتی ہے۔

حضرت نے ایک بڑی سادہ سی بات کی تھی جو آج تک ہمارے اکثر اساتذہ طالب علم کو سمجھانے سے اور ہم جیسے سمجھنے سے قاصر رہے۔ ان کا فرمان تھا کہ ”کائنات میں توانائی کی مقدار مستقل یعنی فکسڈ ہے نہ آپ توانائی کو پیدا کر سکتے ہیں اور نہ ختم (یعنی فنا) ۔“

”البتہ کسی بھی عمل کے دوران توانائی محض ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔“
سائنس کی دنیا میں توانائی کی کئی قسمیں ہیں۔

ہر حرکت کرتی (یا ہلتی جلتی) شے میں حرکی یعنی کائینیٹک توانائی ہوتی ہے۔ مثلاً ٹرین، جہاز، ہوا، کار اور سب سے بڑھ کر سمندر کی لہریں۔

حرکی توانائی کی ایک اضافی قسم گردشی توانائی ہے۔ دائرے میں گھومتی رہنے والی ہر چیز میں گردشی توانائی یا روٹیشنل انرجی ہوتی ہے۔

لگ بھگ ہر کیمیائی مادہ خود میں کیمیکل انرجی رکھتا ہے جو تپش یا گرمی کی صورت میں ناپی جاتی ہے۔

وہ کیمیائی مادے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو رہے ہوتے ہیں۔ ایٹمی یا نیوکلیائی توانائی رکھتے ہیں مثلاً یورینیم، ریڈیم، پلوٹونیم اور تھوریم۔

ہر گرم شے خود میں تھرمل انرجی رکھتی ہے۔
الیکٹرک کرنٹ یا بجلی بھی توانائی کی ایک شکل ہے۔
روشنی چاہے سورج سے حاصل ہو یا پرانے بلبوں سے وہ بھی توانائی کی ایک شکل ہے۔
جدید سائنس آواز یا شور کو بھی توانائی مانتی ہے۔

جدید سائنس میں ایک انتہائی اہم ترین مخفی توانائی یعنی پوٹینشل انرجی بھی ہے جو ہر جسم کے اندر جمع ہوتی رہتی ہے چاہے طاقت کی شکل میں ہو۔ زمین کے مرکز (یا یوں سمجھ لیں زمین کی سطح سے ) ہم جیسے جیسے کسی جسم کو اونچائی پر لیتے جائیں گے اس جسم میں خود بخود کچھ توانائی جمع ہو جائے گی۔ جسے مخفی توانائی کہا جاتا ہے۔ اور یہ مخفی توانائی اس جسم کو زمین کی طرف خود بخود کھینچنے کی کوشش کرتی ہے۔

نوٹ: اس کے علاوہ بھی توانائی کے بہت بڑے ماخذ ہمیں اللہ تعالی نے دے رکھے ہیں جن کو سمجھنا یا ان سے توانائی کا حصول پاکستانیوں کے فی الوقت بس کی بات نہیں۔ اس میں آسمانی بجلی، آتش فشاں کا لاوا یا اس کی گرمی اور زمین کی اندرونی سطح کے اندر موجود سخت گرمی سر فہرست ہیں۔

یہ تمہید باندھنی اس لئے ضروری تھی کیوں کہ بجلی گھروں کو سستی بجلی یعنی توانائی اگر بنانی ہو تو وہ اسے پیدا نہیں کر سکتے بلکہ کسی اور ذریعہ کی توانائی کو پکڑ کر اس سے توانائی کشید کر کے (یعنی نکال کر ) بجلی کی توانائی میں تبدیل کر دیں گے۔ کیوں کہ قبلہ آئن سٹائن کی رو سے توانائی پیدا نہیں کی جا سکتی۔

اسی طرح اضافی بجلی کو ذخیرہ کرنے کے لئے بھی یہی کرنا ہوتا ہے کہ بجائے بجلی ضائع ہو ہم اسے کسی دوسری توانائی کی شکل میں تبدیل کر دیں اور جب ضرورت ہو اس کو وہاں سے حاصل کر لیں۔ وہی یعنی بیٹری۔

