تیسری جنس – کہانی


Noor ul Huda Chaudhary

شالو کون آیا ہے باہر؟
باجی وہی خواجہ سرا آیا ہے۔ بناؤں روٹی؟
نہیں تم رہنے دو میں بناتی ہوں فاخرہ نے تردید کی،

”باجی نے سارے کام مجھ سے کروانے ہوتے ہیں اور نیکی خود کماتی ہیں! “ شالو نے دل میں سوچا، اتنے میں فاخرہ دروازے پر جا کر باتیں کرنے لگیں۔ ”نا جانے وہ کیا باتیں تھیں جو وہ ایک تیسری جنس سے کرتی تھیں؟“ شالو اکثر ایسا سوچا کرتی۔

شالو کو یہ بات کافی عرصہ سے کھٹک رہی تھی کہ فاخرہ باجی اپنے سارے کام تو مجھ سے کرواتی ہیں پر جہاں نیکی کرنے کی باری آتی ہے خود کرنے لگتی ہیں اور اس خواجہ سرا پر تو کچھ زیادہ ہی مہربان ہیں، کبھی کپڑے کبھی راشن، کبھی کتابیں، بھلا اس نے کتابوں کا کیا کرنا ہے؟ بیچ دیتا ہو گا! شالو خود ہی جواب سوچ لیتی، بیٹھک میں بیٹھا کر کھانا کھلانا، پھر اس کے لیے خود کھانا بنانا بچا کچا کھانا نہیں بلکہ تازہ سالن پیش کرنا، یہ سب شالو کے لیے غیر معمولی تھا۔ اس میں کچھ شک نہیں کے اس خواجہ سراء کی عمر بیس پچیس سے زیادہ نہیں تھی اور دیکھنے میں کسی خوبرو لڑکی جیسی صورت تھی پر وہ تھی تو تیسری جنس۔ شالو ہمیشہ یہی سوچتی کہ شاید باجی ہمدردی کی وجہ سے ایسا کرتیں ہیں پر دیگر مانگنے والے بھی تو کپڑے مانگتے ہیں اور بھی تو خواجہ سرا آتے ہیں یہی کیوں؟

شالو کو فاخرہ کے ہاں کام کرتے ابھی چند برس ہی ہوئے تھے جب ابراہیم کی پیدائش ہوئی تو کتنی دیر تک ابرہیم کو پنکی کی گود میں رہنے دیا گیا ”بھلا یہ کیا بات ہوئی؟ اپنا بچہ اس کی گود میں کیوں تھما دیا؟“ شالو کی حیرت جائز تھی، عموماً تو یوں ہوتا ہے کہ گُُرو سمیت کئی خواجہ سرا شور مچاتے آ جاتے ہیں جب کہیں سے علم ہو جائے کہ کسی کے ہاں بیٹا ہوا ہے مگر جب ابرہیم کی پیدائش ہوئی تو پنکی اکیلی ہی آئی اس نے جب ابراہیم کو گود میں اٹھایا تو اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر شالو حیرت میں پڑ گئی کہ یہ بھلا رونے کیوں لگی؟

ایسی ہی بہت سی باتیں شالو کو ہر جمعرات یاد آتیں اور وہ خودی بڑبڑاتی رہتی، پر اس نے کبھی فاخرہ سے یہ دریافت نہیں کیا کہ اس کا یہ عاجزانہ رویہ اور اس قدر ہمدردی پنکی کے لیے ہی کیوں! مگر آج شالو نے ٹھان لیا تھا کہ وہ ضرور پوچھے گی۔ ہوا کچھ یوں کہ پنکی کے لیے کھانا فاخرہ لے جا چکی تھی، پانی دینے کے بہانے جب شالو اندر داخل ہونے لگی تو اس کے کانوں میں کچھ آواز پہنچی، ”ہولی سے آواز میں پنکی نے پوچھا“ امی کیسی ہیں؟ فاخرہ نے جواب دیا ”ہاں بہتر ہیں پہلے سے تمہیں بہت یاد کرتی ہیں“

