مصباح نوید، غلام معاشرہ اور غلام گردشیں

مجید امجد کے شہر ساہیوال کے ساتھ میری وابستگی کوئی 45 برس پر محیط ہے۔ 1978 میں جب میں نے مختلف اخبارات و جرائد میں اپنی غزلیں بھیجنا شروع کیں تو انہی دنوں جعفر شیرازی صاحب سے بھی رابطہ ہوا۔ وہ خط و کتابت کا زمانہ تھا اور اخبارات میں قلم کاروں کی تخلیقات کے ساتھ ان کے پتے بھی شائع کیے جاتے تھے۔ سو شیرازی صاحب کے ساتھ قلمی دوستی کا آغاز ہوا۔ شیرازی صاحب اسی زمانے میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ملتان کے عہدے سے ریٹائر ہو کر ساہیوال واپس گئے تھے۔ ہم جعفر شیرازی کو ساہیوال کی بجائے ملتان کی نسبت سے ہی جانتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے انہیں اپنی کتاب ”رفتگانِ ملتان“ کا بھی حصہ بنا دیا۔ ان کے ساتھ خط و کتابت بہت تواتر کے ساتھ جاری رہی۔ پھر 1983 میں جب میں صحافت کے ساتھ وابستہ ہوا تو شیرازی صاحب کے ساتھ مراسلت میں باقاعدگی آ گئی۔ میرے پاس ان کے وہ تمام خطوط آج بھی محفوظ ہیں اور 554 k شیرازی کاٹیج کا پتا اور نقشہ بھی ذہن میں نقش ہے جہاں میں شاکر حسین شاکر اور قمر رضا شہزاد کے ہمراہ بارہا گیا۔ شیرازی صاحب شاعری کے علاوہ اپنی وگ، ڈاک اور شاگرد شاعرات کے حوالے سے بھی زیر بحث رہتے تھے۔ منو بھائی کا ایک جملہ تو بہت مشہور ہوا تھا کہ اب تو جعفر شیرازی کی وگ کے بال بھی سفید ہو گئے ہیں۔ شیرازی صاحب ایسے جملوں کا خوب لطف لیتے، قہقہہ لگاتے اور پھر ہاتھ پر ہاتھ مارکر ہمارا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیتے تھے۔
چالیس برس قبل میں 21 اپریل 1984 کو قمر رضا شہزاد اور شاکر کے ہمراہ شیرازی صاحب پاس گیا تو وہ ہمیں ایک ریسٹورنٹ پر لے گئے۔ کہنے لگے اس شاعر کے ہائیکو پر خوب داد دینا یہ ہمیں کھانا کھلائے گا۔ پھر وہی زور دار قہقہہ لگایا اور ہمارا اکرم کلیم سے تعارف کرایا۔ اکرم کلیم کی کتاب ”طاقچے“ انہی دنوں منظر عام پر آئی تھی۔ ہائیکو کو اردو میں بطور صنف متعارف کرانے ولے ڈاکٹر محمد امین کا تعلق بھی تو اسی شہر سے ہے۔ اور ڈاکٹر امین ہی نہیں یہ ظفر اقبال، منیر نیازی، دلدار پرویز بھٹی اور طارق عزیز کا بھی تو شہر ہے۔ رانا حماد افضل، الویرا اور لوک سجاگ کے شفیق بٹ صاحب کی دعوت پر میں دس سال قبل اس شہر میں کئی بار آیا تھا۔ اس زمانے میں ہم دہشت گردی کا مقابلہ امن میلوں سے کر رہے تھے۔ مصباح نوید کے افسانوں پر بات کرنے سے پہلے مجھے ذکر کرنا یہاں کی شاعرات کا جو اپنی شاعری کے ذریعے یہاں کے ادبی منظر نامے کو خوبصورت بناتی رہیں، ان میں بسمل صابری، صبیحہ صبا اور گلِ رعنا کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
میں شکر گزار ہوں مصباح نوید صاحبہ کا جن کی دعوت پر مجھے آج اس ساہیوال آرٹس کونسل میں آنے کا موقع ملا جس کے ڈائریکٹر ریاض ہمدانی چند ماہ کے لیے ملتان آئے اور ہم ملتانیوں کے دل موہ لیے۔ ان کے حسن انتظام کے ساتھ ساتھ ہم ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے بھی معترف ہیں۔ ہمیں خوش گمانی تھی کہ ہم ڈاکٹر صاحب کی دعوت پر کبھی ساہیوال آئیں گے لیکن ہم اس خوش گمانی کو اب بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ ہم تو ان کی خوش کلامی کے معترف ہیں
وہ خوش کلام ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیں
طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر رہنا