متعدد ممالک بالخصوص وہ جزائر جو سمندر میں واقع ہیں۔ وہاں سستی بجلی کا حصول ایک مشکل کام ہے۔ ان علاقوں میں سولر سسٹم کے علاوہ اچھی ہوا کی وجہ سے ونڈ ٹربائن بجلی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ مانے جاتے ہیں۔ ونڈ ٹربائن کے ساتھ لیکن دو مسائل ہوتے ہیں ایک کہ دن میں سولر کی وجہ سے ڈیمانڈ کم ہوجاتی ہے اور دوسرے وہاں ماحولیاتی رضاکار پرندوں کے تحفظ کے لئے سال کے اکثر اوقات بالخصوص رات میں ان ٹربائن کو بند کروا دیتے ہیں۔ کیوں کہ پرندے رات کو اڑتے ہوئے ان ٹربائن کے بلیڈ کو دیکھ نہیں پاتے اور ٹکرا کر مر جاتے ہیں۔

چوں کہ ان جزائر میں میٹھے پانی کا حصول بھی ایک مہنگا عمل ہے اس لئے توانائی کا ذخیرہ کرنے والوں نے ایک انوکھا طریقہ وضع کیا۔ دن کی روشنی میں سمندر کے ناقابل استعمال کھارے پانی کو ٹربائن یا سولر (اضافی بجلی سے ) پمپ سے کسی بلند یا اونچے مقام یا پہاڑی پر بنائے گئے پانی کے ذخیرے (تالاب یا جھیل یا بڑے بڑے ٹینک) میں منتقل کیا جاتا ہے۔

زمین سے کئی سو فٹ اوپر جانے کی وجہ سے اب اس کھارے یا نمکین پانی میں بجلی اپنی شکل تبدیل کر کے مخفی توانائی کی شکل میں جمع ہوجاتی ہے۔

شام کے بعد جب سولر کی عدم موجودگی میں بجلی کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے تو اسی کھارے پانی کو پائپ کے ذریعے بلندی سے نیچے لایا جاتا ہے (یا گرایا جاتا ہے ) ۔ اس دوران یہ زور سے گرتا پانی، واٹر ٹربائن کے بلیڈوں سے گزارا جاتا ہے اور یوں پانی کی مخفی توانائی ٹربائن کی گردشی توانائی میں منتقل ہوجاتی ہے جو بعد میں موٹر سے منسلک جنریٹر یا آلٹرنیٹر کے ذریعہ گردشی توانائی کو بجلی میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یوں دن میں پیدا ہوئی اضافی بجلی رات کو استعمال ہوجاتی ہے۔ اس کھیل میں سو فی صد بجلی واپس نہیں ملتی بلکہ شاید پچاس سے ساٹھ فی صد تک ہی واپس ملتی ہو (جسے ایفی شینسی کہتے ہیں یعنی اس سسٹم کی کارکردگی فرض کریں پچپن فی صد ہے ) اور یہی سائنس ہے کہ اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ بہتر سے بہتر ایفی شینسی کے حصول کی دوڑ۔

لیکن جزائر پر لگے کھیل کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اوپر سے گرتا کھارا سمندری پانی، ٹربائن کو گھمانے کے بعد ، جب زمین پر پہنچنے والا ہوتا ہے تو اس کو ایک ایسے چیمبر یا ٹینک سے گزارا جاتا ہے۔ جہاں ریت موجود ہوتی ہے۔ ریت میں موجود مخصوص اضافی کیمیکل سمندر کے پانی کے نمک کو کم سے کم کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد یہی پانی کوئلے جیسے ایک دوسرے فلٹریشن ٹینک سے گزرتا ہے اور یوں ایک بہتر پانی کا ذخیرہ حاصل ہوجاتا ہے۔

اس کے بعد شروع ہوتی ہے وہ سائنس جو 1450 سال پہلے اللہ تعالی نے قرآن میں سورہ فرقان کے ذریعے انسانوں کو بتائی تھی۔ (مفہوم) ”کہ دو دریا ہیں۔ ایک میٹھا اور ایک کھارا۔ دونوں ساتھ ساتھ رہتے اور چلتے ہیں مگر ایک دوسرے میں داخل نہیں ہوتے“ ۔

یہ ایک سائنسی عمل ہے جسے انگریزی میں ”اوسموسس“ کہا گیا۔ اور آج اسے میٹھے پانی کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ مانا جاتا ہے۔

تو جناب اوپر سے آتے قدرے کھارے مگر فلٹرڈ پانی کو اب ”اوسموسس“ کے ذریعے جتنا ممکن ہو قابل استعمال میٹھا بنالیا جاتا ہے اور یوں وہ جو چالیس پچاس فی صد ایفی شینسی ضائع ہو گئی تھی۔ بیٹھے بٹھائے میٹھے پانی کے حصول کی وجہ سے اب مزید قابل برداشت ہو گئی۔

لیکن یہ کام چوں کہ ہر جگہ ممکن نہیں تو بجلی گھر والے کیا کریں؟ ( یہ درد سر پاکستانی آئی پی پی کا نہیں بلکہ باقی دنیا کے بجلی گھروں کا ہے ) ۔

یہاں بجلی کو ذخیرہ کرنے کے لئے متعدد مزید نئی ٹیکنالوجیز سامنے آئیں۔
جن میں آج کل سب سے مشہور سپر کپیسٹر ہے، دوسرا اضافی ہائیڈروجن اور تیسرا ”فلائی وہیل“ ۔

ہم سب نے بچپن (یا زندگی میں ) کوئی نہ کوئی کھلونا ایسا دیکھا ہوتا ہے۔ جس میں بیٹری کی بجائے چابی ہوتی ہے۔ آپ کھلونے میں چابی بھریں۔ جس دوران آپ کے جسم کی مخفی توانائی، کھلونے میں موجود ”اسپرنگ“ میں ٹرانسفر ہو جائے گی۔ اور پھر جیسے ہی اس کو چھوڑا جائے۔ اسپرنگ میں موجود توانائی، کھلونے میں حرکی توانائی پیدا کر کے اس میں حرکت پیدا کر دیتی ہے۔ اور یہ عمل چلتا رہتا ہے۔ چابی والے کھلونوں کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں بیٹریاں انتہائی مہنگی ہوتی تھیں۔ پندرہ بیس منٹ یا ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں چل پاتی تھیں۔ جب کہ چابی والے کھلونوں کی زندگی طویل ہوتی تھی اور وہ سستے بھی ہوتے تھے۔ ماضی میں ایک عرصے تک اصلی ٹرک، بسیں اور کاریں، گھڑیاں اور گراموفون بھی (بیٹری کی عدم موجودگی میں ) چابی گھما کر اسٹارٹ ہوتے یا چلتے تھے۔

جدید دور میں فلائی وہیل انرجی اسٹوریج بھی ”کھلونے کے اسپرنگ“ کی ایک جدید شکل ہے۔ بس اس میں اسپرنگ کی بجائے، ایک بہت بڑا پہیہ یا وہیل ہوتا ہے جو بجلی ملنے پر گھومنے لگتا ہے (اور یہ کہ اس میں کوئی بریک نہیں ہوتا) ۔

آپ جتنی بجلی اس میں بھرتے جائیں گے بڑے سے پہیے کی رفتار اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ اور ایک وقت بلا مبالغہ اس کی گردشی رفتار (پاگل پن کی آخری حد تک) پچاس سے ساٹھ ہزار گردش فی منٹ تک جا پہنچتی ہے۔ پانچ چھ گھنٹے ان میں بجلی بھرنے کے بعد آپ ان کو الگ کر دیتے ہیں۔ لیکن ”کسی بریک یا رگڑ کی عدم موجودگی میں“ ، یہ موٹریں بدستور گھومتی رہتی ہیں (سمجھیں لامتناہی وقت تک) ۔

یہ کوئی نئی ٹیکنالوجی نہیں۔ پرانے زمانے میں جب ان وہیل کے بیئرنگ میکانیکل ہوتے تھے تو ان میں موجود رکاوٹ یا رگڑ کی وجہ سے یہ کئی گھنٹوں کے بعد رک جاتے تھے۔ لیکن جدید ترین فلائی وہیل انرجی سسٹم میں کچھ بھی میکانیکل نہیں بلکہ ان کی گردش کو طاقت ور مقناطیسوں اور زمین کی محوری گردش کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے اور آج کل ان سسٹم کی ایفی شینسی 90 فی صد سے زیادہ مانی جاتی ہے۔ اس کا اندازہ اس لمبے چوڑے کھڑاک سے کریں جس کے ذریعے سمندر کا پانی میٹھے پانی میں تبدیل ہو رہا تھا اور ایفی شینسی محض پچاس پچپن فی صد تک تھی۔

