ماموں جان
ماموں جان محمد ظہیر فرخ (قلمی نام ایم زیڈ فرخ) 17 اکتوبر 1931 کو دہلی، بھارت میں پیدا ہوئے اور 16 اگست 2024 کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اپنی 93 سالہ زندگی میں انہوں نے خاندان، کمیونٹی اور اصولوں کے ساتھ گہری وابستگی کے ذریعے ہر اُس شخص پر گہرا اثر ڈالا، جو انہیں جانتا تھا۔ وہ امرتسر کے معروف معلم صوفی محمد صغیر حسن اور بریلی کی ممتاز شاعرہ رابعہ پنہاں کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔
ماموں جان انتقال کے وقت سان حوزے، کیلیفورنیا میں رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی برصغیر کی متنوع ثقافتی اور فکری ماحول میں پرورش پائی۔ کم عمری سے ہی انہوں نے محنت، تعلیم اور دیانتداری کے وہ اصول اپنائے، جس نے ان کی پوری زندگی رہنمائی کی۔ تعلیم کے لیے جذبہ ان کے کردار کا ایک نمایاں پہلو تھا۔ چاہے وہ ادب، تاریخ یا سائنس کی دنیا ہو، ان کی سمجھ وسیع اور گہری تھی۔ لیکن ان کا علم حاصل کرنے کا مقصد صرف ذاتی کامیابی نہیں تھا، وہ ہمیشہ یہ یقین رکھتے تھے کہ جو کچھ انہوں نے سیکھا ہے، اسے لوگوں کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے، اور یہ ان کی زندگی کا ایک اہم اصول تھا، جس پر وہ ساری زندگی کاربند رہے۔
ماموں جان نے ایم اے او کالج، گورنمنٹ کالج لاہور، ہارورڈ لا اسکول اور لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کی۔ پاکستان کے مالیاتی اور ٹیکسیشن کے شعبوں میں وفاقی اور صوبائی سطح پر کئی اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران ان کی سول سروس ختم ہو گئی، جس کے بعد انہوں نے لندن ہجرت کر لی۔ وہاں سے وہ پاکستان کے شام کے اخبارات ڈیلی نیوز اور لیڈر کے لیے باقاعدہ کالم نویس بنے۔ روشن خیالی اور بے لاگ تبصروں کی وجہ سے انہیں بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے بین الاقوامی، پاکستانی اور برطانوی سیاست پر طنزیہ کتاب ”میٹرز آف مومنٹ“ بھی لکھی۔ پیشہ ورانہ سفر ان کے کردار اور عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کئی دہائیوں پر محیط کیریئر حکمت، بصیرت اور غیر متزلزل دیانتداری سے آراستہ تھا۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں اکثر مفاہمت کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں، وہ ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہے، اور اپنے ساتھیوں کی جانب سے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنا پر بلکہ اپنے اخلاقی کردار کی وجہ سے بھی ستائش حاصل کی۔ انہوں نے ہمیشہ ہمدردی، شفافیت اور دوسروں کے لیے احترام کو فوقیت دی۔
جو چیز ماموں جان کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی، وہ یہ تھی کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ کامیابیوں کو سماجی ذمہ داری کے مضبوط احساس کے ساتھ متوازن رکھتے تھے۔ وہ صرف ایک کامیاب پروفیشنل نہیں تھے، بلکہ ایک سرپرست، رہنما اور بہت سے لوگوں کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بھی تھے۔ ان میں دوسروں میں ممکنات کو پہچاننے کی منفرد صلاحیت تھی اور وہ اس ممکنات کو پروان چڑھانے میں بے حد خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان کی نصیحت اور حوصلہ افزائی نے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ کیا۔ وہ جانتے تھے کہ حقیقی قیادت صرف ذاتی کامیابی کے بارے میں نہیں ہوتی، بلکہ دوسروں کو بھی کامیاب ہونے میں مدد کرنے کے بارے میں ہوتی ہے۔
ماموں جان کی زندگی کا مرکز ان کا خاندان تھا۔ وہ ایک محبتی باپ اور دادا تھے، جو رشتوں کو انتہائی اہمیت دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر ایک ایسا خاندان پروان چڑھایا جو دیانتداری، ہمدردی اور زندگی بھر سیکھنے کے اصولوں پر کاربند رہا۔ ان کی اپنے خاندان کے لیے محبت ہر کام میں نمایاں تھی، اور وہ ان اقدار کو نسل در نسل منتقل کرنے کے لیے سخت محنت کرتے رہے۔ ان کے ایمان اور دوسروں کی خدمت کی اہمیت پر یقین ان کی ذاتی اقدار کا مرکزی جزو تھا۔ خدمت کی لگن کو ان کے پیشہ ورانہ اور خاندانی زندگی سے اولیت حاصل تھی۔ ساری زندگی وہ مختلف فلاحی کاموں میں فعال رہے، اور ہمیشہ دوسروں کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ ان کا تعاون صرف مالی امداد تک محدود نہیں تھام، بلکہ انہوں نے اپنا وقت، توانائی اور مہارت کو بھی ان مقاصد کے لیے وقف کیا۔ وہ کمیونٹی کی قدر کو سمجھتے تھے اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا کہ وسائل اور مواقع ان لوگوں کے لیے دستیاب ہوں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان کی کمیونٹی میں شمولیت کا ایک اہم پہلو ان کا سرپرستی کا کردار تھا۔ وہ ہمیشہ نوجوان پروفیشنلز کے ساتھ اپنا علم اور تجربہ بانٹنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ انہوں نے تعلیمی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی، جنہوں نے ان لوگوں کو مواقع فراہم کیے جن کے پاس اس کی استعداد نہ تھی اور اس نے بہت سی زندگیوں میں ایک نمایاں فرق ڈالا۔
ماموں جان کو ایک عظیم انسان کے طور پر یاد رکھا جائے گا جن کی خدمات بڑے مقاصد کے لیے تھی۔ ان کے انتقال کے ساتھ ایک دور کا اختتام ہو گیا، لیکن ان کا اثر ان لوگوں کی زندگیوں میں محسوس ہوتا رہے گا جن کی انہوں نے سرپرستی کی، ان اداروں میں جن کی انہوں نے خدمت کی، اور اس خاندان میں جس سے انہوں نے محبت کی۔ ماموں جان کی زندگی پر غور کرتے ہوئے میں ان اقدار کی اہمیت محسوس کرتا ہوں جو انہوں نے مجھ میں پیدا کیں اور ان کئی طریقوں سے جنہوں نے مجھے آج وہ بنایا جو میں ہوں۔ ان کی یاد ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہے گی، اور ایک یاد دہانی کے طور پر کہ کس طرح ایک فرد کی زندگی دوسروں پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ جب میں انہیں یاد کرتا ہوں، تو میں ایک بھرپور زندگی کا تصور کرتا ہوں اور ایک ایسی وراثت کا جس سے مجھے مستقل طور پر حوصلہ اور رہنمائی ملتی رہے گی۔



