دیدۂ بینا

  خدائے سخن میر نے کہا تھا چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ ابتدائے آفرینش سے دنیا دو قسم کے لوگوں سے بھری ہے۔ ایک وہ جو اس جہان سے سرسری گزر جاتے ہیں۔ جو پیدا ہوتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں، نسل کَشی کرتے ہیں اور اس نیرنگ خانۂ دہر میں اپنا کوئی نقش قائم کیے بغیر رخصت ہو جاتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دیدۂ بینا رکھتے ہیں۔

Read more

فوزیہ قریشی کے افسانوں کا مجموعہ: رقصِ مرگ

مدت ہوئی مرزا غالب کہہ گئے تھے : قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل کھیل بچّوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا غالب کے اس خوبصورت شعر پر فیض احمد فیض نے دستِ صبا کے دیباچے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فنِ سخن (یا کوئی اور فن) بچّوں کا کھیل نہیں ہے۔ اس کے لیے تو غالب کا دیدۂ بینا بھی کافی نہیں، اس لیے کافی نہیں کہ

Read more

رنگ رنگ سب رنگ

نامور ناقد شمس الرحمان فاروقی نے اردو کی مشہور ترین داستان، داستان امیر حمزہ کے متعلق اپنی بے مثل تصنیف ’ساحری، شاہی، صاحب قرآنی‘ کے نام سے پیش کی تھی۔ داستان کی پچاس جلدوں کے مطالعے کے بعد اس پر نقد و نظر کی یہ مبسوط کتاب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی نے تین جلدوں میں طبع کی تھی۔ یہ برصغیر کے قدیم فن داستان گوئی کو ہمارے عہد کے ایک بڑے دانش ور کا خراج عقیدت

Read more

وہ صورت گر کچھ خوابوں کے

کتاب شائع کر کے اسے قاری تک پہنچانے کی اہمیت کتاب لکھنے سے کسی طور کم نہیں۔ برصغیر میں فورٹ ولیم کالج نے جس روایت کا آغاز کیا اسے اوج کمال تک منشی نول کشور نے پہنچایا۔ ہندوستان کے ثقافتی ورثے خصوصاً اردو کتابوں کی نشر و اشاعت میں منشی نول کشور نے جو خدمات انجام دیں اس کے لیے محبان اردو آج تک ان کے لیے احترام سے سر جھکاتے ہیں۔ مرزا غالب کی منشی نول کشور سے خاصی دوستی تھی۔ نول کشور پریس کے بارے میں انھوں نے ایک خط میں لکھا۔ ”اس چھاپا خانے نے جس کا بھی دیوان چھاپا، اس کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا۔“

Read more