اور ابا؟ میرا ذکر نہیں کرتے کیا کبھی؟

فاخرہ نے نا میں سر ہلا دیا، پھر مزید کوئی بات نہیں ہوئی پنکی کھانا کھا کر چلی گئی مگر شالو کے ذہن میں کئی گرہیں کُھلیں اور اُلجھیں، مگر آج شالو نے ہمت کر کے فاخرہ سے پوچھ ہی لیا ”باجی پنکی آپ کی کیا لگتی ہے؟

ہاتھ سے پانی کا گلاس گرا چھن سے ٹوٹا اور وہیں فاخرہ ساکت ہو گئی۔ ”ایسا بھی کیا ہو گیا کہ ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا!“ شالو نے بڑھ کر کِرچیاں سمٹنا چاہیں اور فاخرہ سہارا لے کر کرسی پر ڈھیر ہو گئی اور شالو گلاس کی کِرچیاں سمٹنے لگی۔ فاخرہ خیال کے دریچوں میں جھانکتی شالو کو بھی ساتھ لے گئیں۔ کہنے لگیں ؛

میرا بھائی ہے پنکی۔ حماد حسین۔ فاخرہ نے دھیمے اور سرد لہجے میں اصل نام دوہرایا، ابا بہت خوش تھے کہ دو بہنیں ہیں کریم اور حماد دو بھائی ہو جائیں گئے پر یہ خوشی کچھ عرصے ہی رہی، سچ تو یہ تھا کہ حماد ہم جیسا تھا ہی نہیں اس کی دنیا ہم سے یکسر مختلف تھی، وقت گزرا ہم سب کا لاڈلا چھوٹا بھائی بڑا ہونے لگا مگر اس میں لڑکوں سی کوئی بات نہ تھی، اس کی باریک آواز اس کا ہاتھوں کو لہرا کر بات کرنا اس کا لچک کر چلنا۔ ابا کو برا لگتا تھا۔ انہیں ُاس کی زنانہ چال سے نفرت ہونے لگی تھی وہ اکثر ڈانٹتے تم ایسے مت بیٹھو ایسے مت چلو! پر کیسے؟ وہ ظاہر تو بدل لیتا پر اندر کیسے بدلتا؟ اس کو لڑکوں میں بیٹھنا بکل پسند نہیں تھا، اسی وجہ سے سکول کے لڑکے اس کو چھیڑتے تھے۔ سب سے چھوٹا ہونے کے وجہ سے میرے ہمیشہ قریب تھا، وہ اکثر کہتا تھا ”آپا مجھے سکول نہیں جانا مجھے اپنے پاس رکھ لو مجھے سب تنگ کرتے ہیں“ امی اس کی کیفیت سمجھتی تھیں میٹرک میں امتحانات سے کچھ روز قبل اس کو اتنا بری طرح بُلی کیا گیا اُس کے کپڑے پھاڑ دیے گئے اور اس کے ساتھ زیادتی ہوئی۔

اس سب سے وہ اتنا دکھی ہوا کہ وہ سکول کے نام سے بد ظن ہو گیا، امی نے اس کا سکول جانا بند کروا دیا میٹرک کے پیپرز بھی نہیں دلوائے، ابا پر یہ راز افشا کیے بغیر ہم تینوں بہن بھائی اور امی اس کی ڈھال بنے رہے اور وہ سکول سے بھاگتا رہا۔ ابا نے جب بھی پوچھنا کہ حماد سکول کیوں نہیں گیا؟ پرچے کیوں نہیں دلوائے؟ تو ہم نے یوں ہی کہہ دینا کہ اس کی طبیعت نہیں ٹھیک! بس چند دن ہی یہ بات چھپا پائے ابا کو حقیقت معلوم ہو گئی، وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کے ہاں بیٹا پیدا نہیں ہوا۔

