خواہشات

ہم انسان اپنی اپنی خواہشات کے غلام ہیں۔ ان کے حصول کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے۔ زندگی کا مقصد بھول کر نفسانی، جنسی، ذہنی، معاشی و معاشرتی خواہشات کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ موت جیسی حقیقت کو بھول بیٹھتے ہیں۔
بھلا دنیا میں کون ایسا ہے جو سدا کے لیے زندہ رہے گا۔ مگر ہم ایسے انسان کہ جنازوں پر بھی دنیاوی معاملات پر بحث اور لڑائی جھگڑا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کسی کو مرنے والے کی دستار کی پڑی ہوتی ہے تو کسی کو اس کی چھوڑی ہوئی جائیداد اور دولت کی۔ وہ ہی اولاد جس کے لیے مرنے والا دن دیکھتا ہے دن رات، صبح و شام محنت کرتا ہے، اس کے جنازے پر ہی دولت کے بٹوارے پر لڑائی ڈال کر بیٹھے ہوتے ہیں۔
عام انسان کی تو بات ہی الگ، ہمارے تو سربراہان کا بھی یہی عالم ہے کہ جیسے اس دنیا پر دو سو سال کے لیے جینے کو آئے ہوں۔ معاشرے اور ملک کے لیے کرتے کچھ دکھائی نہیں دیتے، ہاں مگر اپنے ظالمانہ اقدام سے ٹوٹی پھوٹی حکومت کو طول دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عہدوں اور کرسیوں کے ساتھ دیمک کی طرح چمٹ جاتے ہیں، اور ان کے لیے ہر غلط کام بخوشی کرنے کے لیے ہمیشہ تیار بیٹھے رہتے ہیں جیسے عہدہ نا بچا تو زندگی ہی ختم ہو جائے گی۔
ان کے لیے اصول و ضوابط جائیں بھاڑ میں، انہیں صرف اور صرف اپنے عہدے کی طوالت اور ناجائز کمائی سے سروکار ہوتا ہے۔ ان کے اپنے کسی خاص عزیز و اقارب کی موت بھی ان کی ذہنیت کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔ وہ اپنی انکھوں کے سامنے اپنے عزیزوں کو قبر کی نظر ہوتا دیکھتے ہیں، لیکن غلط کام کرنا پھر بھی اپنا حق سمجھتے ہیں، اور اس پر ڈھٹائی کا عالم ایسا کہ ناقابلِ بیاں۔
آپ پاکستان کی تاریخ کے اوراق ہی پلٹ کر دیکھ لیجیے، علمبردار جمہوریت ذوالفقار بھٹو نے ایک عہدے کی خاطر ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اس کا انت سب کے سامنے ہے۔ جنرل ضیاء نے کیا کبھی سوچا ہو گا کہ ہوا میں ہی اڑا دیا جائے گا، اگر سوچا ہوتا تو جمہوریت کے ساتھ کیا وہ شب خون مارتا۔ جنرل مشرف کا انجام دیکھ لیجیے۔ کس طاقت سے وہ اپنا مکا لہرایا کرتا تھا، آج منوں مٹی تلے دبا ہوا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال آج کے فرعونوں کا ہونا ہے۔
لیکن نا جانے کیوں سب کچھ جانتے بوجھتے ہم انسان اپنی اپنی خواہشات کے دائرے میں گھومتے رہتے ہیں اور موت کو یکسر بھلائے غلط پر غلط کیے جاتے ہیں۔ حقیقت کو کھلی انکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی دیکھنا نہیں چاہتے۔
بقول حیرت الہ آبادی
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
ہمارے زیادہ تر اہم عہدوں پر فائز لوگ زندگی کے ساٹھ ستر سال گزارے بیٹھے ہوتے ہیں۔ انہیں ہر طرف سے ناگزیر بیماریوں نے بھی گھیرا ہوا ہوتا ہے۔ موت سے ہم سب لوگ کتنا کر بھاگ سکتے ہیں۔ لیکن مجال ہے کہ اس سب کے باوجود اس معاشرے، ملک یا قوم کے لیے کرنے کی کوئی سعی کریں۔ بس اپنے اپنے دائرے کے غلام، اپنی اپنی خواہشات میں بندھے اور اپنے اپنے تعصبات میں گم ہوئے ہم لوگ صرف اپنے بچوں اور خاندان کی جنگ لڑتے لڑتے دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ ہمارے گزرنے کے ساتھ ہی ہمارے بچے اور خاندان بھی تتر بتر ہو جاتا ہے کیونکہ جو مٹی جس خمیر کی ہوتی ہے اس نے ادھر ہی جا کر لگنا ہوتا ہے۔
تو صاحبو،
آئیے اپنی اپنی ذات کی حد تک خود کو ذاتی، معاشی، معاشرتی، خاندانی اور علاقائی تعصبات سے پاک کر کے عام انسانوں کے لیے مسرتوں اور خوشیوں کا باعث بنیں، دوسروں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی بجائے انہیں سہارا دیں اور انہیں ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے اپنا اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