مصباح نوید صاحبہ کو میں اپنے قبیلے کی لکھاری سمجھتا ہوں۔ ایک روشن خیال اور ترقی پسند سوچ رکھنے والی قلمکار۔ ایک ایسی قلمکار کہ جو گونگے، بہرے معاشرے میں بات کہنے اور اور لوگوں تک پہنچانے کا ہنر جانتی ہے۔ اور میں نے مصباح نوید کو اپنے قبیلے کی لکھاری اس لیے کہا کہ یہ غلاموں کا قبیلہ ہے ایک ایسا قبیلہ جو کسی ایک غلامی سے اس لیے نجات حاصل کرتا ہے تاکہ کسی نئے آقا کا غلام بن سکے۔ کوئی نیا طوق گلے میں ڈال سکے، کوئی نئی زنجیر اپنے ہاتھوں کی زینت بنا سکے۔ ایک کے بعد دوسری زنجیر ہم غلاموں کی منتظر ہوتی ہے۔ لیکن ہم غلام ہو جانے کے باوجود اپنی غلامی تسلیم نہیں کرتے۔ پھر ہمیں ٹکٹکیوں پر باندھا جاتا ہے اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ ہم خود بھسم ہو جاتے ہیں لیکن لفظ کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہم پینگ پر نہیں دار پر جھولنے کے لیے اس دھرتی پر آئے ہیں۔ ہم یہاں اپنے حصے کا سچ بولنے آئے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے کو خوبصورت بنانے کا خواب دیکھنے آئے ہیں جہاں جنون اور وحشت بڑھتی جا رہی ہے۔ جہاں کچھ کہے سنے اور کسی کو صفائی کا موقع دیے بغیر فتووں کی بنیاد پر لوگوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں عدالتیں ہجوم کی تابع ہو چکی ہیں۔ اور جہاں عورتوں کو غلام گردشوں میں رکھا جاتا ہے۔
ایسے میں مصباح نوید نے جہاں اپنے افسانوں کے ذریعے عورت کے دکھوں کو بیان کیا وہیں معاشرے کے ایسے بہت سے کرداروں کو بھی سامنے لائیں جن پر بات کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ساہیوال کی اس بیٹی کا میرے شہر ملتان سے بھی ایک تعلق ہے کہ اس کی مادرِ علمی زکریا یونیورسٹی ہے، جہاں ایم اے اردو کی طالبہ کی حیثیت سے اسے ڈاکٹر انوار احمد اور ڈاکٹر نجیب جمال جیسے ترقی پسند اور روشن خیال اساتذہ کی فکری رہنمائی میسر آئی۔ مصباح کے افسانوں کے کردار اسی معاشرے کے پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن کے لیے دو وقت کی روٹی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ کیڑے مکوڑوں کی طرح زندگیاں گزارنے والے عام لوگ ہیں جو پیدا ہی مرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ کبھی اپنی موت آپ مرتے ہیں اور کبھی کسی اور کی موت مار دیے جاتے ہیں۔ ان افسانوں میں ہمیں عورت کے کئی رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن یہ اقبال کی تصویر ِکائنات والے رنگ ہر گز نہیں۔ ان میں سیاہ ماتمی رنگ کئی جگہ بہت نمایاں ہو جاتا ہے۔ ہمیں عورت انتقام لیتی بھی نظر آتی ہے اور انتقام کا نشانہ بنتی بھی۔ مصباح نوید نے صغریٰ اور بدراں جیسے کرداروں کے ذریعے انتہائی جرات مندی کے ساتھ وہ سب کچھ کہلوا دیا جنہیں کہنا مشکل ہی نہیں اس معاشرے میں بعض حالات میں تو ناممکن بھی بنا دیا گیا ہے۔ ایسے ہی کرداروں اور ان کے مکالموں کو پڑھتے ہوئے مجھے اپنے شہر کا وہ کردار یاد آ گیا جس نے میرے سامنے یہ کہتے ہوئے موت کی دعا مانگی تھی کہ اس کی موت کے بعد اس کے بچوں کو لوگ اپنے ثواب کے لیے صدقہ و خیرات دیں گے اور بچوں کی زندگی آسان ہو جائے گی۔ اگرچہ مصباح نوید کا تعلق گاؤں سے نہیں ان کا بیشتر وقت شہروں میں گزرا لیکن ان افسانوں میں انہوں نے دیہاتی ماحول کی جو منظر کشی کی وہ حیران کر دینے والی ہے اور اس پر ان کے مشاہدے کی داد نہ دینا بخل سے کام لینے کے مترادف ہو گا وہ ایک سفاک حقیقت نگار ہیں اور اگر انہیں خواتین افسانہ نگاروں کی منٹو کہا جائے تو یہ مبالغہ نہیں ہو گا۔ میں انہیں غلاموں کے معاشرے میں ”غلام گردشیں“ جیسے مجموعے کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں آخر میں مجھے مصباح کی غیر افسانوی نثر پر محترم خالد محمود خان کی کتاب کا خاص طور پر ذکر کرنا ہے۔ خالد صاحب نے اس کتاب میں نسائیت کے حوالے سے ان کے افسانوں کا جو تجزیہ کیا اور جس طرح ان کی تحریروں کے لسانی اور فکری پہلوئوں کو اجاگر کیا وہ مصباح نوید کے افسانوں کی تفہیم میں مدد گار ثابت ہو گی۔ میں گونگے بہروں کے معاشرے میں بات کہنے اور لوگوں تک کامیابی کے ساتھ اپنی بات پہنچانے پر مصباح نوید کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔



