مفتی طارق مسعود، چار شادیاں اور ڈاکٹر بلند اقبال کا گلہ
مفتی طارق مسعود المعروف ”چار شادیوں کی ترویج والے“ صاحب کو کون نہیں جانتا، اب تو ان کے نام کے ساتھ ”ورلڈ ریناؤنڈ اسکالر“ لکھا جانے لگا ہے۔ یہ لاحقہ بھی مذہبی شخصیات کا لازمہ بن چکا ہے، بھلے بندے کی بنیادی تعلیم پرائمری ہو کوئی فرق نہیں پڑتا بس درس نظامی پورا ہونا چاہیے، پھر بھلے آپ اپنے نام کے ساتھ مفتی یا عالم باعمل لکھوا لیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ طارق مسعود دیوبندی مکتبہ فکر کے ”ناصر مدنی“ ہیں جن کا کام مذہب کے نام پر امہ کو انٹرٹین کرنا یا تفریح کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
سوشل میڈیا اور یو ٹیوب کی بدولت بڑے بڑوں کی دکان داریاں چل رہی ہیں۔ جو تصویر کھنچوانے کو معیوب یا خلاف شرع سمجھتے تھے وہ اب بن ٹھن کر ڈبل مائیک کے ساتھ اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں۔ سادگی کی تبلیغ و تلقین کرنے والے اب رنگ برنگی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور اعلیٰ قسم کے آئی فون استعمال کرتے ہیں۔
مفتی طارق مسعود ایسے علماء دن رات کفار کی برائیوں میں مصروف رہتے ہیں، ان کے مطابق یورپ شراب، شباب اور کباب کی آماج گاہ ہے، وہاں دن رات سیکس ہوتا ہے اور لوگ ننگے گھومتے ہیں اور ان کا ابدی ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ چلیں مان لیا جناب! سوال یہ ہے کہ پھر آپ وہاں کیا لینے جاتے ہیں؟ کیا کسی عالم دین کا ایسی نجس جگہ پر قدم ٹکانا، تبلیغ کے عوض ڈالر بٹورنا، پاکستان میں موجود اپنی مساجد و مدارس کی تعمیر و ترقی کے لیے چندہ کے طور پر ڈالر اکٹھے کرنا جائز ہے؟ مفتی طارق مسعود آج کل تبلیغ کے سلسلے میں کینیڈا میں موجود ہیں، سوال پوچھنا تو بنتا ہے نا کہ جناب کا کفر کی آماج گاہ میں جانا اور سانس لینا جائز ہے؟
مفتی صاحب کا ایک حوالہ اور بھی ہے موصوف مساجنسٹ ہیں اور خواتین کے متعلق کوئی مثبت رائے نہیں رکھتے، اکثر اپنے مجمع میں لوگوں کو چار چار شادیوں کی ترغیب دیتے ہیں اور ان کی نظر میں خود کو گناہ سے محفوظ رکھنے کا اس سے اچھا نعم البدل کوئی نہیں ہے۔ مطلب دوسروں کی بچیاں آپ کو فقط گناہوں سے بچانے کے لیے ہیں تاکہ آپ تقویٰ و طہارت والی زندگی بسر کر سکیں بھلے ان کی زندگی جیسے بھی بیتے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے؟ افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب موصوف یہ سب باتیں لطائف میں ملا کر عوام کو ہنسا رہے ہوتے ہیں۔
خاتون کوئی روبوٹ، جذبات سے ماورا یا کسی بھی کھونٹے سے باندھ دینے والی مخلوق یا چیز نہیں ہوتی بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان ہوتی ہے اور ازدواجی بندوبست کے علاوہ بھی اس کی ایک نجی زندگی یا شخصیت ہوتی ہے جو وہ اپنے حساب سے جینا چاہتی ہے لیکن اسے تو صرف شادی کے پنجرے تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ محافظین سماج اور غیرت و عصمت کے یہ رکھوالے خاتون کے کردار کو عزت و ناموس کے نام پر محدود کر کے اسے گھر کی چار دیواری تک پابند رکھنا چاہتے ہیں۔
تاکہ وہ سوشل لائف سے دور رہے اور زندگی کے کسی بھی میدان میں کوئی متحرک کردار ادا نہ کر سکے۔ پھر یہی لوگ اس قسم کی باتیں بنانے لگتے ہیں کہ 85 فیصد خواتین جاہل اور اجڈ ہیں، سوال یہ ہے کہ ان کو جاہل رکھا کس نے ہے؟ ظاہر ہے انہی سماجی پنڈتوں کا کیا دھرا ہی تو ہے جو اپنی عزت کی ناک بچانے کے لیے خواتین کو سماجی دھارے سے الگ کر کے خود کو مہان اور خواتین کے محافظ کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ہمارے مہربان دوست ڈاکٹر بلند اقبال نے اپنی فیس بک وال پر ایک اشتہار شیئر کیا جس میں کینیڈا کے کسی مقام پر مفتی طارق مسعود نے خطاب فرمانا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑی سنجیدگی سے لکھا کہ خدا کے لیے ہمیں یہاں تو بخش دیں پلیز، یہاں بھی اپنی مساجنسٹ فکر کے ساتھ آن پہنچے۔ ڈاکٹر بلند نے بالکل درست اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھائی یہاں کا نظام مختلف ہے اور یہاں وہ سب چورن بیچنے کی کوشش مت کریں جو آپ کے ہاں ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے۔ ان کی تشویش بالکل درست ہے اور وہ جس سماج کا حصہ ہیں وہاں کی اخلاقیات اور معاملات زندگی ہم سے کہیں بہتر اور فعال ہیں۔
وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سالہاسال کے بعد وہ جب کبھی اپنے وطن عزیز میں آ تے ہیں تو انہیں یہاں سے خالص منرل واٹر نہیں ملتا۔ اسلام کے سائے میں آ باد ہونے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ادویات سے لے کر اشیاء خوردنی تک جعلی اور صحت کے اصولوں کے منافی ملتی ہیں۔ مرچوں میں بھوسہ، چائے کی پتی میں لکڑیوں کا برادہ، گھی میں گندی اور بدبودار چربی کی ملاوٹ اسی مملکت خداداد میں ہوتی ہے۔ کیا مہذب دنیا میں ایسا ممکن ہے؟ کیا وہ کبھی اس طرح کا مہلک زہر اشیائے خورد و نوش میں ملانے کا سوچ بھی سکتے ہیں؟
ہمارے ہاں مذہب کے نام پر دوسروں کو حقیقی معنوں میں انسان بنانے کے سارے بندوبست مساجد، مدارس، خانقاہوں اور درگاہوں کی صورت میں موجود ہیں اور ان میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی بھی ہو رہی ہے لیکن اس پاکیزہ اہتمام کے باوجود بھی اخلاقی میدان میں ہم ایک انچ بھی آ گے نہیں بڑھ پائے۔