ابا نے اُسے بُلانا چھوڑ دیا، وہ ابا سے ڈرتا مرد بننے کی لاکھ کوشش کرتا پر یہ کب ممکن تھا۔ سارا دن وہ امی کے پہلو سے ہی نہیں ہلتا تھا امی اسے گھر ہی رکھتیں، محلے والے اکثر کہتے کہ حماد کیوں نہیں بچوں کے ساتھ کھیلتا؟ تو کوئی بہانہ کر دیتیں، پر یہ سب ڈرامہ دنیا والوں کی نظر سے بھی نہیں چُھپ سکا، میری شادی قریب تھی گھر میں گہما گہمی تھی گھر میں ڈھولک اور میوزک ہلکا پھلکا لگا رہتا، شادی سے کچھ روز قبل وہ میرا دوپٹہ اوڑھے میری میک اپ کٹ استعمال کر کے آئینے کے سامنے کھڑا تھا امی، میری بڑی بہن اور میں سب بیٹھے اس کو میوزک کی بیٹ پر جھومتا دیکھ رہے تھے وہ کسی لڑکی کی طرح ہر تان پر پیر تِھرکتا، ہمیں اپنی اداؤں سے لطف اندوز کر رہا تھا کہ ابا کمرے میں داخل ہوئے، ہمیں ابا کے یوں اچانک آنے پر تو حیرت ہوئی ہی تھی لیکن ان پر تو جیسے آسمان ٹوٹ پڑا، وہ یہ مان تو چکے تھے پر ان کے ذہن نے اسے کبھی قبول نہیں کیا یوں تو ابا بہت کم غصہ ہوتے مگر اس دن نا جانے انہیں کیا ہو گیا ہمارے لاکھ روکنے کے باوجود حماد کو پیٹتے لگے اس کے سر سے دوپٹہ نکالا اور اس کے منہ پر دے مارا۔

یہ پہلی مرتبہ تھا کے ہم چاروں میں سے کسی کو ڈانٹ نہیں مار پڑ رہی تھی، امی اور بڑی باجی نے ابا کو کئی بار روکا حماد کو بچانے کی بہت کوشش کی، میں نے بھی کتنی ہی بار ان کی کلائی پکڑی ان کو روکا پر ابا کو نہیں روک پائے۔ حماد کا خوبصورت چہرہ لال ہو گیا وہ معصوم چیختا رہا اسے کیا معلوم تھا کے اسے اپنے نا کردہ گناہوں کی ایسی سزا ملے گی ”ابا ابا۔ نہیں۔ ابا درد ہو رہی ہے۔ میری بازو۔ ابا ابا مت کریں خدا کا واسطہ ہے اس نے گڑگڑا کر ہاتھ جوڑے پر ابا نے اس پر مُکوں اور ُگھونسوں کی بارش کرتے رہے اسے گھسیٹ کر گھر کی دہلیز تک لے آئے کہنے لگے کہ“ تو میرا بچہ ہو ہی نہیں سکتا، تو گھر چھوڑ دے اپنے جیسوں میں جا، تو بوجھ ہے۔ تیری اس گھر میں کوئی جگہ نہیں! ”امی نے ابا کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا کے کوئی سن نہ لے پر وہ منحوس دن ہمارے گھر قیامت برپا کر کے ہی ڈھلا۔

گلی میں گھسیٹتے ہوئے جب ابا نے اس کو سب کے سامنے مارا تب وہ ہار مان چکا تھا نہ تو رو رہا تھا نہ گزارشیں کر رہا تھا وہ بُت بنے مار کھاتا جا رہا تھا جیسے وہ اِسی کا حقدار ہو جب ابا نے اس پر لاٹھی سے وار کرنا چاہا تو اماں حائل ہو گئیں اسے اپنی چادر میں چھپا لیا، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کریم بھائی جو ُاسی وقت گلی میں داخل ہوئے تھے دوڑتے ہوئے ابا کی جانب بڑھے اور انہیں روکا مگر بہت دیر ہو گئی تھی، سارے محلے دار اکٹھے ہو گئے جو بات ہم سب نے پندرہ سال سے ُچھپا رکھی تھی وہ سب کے سامنے عیاں ہو گئی، امی اسے گلی کی نکڑ والی سیڑھیوں پر بیٹھا کر کافی دیر تک روتی رہیں اس کا ماتھا ُچوما، ُاسے پیار کیا، پر حماد نہ تو رو رہا تھا نہ کچھ بول رہا تھا میں اور بڑی آپا دروازے سے آوازیں لگاتے رہے پر امی اور حماد وہیں بیٹھے رہے، ہمارا شادی والا گھر، وہ رونق، وہ لائٹیں؟