اب تصور کریں کہ دن بھر میں سولر کے ذریعے فلائی وہیل کو گھمایا گیا۔ اور شام ہوتے ہی اس کے گھومتے وہیل کو ایک ٹربائن سے منسلک کر دیا گیا یوں بجلی واپس ملنے لگی۔ بیچ میں کچھ ایسے سرکٹ لگا دیے گئے جن کی مدد سے جتنی بجلی کی طلب ہو یہ ٹربائن اتنی ہی پیدا کر دیں گے۔ یہ ایک بہت بڑی سہولت یا خوبی اس طرح سے ہے کہ اگر سارا دن ایک میگا واٹ فی گھنٹہ کے حساب سے پانچ گھنٹے تک بجلی جمع کی گئی تو بنک میں کل ذخیرہ پانچ میگا واٹ گھنٹہ بنے گا۔ اور ضروری نہیں کہ اسے ایک میگاواٹ کے حساب سے پانچ گھنٹے میں ہی حاصل کیا جائے۔ اشد ضرورت کی صورت میں یہ دس میگاواٹ بجلی آدھے گھنٹے میں بھی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم فلائی وہیل انرجی اسٹوریج کو بہ آسانی ایک جدید میکانیکل بیٹری سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔

یاد رہے 90 فی صد کارکردگی یعنی ایفی شینسی کا مطلب ہے کہ پورے دس نہیں بلکہ نو 9 میگا واٹ بجلی آدھے گھنٹے تک مل سکے گی۔

پرانے یو پی ایس اگر آپ نے گھروں میں دیکھے ہوں تو ان کی ایفی شینسی 50 سے 60 فی صد تک ہوتی تھی۔

جب کہ جدید دور کے قدرے چھوٹے اور پتلے یوپی ایس جن ہیں انورٹر بھی کہہ دیا جاتا ہے ان کی ایفی شینسی 90 فی صد سے بھی زیادہ ممکن ہے۔

یعنی اگر 50 فی صد والا پرانا یو پی ایس نئی بیٹری کے ساتھ پانچ گھنٹے پنکھے چلاتا ہے تو 90 فی صد ایفی شینسی والا انورٹر یا یو پی ایس 9 نو گھنٹے اسی بیٹری سے بجلی پیدا کرے گا۔ تو فائدہ کس میں ہوا؟

بہرحال چائنہ کے ڈنگ لن پاور اسٹیشن میں لگنے والا یہ تیس میگا واٹ کا مکمل سسٹم کسی ایک فلائی وہیل کی مرہون منت نہیں بلکہ یہاں ایک سو بیس 120 وہیل موجود ہیں جب کہ ہر ایک کی صلاحیت 250 کلو واٹ آور یا چوتھائی میگا واٹ آور ہے۔ بیٹریوں کے مقابلے میں ان کی زندگی کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ کئی سو سال تک خراب نہ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں (اگر مناسب دیکھ بھال کی جاتی رہے ) ۔

فلائی وہیل کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ کسی کیمیکل یا دھات کا محتاج نہیں اور نہ ماحول کو خراب کرتا ہے۔ اور زندگی تو ہے ہی طویل۔ اسی لئے ان کو زمین کے اوپر رکھنے کی بجائے عام طور پر زیر زمین رکھا جاتا ہے تاکہ جگہ کی بھی بچت ہو۔ آج کل کے فلائی وہیل لگ بھگ بے آواز بھی ہوتے ہیں۔ اب عقل کے گھوڑے دوڑائیں کہ ہم ان فلائی وہیل کے ذریعہ کیسے اپنی زندگیوں کو آسان بنا سکتے ہیں؟

یاد رہے 200 ایمپیئر اور 12 وولٹ کی ایک بڑی بیٹری 2400 واٹ ایمپیئر یا لگ بھگ ڈھائی کلو واٹ آور توانائی ذخیرہ کرتی ہے۔

الیکٹرک کاروں میں عام طور پر پچاس سے سو کلو واٹ آور کی متعدد بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں۔ یعنی 200 ایمپیئر والی پچیس بیٹریاں مل کر پچاس کلو واٹ بجلی ذخیرہ کریں گی؟

