دیدۂ بینا
خدائے سخن میر نے کہا تھا چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ ابتدائے آفرینش سے دنیا دو قسم کے لوگوں سے بھری ہے۔ ایک وہ جو اس جہان سے سرسری گزر جاتے ہیں۔ جو پیدا ہوتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں، نسل کَشی کرتے ہیں اور اس نیرنگ خانۂ دہر میں اپنا کوئی نقش قائم کیے بغیر رخصت ہو جاتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دیدۂ بینا رکھتے ہیں۔
Read more