ایسے جیسے میرے معصوم بھائی کی آہوں کی گواہ تھیں۔ ہم سب نے امی کو گھر لانے کی بار ہا کوشش کی مگر وہ تو سے ٹَس سے مَس نہیں ہوئیں، محلے دار تماش بینوں کی طرح ہمیں دیکھتے رہے کچھ حقارت سے کچھ ترس اور ہمدردی سے، اگر اتنی ہی ہمدردی تھی تو ابا کو کیوں نہ روکا کسی نے؟ فاخرہ نے نم دیدہ ہو کر کہا، ہمارے لاکھ اصرار پر بھی جب وہ گھر نہیں آئیں، تو پھر نا جانے کیا سوچتے ہوئے ابا نے امی کا ہاتھ پکڑا اور اندر لے آئے، امی حماد کا ہاتھ چھوڑ ہی نہیں رہیں تھیں، گھر میں داخل ہوتے ہی امی نے ابا سے خوب جھگڑا کیا، انہیں پڑھے لکھے جاہل ہونے کا طعنہ دیا، حماد کے زخم کھول کھول کر دکھائے، پھر ابا نہیں بولے وہ چپ چاپ امی کی ساری باتیں سنتے رہے۔

دن گزرے نہ جانے کس نے خواجہ سراؤں کو یہ خبر دے دی کے اس محلے میں بھی کوئی تم سا ہے۔ وہ لوگ جس روز آئے ایک اور تماشا برپا ہوا، پہلے تو حماد ڈر گیا مگر وہ بارہا آتے اور اسے ساتھ لے جانے کی ضد کرتے، ابا نے کہا کے ”اِسے چلے جانا چاہیے“ حماد کے دل پر یہ بات تیر کی طرح لگی حماد نے اب چپ سادھ لی تھی شاید وہ ہماری دنیا چھوڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا، امی کے لاکھ منع کرنے پر وہ میری شادی سے قبل چلا گیا۔ پھر میری شادی ہو گئی میرے سسرال والوں نے کبھی مجھے میرے بھائی کا طعنہ نہیں دیا، پر کبھی یہ بھی نہیں کہا کے تم اُسے یہاں لے آؤ۔

اور بھلا کہتے بھی کیوں! دکھ فاخرہ کے لہجے سے صاف ظاہر تھا۔ وہ پھر بولنے لگیں ”اب بھی وہ بس مجھ سے ملنے آتا ہے میرے لاکھ اصرار کرنے پر بھی وہ امی سے ملنے نہیں جاتا وہ کہتا ہے“ میں امی سے ملوں گا تو کبھی بچھڑنے کا حوصلہ نہیں ہو گا ”۔ میرے فورس کرنے پر وہ اب پڑھنے لگا ہے کہتا ہے“ میں ایک تیسری دنیا کا رہنے والا ہوں تم سب کے ساتھ نہیں رہ پاؤں گا ”۔ شالو تم بتاؤ وہ ہماری دنیا میں کب واپس آئے گا؟ وہ کہتا ہے کاش ایک تیسری دنیا بنے جہان عام لوگوں کا داخلہ ممنوع ہو جہاں مرد اور عورت کو حقارت سے دیکھا جائے اور ہم حق سے اُس دنیا پر بسر کر سکیں“ نا جانے اس نے کس کس طرح کے دکھ جھیلے ہیں! میرا دل یہی سوچ کر پھٹتا ہے۔ فاخرہ نے اتنا کہا اور دوپٹے کے پَلو سے آنکھیں ُپونچھنے لگیں۔

شالو کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ جُھکتے ہوئے گلاس کے ٹوٹے ٹکروں میں حماد کی تیسری دنیا میں اس کا عکس دیکھ رہی تھی جہاں وہ پنکی بن کر ہماری دنیا پر طنزیہ سا مسکرا رہا تھا!

Facebook Comments HS