الیکٹرک وہیکلز کے دو سب سے بڑے نقصان ہی یہی ہیں کہ اس کا آدھا سے زیادہ وزن اس کی بیٹریوں کا ہوتا ہے۔ اور کچھ بھی ہو کچھ عرصے بعد بیٹریاں تبدیل بھی کرنی پڑتی ہیں۔ جو ماحول کو نقصان پہنچانے کا دوہرا سبب ہیں۔ کیوں کہ پرانے فضلے کو ٹھکانے لگانا ہو گا اور نئی بیٹری کے لئے زمین سے نئے کیمیائی مادے یا دھات کو حاصل کرنا ہو گا۔ جب کہ اتنی وزنی بیٹریوں کو لے کر جب الیکٹرک کار آگے بڑھتی ہے تو وہ صارف سے زیادہ اپنا بوجھ خود کھینچ رہی ہوتی ہے۔

مستقبل میں توقع کی جا رہی ہے کہ جہاں تیل سے چلنے والی گاڑیاں ختم ہوجائیں گی وہیں شاید گاڑیوں میں بیٹریاں بھی ختم ہوجائیں یا ان میں بیٹریوں کا استعمال کم سے کم ہو جائے۔ تو متبادل کیا ہو گا؟

ایک تو یہی فلائی وہیل (جو ڈنگ لن میں ڈھائی سو کلو واٹ آور کا لگا ہے ) ۔ تو اگر ایک بیس سے پچاس کلو واٹ آور کا فلائی وہیل بھی ہماری کار میں نصب ہو جائے جو شاید اگر پوری ڈگی کے برابر بھی جگہ گھیر لے تو سودا برا نہیں۔ سوچیں الیکٹرک گاڑیاں کتنی ہلکی ہوجائیں گی یعنی اب زیادہ وزن اٹھا سکیں گی اور زیادہ فاصلہ طے کرسکیں گی۔ اور مزید ماحول دوست بھی ہوں گی۔

ارے ایک بات سمجھنا رہ گیا۔

فلائی وہیل کی ایک خاص خوبی یہ بھی ہے کہ اگر دو سو کلو واٹ آور کا ایک فلائی وہیل ہے تو ضروری نہیں اس کو دس کلو واٹ بجلی بیس گھنٹوں میں دی جائے یا بیس کلو واٹ دس گھنٹوں تک۔ یا دو سو کلو واٹ ایک ہی گھنٹے میں۔ بلکہ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ اگر ہمارے پاس ایک میگا واٹ بجلی ہو تو یہ صرف بارہ منٹ میں بغیر کسی نقصان کے فل چارج ہو جائے گا۔ یعنی فل اسپیڈ میں گھومنے لگے گا۔ اس کے بعد آپ کی مرضی ہے اس سے کس رفتار سے بجلی واپس لیتے ہیں۔ یعنی مستقبل میں آپ کی کار ”چارجنگ اسٹیشن“ پر جاکر چند منٹوں میں مکمل چارج ہو جائے گی۔ یعنی پہیہ گھومنے لگے گا۔

فلائی وہیل اب کاروں کے ساتھ، موٹر بوٹس، بس، ٹرک، ٹرین اور بچوں کے پارک میں بڑے بڑے جھولوں کے ساتھ ناسا کے راکٹ اور مصنوعی سیارچوں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ اور کارکردگی بڑھانے کے چکر میں ان ٹرانسپورٹ ذرائع کے بریک یا اُن کی اپنی حرکت سے اِن وہیل کو (یا کسی دوسرے وہیل کو دوبارہ چارج ) بھی کیا جا رہا ہوتا ہے۔

یہاں میں نے کوشش کی ہے کہ ٹیکنالوجی کی تہہ میں جانے کی بجائے اس کی اہمیت پر زور دیا جائے۔
اگر تصویر کی ضرورت محسوس کریں تو انگلیوں کو حرکت دیں اور کسی سرچ انجن سے مانگ لیں۔

اگلی قسط میں ہائیڈروجن کیا بلا ہے۔ جو مستقبل میں فلائی وہیل کے شاید ساتھ ساتھ چلے گی۔ یاد رہے ہائیڈروجن والی کہانی وہی ہے جو سندھ پولیس کے بقلم خود انجینئر وقار کی واٹر کٹ سے جڑی ہوئی ہے۔

Facebook Comments HS