فوزیہ قریشی کے افسانوں کا مجموعہ: رقصِ مرگ
مدت ہوئی مرزا غالب کہہ گئے تھے :
قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل بچّوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا
غالب کے اس خوبصورت شعر پر فیض احمد فیض نے دستِ صبا کے دیباچے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فنِ سخن (یا کوئی اور فن) بچّوں کا کھیل نہیں ہے۔ اس کے لیے تو غالب کا دیدۂ بینا بھی کافی نہیں، اس لیے کافی نہیں کہ شاعر یا ادیب کو قطرے میں دجلہ دیکھنا ہی نہیں دکھانا بھی ہوتا ہے۔ مزید برآں اگر غالب کے دجلہ سے زندگی اور موجودات کا نظام مراد لیا جائے تو ادیب خود بھی اسی دجلہ کا ایک قطرہ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے ان گنت قطروں سے مل کر اس دریا کے رخ، اس کے بہاؤ، اس کی ہیئت اور اس کی منزل کے تعین کی ذمّے داری بھی ادیب کے سر آن پڑتی ہے۔
یوں کہیے کہ شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں، مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔ گرد و پیش کے مضطرب قطروں میں زندگی کے دجلہ کا مشاہدہ اس کی بینائی پر ہے اسے دوسروں کو دکھانا اس کی فنی دسترس پر، اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا اس کے شوق کی صلابت اور لہو کی حرارت پر ۔ اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش اور جدوجہد چاہتے ہیں۔ ”
فیض صاحب کے اس کلیے کی رُو سے دیکھا جائے تو فوزیہ قریشی اپنے افسانوں کے ذریعے ان تینوں کاموں سے بخوبی عہدہ برا ہو رہی ہیں۔ اور جس طرح فیض نے کہا تھا کہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا، سو فوزیہ قریشی نے بھی محبت کے ساتھ ساتھ ان تمام دکھوں کو بھی اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے جو ابتدائے آفرینش سے آدم زاد کا مقسوم بنا دیے گئے ہیں۔ ان کے افسانے ہمارے سماج، ہمارے مزاج، ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا آئینہ ہیں۔ اس آئینے میں اگر ہمیں اپنا عکس بدصورت، بدہیئت اور بے ہنگم نظر آئے تو قصور آئینے کا نہیں۔
فوزیہ قریشی نے خاص طور پر عورتوں کے خانگی اور معاشرتی مسائل پر طبع آزمائی کی ہے۔ خواتین عام طور پر مردوں سے زیادہ حساس دل، حساس طبع ہوتی ہیں۔ وہ جذبوں کی شدت، حدت، حلاوت و ملاحت کو مردوں سے بہتر طور پر محسوس کرتی ہیں اور ان احساسات کو اگر دلگداز پیرایہ بیان میسر آ جائے تو ’گہرے گھاؤ‘ ، ’تہذیب کی برزخ‘ اور ’حُسنِ نظر‘ جیسے افسانے وجود میں آتے ہیں۔ فوزیہ قریشی نے ’امتل‘ اور ’دوسرا مرد‘ جیسے افسانوں کے ذریعے پارسائی اور پاک بازی کے لبادے میں چھپے مکروہ اور مذموم کرداروں کا پردہ بھی چاک کیا ہے۔
’رقص مرگ‘ دنیا بھر کے مظلوموں اور مجبوروں کے مصائب کا نوحہ بھی ہے اور گلی گلی، کوچے کوچے انسان پر انسان کے ہاتھوں برپا کی جانے والی قیامت کا مرثیہ بھی۔ فوزیہ قریشی کا حساس اور امن و آزادی کا خواب دیکھنے والا دل دنیا کے مختلف علاقوں میں ہونے والی آگ اور بارود کی بارش پر خون کے آنسو روتا ہے۔ انھوں نے اپنے قلم کو ظلم و جبر، نفرت و انتقام کی ان جنگوں کے خلاف عَلم بنایا ہے اور خونِ دل کی روشنائی سے ان خوابوں اور امیدوں کو صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔
فوزیہ قریشی کئی برسوں سے دیار غیر میں مقیم ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے اپنا رشتہ اپنے دیس اور اپنے ادب سے ٹوٹنے نہیں دیا۔ ان کے افسانوں میں موضوعات کا تنوع اور کہانی بیان کرنے کے لیے دلکش تراکیب، تشبیہات اور استعاروں کا استعمال ان کے گہرے مطالعے اور مشاہدے کا بیّن ثبوت ہے۔ ان کے افسانے اُردو کی اسی روشن روایت کے سلسلے کی کڑی ہیں جو اُردو ادب کو عالمی سطح پر وقار اور اعتبار دلاتا ہے۔
میں نے کچھ عرصے پہلے اُردو ادب کی مؤقر ویب سائٹ ’ریختہ‘ پر پہلے پہل ان کا ایک افسانہ پڑھا تو پھر یکے بعد دیگرے تمام افسانے پڑھتا چلا گیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب ان کا افسانوی مجموعہ منظر عام پر آ رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس مجموعے کو پڑھنے والا کوئی بھی قاری ان کے انداز و اسلوب کا گرویدہ ہوئے بنا نہیں رہ سکے گا۔




